اعتکاف کے فضائل و مسائل

اعتکاف کے فضائل و مسائل

تحریر: محمد اشفاق عالم نوری فیضی اعتکاف کے فضائل و مسائل

اعتکاف کے فضائل و مسائل

عزیزان ملت اسلامیہ! اسلام خانقاہیت کا نام نہیں ہے، نہ ہی دین کے لیے کہیں بھی دنیا ترک کردینے کا حکم ہے لیکن سال میں ایک مرتبہ ساری دنیا سے منہ موڑ کراللہ تعالی عزوجل سے دل لگا لینے کا نام اعتکاف ہے اور دنیا بھر میں معتکفین اعتکاف کی نیت سے مساجد کا رخ کرتے ہیں اور عورتیں اپنے گھروں کے ایک حصہ کو مخصوص کرتی ہیں۔

یہ سب عشق و محبت میں بندے پرایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر چند پردوں کے پیچھے (اعتکاف) دنیا کی تمام چیزوں سے بے خبرہوکر اپنے محبوب کے ساتھ راز و نیاز میں مشغول ہوتا ہے۔

معتکف صرف اپنا گھر بار ہی نہیں بلکہ اپنے اعزا، و اقربا،اہل و عیال، رشتہ دار اور تمام دوست واحباب سے ایام اعتکاف میں رشتہ منقطع کردیتا ہے۔

اعتکاف کی تعریف

مسجد میں اللہ عزوجل کے لئے بہ نیت اعتکاف ٹھہرنا اعتکاف ہے اور اسکے لئے مسلمان عاقل اور جنابت، حیض ونفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔بلوغ شرط نہیں بلکہ نابالغ جو تمیز رکھتا ہے اگر بنیت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو یہ اعتکاف صحیح ہے ۔(عالمگیری)

جب کہ اعتکاف کے لغوی معنی ہیں،”دھرنا مارنا۔” مطلب یہ کہ معتکف اللہ تعالی عزوجل کی بارگاہ میں اسکی عبادت پر کمر بستہ ہوکر دھرنا مار کر پڑا رہتا ہے۔اسکی یہی دھن ہوتی ہے کہ کسی طرح اسکا پاک پروردگار راضی ہو جائے۔

اعتکاف کے شرائط:1. جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے اس میں پانچ وقتی نماز باجماعت ہوتی ہو۔2. اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا۔3. حیض، نفاس اور جنابت سے پاک ہونا۔ (خواتین کے لیے)4. روزہ لازمی رکھنا۔5. عاقل و بالغ ہونا، نابالغ مگر سمجھدار اور عورت کا اعتکاف درست ہے۔

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں

سنت اعتکاف: یہ وہ اعتکاف ہے کہ جو عام طور پر رمضان کریم کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ کیوں کہ حضور ﷺ نے ہر رمضان کے آخری 10/ روز اعتکاف کیا، آخری عشرے میں کیے جانے والے اعتکاف کو سنت مؤکدہ کہا جاتا ہے۔

اگر پورے محلہ میں سے ایک یا چند نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب کا ذمہ ساقط ہو جائے گا ورنہ سب پر اس کا وبال (گناہ) ہوگا۔ سنت اعتکاف کا اہم مقصد آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرنا سب سے اہم جز ہے۔

نفل اعتکاف

یہ وہ اعتکاف ہے کہ جس کے لیے کوئی وقت اور اندازہ مقرر نہیں ہے بلکہ جتنا وقت بھی مسجد میں ٹہرے تو اعتکاف ہوگا اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو بلکہ افضل تو یہ ہے کہ آدمی مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کر لے تو نماز اور نفل وغیرہ کے ثواب کے ساتھ ساتھ اعتکاف کا ثواب پاتا رہے گا۔ ( شامی)۔

واجب اعتکاف

یہ وہ اعتکاف ہوتا ہے جس میں بندے نے نذر مانی ہو کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنے اتنے دن اعتکاف کروں گا۔ جتنے دن اعتکاف کی نذر مانی ہو اتنے دن کا اعتکاف کرے گا مگر ہاں اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی ضرور رکھے گا کیوں کہ روزہ صحت اعتکاف کی شرائط میں سے ہے

مسنون اعتکاف کا وقت

مسنون اعتکاف کا وقت 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے قبل اعتکاف کی نیت سے شرعی مسجد میں بیٹھنے سے شروع ہوتا ہے اور شوال کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ 29 رمضان کو عید کا چاند نظر آئے یا 30 رمضان کو آفتاب غروب ہو جائے تو مسنون اعتکاف ختم ہو جاتا ہے

پھر معتکف مسجد سے نکل سکتا ہے۔اعتکاف کی سب سے افضل جگہ:سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام میں کیا جائے پھر مسجد نبویﷺ کا مقام ہے، پھر بیت المقدس کا اور اس کے بعد اس جامع مسجد کا درجہ ہے جس میں جمعہ کی جماعت کا انتظام ہو۔

عورتوں کو اپنے گھر کی مسجد (یعنی جس جگہ نماز پڑھتی ہو) اعتکاف کرنا بہتر ہے ورنہ کسی کمرے میں اپنے لیے جگہ مختص کر دیں۔ (عورتوں کے گھر اور مساجد میں اعتکاف کے حوالے سے فقہی اختلاف پایا جاتا ہے لہذا اگر کوئی خاتون اعتکاف میں بیٹھنا چاہتی ہیں تو وہ اپنے فقہ کے علماے کرام سے رجوع کریں)۔

