ابر رحمت بن کے چھا جاؤ پیام عید ہے

ابر رحمت بن کے چھا جاؤ پیام عید ہے

از ۔ محمدقمرانجم قادری فیضی ابر رحمت بن کے چھا جاؤ پیام عید ہے

ابر رحمت بن کے چھا جاؤ پیام عید ہے

چار سُو اک نو ر برسا ؤ پیا م عید ہے   غمزدہ جوبھی نظر آئے کروغم اسکا دور  مندمل کر دو ہر اک گھاؤ پیام عید ہے

عید کا دن بہت ہی مسعودومبارک اور خدائے تعالیٰ کےمہمان کے دن ہے، آج کے دن ہم سب خدائے تعالیٰ کے مہمان ہیں ، اسی وجہ سے آج کا روزہ حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ جب خدائے تعالیٰ نے ہ میں اپنا مہمان بنا کر کھانے پینے کاحکم دیاہے تو ہمکو اس سے منھ نہیں موڑنا چاہیئے، عید کے دن روزہ رکھنا گویاخدائے تعالیٰ کی مہمانی کو ردّ کرناہے یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا تہوارہے، ہمارے تہوار میں کھیل تماشہ اور ناچ گانا وغیرہ نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف دینا، ستانانہیں ہوتا ۔

رمضان شریف اور عید کا چاند

بلکہ خدانے جس کو دیاہے وہ دوسرے ضرورتمندوں کی حاجتیں پوری کرتاہے، مالدار جب اپنے پھول سےبچوں کو اجلے اجلے نئے نرالے دلکش کپڑوں میں خوشی خوشی کھلیتے کودتے اچھلتے دیکھتاہے توغریب کے مرجھائے ہوئے چہرے اور اسکے بچوں کی حسرت بھری آنکھیں اس سے دیکھی نہیں جاتی، مسلمان دولت مند اپنے گھرکے دس قسم کے خوشبوداراور مختلف النوع لذیذکھانوں کو اس وقت تک چھوتا جب تک مفلس پڑوسی کے گھر میں دھواں اٹھتا ہوا نہ دیکھ لے بھلا میری کیا عید اگر میرا پڑوسی آج کے دن بھوکا رہا بھلامیری سجی سنوری ہوئی بیوی مجھے کیسے بھا سکتی ہے جبکہ برابر میں ایک نادارکی بیوی کے کپڑوں میں تین چار پیوند لگے ہیں ، اگر خدانخواستہ ہم اتنے غیرتمند ہیں۔

اور مسلمان اتنا غیرتمندکیوں نہ ہو تو ہمارا غیورخداتو اس کو برداشت نہیں کر سکتا،کہ میرا ایک محتاج بندہ اپنے میلے کپڑوں کی وجہ سے عید کی نمارتک میں شریک ہونے سے شرما رہاہے، اور اسکے چھوٹے چھوٹے پیارے بچے جب اپنے ساتھ کھیلنے والے بچوں کے پاس جھلملاتےہوئے شاندارکپڑے اور کھن کھناکھن بجتے ہوئے پیسے دیکھ کر اپنی ماں سے منہ بسور کر اماں ہم بھی ایسا ہی کپڑا لیں گے کہتے ہیں اور پھر انکی پیاری ماں انہیں اپنے کلیجے سے لگاتے ہوئے آنکھوں میں آنسو پونچھتے ہوئے کہتی ہے کہ ہاں بیٹا ہاں تم کو بھی یہی کپڑے دلائیں گے اور یہ کہتے ہوئے مارے غم کے بےاختیار اسکی چیخ نکل پڑتی ہے۔

 اور اسکے دکھی دل پر فکروغم کے بادل چھاجاتےہیں ، تو یہ منظر خدائے رحیم وکریم سے دیکھا نہیں جاتاکیونکہ وہ اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتاہے، اور کون غیرت مند مسلمان ایساہے جو یہ سب دیکھ سکتاہے۔

 اس لئے خدائے تعالیٰ نے اپنے خوشحال بندوں پر یہ لازم کردیاہے کہ جب تک وہ میرے غریب بندے اور بندیوں کے آنسو نہ پونچھ دیں ، جب تک ان کا تن نہ ڈھانپ دیں ، جب تک انکا چولہا گرم نہ کردیں ، جب تک انکے نونہالوں کو مسکراتاہوا نہ دیکھ لیں ، خود عیدنہ منائیں ، جب تک انکے دل کی کلی نہ کھِل جائے میرے سامنے نہ آئیں ۔

جب تک اسکی بیوی کی سکھ سےعید منانے کا انتظام نہ ہوجائے، اپنی بیوی کی پازیب کوبیڑی اور ہار کو طوق نہ سمجھیں ، آپس میں ہمدردی کا وہ کم سے کم اور گرےسے بھی گراحصہ ہے کہ اگر اتنابھی نہ ہوتو مالداروں پر پر خدائی قہر اترتا ہے ان کی کمائیوں سے برکتیں ختم ہوجاتی ہیں خدائے تعالیٰ انکے پیچھے ایسے وجوہ پیداکردیتا ہے کہ صدقہء فطر سے کہیں زیادہ پیسہ اسی میں برباد ہوجاتاہے۔

اور اس غریب کے ایک دن کے رونے کی پرواہ نہ کرنے کی سزا میں خدائے تعالیٰ اس بے غیرت دولت مند کو کبھی کبھی برسوں گھٹنوں میں سردے کر رلاتاہے اور جب یہ بندے خوشیوں اور مسرتوں میں دوسروں کو اپنا شریک نہیں بناتے تو خدائے تعالیٰ داناوبینا، غموں تکلیفوں ، آنسوؤں ، اور ہچکیوں میں دونوں کو شریک کرکے اپنے تمام بندوں کو یکساں کردیتاہے۔

عیدکی فضیلت حدیث پاک میں ہے کہ عیدکے دن فرشتے راستوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف آؤ، تمہیں خوب انعامات ملیں گے تمہیں راتوں کو عبادتیں کرنے اوردنوں میں روزہ رکھنے کا حکم ہوا، وہ تم نے پوراکردیا، اب جاکر اپنے اپنے انعامات لے لو، پھر جب عیدکی نماز ہوجاتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتاہے کہ جاؤ تم سب کی مغفرت ہوگئی۔

 حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ دن آسمانوں میں یوم الجائزہ یعنی انعام کا دن کہلاتاہے اور عید کا دن یوم الشکوربھی ہے

لیلۃ الجائزۃ، انعام کی رات

حدیث رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں چاندکی رات کو لیلۃ الجائزۃ یعنی انعام کی رات کہاگیاہےیعنی اسی رات میں اللہ تعالی اپنے روزہ دار بندوں کو اپنے انعام واکرام سے نوازتاہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ۔ جب عید کےچاند کی رات آتی ہے تو آسمانوں پر اس رات کو انعام واکرام کی شب سے یاد کیا جاتاہےاور جب عیدالفطر کی صبح کی سپیدی نمودار ہوجاتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فرشتوں کو انسانی بستیوں میں جانے کا حکم دیتاہے ۔ اوروہ نوری مخلوق انسانی آبادیوں کی گلیوں کوچوں شاراہوں چوراہوں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔

اور ایسی آواز میں پکارتے ہیں جو جنات وانسان کو چہروڑ کر ہر مخلوق ان کی اس نداء کو سماعت کرتی ہے ۔ فرشتےنداء لگاتے ہوئے کہتےہیں کل اےامت محمدیہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس حقیقی رب کی بارگاہ اقدس میں چلو جو بہت زیادہ انعام واکرام سے نوازنے والا ہے، اپنے اس پالن ہار، رب کی بارگاہ میں آؤ جو کبھی کسی سے کچھ نہیں لیتا، اور کبھی کسی سے کچھ نہ لیکر بھی پورے عالم کو بے حساب وکتاب عطا فرماتا ہے ۔ اورجب مومن بندےاپنے اپنےعید گاہوں کی طرف اپنی جبین نیاز کو اس رب تعالی کی بارگاہ میں سرکو جھکانے کے لئے نکلتے ہیں ۔

تو اللہ عزوجل فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہےکہ،اے فرشتوں ۔ اس مزدور کا کیا اجر ہے جو اپنے کام کو پورے ایمانداری کےساتھ کیا ہو،تب وہ نوری فرشتے عرض کرتے ہیں ،اے میرےمالک وپالن ہار، اس کی مزدری یہی ہے کہ اس کی اجرت جلد ازجلد دے دی جائے،تب اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے،کہ اے فرشتوں ۔ گواہ رہنا میں نے اپنے بندوں کو رمضان المبارک کے مقدس ومتبرک روزوں اور تراویح کے بدلے میں بخشش فرمادی ہے ۔ اورپھر بندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے اے میرے بندو مجھ سے سوال کرو مجھ سے مانگو میری عزت وجلال اور بلندی کی قسم ۔

آج، عیدالفطر کے دن جو بھی دارین کے بارے میں مانگو گے سب کچھ عطا کروں گا اور میری عزت وجلال کی قسم ! میں تمہیں کبھی منکرین وملحدین کے سامنے ذلیل وخوار نہیں ہونے دوں گا،۔

قارئین کرام

رمضان شریف کے بعد جب عید کا چاند نظر آئے گا تو دو قسم کے لوگ ہوجائیں گے، ایک وہ لوگ جنہوں نے آہ و زاری کرکے، گریہ و زاری کرکے،ندامت کے آنسوبہا کر اللہ پاک کو خوش اور راضی کرلیا اور اپنے گناہوں کی معاف کرالی، یہ بخشے بخشائے لوگ ہیں ، یہ بامراد لوگ ہیں ۔ اور کچھ لوگ نامراد ہوں گے، جس دن عید کا چاند نظر آئے گا تو ایک طبقہ ایسا ہوگا جو نامراد ہوگا، جس نے اس مبارک مہینے میں بھی گناہ نہیں چھوڑا ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی درخواست کرکے ان کو رو رو کر راضی نہیں کیا ہوگا ۔

رمضان المبارک جیسےخدا کو راضی کرنے اور اسکے سامنے جھکنے کا مہینہ ہے،اسی طرح یہ خداکےبندوں کے ساتھ حسن سلوک اور بہتر برتاؤک کا مہینہ بھی ہے،بندگان خدا کے ساتھ ہمدردی وغم گساری کا معاملہ کرنا اور ان کی خبرگیری رکھنا اس عظیم الشان مہینہ میں اللہ تعالیٰ کو نہایت پسندیدہ ہے،اور روزہ کابنیادی اوراہم تقاضہ ہے ۔ رمضان کے آخری عشرے میں سنت یہ ہے کہ تمام رات جاگ کر تلاوتِ قرآن، ذکرِ الہی اور نوافل کی ادائیگی میں گزاری جائے،یہی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔

عیدگاہوں میں بچوں کی بھیڑ

آج کل عام طورپر بچوں کو اپنے ساتھ عیدگاہ لےجانےکا رواج پڑگیاہےب، جسے دیکھو اپنے ساتھ ایک دو بچے لئے ہوئے ہیں ، اور حیرت تو اس پر ہے کہ ہر سال اسکا انجام دیکھنے کے باجود لوگوں کو عقل نہیں آتی، شاید ہی کوئی سال ایساہوتاہوکہ بچے عید گاہ میں جاکر رونا پیٹنا، لڑنا جھگڑنا نہ کرتے ہوں ، کتنے لوگ ایسے ہیں جنکی عید کی نماز بچوں کو سنبھالنے میں ہی ختم ہوجاتی ہے،

مگر اس بارجب عیدگاہ میں پانچ سے زیادہ لوگوں کو نمازعید پڑھنے کی حکومت کی جانب سے اجازت ہی نہیں ملی ہے تو بچوں کے ساتھ کہاں جا پائیں گے، ۔

مضمون نگار۔ اردوویب ساءٹ پیغام امن کے ایڈیٹرہیں

رابطہ نمبر ۔ 6393021704

qamaranjumfaizi@gmail.com 

شب قدر کی مبارک رات اور توبہ استغفار

Amazon  Flipkart   Havelles  Bigbasket