التاریخ الاسلامیہ الی عہد السلاطین العثمانیہ

التاریخ الاسلامیہ الی عہد السلاطین العثمانیہ

تحریر: محمد توصیف رضا التاریخ الاسلامیہ الی عہد السلاطین العثمانیہ ( حصہ اول )

التاریخ الاسلامیہ الی عہد السلاطین العثمانیہ

بعثت نبی ﷺ سے پہلے

ایک ایسا دور جب پوری دنیا سیاہی میں ڈوب چکی تھی جس سمت دیکھو تو سیاہ گھٹائیں نظر آتی تھی مساوات کا کوئی تصور بھی نہ تھا عورت کا کوئی وقار و عزت نہ تھی یہاں تک کہ عورت کو انسان ہی تسلیم نہیں کیا جاتا تھا

بعض جگہ عورتوں کو شیطانی علامت تصور کیا جاتا تھا عورت کو صرف خدمت کی چیز اور نفسانی خواہش بجھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا لوگ اپنی نو مولود بچیوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے زندہ دفن کر دیا کرتے تھے

لوگ اپنی ماوں کو بازاروں میں فروخت کر دیا کرتے تھے بعض جگہوں میں عورتوں کو برائی کی جڑ تسلیم کیا جاتا تھا ہند جیسی زمین میں جہاں آج حقوق نسواں کو لیکر بحث و مباحثہ کئے جاتے ہیں اور مذہب اسلام پر انگشت نمائی کی جاتی ہے ۔

عوتوں کو ان کے خاوندوں کے مرنے پر انہیں کے ساتھ زندہ جلایا دیا جاتا تھا والد کی جائداد میں لڑکیوں کا کوئی حصہ نہ تھا چھوٹی چھوٹی باتوں میں چالیس چالیس سال تک جنگیں ہوتی تھی علم کی کوئی شمع روشن نہ تھی

سقراط ، افلاطون ، ارستو کے گمراہ کن عقائد و نظریات فلسفوں اور سائنس کے علاوہ کسی سائنس کا تصور تک نہ تھا لوگ بیمار ہونے پر اپنے امراض کی صحت یابی کے لئے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے الغرض لوگ جہالت کے دریا میں غرق ہو چکے تھے ہر طرف سیاہی کا قبضہ تھا

عہد نبوی ﷺ

ایسے پر فتن دور ۵٧٠ عیسوی میں محسن انسانیت کونین کے والی سیاح لا مکاں نور مجسم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری مکہ معظمہ میں ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لائے علم کہ شمع روشن کی عورتوں کے حقوق ملے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال کی عمر شریف میں اعلان نبوت کیا اعلان نبوت فرمانے کے بعد ١٣ سال تک مکہ معظمہ میں ہی تشریف فرما رہے بعدہ اللہ کے اذن سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور وہاں ریاست مدینہ قائم کی اور وہاں سے تبلیغ اسلام کا سلسلہ آگے بڑھایا مدینہ منورہ ہی اسلامی ریاست کا پہلا دار الحکومت ہوا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال شریف ٦٣٢ عیسوی ١١ ھجری دو شنبہ کے دن ماہ ربیع الاول تیسرے پہر میں مدینہ منورہ شریف ہی میں ہوا ماہ ربیع الاول کی تاریخ کے تعلق سے مورخین سیرت کا اختلاف ہے عام طور پر ١٢ ربیع الاول مشہور ہے اور حجرئے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں آپ کی تدفین مبارک ہوئی

عہد خلافت راشدہ

۔( ١ ) خلافت صدیقی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال شریف کے بعد ٦٣٢ عیسوی ١١ ھجری میں یار غار نبی افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تمام اہل اسلام نے بیعت کی

اور آپ منسب خلافت پر فائز ہوئے آپ اسلامی تاریخ کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے آپ نے اپنے دور خلافت میں منکرین زکوة سے جہاد کیا اور تبلیغ اسلام کی آپ نے سب سے پہلے قرآن کریم کو جمع کروایا

اور اس کا نام مصحف شریف رکھا آپ کا دور خلافت ایک قول کے مطابق تقریبًا دو سال سات ماہ تک رہا آپ کے دور خلافت میں دار الحکومت مدینہ منورہ ہی رہا آپ کی تدفین مبارک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک میں ہوئی۔

۔( ٢ ) خلافت فاروقی خلافت صدیقی کے بعد تمام اہل اسلام نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور آپ منسب خلافت پر فائز ہوئے آپ اسلامی تاریخ کے دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے

آپ نے اپنے دور خلافت میں بے شمار کار خیر انجام دئے اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے آپ نے مسجد اقصی کو فتح کیا آپ نے سن ہجری کی شروعات کی آپ کے دور خلافت میں ایک ہزار چھتیس شہر ان کے قصبات اور دیہات کے ساتھ مفتوح ہوئے

آپ کے دور خلافت میں چار ہزار مسجدیں تعمیر ہوئیں چار ہزار مندر بت کدے اور آتش کدے منہدم ہوئے آپ کا دور خلافت ایک قول کے مطابق دس سال چھ ماہ تک رہا

آپ کے دور خلافت میں دار الحکومت مدینہ منورہ ہی رہا آپ کی تدفین مبارک بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک میں ہوئی۔

۔( ٣ ) خلافت عثمانی خلافت فاروقی کے بعد تمام اہل اسلام نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور آپ منسب خلافت پر فائز ہوئے آپ اسلامی تاریخ کے تیسرے خلیفہ منتخب ہوئے آپ نے قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کروایا آپ کے درے خلافت میں ایشیا کے مشہور شہر فتح ہوئے

آپ نے کچھ مکانات خرید کر ارض حرم کی توسیع کی آپ نے مسجد نبوی شریف کی بھی توسیع کی ترشیدہ پتھروں سے اس کی تعمیر کی اس کے ستون بھی پتھر کے بنوائے اور چھت میں ساگوان لگوایا مسجد کا طول ایک سو ساٹھ ہاتھ اور عرض ایک سو پچاس ہاتھ رکھا

آپ کا دور خلافت ایک قول کے مطابق تقریبًا بار سال کچھ کم دن رہا آپ کے دور خلافت میں دار الحکومت مدینہ منورہ ہی رہا آپ کی تدفین مبارک جنت البقیع شریف میں ہوئی

۔( ۴ ) خلافت علوی خلافت عثمانی کے بعد اہل اسلام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور آپ منسب خلافت پر فائز ہوئے آپ اسلامی تاریخ کے چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے آپ نے اپنے دور خلافت میں فتنہ روافض اور فتنہ خوارج سے جہاد کیا

آپ کا دور خلافت ایک قول کے مطابق تقریبًا چار سال سات ماہ تک رہا آپ نے اپنے دور خلافت میں دار الحکومت کوفہ کو بنایا کوفہ اسلامی تاریخ کا دوسرا دار الحکومت ہوا آپ کی تدفین اور قبر مبارک کے تعلق سے اختلاف ہے تفصیل کے لئے تاریخ کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔

۔( ۵ ) خلافت حسنی خلافت علوی کے بعد اہل اسلام نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور آپ منسب خلافت پر فائز ہوئے آپ اسلامی تاریخ کے پانچوے خلیفہ منتخب ہوئے آپ صرف چھ ماہ تک ہی منسب خلافت پر فائز رہے بعدہ منسب خلافت سے دستبردار ہوکر مدینہ منورہ چلے گئے آپ کے دور خلافت میں دار الحکومت کوفہ ہی رہا آپ کی تدفین مبارک جنت البقیع شریف میں اپنی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے پہلو مبارک میں ہوئی 

فائدہ :- خلفاے خمسہ کے علاوہ خلفاے بنو امیہ کے ٩ خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کو بھی بعض علمائے کرام خلفاے راشدہ میں شمار کرتے ہیں ۔ خلافت راشدہ کا دور ١١ ھجری ٦٣٢ عیسوی سے لے کر ۴١ ھجری ٦٦١ عیسوی تک تقریبًا تیس سال رہا بعدہ اموی خلافت شروع ہوئی جو کہ حقیقت میں مولوکیت ہے

عہد خلافت اموی

خلافت راشدہ کے بعد اب میں خلافت بنو امیہ کا اجمالی خاکہ پیش کرتا ہوں یاد رہے خلافت راشدہ کے پہلے دو خلیفہ نہ بنو امیہ سے تھے اور نہ ہی بنو ہاشم سے ہاں تیسرے خلیفہ بنو امیہ میں سے تھے چوتھے اور پانچویں بنو ہاشم سے تھے۔

۔( ١ ) خلافت معاویہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے منسب خلافت سے دستبردار ہونے کے بعد کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ منسب خلافت پر فائز ہوتے ہیں جو کہ حقیقت میں مولوکیت تھی

آپ نے اپنے دور خلافت میں بے شمار کار خیر انجام دیے آپ نے سب سے پہلے بحری بیڑے ڈالے اور بحری جنگیں شروع کی آپ نے قسطنطنیہ میں حملہ کر کے قیصری رعب کو مٹا دیا

آپ کے دورے خلافت میں مشرق و مغرب شمال و جنوب میں اسلامی مملکت کے رقبہ نے وسعت پائی آپ نے تقریبًا ٦۴ لاکھ ٦۵ ہزار مربع کلومیٹر تک اسلامی حکومت کو وسیع کیا آپ کا دور حکومت ایک قول کے مطابق بیس سال تک رہا

آپ نے اپنے دور حکومت میں دار الحکومت دمشق کو بنایا اسلامی تاریخ میں دمشق تیسرا دار الحکومت ہوا آپ کی تدفین مبارک دمشق میں باب جابیہ اور باب صغیر کے درمیان ہوئی۔

۔( ٢ ) یزید بن معاویہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد یزید کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے دور حکومت میں امت مسلمہ کو کافی خسارہ ہوا

اسی کے دور حکومت میں واقعہ کربلا ہوا جس میں امام حسین رضی اللہ کے ساتھ ان کے ٧٢ رفقا کو شہید کیا گیا اسی کے دور حکومت میں مدینہ منورہ جیسی مقدس زمیں میں قتل و قتال خوں ریزی کی گئی۔

اس کا دور حکومت ایک قول کے مطابق پونے چار سال تک رہا اس کے دور حکومت میں مسلمانوں کو کوئی فتح و کامیابی نہ ہوئی اس کے دور حکومت میں دار الحکومت دمشق ہی رہا۔

۔( ٣ ) معاویہ بن یزید یزید کی موت کے بعد اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کو تخت حکومت پر بٹھایا گیا معاویہ بن یزید ایک نیک صفت نو جوان تھا اس نے اپنے دور حکومت میں کوئی جنگ اور کوئی حکومتی کام انجام نہیں دیا ایک قول کے مطابق معاویہ بن یزید کی حکومت محض چالیس دن تک رہی۔
۔( ۴ ) خلافت عبد اللہ بن زبیر معاویہ بن یزید کے بعد عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی اور آپ منسب خلافت پر فائز ہوئے۔

۔( ۵ ) حکومت مران بن حکم مران بن حکم نے اپنی حکومت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہی بغاوت کر کے بعض جگہوں میں قائم کر دی تھی اور اپنے بیٹے عبد الملک بن مران کو ولی عہد مقرر کرنے کی منسوبہ بندی میں سرگرم تھا مروان بن حکم کی موت دور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ میں ہی ہو گئی۔

۔( ٦ ) حکومت عبد الملک بن مروان مروان بن حکم کی موت کے بعد اس کا بیٹا عبد الملک بن مروان جس کو ولی عہد مقرر کرنے کے لیے اس کے والد مروان بن حکم نے خلافت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ کے خلاف بغاوت کی تھی۔

اپنی والد کی موت کے بعد اس نے حجاج بن یوسف کی قیادت میں چالیس ہزار کا لشکر عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف بھیجا اور ان کو شہید کروا کر خود منسب خلافت پر بیٹھ گیا اسی کے دور میں حجاج بن یوسف کے بھتیجے حضرت محمد بن قاسم رحمت اللہ علیہ نے ہندوستان میں حملہ کرکے ملک سندھ کو فتح کیا تھا 

۔( ٧ ) حکومت ولید بن عبد الملک عبد الملک بن مروان کے بعد منسب حکومت پر ولید بن عبد الملک فائز ہوا

۔( ٨ ) حکومت سلیمان بن عبد الملک ولید بن عبد الملک کے بعد منسب حکومت پر سلیمان بن عبد الملک فائز ہوا 

۔( ٩ ) خلافت عمر بن عبد العزیز سلیمان بن عبد الملک کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ منسب خلافت پر فائز ہوئے علمائے کرام کے نزدیک آپ کی خلافت بھی خلافت راشد تسلیم کی جاتی ہے۔

آپ کا دور خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرح ایک قول کے مطابق تقریبًا دو سال پانچ ماہ تک رہا آپ نے اس قلیل مدت میں زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا آپ اسلامی تاریخ کے پہلے مجدد بھی ہیں

آپ نے ہی سب سے پہلے احادیث مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کرنا شروع کیا اور پہلی حدیث کی کتاب آپ نے ہی مرتب کروائی حضرت عمر فاروق اعظم کے بعد آپ نے روزئے رسول کے گرد پانچ کونوں والی دیوار تعمیر کروائی ۔
۔( ١٠ ) حکومت یزید بن عبد الملک عمر بن عبد العزیز کے بعد منسب حکومت پر یزید بن عبد الملک متمکن ہوا 

۔( ١١ ) حکومت ہشام بن عبد الملک یزید بن عبد الملک کے بعد ہشام بن عبد الملک تختہ حکومت پر متمکن ہوا

۔( ١٢ ) حکومت ولید بن یزید بن عبد الملک ہشام بن عبد الملک کے بعد ولید بن یزید بن عبد الملک تختہ حکومت پر فائز ہوا

۔( ١٣ ) حکومت یزید بن ولید بن عبد الملک ولید بن یزید کے بعد منسب حکومت پر یزید بن ولید فائز ہوا اس کی حکومت صرف چھ ماہ تک رہی

۔( ١۴ ) حکومت ابراہیم بن ولید بن عبد الملک یزید بن ولید کے بعد تختہ حکومت پر ابراہیم بن ولید متمکن ہوا اس کی حکومت صرف ٧٠ دن تک رہی 

۔( ١۵ ) حکومت مروان بن محمد بن مروان بن حکم ابراہیم بن ولید کے بعد مروان بن محمد تختہ حکومت پر متمکن ہوا مروان بن محمد حکومت بنوامیہ کا آخری بادشاہ ہوا بعدہ خلافت عباسیہ قائم ہوئی 

فائدہ :- عہد خلافت بنو امیہ ۴١ ہجری ٦٦١ عیسوی سے لے کر ١٣٢ ہجری ٧۵٠ عیسوی تک تقریبًا ٩٠ یا ٩٢ سال تک رہا بعدہ ابو عباس عبد اللہ فتاح نے بغداد میں خلافت عباسیہ قائم کی لیکن ١٣٨ ھجری میں خاندان امیہ کا ایک شخص عبد الرحمن بن معاویہ بن ہشام ملک اندلس ( اسپین ) بھاگ گیا

اور وہاں اس نے دوبارہ حکومت امیہ قائم کی جن کو خلفائے اندلس ( اسپین ) کہا جاتا ہے مذکورہ بالا پندرہ حکمران حضرت امیر معاویہ سے لے کر مروان بن محمد تک خلفائے دمشق یا حکمران دمشق کے نام سے مشہور ہیں

ان شاء اللہ اموی حکمران اندلس ( اسپین ) کا ذکر حصہ دوم میں کیا جائے گا بعدہ خلفائے عباسیہ بغداد و مصر کا ذکر بھی کیا جائے گا

طالب دعا
محمد توصیف رضا

9682473113

حسب فرمائش
حافظ محمد ناظم ازہری

ان مضامین کو بھی پڑھیں

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

وجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

 موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

 آزمائش کا زمانہ ہے امت کو بچانا ہے

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top