Categories: احکام شریعت

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا

از قلم مفتی خبیب القادری مدنا پوری اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا ؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اللہ جل مجدہ الکریم نے زمین وآسمان؛ شجر و حجر؛  برگ و ثمر ؛چرند و پرند؛ پانی وہوا اورجانور وغیرہ سب کو انسان کے لیے پیدا فرمایا ہےاور انسان کو اپنی بندگی کے لیے وجود بخشا جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون” اور ہم نے انسان اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے”

اللہ تعالی نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کو سکون و اطمینان عطا کر دیا چناں چہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے” لیسکن الیھا “(سورہ اعراف)” تاکہ وہ (مرد) اس (عورت) سے سکون حاصل کرے”دوسری مقام پر ارشاد فرمایا”لتسکنوا الیھا“( سورہ روم)” تاکہ ان کے ساتھ آرام سے رہو”۔

اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے نسل انسانی کو خوب پھیلایا چناں چہ ارشاد خداوندی ہے” وبث منھما رجالا کثیرا ونساء “(سورہ نساء) اور ان( آدم و حوا)سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے ہیں” “سبق” جتنے بھی انسان دنیا میں ہیں سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ماں حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا ہیں

آج اگر جائزہ لیا جائے تو اس دنیا میں انسان اپنے مقصد اصلی سے بھٹک کر دوسرے راستوں پر چل گیا ہے  مثلاً ! کوئی جان بوجھ کر نماز کو ترک کردیتا ہے ؛کوئی نماز میں سستی وکاہلی کرتا نظر آتا ہے؟

کوئی آٹھ کی ؛کوئی تین سو ساٹھ کی ؛جب کہ کوئی صرف کھاٹ کی ہی پڑھتا ہے اور کوئی صرف تین وقتوں کی ہی پڑھتا ہے؟

 کوئی نماز؛ روزہ؛ حج اور زکوٰۃ کو مکمل بھول سا گیا ہے اور کوئی  کھبی کھبار نماز ادا کرتا ہے ؛اور کوئی نمازیوں کا ادب واحترام ہی نہیں کرتا

حالاں کہ حقیقت میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف عبادت کر نے کے  لیے ہی پیدا کیا ہے

نماز چھوڑنا بہت بڑھا گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے کا سبب ہے چناں چہ حیث پاک میں ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفرجس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا“۔

حدیث پاک میں آیا ہے جو انسان نماز میں سستی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پندرہ سزائیں دیتا ہے پانچ دنیا میں تین موت کے وقت تین قبر میں تین قبر سے نکلتے وقت

دنیا میں ملنے والی سزائیں یہ ہیں

۔(١)اس کی زندگی میں برکت نہیں ہوتی

۔(٢)اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادی جاتی ہے

۔(٣)اسے اللہ تعالی کسی عمل کا اجر نہیں دیتا

۔(٤)اس کی دعا آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی)

۔(٥) اس کو نیک لوگوں کی دعا سے حصہ نہیں ملتا”

موت کے وقت پہچنے والی سزائیں یہ ہیں

۔(١) وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے

۔(٢)بھوک کی حالت میں مرتا ہے

۔(٣) پیاسا مرتا ہے اگر چہ دنیا کے تمام سمندروں کا پانی اسے پلایا جائے اس کی پیاس نہیں بجھتی

قبر میں پہنچنے والی سزائیں یہ ہیں

۔(١) اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں

۔(٢) اس کی قبر میں آگ جلائی جاتی ہے وہ صبح وشام انگاروں پہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے

۔(٣) اس کی قبر پر ایک اژدہا مقرر کیا جاتا ہے جس کا نام “شجاع اقرع“یا “الشجاع الاقرع“ہے اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہیں ہر ناخن ایک دن کی مسافت کے برابرلمبا ہے وہ میت کو ڈستا ہے اور کہتا ہے میں”شجاع اقرع” ہوں یا “الشجاع الاقرع” ہوں اس کی آواز سخت گرج والی آواز کی طرح ہوتی ہے اور کہتا ہے میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے میں تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے صبح کی نماز طلوع آفتاب تک نہ پڑھی تھی

اوراس بات پر ماروں کہ تو نے ظہر کی نماز عصر تک مؤخر کی؛ اور اس بات پر مارو ں کہ تو نے عصر کی نماز مغرب تک نہیں پڑھی ؛اور اس بات پر ماروں کہ تو نے مغرب کی نماز عشاء تک ادا نہ کی، اور تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے عشاء کی نماز کو صبح تک مؤخر کیا ، اور وہ جب بھی اسے کوئی ضرب مارتا ہے تو وہ  زمین میں ستر گز تک گھس جاتا ہے پس وہ قیامت تک زمین میں عذاب آئے گا

اور وہ عذاب جو قبر سے نکلنے کے بعد قیامت میں ہوں گے وہ یہ ہیں

۔(١) حساب کی سختی

۔(٢) رب کی ناراضگی

۔(٣) جہنم میں داخلہ (بے نمازی کا انجام صفحہ١٠)۔

 خردو نوش؛رہنے سہنے؛ بیٹھنے اٹھنے؛آنے جانے؛کاروبار کرنےاور سونے جاگنے غرض یہ کہ انسان کو اللہ تعالی نے مکمل آزادی ہے مگر اس آزادی کے ساتھ عبادت سے آزادی نہیں ہے ہر حال میں نماز ادا کرنی ہوگی

کیوں کہ نماز فرض عین ہے اور  فرض کی ادائیگی مثل قرض کے ہوتی ہے اور نماز کی تحقیر کرنا کفر ہے

 مگر آج کا انسان بالخصوص مسلمان ہر طرح کی برائیوں میں ملبوس ہے؛ جوئے کے اڈے پر مسلمان؛ شراب کی بھٹی پر مسلمان ؛کھیل کود کے میدان میں مسلمان؛ ناچ گانے کی محفلوں میں مسلمان؛ ہر طرح کی برائی میں مسلمان؛ فرائض کی ادائیگی نہ کرنے میں مسلمان؛ غرض ہر طرح کے فرض سے سستی کرنے میں مسلمان ملبوس ہے

اس کو بھی پڑھیں : مدارس و مکاتب کی ضرورت و اہمیت

نوٹ بعض مسلمان تمام شرعی احکام و افعال کے پابند بھی ہیں

  آج مسلمان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ وہ ﷲ جل جلالہ اور رسولﷺ کے فرامین کو پسِ پشت ڈالے ہوئے

 ہے جب تک انسان اللہ اور رسول کی فرمانبرداری نہیں کرے گا اس کو ہر طرح کی رسوائی ہی  ملتی رہے گی

حالات کے سدھر نے کا طریقہ

تمام برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے توبہ کرے

قرآن و حدیث کا مطالعہ کریے ؛ احکام پر عمل کرے؛ ہر طرح کی برائی سے دور رہے ؛ علما کا ادب و احترام کرے ، سادات کرام کی خدمتیں کرے ؛ان کا احترام کرے؛ سنت رسول ﷺ  کے سانچے میں ڈھل جائے

ان شاءاللہ دنیا بھی سدھر جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی  اللہ تعالی اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہدایت عطا فرمائے آمین

نہ مانو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

از قلم : مفتی خبیب القادری مدناپوری

بریلی شریف یوپی

7247863786

مفتی کے صاحب کے دوسرے مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

Recent Posts

ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

از قلم: محمد مجیب احمد فیضی ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ ماہ ربیع… Read More

بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں

از: محمد عبدالمبین نعمانی قادری بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں بارہ… Read More

نعت مصطفےٰ ﷺ

نعت مصطفےٰ ﷺ آئیں کچھ آخرت کے کار کریںنذر ہم نعت کے اشعار کریں وہ… Read More