حیات و خدمات

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تاریخ کی روشنی میں

از قلم: محمد اشفاق عالم نوری فیضی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تاریخ کی روشنی میں

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تاریخ کی روشنی میں

مکرمی! یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہر دور میں جہاں دین متین کے محافظ ونگہبان پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اس کے برگ و بار کو اپنے خون جگر سے سینچنے والے جانثار جنم لیتے رہے ہیں۔جہاں اس کے حسین وجمیل اور روشن چہرے سےگردش ایام کی بدولت پڑنے والی دھول اور گردوغبار کو اپنے دامن دل سے صاف کرنے والے محافظین سامنے آتے رہے ہیں، وہاں اس کے صاف و شفاف دامن پر گرد اڑانے والے بد طینیت اور بد اندیش لوگ بھی ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔

اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والےبدطینیت اور بدبخت منافقین بھی ہر دور میں پیدا ہوتے آرہے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اسلام دشمن نظریات پھیلائیں اور اسلام کے عقائد و روایات کے چہرے کومسخ کردیں ۔دین کا رشتہ ماضی سے منقطع کردیں تاکہ کسی طرح سے دین کے اندر ملحدانہ خیالات کے داخلے کا کوئی دروازہ کھول سکیں۔ ان منافقین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ سلف صالحین نے کتاب وسنت کے نصوص واحکام کی جو تشریحات کی ہیں ،ان کے بارے میں مسلمانوں میں بے اعتمادی پیدا کرکے اپنا سکہ چلائیں اور امت مسلمہ کے شیرازہ کو بکھیر دیں۔
لیکن۔

کیوں رضا آج گلی سونی ہے
اٹھ میرے دھوم مچانے والے

تاریخ کاہر دور شاہد ہے کہ حق پرست علماء و عرفاء نے دین متین کے خلاف اٹھنے والے ان بے ہنگم فتنوں کا سر کچل کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دین آج تک محفوظ ہے۔ لیکن ان فتنوں کو پیدا کرنے والے،انہیں ہوا دینے والے فنا کے گھاٹ اتر گئے، اور کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی راکھ اڑ کرکس شمشان گھاٹ میں دفن ہوئی۔

جب کہ دین حق کی حفاظت کرنے والے اس برگ وبارکو اپنی رگوں کے خون سے سیراب کرنے والے محافظین رحمت حق کے جوار میں آباد ہیں اور لوگوں کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں ۔انہیں دین کے محافظوں، دین کے مجاہدوں، اور نفوس قدسیہ میں ایک وہ بابرکت ہستی بھی ہے جس کو خواص و عوام۔مجدد دین وملت اعلٰی حضرت کے نام سے اپنے دلوں کے نہا خانوں میں بسائے ہوئے ہے۔

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ الحمدللہ وہ عظیم مجدد ہے جس نے ہندوستان میں دین اسلام کی ٹمٹماتی ہوئی شمع کو دین اسلام کے چراغِ سحر کو اپنے خون جگر سے زندگی دے کر پھر سے اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا اور نئے سرے سے روح پھونکی دی

چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنائے صحرا کو۔

نام و نسب
امام اہلِ سنت الشاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نسبا پٹھان، مسلکا حنفی،مشربا قادری، اور مولدا بریلوی تھے، آپ کے جد امجد حضرت محمّد سعید خان رحمتہ اللہ علیہ قندھار ( افغانستان) کے با عظمت قبیلہ بڑھیچ کے پٹھان تھے ۔ حکومت مغلیہ کے زمانہ میں لاہور تشریف لائے اور معزز عہدوں پر فائز رہے۔تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ لاہور کا” شیش محل” ان کی جائیداد تھا پھر سرکاری فرائض کے سلسلہ میں لاہور سے دھلی اور پھر دہلی سے بریلی شریف تشریف لے آئے۔

پھر سرزمین بریلی کویہ عظمت نصیب ہوئی کہ یہ خاندان مستقل طور پر یہیں مقیم ہو گیا۔ جب آپ نے اس عالمِ رنگ وبو میں آنکھ کھولی، تو آپ کے والدین نے آپ کی بابرکت شخصیت کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت اسم گرامی پر موسوم کیا اور آپ کا پیدائشی نام ” محمد” رکھا اور پیدائشی نام کے بعد میں علم ہندسہ کے اعتبار سے آپ کا تاریخی نام “المختار”(1272ھ) تجویز فرمایا۔

آپ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خان جو کہ اپنے وقت کے ایک برگزیدہ ہستی تھے۔ انہوں نے آپ کا نام “احمد رضا” رکھا اورآپ نے اسی نام سے شہرت حاصل کی۔اس کےبعد اعلیٰ حضرت نے خود اپنے نام کے ساتھ” عبدالمصطفی”کا اضافہ فرمایا۔آپ اپنے نعتیہ دیوان میں اپنے اس نام کا اس طرح تذکرہ فرماتے ہیں۔؀

