اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

تحریر: محمد ایوب مصباحی شیطان کی عداوت اور اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش


تخلیقِ آدم علیہ السلام سے پہلے جنت کی چابی عزازیل کے پاس تھی ، یہ معلم الملٸکہ تھا ، جہاں چاہتا سیر کرتا ، آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنےکے سبب تمام اعزازات و مراتب اس سے مسلوب ہو گئے، یہ ابلیس نام سے موسوم ہوا، اور لعنت کا طوق گلے میں ڈال کر رانده بارگاہِ الہی کردیا گیا.

حضرتِ آدم و حوا علیہما السلام نے گندمِ ممنوع بھی اسی کے وسوسے سے کھایا،جیساکہ اس کو اللہ تعالی نے کتابِ مبین میں بیان کیا:”فَوَسْوَسَ إِلَیہِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰآدَمُ ھَلْ أَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَةِ الخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّایَبْلٰی ، فَأَکَلَا مِنْھَا-الآیة-” (س:طہ ، آیت:١٢٠،١٢١)
ترجمہ : تو شیطان نےاسے وسوسہ دیا ، بولا : اے آدم! کیا میں تمھیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے؟ تو دونوں نے اس میں سے کھالیا- پھر آپ زمین پر تشریف لاۓ اور کٸی سال متواتر گریہ وزاری کرتے رہے، آخرکار نبی آخر الزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے دعاقبول ہوٸی

اب ابلیسِ لعین کی دشمنی براہِ راست آدم علیہ السلام اور آپ کی ذریت سے ہوگٸی اور آپ سے اس نے دشمنی میں استحکام لانے کے لیےکٸی قسمیں بھی کھاٸیں 

جسے قرآنِ کریم میں اس انداز سے بیان کیا گیا ”قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَیْتَنِی لَأُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الأَرْضِ وَلَأُغْوِیَنَّھُم أَجْمَعِیْنَ ، إِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ المُخْلَصِیْنَ-“(س:الحجر، آیت:٣٩،۴۰) ترجمہ:- بولا: اے رب میرے! قسم اس کی کہ تونے مجھے گمراہ کیا میں انھیں زمین میں بھلاوے دوں گا اور ضرور میں ان سب کو بے راہ کردوں گا مگر جو ان میں تیرےچنے ہوۓ بندے ہیں (کنز الایمان)

دوسری قسم یہ کھاٸی

قَالَ أَرَءَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَٸِنْ أَخَّرْتَنِی إِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَأَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہُ إلَّا قَلِیْلًا-” (س:بنی إسراٸیل،آیت:٦٢) ترجمہ:- بولا:دیکھ تو یہ جو تونے مجھ سے معزز رکھا اگر تونے مجھےقیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا مگر تھوڑا- (کنز الایمان)۔

تیسری قسم یہ کھائی

قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِیْ إِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ، قَالَ فَإِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ،إِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ، قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّھُمْ أَجْمَعِیْنَ، إِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (س:ص،آیت:٧٩،٨٠،٨١،٨٢،٨٣) ترجمہ: بولا: اے میرے رب! ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھاۓ جاٸیں ، فرمایا: تو تو مہلت والوں میں ہے اس جانے ہوۓ وقت کے دن تک ، بولا: تو تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کروں گا مگر جو ان میں چنے ہوۓ بندے ہیں (کنز الایمان)

چوتھی، پانچویں، اور چھٹی قسم یہ کھائی

وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفرُوْضًا، وَلَأُضِلَّنَّھُمْ وَلَأُمَنِّیَنَّھُمْ وَلَأٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ- (س:نساء ، آیت: ١١٨،١١٩) ترجمہ: اور بولا: قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھرایا ہو حصہ لوں گا ، قسم ہے میں ضرور انھیں بہکا دوں گا، ضرور انھیں آرزوٸیں دلاٶں گا،ضرور انھیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انھیں حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوٸی چیزیں بدل دیں گے- (کنز الایمان)

ساتویں اور آٹھویں قسم یہ کھائی

قَالَ رَبِّ بِمَاأَغْوَیْتَنِیْ لَأَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَآتِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ أَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَاٸِلِھِمْ وَلَاتَجِدُ أَکْثَرَھُمْ شَاکِرِیِنَ-” ترجمہ: بولا: توقسم اس کی کہ تونے مجھے گمراہ کیا ، میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا پھر ضرور میں ان کے پاس آٶں گا ان کے آگے، ان کے پیچھے، ان کے داہنے اور باٸیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پاۓ گا(کنز الایمان)

