حضرت امام حسین کا بچپن

نواسہ رسول!(ﷺ) شہزادۂ بتول علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزند ارجمند حضرت امام حسین کا بچپن جن کی شہادت و مبارک ذات پاک حریت فکر، نفاذ عدل، اور انسان کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے ایک عظیم الشان تحریک ہے. حسین ابن حیدر پہ لاکھوں سلام ۔

حضرت امام حسین کا بچپن


حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے لیکر شہادت عظمیٰ تک آپ کے فضائل میں بہت سی حدیثیں مو جود ہیں۔ پھر جو دونوں شہزادوں حضرت امام حسن وحضرت امام حسین رضی اللہ عنھما کے فضائل میں احادیث کریمہ کے ذخیرہ میں موجود ہیں وہ الگ ہیں۔

جب سے دنیا قائم ہے اس وقت سے لیکر آج کی تاریخ کا اگر مطالعہ کریں تو بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں، لیکن جس طرح کر بلا کی سر زمین میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اپنے جانثاروں کے ساتھ ہوئی اس طرح کی مثال پوری تاریخ ۔(History) میں نہیں ملتی ۔

آپ کی ولادت سے لیکر شہادت تک کے واقعات کو پڑھ کرانسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کے بچپن کے واقعات بھی بہت ہی پیارے ہیں جن کو احا دیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔اولاد علی اولاد نبی

:حدیث پاک میں ہے:اِنَّ ا للّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِّیَتہٗ کُلِّ نَبِیٍّ فِیْ صُلْبِہِ وَاِنَّ اللّٰہَ تَعَا لیٰ جَعَلَ ذُرِّیَتِ فِیْ صُلْبِ عَلِیِّ اِبْنِ اَ بِیْ طَا لِبٍ۔

تر جمہ:’’ فر مایا بیشک اللہ عزو جل نے ہر نبی کی اولاد ان کی پشت سے پیدا کی اور بیشک اللہ تبار ک و تعالیٰ نے میری اولاد(حضرت) علی ابن طالب کی پشت سے پیدا فر مائی۔‘‘( صواعق محر حقہ ص،154،خطبات کر بلا،ص49)۔

سفا ف ا لرا غبین فی سیرۃالمصطفٰے( ﷺ ) میں ہے، جس کا تر جمہ اس طرح ہے’’ سیدہ فاطمۃ الز ہرا رضی اللہ عنہا کی اولاد حضور ﷺ کی اولاد و فرزند کہلاتے ہیں۔تر جمہ:’’ ہر ماں کی اولاد اپنے عصبہ(فرزند نرینہ) کی طرف منسوب ہوتی ہے، جبکہ فاطمہ کی اولاد کا عصبہ اور ولی میں ہوں۔‘‘ ۔

ایک حدیث میں ہے کہ ہر ماں کی اولاد اپنے اولاد اپنے آبائی خاندان کی طرف منسوب ہوتی ہے، بجز اولاد فاطمہ کے جن کا ولی اور عصبہ میں ہوں۔آپ کی ولادت۔ابن علی(حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ) نبی رحمت ﷺ کے چھوٹے نواسے اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے چھوٹے بیٹے تھے۔

آپ کی ولا دت مبارکہ5 شعبان4ھجری،بمطابق8جنوری626ء کومدینہ طیبہ میں ہوئی۔(10محرم 61ھجری بمطابق10اکتوبر680ء کر بلا، عراق میں شہید ہوئے)۔

حضور ﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی منہ میں لعاب دہن ڈالا اور آپ کے لیے دعا فر مائی پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا، حضرت مفضل سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن اور حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا یہاں تک حضور ﷺ نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا، کنیت، ابوعبداللہ ولقب’’سبط رسول‘‘ وریحا نۃ الرسول ہے ۔

حدیث شریف میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر وشبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کانام انھیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا(صواعق محرقہ ص 118 ) ۔

حضرت امام حسین کا بچپن

ایک حدیث میں ہے کہ اَلْحَسَنُ وَا لْحُسَیْنُ اِسْمَانِ مِنْ اَھْلِ الجَنَّۃِ۔حسن اور حسین جنتی ناموں میں سے دونام ہیں۔ عرب کے زمانہ جاہلیت میں یہ دو نوں نام نہیں تھے(صواعق محرقہ،ص118)۔

آپ کا عقیقہ ساتویں دن کیا،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے خودامام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنھما کی طرف سے عقیقے میں ایک ایک دنبہ ذبح کیا۔

حضرت امام حسن و حسین کی پرورش

 آقائے نعمت ﷺ کی گود میں آپ کی پر ورش ہوئی ظاہر سی بات ہے وہ ہستی جس کو اللہ نے دنیا کو راہ راست پر لانے کے لیے رسول بنا کر بھیجا آپ کی نگہداشت میں جو بچہ پلے گا بڑھے گا اس کی تر بیت کے کیا کہنے۔

ڈاکٹر اقبال عرض کرتے ہیں۔؎

نور چشم رحمۃً الِّلْعا لمین

آں امامِ اوَّ لیں وآخریں

بانوئے آں تا جدار ہل اَ تٰی

مرتضٰی مشکل کشا شیر خدا

ما در آں قافلہ سالار عشق

ما در آں مر کزِ پر کار عشق ۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں

رحمت عالم ﷺ شہید کربلا امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بہت محبت فر ماتے،اور آپ ﷺ نے معر کہ عظیم حق وباطل میں فرق کر نے والی جنگ کربلا کے دن کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خود تر بیت فرمائی تھی۔

اور آپ کے بارے میں صراحۃ فرماتے تھے کہ میرے اس بیٹے کو میری امت کے اوباش حا کم شہید کریں گے۔اور کبھی فر ماتے اے ام سلمہ جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو یقین کر لینا کہ میرا لخت جگر شہید کیا گیا۔( معجم الکبیر عربی)۔