اعتکاف کی حکمت اور فائدے

اعتکاف میں حکم شرعی ہونے کی وجہ سے جس قدر فائدے اور حکمتیں ہو کم ہیں مگر یہاں مختصراً چند فائدے اور حکمتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے لیکن جب انسان خدا کے گھر میں ہے تو گویا مضبوط قلعے میں ہے۔ اب شیطان اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے گا۔لوگوں کے ملنے جلنے اور کاروبار کی مشغولیتوں میں جو انسان سے چھوٹے موٹے بہت سے گناہ ہوجاتے ہیں، بندہ اعتکاف میں ان سے محفوظ رہتا ہے۔

جب تک آدمی اعتکاف میں رہتا ہے، اسے عبادت کا ثواب ملتا رہتا ہے خواہ وہ خاموش بیٹھا رہے، یا سوتا رہے، یا اپنے کسی کام میں مشغول رہے۔اعتکاف کرنے والا ہر منٹ عبادت کے طور پر لکھا جاتا ہے، شب قدر حاصل کرنے کا بھی اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کیوں کہ جب بھی شب قدر آئے گی تو معتکف بہر حال عبادت میں ہوگا۔ ( مشکوٰۃ شریف)

معتکف کی عبادت

اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے والے فرد کو چاہیے کہ ہر لمحے کو اہم سجھتے ہوئے اپنی زبان کو رب کے ذکر سے معطر رکھے، سنتوں کا خاص اہتمام، نوافل اور قرآن مجید کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کرے۔

اعتکاف کے فضائل و مسائل


فضائل اعتکاف

۔1 اعتکاف کی فضیلت و اہمیت کے لیے صرف یہ بھی کافی ہے کہ حضور ﷺ نے ہجرت کے بعد پوری عمر اہتمام کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا

۔2.حضور اکرم ﷺ نے فرمایاکہ”جو شخص اللہ تعالی عزوجل کی خوشنودی کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرے گا،اللہ تعالیٰ عزوجل اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کردے گا جن کی مسافت آسمان وزمین کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی۔” (کنزالعمال)

۔3  ایک اور جگہ ارشاد فرمایا”جوشخص خالص نیت سے بغیر ریا اور بلا خواہش شہرت ایک دن اعتکاف بجالاے گا اس کو ہزار راتوں کی شب بیداری کا ثواب ملےگا اور اس کے اور دوذخ کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو برس کی راہ ہوگی۔ (تذکرت الواعظین) 

۔4 .نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا”جس نے رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف کرلیا تو ایسا ہے جیسے دوحج اور دو عمرے کئے”(بیھقی) 

۔5 .حضور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے” جو شخص رمضان المبارک کے آخر ی دس دنوں میں صدق و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کرے گا۔اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ہزار سال کی عبادت درج فرماے گا اور قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا۔(تذکرت الواعظین)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا، پھر آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اعتکاف کا اہتمام کرتی تھیں۔ (متفق علیہ)۔

مسنون اعتکاف کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ معتکف لیلۃ القدر کی فضیلت بآسانی پا لیتا ہے کیوں کہ اکثر روایات کے مطابق لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو (بخاری شریف)

مقصد اعتکاف

اعتکاف کا مقصد یہ ہے کہ آدمی بارگاہ ایزدی کی چوکھٹ پر اپنا سر رکھ کر سرور اور خوشی کا مینار دیکھتا رہتا ہے۔ زبان کو اسی کے ذکر سے تر رکھتا ہے، اور بندہ یکسوئی حاصل کرکے شب وروز اللہ ربّ العزت کی تسبیح ، تقدیس اور تحمید میں رطب اللسان رہتا ہے اس لیے کہ بندہ سب کچھ چھوڑ کر بارگاہ عالی میں حاضر ہوا ہے۔ اور اپنے آپ کو بخشش و مغفرت کرانے کے لیے اپنا سرنیاز خم کرکے کہتا ہوا نظر آتا ہے ۔

اے پاک پروردگار! ہمیں معاف فرما،ہمارے گناہوں کو بخش دے،ہمارے لوگوں کوجب تک تو معاف نہیں کرے گا، تیرے در سے کہیں نہ جاؤں گا۔اس لیے جب کوئی شخص اللہ کے دروازے پر دنیا سے منقطع ہو کر پڑے رہے تو اس کے نوازے جانے میں کیا تامل ہوسکتا ہے، اے اللہ ہماری مغفرت فرما اور ہمیں صحیح عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ (آمین)

تحریر: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
خطیب و امام: نہالیہ جامع مسجد دکھن نارائن پور

کولکاتا-136۔

رابطہ نمبر: 9007124164

 

اعتکاف کی روحانی برکتیں اور لاک ڈاؤن

اعتکاف کے فضائل و مسائل : از قلم مفتی شاکر القادری فیضی

ان مضامین کو بھی پڑھیں

رمضان میں کیا کریں 

استقبال ماہِ رمضان المبارک

برکتوں و فضیلتوں کا مہینہ رمضان المبارک 

 اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

 ہمارے لیے آئیڈیل کون 

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top