Home

Afkareraza.افکار رضا

میں ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔

افکار رضا جس میں ہم امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ کے افکار ونظریات کو پیش کرنے کی کوشش کریں گے ۔

کون امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ؟۔

وہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ1272۔1340 جو بلند پایہ عالم ،بلند پایہ فقیہ، صاحب نظر، مفسر قرآن ،عظیم محدث ، مفکر ،مدبر، مصنف،مقرر ،مدرس تو تھے ہی لیکن ان تمام درجات رفیع سے بلند وہ ایک سچے عاشق رسول تھے۔

وہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ جو چودہویں صدی کے مجدد ہیں خود آپ ارشاد فرماتے ہیں ۔

نہ مرا نوش زِ تحسیں نہ مرا نیش زِ طعن

نہ مرا گوش بمد حے نہ مرا ہوش ذمے

منم وکنج خمولی کہ نہ گنجد در وے

جزومن چند کتابے و دوات و قلمے

وہ امام الکلام کلام الامام امام اہل سنت مجدد دین وملت سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی قدس سرہ نے عشق مصطفوی ﷺ کا جو شمع روشن کیا جس کی نوری کرنوں سے سارا عالم اسلام منور ہوگیا نیز جس سے سیکروڑں لوگوں نے اپنے ایمان وعقیدے کو محفوظ کیا

وہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ

جن کی ذات ایک بحر ذخار و روشن آفتاب و ماہ تاب ہے جن کی ایمانی موجوں و شعاعوں کی روشنی سے سارا عالم اسلام روشن ہے وہ امام جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں عقیدہ دیا ۔

اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ

اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں

ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

وہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ

جو ہمیشہ اپنے آقاء ﷺ کی تعریف میں کلام ، زبان ، دل ، قلم سے رطب اللسان رہا کرتے تھے۔ جن کے ذکر وفکر میں مدینہ ، تصور وتخیل میں مدینہ ، نظر ونشانے میں مدینہ ان کی زندگی میں مدینہ پھول میں خوشبو کی طرح برف میں ٹھنڈک کی طرح رچ بس گیا تھا۔فرماتے ہیں کہ

کروں تیرے نام پر جاں فدا نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا

دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں مری بلا

میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں

لھذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم بھی افکار رضا کے ذریعے سے اعلی حضرت عظیم البرکت مجدد دین وملت سرکار امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے فکروں کو آسان لفظوں میں عام کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالی کی توفیق اور اس کی مدد سے اللہ رب العالمین ہمیں حق کہنے کی توفیق بخشے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ ۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف۔

از۔۔۔اویس رضا قادری