محرم الحرام

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جو یقینا اپنے دامن میں بہت سارے سبق آموز واقعات سمیٹے ہوئے ہے، جن میں سب سے اہم واقعہ امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا مذہب اسلام کی بقا و تحفظ کے لیے اپنی جان کو راہ خدا میں قربان کرنا ہے۔مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ آتے ہیں ہمارے عوام امام حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کے مقصد کو فراموش کرکے طرح طرح کی بدعات و خرافات اور ناجائز و حرام کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہے۔

محرم الحرام

ان میں مروجہ تعزیہ داری کی بھی ایک ناسور رسم ہے جو کئی بدعات و خرافات کا مجموعہ ہے، جب کہ تعزیہ کی اصل صرف اس قدر تھی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک کا صحیح نقشہ بناکر بطور تبرک مکان میں رکھا جاتا؛ تو شرعا کوئی حرج نہ تھا۔

جس طرح مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ و دیگر غیر جانداروں کی تصویر بناکر رکھنے میں حرج نہیں، لیکن آج لوگوں نے اس جائز اصل کو چھوڑ کر اس میں ایسی ایسی خرافات ایجاد کر لی  ہیں، جنہیں دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے۔

تعزیہ داری جس طرح آج رائج ہے، بلاشبہ ناجائز و حرام ہے؛ کیوں کہ اس سلسلہ میں روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ سے ہٹ کر طرح طرح کے ڈھانچے بنائے جاتے ہیں اور انہیں روضہ امام حسین کی شبیہ کا نام دیا جاتا ہے، ان کے اندر بہت ساری جگہ دو مصنوعی قبریں ہوتی ہیں۔

ایک پر سبز اور دوسری پر سرخ رنگ کا غلاف ڈالتے ہیں، سبز غلاف والی کو امام حسن کی قبر اور سرخ غلاف والی کو امام حسین کی قبر بتاتے ہیں، اس کے سامنے مرادیں مانگی جاتی ہیں، اس کو حاجت روا تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے سامنے شیرینی رکھ کر فاتحہ دلائی جاتی ہے، تعزیہ کو گلیوں، کوچوں اور بازاروں میں گھمایا جاتا ہے۔

حضرت قاسم کی مہندی نکالی جاتی ہے، گویا ان کی شادی ہورہی ہے، کسی بچہ کو امام حسین کا فقیر بنایا جاتا ہے، رات دن ڈھول تاشے بجائے جاتے ہیں، نوحہ و ماتم اور سینہ کوبی ہوتی ہےبلکہ بعض جگہوں پر زنجیروں سے ماتم کیا جاتا ہے، مرثیہ خوانی ہوتی ہے، جس کے اشعار جھوٹی روایات پر مشتمل ہوتے ہیں۔

الغرض آج عشرہ محرم میں قسم قسم کی بدعات و خرافات کے انجام دینے کو حسین اعظم کی محبت کا نام دیا جاتا ہے اور انہیں کار ثواب تصور کیا جاتا ہے جب کہ مذہب اسلام، ہر گز ہرگز ان کاموں کی اجازت نہیں دیتا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا بچپن پڑھیں

حقیقت روایات میں کھوگئی یہ امت خرافات میں کھوگئی

لہذا ہمیں چاہیے کہ مذکورہ بالا بدعات و خرافات سے بالکل اجتناب کریں اور ان کی جگہ امام حسین و شہداے کربلا کی یاد میں دینی مجلسیں منعقد کرکے ان کے اخلاق و کردار اور شہادت عظمی کو مقبول روایات کی روشنی میں بیان کرنےکا اہتمام کریں۔

ان کی حیات طیبہ کی روشنی میں شریعت اسلامیہ کی پابندی، ایمان و نماز کی حفاظت و صیانت، جواں مردی، زندہ دلی اور بہادری کا درس حاصل کرنے کی کوشش کریں، نذر و نیاز کا اہتمام کریں، سبیل لگاکر لوگوں کو پانی اور شربت وغیرہ پلائیں، غربا و مساکین پر صدقہ و خیرات کریں، نو دس محرم کے دن روزہ رکھیں اور نماز وغیرہ کا اہتمام کریں کہ یہ افعال یقینا فرض، واجب، مستحب اور کار ثواب ہیں جن کو عمل میں لانے سے قوم مسلم کی دنیوی و اخروی زندگی سنورنے کی پوری امید ہے، ملخصا۔ (فتاوی رضویہ، اعلی حضرت علیہ الرحمۃ، بہار شریعت، صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ)۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:  ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾  (الرعد:۱۳، آیت:۱۱) ترجمہ: ((بے شک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں)  (کنز الایمان)۔

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو!تمہاری   داستاں   تک   نہ   ہوگی    داستانوں  میں

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ. ویکیپیڈیا میں پڑھیں

اللہ رب العزت جملہ مسلمانوں کو امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے مقصد کو سمجھنے اور اس کو بروے کار لانے کی توفیق خیر عطا فرمائے،م۔

ماہ محرم میں ہونے والی تمام قسم کی بیجا حرکتوں سے محفوظ و مامون فرمائے اور اعمال صالحہ کی خوب خوب توفیق بخشے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔


محمد نوشاد عالم متعلم مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *