اسلامی احکام کی قسمیں

اسلامی احکام کی قسمیں

تحریر: طارق انور مصباحی اسلامی احکام کی قسمیں

اسلامی احکام کی قسمیں

مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

۔1-اسلامی احکام کی ابتدائی دو قسمیں ہیں۔ قطعیات اور ظنیات

قطعیات کی دو قسمیں ہیں۔ضروریات دین وضروریات اہل سنت

ظنیات کی بھی دو قسمیں ہیں۔
اجماعی اور غیر اجماعی
ظنیات میں جو اجماعی مسائل ہیں,ان میں اجتہاد کی اجازت نہیں۔اسی طرح قطعیات کی دونوں قسموں میں اجتہاد کی اجازت نہیں۔

۔ 2-ضروریات دین کے افراد وجزئیات کا شمار بھی ضروریات دین میں ہوتا ہے۔مثلا نماز پنج گانہ فرض ہے۔اس کی فرضیت ضروریات دین سے ہے۔نماز پنج گانہ سے مراد ظہر,عصر,مغرب,عشا وفجر کی نمازیں ہیں۔

آج 31:اگست 2021 کی نماز ظہر فرض ہے۔اس کی فرضیت ضروریات دین سے ہے۔کیوں کہ آج کی نماز ظہر بھی نماز پنج گانہ کا ایک فرد ہے۔

اب اگر کوئی کہے کہ خاص کر آج 31:اگست2021 کی نماز ظہر کی فرضیت کا ذکر قرآن مجید یا حدیث متواتر میں نہیں ہے تو ہم آج کی نماز ظہر کو نہ فرض مان سکتے ہیں,نہ ہی اس کی فرضیت کو ضروریات دین سے مان سکتے ہیں تو یہ بات غلط ہے۔

آج کی نماز ظہر کی فرضیت کا جو انکار کرے,وہ کافر کلامی ہے۔اسی طرح دیگر ایام کی نماز ظہر کی فرضیت کا منکر بھی متکلمین کے یہاں کافر ہے۔

ضروریات دین کا انکار متکلمین کے یہاں کفر ہے اور ضروریات اہل سنت کا منکر گمراہ ہے۔

جب آج کی نماز ظہر کی فرضیت کا منکر متکلمین کے یہاں کافر ہے تو آج کی نماز ظہر کی فرضیت کو ماننا ضروریات دین سے ہے۔گرچہ آج کی نماز ظہر کی فرضیت کا خصوصی ذکر قرآن وحدیث میں نہیں ہے

لیکن آج کی نماز ظہر بھی نماز پنج گانہ کے افراد وجزئیات میں سے ہے۔ضروریات دین کے افراد وجزئیات کا شمار بھی ضروریات دین میں ہوتا ہے۔اسی لئے اس کے انکار پر متکلمین حکم کفر عائد کرتے ہیں۔

۔3-کافر کلامی کو کافر ماننا بھی ضروریات دین سے ہے۔جو کافر کلامی کے کفریہ اقوال وافعال اور اس پر نافذ ہونے والے حکم کفر پر یقینی طور پر مطلع ہوکر اسے مومن مانے, وہ بھی کافر کلامی ہے۔

یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ متکلمین صرف ضروریات دین کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔جب علم یقینی کے بعد کافر کلامی کے کفر کا انکار کرنے والا متکلمین کے یہاں کافر کلامی ہے تو کافر کلامی کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔یہ ایک بدیہی بات ہے۔

زید کلمہ خواں ہے۔وہ پنج وقتہ نماز بھی پڑھتا ہے اور ہر دن مندر جا کر پوجا بھی کرتا ہے۔بکر روزانہ اسے پوجا کرتے دیکھتا ہے اور یہ بھی بکر کو یقینی طور پر معلوم ہے کہ بت کو پوجنے والا کافر ہے۔اب بکر تمام حقائق پر یقینی طور پر مطلع ہو کر بھی زید کو مومن مانتا ہے تو بکر بھی کافر کلامی ہے۔

ہر بت پرست کافر ہے اور بت پرست کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔اسی طرح ہر منکر ختم نبوت کافر ہے اور منکر ختم نبوت کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔ہر گستاخ رسول کافر ہے اور گستاخ رسول کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔

منطقی طرز پر اس طرح کہا جا سکتا ہے:۔

۔1-زید بت پرست ہے اور ہر بت پرست کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے,لہذا زید کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔

۔2-زید سورج پرست ہے اور ہر سورج پرست کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے,لہذا زید کوکافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔

واضح رہے کہ جب زید کا بت پرست اور ستارہ پرست ہونا متکلمین کے اصول وقوانین کے مطابق ثابت ہو جائے,تب متکلمین کے یہاں اس پر کفر کلامی کا حکم نافذ ہو گا۔

قادیانی اور اشخاص اربعہ کا منکر ختم نبوت اور گستاخ رسول ہونا متکلمین کے اصول کے مطابق ثابت ہے۔

۔4- جو لوگ مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ اور قادیانی کے کفریہ عقائد اور ان پر نافذ کردہ کفر کلامی کے حکم پر یقینی طور مطلع ہیں۔اس کے باوجود وہ قادیانی اور اشخاص اربعہ کو مومن مانتے ہیں تو وہ لوگ بھی کافر کلامی ہیں۔

سال 1906میں حرمین طیبین سے اشخاص اربعہ اور قادیانی کے لئے کفر کلامی کا حکم آیا۔ سوا سو سال ہونے کو ہیں۔اس طویل مدت میں علمائے اہل سنت وجماعت نے سارے ضروری احکام تفصیل سے بتا دئیے۔اب کوئی جداگانہ حکم بیان کرے تو وہ سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے خلاف ایک نیا قول کرتا ہے۔علمائے کرام کے فتاوی میں تفصیلی احکام موجود ہیں۔

ماضی قریب میں خلیل بجنوری نے تاویلات باطلہ کے ذریعہ اشخاص اربعہ کی تکفیر سے انکار کیا۔علمائے اہل سنت وجماعت نے اس کو کافر قرار دیا۔ظفر ادیبی اور اہل پھلواری پر بھی اسی انکار کے سبب کفر کلامی کا حکم نافذ کیا گیا۔

۔5-سوال:عرب وعجم کے تمام مسلمانوں کو اشخاص اربعہ اور قادیانی کے کفریہ عقائد اور ان لوگوں پر نافذ کردہ حکم کفر کا علم نہیں تو ان لوگوں کو کافر ماننا ضروریات دین سے کیسے ہو گیا؟

جواب:ایمان کی دو صورتیں ہیں۔ایمان اجمالی اور ایمان تفصیلی۔جب تفصیل کا علم ہو,تب تفصیلی ایمان فرض ہے,ورنہ اجمالی ایمان کافی ہے۔

جن اصول دین کے سبب قادیانی اور اشخاص اربعہ کافر کلامی ہیں,وہ اصول دین ضروریات دین سے ہیں۔ہر مسلمان مانتا ہے کہ منکر ختم نبوت اور گستاخ رسول کافر ہے۔پس ہر مسلمان اجمالی طور پر قادیانی اور اشخاص اربعہ کو کافر مانتا ہے۔جب تفصیلی علم ہو جانے کے بعد ان لوگوں کے کفر کا انکار کرے,تب ان کو منکر مانا جائے گا۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ ساری دنیا کے سنی مسلمان اشخاص اربعہ کو جانتے ہی نہیں تو وہ کافر کیسے مانیں گے؟اس کا جواب یہی ہے کہ تمام مسلمان اجمالی طور پر تمام منکر ختم نبوت اور گستاخ رسول کو کافر مانتے ہیں,پس وہ تمام مسلمان اجمالی طور پر قادیانی اور اشخاص اربعہ کو کافر ماننے والے قرار پائے۔

تکفیر کا منکر صرف اسی کو مانا جائے گا جس کو تمام ضروری تفصیلات کا علم ہے,اس کے باوجود وہ اشخاص اربعہ کو مومن مانتا ہے۔

عہد حاضر میں بھارت ہی میں بہت سے شیعہ مجتہدین ہیں جو قرآن مجید کو ناقص مانتے ہیں۔ہمیں ان کا تفصیلی علم نہیں کہ کس مجتہد نے اپنی کون سی تحریر یا تقریر میں قرآن مجید کو ناقص کہا ہے

لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے جو بھی قرآن عظیم کوناقص مانے,وہ کافر ہے,پس ایسے تمام شیعہ مجتہدین کی ہم تکفیر کے قائل شمار کئے جائیں گے جن مجتہدین نے قرآن مجید کو ناقص کہا ہے۔

جو اصول دین ضروریات دین سے ہیں,ان کے توابع اور فروع کا شمار بھی ضروریات دین میں ہوتا ہے۔ ان اصول دین یا ان کے توابع اور فروع کا جب تفصیلی علم ہو جائے,تب ان احکام شرعیہ ضروریہ پر تفصیلی ایمان فرض ہے,ورنہ اجمالی ایمان فرض ہے۔

کسی غیر مسلم نے کہا کہ مذہب اسلام میں جو کچھ احکام ہیں,ان تمام کو ہم نے صدق دل سے مان لیا۔اب ایسا شخص مسلمان ہے,گرچہ اس کو تمام ضروریات دین کا علم نہیں۔

جب کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اسے اسلامی کلمہ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”( عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)پڑھایا جاتا ہے۔

اس اسلامی کلمہ میں صرف توحید ورسالت کا ذکر ہے,حالاں کہ توحید ورسالت کے علاوہ بھی بہت سی ضروریات دین ہیں-ان تمام پر اجمالی ایمان کافی ہے۔تفصیلی علم کے وقت تفصیلی ایمان فرض ہے۔اجمالی علم اور اجمالی ایمان کے وقت اس کو تمام ضروریات دین کی تصدیق کرنا والا تسلیم کیا جائے گا۔

اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہر مسلمان کو تمام ضروریات دین کا تفصیلی علم ضروری ہے تو وہ خود سنجیدگی کے ساتھ غور کرے کہ کیا خود اس کو تمام ضروریات دین کا علم ہے؟

ضروریات دین میں ضروریات عقلیہ بھی ہیں اور ضروریات شرعیہ بھی۔ضروریات عقلیہ کا کچھ شمار ہی نہیں۔ان کا احاطہ کوئی کیسے کر سکتا ہے۔اسی طرح ہر ضروری دینی پر نص ہونا ضروری نہیں۔علم کلام کے مشتغلین سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔

تحریر: طارق انور مصباحی

مدیر: ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی

اعزازی مدیر: افکار رضا

چند علمی سوالات و جوابات

 اخلاق حسنہ کے متعلق چالیس حدیثیں

 اپنے دلوں کو عشق مصطفوی سے روشن کریں

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

ہمارے لیے آئیڈیل کون ہیں ؟ 

تحفظ ناموس  رسالت ﷺ مسلمانوں کی اولین ذمہ داری 

تحفظ ناموس رسالت ﷺ میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

شان رسالت  ﷺ میں گستاخی ناقابل معافی 

ہندی میں مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में पढ़ने क्लिक करें 

غیر مقلد وہابیہ اور کفر کلامی

 گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

 مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے

فقہی اختلاف کے حدود و آداب

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top