اعلیٰ حضرت کا لطف سخن

اعلیٰ حضرت کا لطف سخن

یہ مضمون ماہنامہ یادگار رضا بریلی شریف میں شائع ہوا تھا بحوالہ مقالات یاد گار رضا عنوان ہے  اعلیٰ حضرت کا لطف سخن

اعلیٰ حضرت کا لطف سخن

شاعر تو دنیا میں لاکھوں گزرے اور آج بھی ان کا شمار نہی ہوسکتا ان میں شیریں سخن ، بذلہ السنج، نادر طراز، نغز گو، بلیغ و فصیح ، خوش زبانوں کی بھی کمی نہیں اپنے رنگ میں ہر شخص اپنی کمال کے جوہر دکھاجا تا ہے اور دنیا سے بزور ہنر خراج تحسین و آفریں وصول کرتاہے۔

یقیناً کسی کااچھا کلام دیکھ کر اس کی دادنہ دینا نہایت درجہ کا تنگ دلی ہے۔ وہ چیز جو رنگ پلٹ دیتی ہے اور مغموم کو مسرور کر دیتی ہے اور مسرور کو مغموم بنا دیتی ہے شاعروں کی جادوبیانی ہے۔
میں چاہتا تھاکہ شاعروں کے سلسلہ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا تذکرہ کروں کیوں کہ آپ نے جہاں صدہا علوم و فنون کی نادر و لاجواب تصانیف چھوڑی ہیں وہاں اردو ، فارسی اور عربی کےدیوان ، قصائد اور نظمیں بھی آپ کی یادگار ہیں اور آج ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں اعلیٰ حضرت کے اشعار مجالس و محافل میں پڑھیں جارہی ہیں۔

لیکن میں اوزان و قوافی سے گزر کر جب کلام کی بلندی اور اس کے عروج پر نظر کرتاہوں تو مجھ کو شاعروں کے سلسلہ میں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ کرنا ترک ادب معلوم ہوتا ہے

ہاں اگر واردات لکھنتے والے اولیاے کرام و علماے اعلام کو بھی شاعروں میں ذکر کیا جاسکے تو جرأت کروں گا کہ طبقۂ شعرا میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا نام نامی زریں حرفوں کے لکھوں جن کے کلام نے طبیعتوں میں نئی کیفیتیں ہی نہیں پیدا کردیں اور مردہ دلوں میں امنگیں ہی نہیں بھر دیں

بلکہ ایک عالم نکتہ رس کو مختلف علوم و فنون کے مشکل تریں مباحث کا سبق دی اہے اور ہر ایک ماہر فن شاعری کو علم عروض کا کمال دکھایا ہے زبان کی شستگی اور الفاظ کا مناسبت تشبیہات کی پاکیزگی ، استعارات کی خوبی ، بندش کی چستی

علیٰ مضامین کے ساتھ روز مرہ محاورات کے بے تکلفی اور حدود شرع مطہر کے اندر رہنا عشق و شوق کےجذبات اور پھر میدان ادب سے قدم باہر نہ رکھنا یہ کمالات تو ایک طرف مگر کسی سالک راہ سے پوچھیے کہ ایک ایک اشارہ میں اس کو کتنی منزلیں طے کرا ئیں ، کسی زخمی دل وجگر والے سے دریافت کیجیے نمک پاشی نے تجھے کیا مزہ دیا ۔

کلام ہے کہ فضل و کمال کا، علم وہنر کا ، اشاد وہدایت کا موجیں مارنے والا دریا! اب میں آپ کے سامنے حضور والا کے ابتدائی کلام کا ایک نمونہ پیش کرتاہوں کیسی سنگلاخ زمین میں اعلیٰ مضامین لے پھول کھلاے اور شاعری کے جو ہر دکھاے ہیں یہ غزل مطبوعہ دیوان میں درج نہیں ہے اس سے ذوق اٹھائیےاور کیف حاصل کیجیے۔

گلے سے باہر آسکتا نہیں شور و فغاں دل کا
الہی چاک ہو جاے گریباں ان کے بسمل کا
شب اسری قمر حیرت زدہ پھرتا رہا شب بھر
بھلایا ڈھنگ ان کی چال نے سیر منازل کا
بڑھا اس درجہ رعب حسن والا لیلۃ الاسریٰ
سمٹ کر بن گیا چرخ ایک پایا ان کے محمل کا
حجاب نور تک پہنچا کے آںکھیں ہوگیں خیرہ
فغاں کرتا ہوا لوٹ آیا قاصد نالۂ دل کا
سنا جب نام گل خارمدینہ چبھ گیا دل میں
ہر مطلق ہے جلوہ گاہ حسن فرد کامل کا
یہ کس کے رعب آمد نے کیا عالم تہ و بالا
کہ شیرازہ پریشاں ہوگیا ہر نظم باطل کا
یہاں صحرا میں موج آئی وہاں دریا میں گرد اٹھی
ادھر آتش کا ماتم ہے ادھر غوغا زلازل کا
یہ کیا نالہ دشت طیبہ میں وائے محرومی
مگر حسرت نے پھر اس بن میں لوٹا قافلہ دل کا
کسی وحشی کی خاک اڑ کر حرم میں آگئی شاید
بگولوں سے ہے اٹھتا شورمستانہ سلاسل کا
رضا خستہ کیا کہنا عجب جادوبیانی ہے
نمک ہر نغمہ شیریں میں ہے شور عنادل کا

یہ مضمون ماہنامہ یادگار رضا بریلی شریف ، ماہ ربیع لاول ۱۳۴۵؁ھ کے شمارے میں صفحہ نمبر ۷ پر طبع ہوا
بحوالہ مقالات یاگار رضا صفحہ نمبر ۱۲۵

ترتیب و تدوین : مفتی محمد عبد الرحیم نشترؔفاروقی

ان مضامین کو بھی پڑھیں اوراپنے احباب کو شئیر کریں

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائنس دان

اعلی حضرت مسلم سائنس دان

  امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

اعلیٰ حضرت اور خدمت خلق

اجمیر معلیٰ میں اعلیٰ حضرت

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اغیار کی نظروں میں

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top