شیطان لعین نے اپنی قسموں میں اس بات کا ذکر کیا کہ اے پروردگار! میں تیرے عام بندوں کو خوب بہکاٶں گا لیکن جو تیرے خاص بندے ہیں ان پرمیرا داٶ نہیں چلے گا عوام الناس کو خوب گمراہ کروں گا ، انھیں اپنے ساتھ دوزخ میں لے جانے کی سعیِ پیہم کروں گا اور شب وروز ان سے گناہوں کا ارتکاب کراٶں گا۔

انسان چوں کہ خطا و نسیان سے مرکب ہے اس لیے خالقِ حقیقی سے ملاقات کو فراموش کر بیٹھے گا اور شیطان کے بہکاوے میں آکر گناہ کرے گا تو ایسے موقع پرمنعم حقیقی نے اپنے بندے پرالطاف وعنایات کی ایسی موسلادھار  بارش کی کہ بندہ اگر گناہ کر بیٹھے تو اپنے رب سے مایوس نہ ہو بلکہ یکبارگی بارگاہ الہی میں رجوع لاے 

توبہ و استغفار کرے، اپنے گناہوں پر نادم ہو اور ایک خداۓ برتر کی عبادت میں لگ جاۓ تاکہ جنت کا مستحق ہو

اس لیے اللہ تعالی نے بے بہا انعامات و اکرامات مثلاً شبِ برأت ، شبِ معراج ، شبِ عاشورا کے باوجود ایک بیش قیمت ، عدیم النظیر نعمت ماہِ رمضان کے تاجِ زرّیں سے اس امت کو سرفراز کیا ، اور اس نعمتِ عظمٰی میں خود بڑے بڑے انعامات ودیعت فرماۓ جنھیں ہم احادیث کی رو سے آپ کے سامنے پیش کریں گے۔

رمضان اسلامی کیلینڈر کے حساب سے سال کا نواں مہینہ ہے ، اس ماہ میں آخری آسمانی کتاب قرآن پاک اورشب قدر کا نزول ہوا 

اس کے اختتام پر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو عید جیسے ایک عظیم تیوہار سے نوازا جو اخوت و بھاٸی چارگی کی اعلی ترین مثال ہے

رمضان کی آمد پر پہلا انعام “صحیح بخاری” میں حضرت ابو ہریرہ سے یہ مروی ہوا کہ “رمضان” کی آمد پر آسمان کے دروازے ، ایک روایت کے مطابق جنت کے دروازے، اور ایک روایت کے مطابق رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں

دوسرا انعام جیسا کہ “شعب الایمان” میں حضرت سلمانِ فارسی سے روایت ہے ، یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس ماہ میں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل رکھی

تیسرا انعام یہ کہ اس ماہ میں نفل کی ادائیگی پر فرض کے مساوی ثواب اور ایک فرض ستر فرض کے برابر رکھا

چوتھا انعام یہ کہ اس میں مومن کا رزق بڑھا دیاجاتا ہے

پانچواں انعام یہ کہ اس ماہ میں روزہ دار کو افطار کرانے والے کے لیے گناہوں کی معافی کا پروانہ مل جاتاہے۔

چھٹا انعام اس کی گردن کی نارِ دوزخ سے خلاصی۔

ساتواں انعام افطارکرانے والے کے لیے ایسا ہی ثواب جیسا روزہ دار کے لیے اس کے ثواب میں کچھ کمی کیے بغیر

آٹھواں انعام اس ماہ میں پیٹ بھر کھانا کھلانے والے کے لیے حوضِ کوثر سے ایسی سیرابی کہ کبھی پیاسا نہ ہو اس کے بعد جنت میں داخلہ۔

نواں انعام اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت ،دوسرا مغفرت اورتیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔

دسواں انعام رعایہ پر تخفیف کرنے والے کے لیے بخشش اورجہنم سے آزادی کا پروانہ دے دیا جاتا ہے

گیارہواں انعام جو حضرت ابوہریرہ کی روایت میں “صحیح بخاری” میں مذکور ہے ، یہ ہے کہ جو شخص اس ماہ کے روزے رکھے، راتوں میں اور شبِ قدر میں قیام ایمان و اخلاص اور حصولِ ثواب کی نیت سے کرے اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں

بارہواں انعام یہ ہے جس کو عبد اللہ بن عمرو نے اپنی “مسند” میں روایت کیا،کہ روزہ اور قرآن میدانِ محشر میں بندہ کی شفاعت کریں گے ، روزہ کہے گا: “اے پروردگار! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور شہوات سے باز رکھا

لہذا میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما”- قرآن کہے گا: “اے پروردگار ! میں نے اسے رات میں سونے سے باز رکھا لہذا میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما تو دونوں کی شفاعت قبول کرلی جاۓگی

تیرہواں انعام “کنزالعمال” میں حضرت ابو ہریرہ سے منقول ہوا کہ اللہ تعالی “رمضان المبارک” کے ہر روز دس لاکھ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ مزیدیہ کہ جب انتیسویں رات آتی ہے تو جتنے پورے مہینے میں آزاد ہوۓ اتنے اس رات میں آزاد فرماتا ہے

چودہواں انعام شبِ عید الفطر کو ایک خاص تجلی فرماکر فرشتوں سے باہم مذاکرہ کرتے ہوۓ ان کے مشورے ”کہ مزدور کو پورا اجر دیا جانا چاہیے“ پر انھیں گواہ بناکر سب کو بخشش کا پروانہ عطا فرماتاہے

پندرہواں انعام اولادِ آدم کے ہر عمل کا اجر سات سو گنا تک کردیاجاتا ہے

سولہواں انعام روزہ دار کو اجر خود اللہ تعالی عطا فرماۓ گا

سترہواں انعام روزہ دار سے دو خوشیوں کا وعدہ یعنی افطار اور رب سے ملاقات کے وقت 

اٹھارواں انعام روزہ دار کے منھ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے ان سب کو روایت کیا حضرت ابو ہریرہ نے “بخاری” و “مسلم” میں

انیسواں انعام اللہ کا بندوں پر یہ کہ اس ماہ میں شیاطین اور سرکش جنات کو قید کرلیا جاتا ہے اور اللہ تعالی کی رحمت پکار پکار کر کہتی ہے اے خیر تلاش کرنے والے! آ، اے برائی ڈھونڈنے والے! باز آ، امام ترمذی اس روایت کو اپنی کتاب “جامع ترمذی” میں حضرت ابو ہریرہ سے لاے

اکیسواں انعام بھی انھیں سے مروی کہ اس ماہ میں جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اسے امام نساٸی نے روایت کیا 

باٸیسواں انعام وہ ہے جس کو حضرت عبد اللہ بن عمر نے شعب الایمان میں روایت کیا کہ جنت “رمضان المبارک” کی خاطر ابتداے سال سے آمدِ “رمضان” تک آراستہ کی جاتی ہے اور پھر یکم “رمضان المبارک” کو زیرِ عرش جنت کے اوراق سے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں پرہوا چلتی ہے تو وہ تمنا کرتی ہیں یارب! اپنے بندوں کو ہمارا خاوند بنا، ان سے ہماری آنکھیں اور ہم سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں

دارمی” و”ابن ماجہ” میں حضرت عمارة بنت کعب سے مروی ہے کہ جب روزہ دار کے پاس کچھ کھایا جاے تو فرشتے اسے دعاٸیں دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ فارغ ہوں ، یہ تیٸیسواں انعام ہوا

چوبیس اور پچیسواں انعامِ ربانی “مشکوة شریف” باب المتفرقات میں حضرت بریدہ سے یہ منقول ہوا کہ روزہ دار کا رزق جنت میں ہے اور اس کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں

ان کے علاوہ بھی قرآن و حدیث میں بےشمار انعامات بیان ہوۓ لیکن ہم صرف انھیں پر اکتفا کرتے ہیں اللہ تعالی کی بارگا میں التجا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو “رمضان المبارک” کی قدر کرنے کی توفیق عطافرماۓ اور “رمضان المبارک” کے انعام و اکرام کی موسلادھار بارش ہم سب پر برساۓ۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین ﷺ

تحریر: محمد ایوب مصباحی

پرنسپل دارالعلوم گلشن مصطفی

بہادرگنج، مراداباد، یوپی، انڈیا

ان مضامین کو بھی پڑحیں 

 رمضان المبارک اپنی رحمتوں کو بکھیرتا ہوا ہم سے رخصت ہو رہا ہے

برکتوں و فضیلتوں کا مہینہ رمضان المبارک 

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top