پیغمبر اسلام ﷺ دونوں بچوں کی پر ورش میں لگے رہتے آپ ہی کے گہوارہ میں آپ دونوں پروان چڑھ رہے تھے۔ ایک طرف نبی آ خر الزماں ﷺ جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی جیسا کہ حدیث میں ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ، کہا: رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق کے مالک تھے۔(مسلم،حدیث 1500)۔

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کہ حکم’’خُذِا لْعَفْوَ) کو اختیار کرو کہ تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں :نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے بد اخلاقی میں عفو کو اختیار کریں۔ مسلم،(باب عفو در گزر انتقام نہ لینے کا بیان) حدیث 4787) ۔

آپ کے اخلاق کریمانہ کے سایہ میں اور دوسری طرف امیر المومنین علی ابن ابوطالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی پر جانثار تھے تیسری طرف فاطمۃالزہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر اسلام کی دعوت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس پاک اور نورانی ماحول میں آپ حسین رضی اللہ عنہ کی پر ورش ہوئی ۔

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں۔

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی

زہرا ہیں کلی جس میں حسین وحسن پھول

نواسوں سے رسول اللہ ﷺ کی محبت

حضرت محمد مصطفٰے ﷺ اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ بہت محبت فر ماتے۔ سینہ مبا رک پر بٹھاتے، کا ندھوں پر چڑھا تے اور مسلمانوں کو تاکید فر ماتے کہ ان سے محبت رکھو۔لیکن چھوٹے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کی محبت کا کچھ خاص امتیاز تھا۔

آپ ﷺ نماز میں سجدہ کی حالت میں تھے کہ حسین رضی اللہ عنہ پشت(پیٹھ) مبارک پر آگئے یہاں تک کہ(بچہ) امام حسین رضی اللہ عنہ خود سے بخوشی پشت پر سے اتر گئے توآپ نے سر سجدے سے اٹھایا۔

نبی کریم ارشاد فر ماتے ہیں اَحَبَّ اللّٰہُ مَنْ اَحَبَّ حُسَیْنًا۔ جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی(مشکوٰۃ،ص571)۔

اسی لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا حضور ﷺ سے محبت کر ناہے اور حضور سے محبت کر نا اللہ تعا لیٰ سے محبت کر نا ہے ( مرقاۃ شرح مشکوٰۃ،ص05 6)۔

حضرت امام حسین سے آقا ﷺ کی محبت کی بہت سی مثالیں ہیں اور حدیثیں ہیں،ایک دلپزیر حدیث مطالعہ فر مائیں اور اپنے دل کو محبت حسین سے بھر لیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لا ئے اور فر مایا چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ ۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور حضور کی گود میں بیٹھ گئے اور اپنی انگلیاں داڑھی مبارک میں داخل کر دیں حضور نے ان کا منھ کھو ل کر بوسہ لیا پھر فر ما یااَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحِبُّہٗ فَاَ حِبَّہٗ وَ اَحِبَّ مَنْ یُّحِبُّہٗ۔تر جمہ: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فر ما اور اس سے بھی محبت فرما جو اس سے محبت کرے۔(نو را لا بصارص،114،خطبات محرم ص،33) ۔

نبی کریم ﷺ کی تر بیت کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ انتہاہی عابد و زاہد اور بہت فضیلت کے مالک تھے۔ کثرت سے نماز، روزہ،حج، صدقہ اور دیگر امور خیر ادا فر ماتے تھے،آپ نے پیدل چل کر 25حج کئے۔

اللہ،اللہ! نماز کی پابندی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی شہادت بھی سجدے میں ہوئی آپ کی چاہت و محبت کا دم بھر نے والوں کو نماز سے بھی محبت ہو نی چاہیے تبھی سچے حسینی کہلانے کے حق دار ہوں گے ور نہ دعویٰ بے دلیل صحیح نہیں ہوتا۔

آپ کے محاسن و کمالات احادیث سے لیکر بزر گان دین کی بیاض وتاریخ کی کتا بوں میں بھرے پڑے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ آپ کے بچپن سے لیکر شہادت تک کے واقعات اپنے بچوں اور نئی نسلوں کو بتائیں تاکہ ان کے دلوں میں ایمانی حرارت پیدا ہو اور سچ وحق پر چلنے کی تر غیب ملے اللہ ہمیں شہیدان کر بلا کی طرح سچ اور حق پر چلنے اور حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی سے سبق لینے کی توفیق عطا فر مائے آمین ثم آمین۔بجاہ طہ ویٰسین صلی اللہ علیہ وسلم.۔

الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور جھاڑکھنڈ پن کوڈ 831020،رابطہ۔۔09386379632hhmhashim786@gmail.com

3 thoughts on “حضرت امام حسین کا بچپن”

  1. SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI

    اس مضمون میں امام عالی مقام کے عہد طفلی کے کئی اہم واقعات تحریر کرنے سے رہ گئے ہیں مثلا امام کربلا کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کا تحفہ لانا وغیرہ وغیرہ!!

    1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ
      حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا بچپن پر آپ کا تبصرہ موصول ہوا نامکمل واقعات کی نشاندہی کے لئے شکریہ
      عرض ہے کہ جو واقعہ آپ بتا رہے ہیں لکھ کر بھیج ان شاء اللہ شامل اشاعت کر لیا جائے گا
      فقط….. افکار رضا. کم

  2. ماشاء اللہ… رب العالمين حضرت حافظ ہاشم مصباحی صاحب کے علم وعمل میں خوب ترقی عطا فرمائے…. افکار رضا. کم کی پوری ٹیم کو سلامت و آباد رکھے.. ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے
    آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *