سورہ بقرہ

سورہ بقرہ

سورہ بقرہ کا نام سورہ بقرہ اس لئے رکھا گیا کہ بقرہ کے معنیٰ ہیں گائے یا بیل ۔چونکہ اس میں گائے کے ذبح کرنے اور اس کے ذریعے سے ایک مقتول کو زندہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔اس لئے اس کا نام سورہ بقرہ رکھا گیا۔گائے کا عجیب وغریب کا واقعہ صرف اسی سورت میں ہے اور اس واقعہ میں ہزارہا فائدے ہیں ۔

سورہ بقرہ کا ترجمہ

سورہ بقرہ کا ترجمہ اردو میں کنزالایمان سے شروع سورت سے آیت نمبر 5 تک ہے سورہ بقرہ میں دوسو چھیاسی286 آیتیں، چالیس 40 رکوع، چھ ہزار ایک سو اکیس 6121 کلمے، پچیس ہزار پانچ سو 25500 حرف ہیں

ترجمہ ۔الم﴿1﴾ وہ بلند رتبہ کتاب(قرآن مجید ) کوئ شک کی جگہ نہیں اِس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو ﴿2﴾وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئ روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں(خرچ کریں)﴿3﴾ اور وہ کہ ایمان لائیں اِس پر جو اے محبوب تمھاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں ﴿4﴾ وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے یعنی کامیاب ہیں ﴿5﴾۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کتاب نازل فرمانے کا وعدہ فرمایا تھا۔جو نہ پانی سے دھو کر مٹائ جاسکے نہ پرانی ہو جب قرآن مجید نازل ہوا تو فرمایا ذٰلِكَ ال٘کِتَابُ کہ وہ کتاب موعود یہ ہے۔

شان نزول

ایک قول یہ ہےکہ اللّه تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے ایک کتاب نازل فرمانے اور بنی اسماعیل میں ایک رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا، جب حضور اقدس ﷺ نے مدینہ طیبہ کو ہجرت فرمائ جہاں یہود بکثرت تھے تو الم ذلك الکتاب نازل فرماکر اس وعدے کے پورا ہونے کی خبر دی۔

حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں قادری علیہ الرحمہ اپنی کتاب تفسیر نعیمی میں سورہ بقرہ کی شان نزول کا اجمالی یوں ذکر کرتے ہیں کہ۔

جب بانئ اسلام حضور رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے تو وہاں صرف بت پرستوں اور مشرکین کا مقابلہ تھا لیکن جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہاں عیسائیوں، یہودیوں کی آبادی پائ۔مدینہ منورہ میں یہودیوں کا بہت زور تھا اور عبد اللہ بن ابی یہاں کا گویا سردار تھا۔

جب اسلام کا آفتاب مدینہ طیبہ میں چمکا اور سب سے پہلے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کو چمکایا اور قرآن مجید کی آوازیں ان کے کانوں میں پہنچیں تو سب کے دلوں نے قبول کیا ۔لیکن سوا چند دیندار لوگوں کے باقی سب حسد اور تعصب کی وجہ سے مقابلے پر آمادہ ہوگئے۔چونکہ یہ لوگ پہلے سے علم میں مشہور تھے اور اطراف مدینہ کے لوگ ان کی عزت بھی کرتے تھے اس لئے اکثر عرب جہلا ان کے ساتھ ہوگئے پھر یہود ونصاریٰ جو آپس ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے تھے اسلام کے مقابلے کے لئے ایک ہوگئے۔

عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی جن کو عزت ومال نے اندھا کر رکھا تھا بظاہر تو مسلمان ہوگئے ۔لیکن دل سے کافوں کے ساتھ رہے اور انہوں نے درپردہ ان دشمنوں کی مدد کرنا شروع کردی تو یوں سمجھ لیں مدینہ طیبہ میں آخر مسلمانوں کو چار قوموں سے مقابلہ کرنا پڑا۔علماء یہود، علماء نصاریٰ،جہلا مشرکین،اور مناف

قین یہ منافقین خفیہ ایذا پہنچانے کے علاوہ ہمیشہ کمر بستہ رہتے تھے ۔اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات ڈالنے کی کوشش کرتے

سورہ بقرہ کے فضائل

سورۂ بقر کے بے شمار فضائل ہیں ان میں سے ہم یہاں صرف پانچ 5 فضائل بیان کرتے ہیں ۔مزید فضائل ان شاء اللہ تبارک و تعالی اگلے مضمون میں لکھیں گے ۔

٭(1)٭حضرت ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: “قرآن مجید کی تلاوت کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنی تلاوت کرنے والوں کی شفاعت کرے گا اور دو روشن سورتیں یعنی سورہ بقر اور سورہ ال عمران پڑھا کرو ۔کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جس طرح دو بادل جو اپنے پڑھنے والوں پر سایہ کریں گی اور ان کی شفاعت فرمائیں گی۔اس کو پڑھتے رہنے میں برکت ہےاور نہ پڑھنے میں ثواب سے محروم رہ جانے پر افسوس ہے۔اور جادوگر اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں ۔(مسلم شریف )۔

٭(2)٭تفسیر عزیزی میں ہے کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں جو شخص ہر جمعہ کی شب میں سورۂ بقر اور سورۂ آل عمران پڑھا کرے تو اس کو اتنا ثواب ملتا ہے جس سے کہ بعیدا سے عروبا تک بھر جائے (بعیدا زمین کے آخری ساتویں طبقہ کا نام ہے اور عروبا ساتویں آسمان کا)۔

٭(3)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پُرنور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ “اپنے گھروں قبرستان نہ بناو۔شیطان اس گھر دے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقر کی تلاوت کی جاتی ہے ۔(مسلم شریف کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا)۔

٭(4)٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “ہر چیز کی بلندی ہےاور قرآن مجید کی بلندی سورۂ بقر ہے ۔اس میں ایک آیت ہے جو قرآن مجید تمام آیتوں کا سردار ہے اور وہ آیت آیت الکرسی ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن )

٭(5)٭ حضرت سھل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صاحب جود و کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس دن کے وقت اپنے گھر میں سورۂ بقر کی تلاوت کی تو تین دن تک شیطان اس کے گھر کے قریب نہیں آئے گا اور جس نے رات کے وقت اپنے گھر میں سورۂ بقر کی تلاوت کی تو تین راتیں اس گھر میں شیطان داخل مہ ہوگا۔(شعب الایمان )۔

سورہ بقرہ کے فائدے

سورہ بقرہ کے فائدے بےشمار ہیں جن میں سے کچھ ذکر کرتے ہیں ۔

؞(1؞ )؞جس گھر میں سورۂ بقر کی تلاوت کی جائے اس گھر میں تین روز تک سرکش شیطان داخل نہیں ہوتا۔

؞(2)؞ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقر کی دس10آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا وہ آیتیں یہ ہیں ۔چار آیتیں اول کی ۔اور آیت الکرسی دو اس کے بعد کی تین آخر سورت کی۔

؞(3)؞ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میت کو دفن کرکے قبر کے سرہانے سورۂ بقر کی اول آیتیں مفلحون تک اور قبر کی پائینتی سورۂ بقر کی آخری رکوع پڑھو۔

سورہ بقرہ سے متعلق ویکیپیڈیا میں پڑھیں

تفسیر مختصر

سورۂ بقر کی تفسیر اول آیت سے آیت نمبر 5 تک ۔

الم۔ سورتوں کے اول جو حروف مقطعہ آتے ہیں ان کی نسبت قول راجح یہی ہے کہ وہ اسرار الہٰی اور متشابہات سے ہیں ان کی مراد اللّه اور رسول جانیں ہم اس کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔ تفسیر روح البیان شریف میں ہے کہ الم اور ان کلاموں میں سے جن کے معنیٰ کی خبر حضرت جبریل علیہ السلام کو بھی نہیں ہوتی تھی۔

ذٰلِكَ ال٘کِتٰبُ۔ وہ بلند رتبہ کتاب کوئ شک کی جگہ نہیں ۔اس لئے کہ شک اس میں ہوتا ہے جس پر دلیل نہ ہو قرآن پاک ایسی واضح اور قوی دلیلیں رکھتا ہے جو عاقل،منصف کو اس کے کتاب الہٰی اور حق ہونے کے یقین پر مجبور کرتی ہیں ۔تو یہ کتاب کسی طرح قابل شک نہیں جس طرح اندھے کے انکار سے آفتاب کا وجود مشتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی معاند سیاہ دل کے شک وانکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی ۔

ھُدًی لّل٘مُتَّقِی٘نَ٭ تقوی کے کئی معنٰی آتے ہیں نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرف شرع میں ممنوعات کو چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا متقی وہ ہے جو شرک وکبائر،فواحش سے بچے۔بعضوں نے کہا متقی وہ جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے۔بعض کا قول ہے کہ تقویٰ حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے، بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا تقویٰ ہے بعض نے کہا تقویٰ یہ ہے کہ تیرا مولیٰ تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ۔ایک قول یہ ہے کہ تقویٰ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ عنھم کی پیروی کا نام ہے۔

برادر اوسط امام اہل سنت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ حضرت علامہ حسن رضا خاں علیہ الرحمہ کا کلام پڑھیں

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی قدس سرہ نے فرمایا تقویٰ سات7قسم کا ہے (1)۔کفر سے بچنا یہ بفضلہٖ تعالیٰ ہر مسلمان کو حاصل ہے۔(2)۔بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے۔(3)۔ ہر کبیرہ سے بچنا۔(4)۔صغائر سے بچنا (5)۔ شبہات سے احتراز(6)۔شہوات سے بچنا ۔(7)۔ غیر کی التفات سے بچنا ۔یہ اخص الخواص کا منصب ہے اور قرآن عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے۔

3 thoughts on “سورہ بقرہ”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *