سورہ بقرہ کا ترجمہ

سورہ بقرہ کا ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم. گزشتہ سے پیوستہ… جیسا کہ آپ جانتے ہیں کنزالایمان سے ہم ترجمہ نقل کر رہے ہیں گزشتہ قسط میں آپ سورہ بقرہ کا ترجمہ اول آیت سے پانچ 5 تک پڑھ چکے ہیں آج آیت نمبر 5سے 29 تک پڑھیں گے. قسط اول پڑھنے کے لئے کلک کریں

سورہ بقرہ کا ترجمہ

قرآن پاک کی سب سے بڑی سورت سورہ بقرہ ہے، اللہ رب العزت اس سورت میں بنی اسرائیل پر کئے گئے انعامات،ان انعامات کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی ناشکری، بنی سرائیل کے جرائم جیسے بچھڑے کی پوجا کرنا، سرکشی اور عناد کی وجہ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے طرح طرح کے مطالبات کرنا،۔

اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرنا،انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ناحق شہید کرنا اور عہد توڑناوغیرہ ،گائے ذبح کرنے کا واقعہ اورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے میں موجود یہودیوں کے باطل عقائد و نظریات اور ان کی خباثتوں کو بیان کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو یہودیوں کی دھوکہ دہی سے آگاہ کیا گیا ہے ۔

اب ہم سورہ بقرہ کا ترجمہ نقل کر رہے ہیں. آیت 5. سے 29تک امام اہل سنت امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ کے ترجمۃ القرآن کنزالایمان سے بغور پڑھیں اور اگر کہیں غلطی ہو تو اطلاع فرمائیں نیز اپنے دوست و احباب کو ثواب کی نیت سے شئیر کریں

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَھُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡھُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٦﴾۔

بے شک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے. انھیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے کے نہیں. ۔

خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِھِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِھِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَھُمۡ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ٪﴿۷﴾ ۔

اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے. اور ان کے لئے بڑا عذاب ۔.. 🌹 ۔

وَمِنَ ا لنَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا وَ بِا لْییَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(٨)۔

اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللّہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں… 🌹 ۔

یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَھُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ﴿۹﴾۔

فریب دیا چاہتے ہیں اللّہ اور ایمان والوں کو(ف13). اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انھیں شعور نہیں… 🌹 ۔

فائدہ :- شان نزول… یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں. جو باطن میں کافر تھے، اور اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے تھے. اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ وہ ایمان والے نہیں، یعنی کلمہ پڑھنا اسلام کا مدعی ہونا نماز روزہ کا ادا کرنا مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو۔

مسئلہ. اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، اور کفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حال ہے کہ کافر خارج از ایمان ہیں. شرع میں ایسے منافق کہتے ہیں ان کا ضرر کھلے کافروں سے زیادہ ہے.۔

مِنَ النَّاسِ.. فرمانے میں لطیف رمز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں۔

مسئلہ. اس سے یہ معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے، اس لئے قرآن پاک میں جابجا انبیاء کرام علیہم السلام کے بشر کہنے والوں کو کافر کہا گیا ہے. اور درحقیقت انبیاء کرام کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے ۔

بعض مفسرین نے فرمایا:مِنَ النَّاسِ سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں

فِیۡ قُلُوۡبِھِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ وَ لَھُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۢ ۬ ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۰﴾۔

ان کے دلوں میں بیماری ہے. تو اللّٰہَ نے ان کی بیماری اور بڑھائ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا… 🌹 ۔

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾۔

اور ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو (ف16) ۔. تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں… 🌹۔

فائدہ : 16..مسئلہ کفار سے میل جول ان کی خاطر دین میں مداہنتاور اہل باطل کے ساتھ تملق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صلح کل بن جانا اور اظہار حق سے باز رہنا شان منافق اور حرام ہے، اسی منافقین کا فساد فرمایا گیا. آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے، اسلام میں اس کی ممانعت ہے، ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَ لٰکِنۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾۔ … سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں ۔

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّھُمۡ ھُمُ السُّفَھَآءُ وَ لٰکِنۡ لَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳﴾۔

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں. تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں(ف18) ۔سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں… 🌹 ۔

فائدہ :. 18 اس سے معلوم ہوا کہ صالحین برا کہنا اہل باطل کا قدیم طریقہ ہے، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو برا کہتے ہیں. روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کرام کو(رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ، خوارج حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو۔