خوف نہ رکھ رضا ذرا تو تو ہے عَبد مصطفیٰ
تیرے لیے امان ہے ، تیرے لیے امان ہے۔

ولادت باسعادت
مسلمان مجاہدینِ حریت، اور جن میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے والدین بھی شامل تھے۔

فرنگیوں سے اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لیے 1856ء میں جنگ آزادی کی تیاریاں کر رہے تھے،کیوں کے آزادی کے متوالے، اللہ کے یہ شیر فرنگیوں کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے سے اتار پھینکنے کے لیے انگریز کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے خلاف اعلان جہاد کرنے والے تھے کہ ان عزم ہمت کے پیکروں کی جواں مردیاں ملاحظہ کرنے کے لیے اعلی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ جنگ آزادی کے جیالوں کے دیش شہر بریلی ، اترپردیش کے معروف محلہ جسولی میں 10/شوال المکرم 1272ھ مطابق 13/جون 1856ء بروز ہفتہ ظہر کے وقت اس جہان آب گل میں جلوہ افروز ہوئے۔

رسم بسم اللہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کی بسم اللہ خوانی کس عمر میں ہوئی، یہ معلوم نہیں ہو سکا۔ البتہ غالب گمان یہ ہے کہ بہت ہی کم سنی یعنی اڑھائی سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کی گئی ہو گی، کیونکہ آپ نے چار سال کی عمر میں ناظرہ قرآن پاک پڑھ لیا تھا۔

قوت حافظہ
آپ کی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ اپنے استاد صاحب سے جو سبق پڑھا، اسے ایک دو دفعہ دہرانے کے بعد کتاب بند کر دی۔استاذ صاحب سبق سنتے، تو لفظ بلفظ سنا دیتے۔ روزانہ کی یہ کیفیت دیکھ کر استاد صاحب بہت متعجب ہوئے۔ ایک روزہ کہنے لگے امن میاں( یہ آپ کا بچپن کا نام ہے) تم آدمی ہو یا فرشتہ ،مجھے پڑھاتے دیر لگتی ہے، تمہیں یاد کرتے دیر نہیں لگتی۔

اس قسم کے واقعات بارہا استاد صاحب کو پیش آتے تھے تو ایک دن تنہائی میں حضرت سے کہنے لگے۔ حضرت صاحبزادہ! سچ سچ بتا دو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا,تم انسان ہو یا جن ؟ آپ نے فرمایا خدا تعالی کا شکر ہے کہ میں انسانی ہی ہوں،بس اللہ تعالی کا فضل و کرم شامل حال ہے (انوار رضا)

تحصیل علم سے فراغت
رسم بسم اللہ خوانی کے بعد آپ کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوگیاتھا۔ آپ نے چار برس کی عمر میں ناظرہ قرآن پاک پڑھ لیا۔ چھ سال کی عمر مبارک میں ماہ ربیع الاول شریف کی تقریب میں ممبر پر رونق افروز ہوکر بہت بڑے مجمع کی موجودگی میں ذکر میلاد شریف سنایا۔اردو، فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد حضرت مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے آپنے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے والد گرامی مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ سے اکتیس علوم حاصل کیا۔

مسند افتاء
تحصیل علوم کے فراغت کے بعد یعنی 14/شعبان المعظم 1286ھ کو اسی دن آپ کے والد گرامی کے پاس رضاعت سے متعلق ایک مسئلہ آیا۔ آپ کے والد گرامی نے
یہ مسئلہ حضرت فاضل بریلوی کے سپرد کرکے ارشاد فرمایا کہ اس کے متعلق فتویٰ لکھو ۔آپ نے مسئلہ کو غور سے دیکھا اور اس پر غوروفکرکرکےجواب تحریر فرماکر والد گرامی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔آپ کے والد گرامی بالکل صحیح فتویٰ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔

بیعت و خلافت
اعلیٰ حضرت کی عمر مبارک جب 21/برس کی ہوئی، تو آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان صاحب آپ کو اپنے ساتھ لے کر حضرت شاہ آل رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس حاضری کے موقع پران بزرگوں کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوگئے۔

آپ کے اس بیعت کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ راہ طریقت میں مرشدِ گرامی کا وجود بہت ضروری ہے۔ آپ کے مرشد آپکی علمی اور روحانی کیفیات سے خوب آگاہ تھے ،اس لئے بیعت کے ساتھ ہی آپ کو تمام سلسلوں کی اجازت و خلافت سے نوازا دیا ،اور ساتھ ہی سند حدیث بھی عطا فرمائی۔

حضرت شاہ آل رسول رحمۃ اللہ علیہ اجازت و خلافت کے معاملہ میں بہت محتاط تھے ۔لیکن اعلی حضرت قدس سرہ کو مرید ہونے کے ساتھ ہی اجازت و خلافت کے ساتھ نوازا گیا،تو انکے بارگاہ میں اور بھی بندہ خدا موجود تھے انہیں حیرت ہوئی۔

ان میں سے ایک غلام اپنی حیرت کو ضبط نہ کرسکا اور عرض کرنے لگا: حضور! آپ کے خاندان میں تو خلافت بڑی ریاضت اور مجاہدے کے بعد دی جاتی ہے،ان کو آپ نے فورا خلافت عطا فرمادی -” مرشدِ گرامی شاہ آل رسول قدس سرہ نے ارشاد فرمایا: “میاں اور لوگ گندے دل اور گندے نفس لے کر آتے ہیں ،انکی صفائی پر خاصہ وقت لگتا ہے

مگریہ پاکیزگی نفس کے ساتھ آے تھے ،انہیں صرف نسبت کی ضرورت تھی،وہ ہم نے عطا کردی ۔”پھر حاضرین سے مخطاب ہوکر فرمانے لگے “مجھے مدت سے ایک فکر پریشان کیے ہوئے تھی ،بحمداللہ وہ آج دور ہوگئ ۔قیامت میں جب اللہ تعالی پوچھے گا کہ اے! آل رسول ہمارے لئے کیا لایا ہے ؟ تو میں اپنے مرید مولوی احمد رضا خان کو پیش کردوں گا۔” (انواررضا)

حج اور دوران سفر رو نما ہونے والے واقعات

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ 1295ھ بمطابق 1878ء کو اپنے والد گرامی قدر کے ساتھ حج بیت اللہ اداکیا۔اور زیارت حرمین شریفین سے مشرف یاب ہونے کے بعد وطن واپسی پر اچانک سمندری طوفان نےاس جہاز کو اپنے گھیرے میں لے لیا، جس میں حجاج کا یہ قافلہ سوار تھا۔

تین دن تک شدید طوفان جہاز کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اور خوف و ہراس اور ناامیدی حیات کی یہ حالت یہاں تک پہنچی کہ لوگوں نے مرنے کی تیاری میں کفن پہن لیے ، لیکن اعلیٰ حضرت پر سکون تھے۔ادھر آپکی والدہ ماجدہ بھی اضطراری کیفیت میں تھیں ۔ والدہ ماجدہ کو پریشان میں دیکھ کر ان کو تسلی دیتے ہوئے آپ نے عرض کیا۔

امی جان ! آپ اطمینان رکھیں خدا کی قسم!یہ جہاز نہیں ڈوبےگا-” آپ نے یہ قسم حدیث مبارکہ پر اطمینان رکھتے ہوئے کھائی تھی کہ حدیث مجھے اپنے خیالات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں مبارکہ میں ہے کہ اگر کوئی مسلمان کشتی پر سوار ہونے سے پہلے اس میں سوار ہونے کی دعا پڑھ لے تو اللہ تعالی اس کشتی کو حادثات سے محفوظ رکھتا ہے۔پھر کچھ دیرہی گزری تھی کہ باد مخالف جو تین دن سے سمندرکی لہروں میں طوفان مچا رہی تھی اچانک وہ بند ہوگئی اور طوفانی کیفیت بھی ختم ہو گئی۔(ملفوظات)

وصال شریف اور آپکا مزار شریف
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقدس سرہ 25/ صفر المظفر 1340ہجری بمطابق 28/ اکتوبر1921ء تاریخ ہے جمعتہ المبارک کا برکتوں اور رحمتوں بھرا دن ہے۔2/بج کر28/منٹ پر قریبی مسجد میں مؤذن نے جمعہ کی دوسری اذان کہنی شروع کی اور اذان کے الفاظ کہتے کہتے جب وہ” حَیَّ عَلَی الۡفَلَاَحۡ ” پر پہنچا،تو آپ اس جہان فانی میں اپنا مشن پورا کرنے کے بعد اپنی آخری سانس لی اور ہمیشہ کے لئے مالک حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہندوستان کے مشہور و معروف شہر بریلی شریف کے محلہ سوداگراں میں مدرسہ” دارالعلوم منظر اسلام “کے شمالی جانب ایک پرشکوہ عمارت میں اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا مزار مقدس ہے جو زیارت گاہ خاص و عام ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے نیک اور صالح اور عشق رسول رکھنے والے لوگوں کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے نورانی مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

از قلم: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
نہالیہ جامع مسجد دکھن نارائن پور، کولکاتا۔136
رابطہ نمبر۔9007124164

ان مضامین کو بھی پڑھیں اوراپنے احباب کو شئیر کریں

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائنس دان

اعلی حضرت مسلم سائنس دان

  امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

اعلیٰ حضرت اور خدمت خلق

اجمیر معلیٰ میں اعلیٰ حضرت

تذکرۂ اعلیٰ حضرت قدس سرہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اغیار کی نظروں میں

اعلیٰ حضرت کا لطف سخن

امام احمد رضا اور اصلاح معاشرہ

جس سمت آگیے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

امام احمد رضا قدس سرہ اور فقہ و فتاویٰ

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*