غیر مقلد ائمہ مجتہدین بالخصوص امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو، وہابیہ بکثرت اولیاء کرام ومقبولانِ بارگاہ کو، مرزائی انبیاء سابقین تک کو، قرانی(چکڑالی) صحابہ و محدثین کو، نیچری تمام اکابرین کو برا کہتے اور زبان طعن دراز کرتے ہیں ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں اس میں دیندار عالموں کے لئے تسلی ہے کہ وہ گمراہوں کی بد زبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہل باطل کا قدیم دستور ہے ۔

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ ۖ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِھِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَھْزِءُوۡنَ ﴿۱۴﴾۔

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم پر ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یونہی ہنسی کر تے ہیں… 🌹 ۔

اَللّٰہُ یَسۡتَھْزِئُ بِہِمۡ وَ یَمُدُّہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۵﴾۔ اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ سرکشی میں بھٹکتے رہیں ۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱٦﴾۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان ک سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے… 🌹 ۔

مَثَلُھُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَھُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷﴾۔

ان کی کہاوت ان کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی . تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا.. 🌹 ۔

صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَھُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾۔ بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں. ۔

اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَھُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِھِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اللّٰہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾۔

یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ اس میں آندھیاں ہیں اور گرج اور چمک اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں ، کڑک کے سبب ، موت کے ڈر سے. اور اللہ کا فروں کو ، گھیرے ہوئے ہے.. 🌹 …۔

یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡھِمۡ قَامُوۡا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَذَہَبَ بِسَمۡعِھِمۡ وَ اَبۡصَارِھِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۰﴾۔رکوع 2……۔

بجلی یوں معلوم. ہوتی ہے کہ نگاہیں اچک لے جائے گی . جب کچھ چمک ہوئ اس میں چلنے لگے اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا بیشک اللہ سب کچھ کر سکتا ہے…🌹 . ۔

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾۔

اے لوگو ! (ف ٣٣) اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا ، یہ امید کرتے ہوئے ، کہ تمہیں پرہیزگاری ملے… 🌹 ۔

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾۔

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا… تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو۔ تو اللہ تعالیٰ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھراؤ…. ۔… 🌹 ۔

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾۔

اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (ان خاص) بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سُورت تو لے آؤ… اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کو بلا لو ، اگر تم سچے ہو…. 🌹 ۔

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ۚ ۖ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۴﴾۔

پھر اگر نہ لاسکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لا سکوگے تو ڈرو اس آگ سے ، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں… 🌹. ۔

وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡھٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡھَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ھٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِھًا ؕ وَ لَھُمۡ فِیۡھَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ ٭ۙ وَّ ھُمۡ فِیۡھَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵﴾۔

اور خوش خبری دے ، انھیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ، کہ ان کے لئے باغ ہیں ، جن کے نیچے نہریں رواں… جب انھیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا ، (صورت دیکھ کر) کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا (ف ٤٢)اور وہ (صورت میں) ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لئے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں.. 🌹۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسۡتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوۡضَۃً فَمَا فَوۡقَھَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَیَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّھِمۡ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَیَقُوۡلُوۡنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّ یَھْدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۲٦﴾۔

بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر (ف٤٥) تو وہ جو ایمان لائے ، وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے . رہے کافر، وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصد ۔ اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انھیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں…. 🌹 ۔

الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ ۪ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾۔

وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں (ف٤٩) پکا ہونے کے بعد ، اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں… 🌹 ۔

نوٹ… فائدہ ٤٩… اس سے وہ عہد مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کتب سابقہ میں حضور سید عالم پر ایمان لانے کی نسبت فرمایا ایک قول یہ ہے عہد تین ہیں. پہلا عہد وہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں. اس کابیان اس آیت میں ہے وَاِذَ اَخَذَ رَبَّکَ مِنْ بَنِیَّ اٰدَمَ. الآیۃ. ۔

دوسرا انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین کی اقامت کریں اس کا بیان. آیہ.. وََ اِذْ اَخَذَنَا مِنْ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقِھُمْ.. میں ہے. تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں اس کا بیان. وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِثَاقَ الََّذِیۡن اُوْتُواالْکِتَاب میں ہے… ۔

کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۸﴾۔

بھلا تم کیوں کر خدا کے منکر ہوگے، حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جلایا پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤگے… 🌹 ۔

ھُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ٭ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰھُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۲۹﴾۔

وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے…🌹 ۔

وکیپیڈیا میں پڑھیں کنزالایمان کے بارے میں

جاری

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *