امام احمد رضا اور اصلاح معاشرہ

امام احمد رضا اور اصلاح معاشرہ

مفتی قاضی فضل احمد مصباحی قاضی شرع کٹیہار امام احمد رضا اور اصلاح معاشرہ

امام احمد رضا اور اصلاح معاشرہ

معاشرہ کا معنی مل جل کر رہنے کے ہیں، اس لیے کہ معاشرہ سے مراد افراد کا مجموعہ ہے جو باہم مل جل کر رہے۔ اجتماعیت کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے اور انسان پیدائش سے لے کر موت تک معاشرہ کا محتاج ہے۔ انسان ہر متعلقہ شئے کے لیے معاشرے کا محتاج و دست نگر ہے۔

اگر اس سے تمام علائق حذف کر دئیے جائیں تو پھر اس کے پاس کچھ باقی نہ رہے اور انسانی زندگی کی حیثیت ختم ہو جائے۔ اجتماعی زندگی کے بغیر انسان کے اعمال، اغراض اور عادات کی کوئی قیمت نہ رہے۔

زمانہ قدیم سے معاشرے مختلف بنیادوں پر قائم ہوتے رہے ہیں مثلاً برادری، قوم، زبان، مذہب اور جغرافیائی حدود وغیرہ۔ انسانی تاریخ میں جتنے معاشرے وجود میں آئے ہیں ان میں کم و بیش یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔

مختلف معاشروں کی تباہی

انسان نے تقریباً ہر دور میں کوشش کی ہے کہ معاشرتی نظام مستحکم رہے، اللہ عزوجل نے اپنے مقدس کلام میں بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذکر کیا ہے۔ پچھلی قوموں کی تباہی پر غور کرنے کے ضمن میں فرمایا:۔

’’اولم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین کانوا من قبلہم کانوا ہم اشد منہم قوۃ و آثارا فی الارض فاخذہم اللہ بذنوبہم وما کان لہم من اللہ من واق ۔‘‘ (۱) (سورۂ مومن، آیت:۲۱)

ترجمہ کنزالایمان: تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا۔

اسلامی معاشرہ

  اسلامی معاشرہ جو ہماری گفتگو کا اصل محور ہے ایک ایسی متوازن اور معتدل زندگی کا نام ہے جس میں انسانی عقل، رسوم و رواج اور معاشرتی آداب فرمان الٰہی کی روشنی میں طے پاتے ہیں۔ یہ نظام ایسا جامع اور ہمہ گیر ہے کہ زندگی کے تمام مظاہر اور حیات کی جملہ سرگرمیاں اس کے دائرہ میں آجاتی ہیں۔

اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرے کی صحیح زندگی اس کا توازن ہے، جہاں کہیں توازن بگڑا وہیں فساد پیدا ہوگیا، معاشرہ کی تاریخ اصلاح و فساد اور توازن و عدم توازن کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ہر زمانے میں فساد کو مٹانے اور اصلاح پر گامزن کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔

معاشرہ کے بگڑے ہوئے نظام کو سدھارنے اور فساد کو مٹانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جنہوں نے ہر زمانے میں قوم کے فساد کو دور کرنے اور معاشرے کو سدھارنے کی کام یاب کوششیں کیں۔

خصوصیت کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے اپنی مؤثر تعلیمات کے ذریعہ انسانوں کو تباہی کے دلدل سے نکالا اور قعر مذلت سے نکال کر اوج ثریا پر پہنچا دیا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا پاکیزہ اور صالح معاشرہ پیش فرمایا جس کی نظیر قیامت تک نہیں پیش کی جا سکتی۔

اور اسی معاشرے کے افراد کو قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ایک نمونہ بنا دیا کہ جن کے طریقوں پر چل کر لوگ راہ ہدایت پا سکتے ہیں اور اصلاح و فلاح سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔ وہ حضرات صحابۂ کرام کا پاکیزہ معاشرہ تھا، پھر صلحائے امت اور علماے ملت نے اپنے اپنے زمانہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعہ معاشرہ کو سدھارنے کی بھرپور کوششیں فرمائیں۔

ماضی قریب میں فقیہ فقید المثال امام احمد قدس سرہٗ کی شخصیت اس حوالہ سے محتاج تعارف نہیں جنہوں نے اپنے زمانہ میں بدعات و منکرات کے خاتمہ اور معاشرہ کو صحت مند اور صالح بنانے کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ ذیل میں امام موصوف کی انہی خدمات کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

۔(۱) بدمذہبوں سے میل جول
بدمذہب سے میل جول کا رواج آج کل کچھ زیادہ ہو چلا ہے۔ دین میں تصلب کا عنصر تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے اور دشمنان دین سے بیزاریوں کی جگہ ان سے یاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔  حالاں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جابجا بدمذہبوں سے دور رہنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔

چناں چہ بدمذہبوں کا ایک فرقہ رافضی ہے جس کا کام صحابۂ کرام خصوصاً شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں گستاخی کرنا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے لوگوں کے ساتھ دینی و دنیاوی تعلق رکھنے کو منع فرمایا ہے۔

حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں:۔ ’’سیاتی قوم لہم نبزیقال لہم الرافضۃ یطعنون السلف ولا یشہدون جمعۃ ولا جماعۃ فلا تجالسو ہم ولا تواکلوہم ولا تشاربوہم ولاتناکحوہم واذا مرضوا فلا تعودوہم واذا ماتوا فلا تشہدو ہم ولا تصلوا علیہم ولا تصلوا معہم۔‘‘ (۲)۔

ترجمہ: عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ان کا ایک بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا۔ سلف صالحین پر طعن کریں گے اور جمعہ و جماعت میں حاضر نہ ہوں گے، ان کے پاس نہ بیٹھنا ان کے ساتھ نہ کھانا، نہ ان کا پانی پینا نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرنا، مرجائیں تو ان کے جنازہ میں نہ جانا، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔

مشہور مقتدا کے لیے بدمذہبوں سے بلاضرورت اختلاط جائز نہیں اور اگر غیر معروف شخص ہے کسی مصلحت شرعی کے پیش نظر اس کے ساتھ اختلاط کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’یکرہ للمشہور المقتدیٰ بہ الاختلاط الی رجل من اہل الباطل والشر الابقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین یدی الناس ولو کان رجل لا یعرف یداریہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیر اثم فلا باس بہ کذا فی الملتقط۔‘‘ (۳)۔

مشہور پیشوا کے لیے ایسے شخص سے میل جول جو اہل باطل اور اہل شر میں سے ہو مکروہ ہے مگر ضرورت کی حد تک جائز ہے۔ اس لیے کہ بلا ضرورت اہل باطل سے ملنے میں لوگوں میں اس کا چرچا ہو جائے گا (اور اس کے برخلاف اثرات مرتب ہوں گے) اور اگر غیر معروف شخص محض اپنے دفاع اور ظلم سے بچائو کے لیے ان کے ساتھ گھومے پھرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

رافضی کا عقیدہ اگر کفر کی حد تک پہنچا ہوا ہے تو اس کے ساتھ مرتدین جیسا سلوک روا رکھا جائے گا اور اگر حد کفر تک نہ پہنچا ہو تو دوستی و محبت اب بھی حرام ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ رقم طراز ہیں:۔
’’رافضی وغیرہ بدمذہبوں میں جس کی بدعت حد کفر تک پہنچی ہو وہ تو مرتد ہے، اس کے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافر ذمی کے مانند بھی برتائو جائز نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے وغیرہما تمام معاملات میں اسے بعینہ مثل سوئر کے سمجھیں اور جس کی بدعت اس حد تک نہ ہو اس سے بھی دوستی محبت تو مطلقاً نہ کریں۔

جاہل کو ان کی صحبت سے یوں اجتناب ضرور ہے کہ اس پر اثر بدکا زیادہ اندیشہ ہے اور عام مقتدایوں بچے کہ جہاں اسے دیکھ کر خود بھی اس بلا میں نہ پڑیں بلکہ عجب نہیں کہ اسے ان سے ملتا دیکھ کر ان کے مذہب کی شناعت ان کی نظروں میں ہلکی ہوجائے‘‘ (۴)

علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے شرح الصدور میں ایک عبرت آموز واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک شخص رافضیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا لوگوں نے حسب معمول اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی، اس نے کہا: مجھ سے نہیں کہا جاتا۔ پوچھا کیوں؟۔

کہا یہ دو شخص کھڑے ہیں، کہہ رہے ہیں، تو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر کو برا کہتے تھے اب یہ چاہتا ہے کہ کلمہ پڑھ کر دنیا سے جائے ہرگز نہ پڑھنے دیں گے یہ نتیجہ بدمذہبوں کے پاس بیٹھنے کا ہے۔

جب رافضیوں کے ساتھ نشست و برخاست کا یہ حکم ہے جنہوں نے حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالی دی تو ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں کس قدر آفت ہوگی جنہوں نے نبی اکرم ﷺ بلکہ اللہ عزوجل کی شان میں گستاخی اور دشنام طرازی کی۔ الملفوظ میں ہے:۔

’’جب صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بدگویوں سے میل جول کی یہ شامت تو قادیانیوں اور وہابیوں اور دیوبندیوں کے پاس نشست و برخاست کی آفت کس قدر شدید ہوگی، ان کی بدگوئی صحابہ تک ہے ان کی انبیاء اور سیدالانبیاء اور اللہ عزوجل تک‘‘ (۵)

۔(۲) تعزیہ داری

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضہ کی صحیح شبیہ بنا کر گھروں میں رکھنا یقینا باعث خیر و برکت ہے۔ مگر مروجہ تعزیہ میں اولاً تو اس بات کا

خیال قطعاً نہیں رکھا جاتا کہ وہ امام عالی مقام کے روضہ کی صحیح شبیہ ہو۔ ثانیاً اس کے ساتھ قسم قسم کے خرافات کرنا، لے کر گھومنا پھرانا، منتیں مانگنا سجدہ کرنا پھر باقی تماشے باجے تاشے وغیرہ اس پر مستزاد ہیں اور ان سب کے بعد اسے دفن کر دینا اضاعت مال کی وجہ سے بھی حرام ہے۔

ظاہر ہے کہ امام عالی مقام کی بارگاہ میں نذر پہنچانے کا یہ بیہودہ طریقہ کسی عاقل کے نزدیک کیوں کر جائز ہو سکتا ہے۔

مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان خرافات کو جائز اور مستحسن ٹھہرانے کے لیے اس قدر جری ہیں کہ یہ کہتے نہیں جھجکتے کہ ہم امام عالی مقام کی یاد میں ایسا کرتے ہیں اور ان کی یاد میں جو کریں سب روا ہے۔ الامان والحفیظ۔ ان سب کا ذکر کرتے ہوئے امام احمد رضا قدس سرہٗ رقم طراز ہیں:۔

’’تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضۂ پرنور شہزادۂ گلگوں قبا حسین شہید ظلم و جفا صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ و علی جدہ الکریم کی صحیح نقل بنا کر بہ نیت تبرک مکان میں رکھنا اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا کہ تصویر مکانات وغیرہا ہر غیر جاندار کی بنانا، رکھنا سب جائز اور ایسی چیزیں کہ معظمان دین کی طرف منسوب ہوکر عظمت پیدا کریں۔

ان کی تمثال بہ نیت تبرک پاک رکھنا قطعاً جائز جیسے صدہا سال سے طبقہ ائمہ دین و علمائے معتقدین نعلین شریفین حضور سیدالکونین ﷺ کے نقشے بناتے اور ان کے فوائد جلیلہ و منافع جزیلہ میں مستقل رسالے تصنیف فرماتے ہیں۔

مگر جہال بے خرد نے اس اصل جائز کو بالکل نیست و نابود کر کے صدہا خرافات وہ تراشیں کہ شریعت مطہرہ سے الامان الامان کی صدائیں آئیں، اول تو نفس تعزیہ میں روضۂ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی ہر جگہ نئی تراش نئی گڑھت جسے اس نقل سے کچھ علاقہ نہ نسبت

پھر کسی میں پریاں کسی میں براق کسی میں اور بیہودہ طمطراق پھر کوچہ بکوچہ و دشت بدشت اشاعت غم کے لیے ان کا گشت اور ان کے گرد سینہ زنی اور ماتم سازی کی شور افگنی کوئی ان تصویروں کو جھک جھک کر سلام کر رہا ہے کوئی مشغول طواف، کوئی سجدہ میں گرا ہے

کوئی ان مایۂ بدعات کو معاذ اللہ جلوہ گاہ حضرت امام علیٰ جدہ و علیہ الصلوٰۃ والسلام سمجھ کر اس ابرک پنی سے مرادیں مانگنا منتیں مانتا ہےحاجت روا جانتا ہے، پھر باقی تماشے، باجے، تاشے، مردوں عورتوں کا راتوں کو میل اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پر طرہ ہیں، غرض عشرہ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت و محل عبادت ٹھہرا ہوا تھا ان بیہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا۔‘‘ (۶)

۔(۳) طواف و بوسۂ قبر

زیارت قبور جائز و مستحسن ہے، احادیث کریمہ اس کے جواز و استحسان پر ناطق ہیں مگر بوسۂ قبر میں علما کا اختلاف ہے بعض جائز کہتے ہیں۔ کشف الغطا میں ہے: در کفایۃ الشعبی اثرے در تجویز بوسہ دادن قبر والدین نقل کردہ گفتہ دریں صورت لاباس است شیخ اجل در شرح مشکوٰۃ بورد آں در بعضے اشارت کردہ بے تعرض بجرح آں (۷)۔

کفایت الشعبی میں قبر والدین کو بوسہ دینے کے بارے میں ایک اثر نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورت میں کوئی حرج نہیں اور شیخ محقق نے بھی شرح مشکوٰۃ میں بعض آثار میں اس کے وارد ہونے کا اشارہ کیا اور روایت پر کوئی حرج نہ کی۔ اور بعض علما مکروہ بتاتے ہیں۔ اشعۃ اللمعات میں ہے: ’’مسح نہ کند قبر را بدست و بوسہ نہ دہدآں را۔‘‘ (۸) ترجمہ: قبر کو ہاتھ نہ لگائے نہ ہی بوسہ دے۔

امام اہل سنّت امام احمد رضا قدس سرہٗ راقم ہیں:۔ ’’فی الواقع بوسۂ قبر میں علما مختلف ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایک امر ہے جو دو چیزوں داعی و مانع کے درمیان دائر داعی محبت ہے اور مانع ادب تو جسے غلبۂ محبت ہو اس پر مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہے۔  اور عوام کے لیے منع ہی احوط ہے۔ ہمارے علما تفریع فرماتے ہیں کہ مزار اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑے ہو پھر تقبیل کی کیا سبیل‘‘ (۹)

طواف مزار کے سلسلہ میں بعض علما نے اجازت دی۔ مجمع البرکات میں ہے

’’ویمکنہ ان یطوف حولہ ثلث مرآت فعل ذلک۔‘‘ گرد قبر تین بار طواف کر سکتا ہے۔ اور ملا علی قاری نے منسک متوسط میں فرمایا: ’’الطواف من مختصات الکعبۃ المعظۃ فیحرم حول قبور الانبیاء والاولیاء۔‘‘ (۱۰)

طواف، کعبہ کی خصوصیات سے ہے تو انبیا و اولیا کی قبروں کے گرد حرام ہوگا۔

لیکن عندالمحققین نہ تو علی الاطلاق حکم جواز ہے اور نہ علی الاطلاق حکم عدم جواز بلکہ اس میں درج ذیل تفصیل ہے۔
طواف کی چار قسمیں ہیں

پہلی قسم: نہ طواف مقصود لذاتہ ہو نہ اس سے غرض وغایت نفس تعظیم بلکہ طواف کسی اور فعل کا وسیلہ ہو اور اس فعل سے کوئی اور حاجت مقصود ہو، جیسے سائلوں کا دروازہ پر گشت۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہمیشہ کاشانۂ نبوت کے گرد طواف کرنا۔

دوسری قسم: طواف مقصود لذاتہٖ ہو مگر غرض و غایت تعظیم نہ ہو جیسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں مدینہ کا طواف کرنا۔

تیسری قسم: طواف وسیلۂ مقصود ہو اور غرض و غایت تعظیم جیسے نوکر اور غلام کا اپنے مخدوم و آقا کے گرد خدمت کے لیے پھرنا۔

چوتھی قسم: طواف بھی مقصود لذاتہٖ اور غرض و غایت بھی تعظیم یعنی نہ طواف کسی اور فعل کے لیے وسیلہ ہو نہ اس سے سوائے تعظیم کچھ مقصود ہو بلکہ نفس طواف سے محض تعظیم مقصود ہو اس کا نام طواف تعظیمی ہے جیسے طواف کعبہ یا طواف صفا و مروہ۔

طواف غیر کعبہ پہلی اور تیسری قسم میں تو جائز ہے کہ اس میں طواف مقصود لذاتہٖ نہیں ہے البتہ دوسری اور چوتھی قسم میں جواز و عدم جواز پر نیت اثر انداز ہے اگر تعظیم قبر کی نیت سے ہے تو حرام ہے اور اگر برکت اور فیض حاصل کرنے کی نیت سے ہے تو جائز ہے مگر یہاں حلت و حرمت کی نیت میں فرق کرنا آسان نہیں اس لیے احتیاط طواف قبر سے احتراز ہی میں ہے۔ چنانچہ امام

احمد رضا قدس سرہٗ رقم طراز ہیں:۔

’’بالجملہ اگر طواف مقصود بالذات نہیں جب تو جواز ظاہر ہے اور اگر مقصود بالذات ہے تو صرف فرق نیت ہے اگر بہ نیت تعظیم قبر ہے تو بلاشبہ حرام ہے اور تبرک و استفاضہ وغیرہما نیات محمودہ کے ہے تو فی نفسہٖ اس میں حرج نہیں اور یہ ٹھہرا لینا کہ اس مسلمان کی نیت طواف سے تعظیم قبر ہے قلب پر حکم ہے۔

ہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز و نیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی تو عوام کے لیے اس میں ہرگز خیر نہیں اور خواص میں سے جو ایسا کرنا چاہے ہرگز عوام کے سامنے نہ کرے یہ بحمد اللہ تعالیٰ تحقیق حکم ہے اور احتراز و احتیاط ہر طرح اسلم ہے۔‘‘ (۱۱)

۔(۴) بے علم صوفی

تصوف و طریقت شریعت سے جدا نہیں ہے بلکہ شریعت پر عمل کر کے ہی آدمی طریقت کے منازل طے کرتا ہے۔ جب کہ آج کل کچھ بے علم صوفی طریقت کو شریعت سے الگ بتا کر اپنے آپ کو شرعی حدود قیود سے آزاد کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے، بے علم صوفی مسخرۂ شیطان ہے ایسے صوفی کی ناک میں شیطان نکیل ڈال کر جدھر چاہتا ہے گھماتا رہتا ہے اور بے چارے صوفی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اسی لیے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔
فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد۔ (۱۲)
ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔

حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چہیتے مرید حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔ جعلک اللہ صاحب حدیث صوفیا ولا جعلک صوفیاً صاحب حدیث۔ (۱۳)

اللہ تعالی تجھے حدیث داں بنا کر صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ بنائے۔ حضرت امام غزالی اس قول کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ اشار الی ان من حصل الحدیث والعلم ثم تصوف افلح ومن تصوف قبل العلم خاطر بنفسہٖ۔ (۱۴)

یعنی حضرت سری سقطی نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس نے حدیث اور علم حاصل کرکے تصوف میں قدم رکھا وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے علم حاصل کرنے سے پہلے صوفی بننا چاہا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا۔

سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی کا فرمان ہے:۔ من لم یحفظ القرآن ولم یکتب الحدیث لایقتدی بہ فی ہذا الامر لان علمنا ہذا مقیدٌ بالکتاب والسنۃ۔ (۱۵) یعنی جس نے نہ قرآن یاد کیا نہ حدیث لکھی (یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں) طریقت میں اس کی اقتدا نہ کی جائے کہ ہمارا یہ علم طریقت کتاب و سنت کا پابند ہے۔

امام احمد رضا متصوف کے خلاف شرع قول کے تعلق سے رقم طراز ہیں:۔ ’’سیدی ابو علی روذباری رضی اللہ عنہ بغدادی ہیں آں جناب سے سوال ہوا کہ ایک شخص مزامیر سنتا ہے اور کہتا ہے یہ میرے لیے حلال ہیں؛ اس لیے کہ میں ایسے درجہ تک پہنچ گیا کہ احوال کا اختلاف مجھ پر کچھ اثر نہیں ڈالتا۔ فرمایا: ہاں! پہنچا تو ضرور مگر کہاں تک؟ جہنم تک۔

عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہٗ کتاب ’’الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر‘‘ میں فرماتے ہیں: حضور سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ کہتے ہیں: ’’ان التکالیف کانت وسیلۃ الی الوصول وقد وصلنا۔‘‘ شریعت کے احکام تو وصول کا وسیلہ تھے اور ہم واصل ہو گئے۔ فرمایا: ’’صد قوافی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذلک۔‘‘ وہ سچ کہتے ہیں واصل تو ضرور ہوئے مگر جہنم تک، چور اور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں۔‘‘ (۱۶)

اس قسم کے بے شمار بدعات و خرافات اور غیر شرعی رسوم ہیں جن کے خلاف امام احمد رضا قدس سرہٗ نے قلم اٹھایا اور ان بدعات و خرافات اور خلاف شرع رسموں کو معاشرے سے نکال باہر کر صاف ستھرا اور پاکیزہ معاشرہ قوم کے سامنے پیش فرمایا۔

یہ تو بطور نمونہ میں نے چند مثالیں پیش کر دیں امام اہل سنت کے علمی ذخائر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیش قیمتی خزانہ موجود ہے۔ جسے تفصیل درکار ہو وہ امام اہل سنت کی کتابوں کا مطالعہ کرے اور عقیدہ و عمل کو پاکیزہ بنائے۔

مراجع
۔۱۔ سورۂ غافر

۔۲۔ کنزالعمال، تاریخ عساکر
۔۳۔ فتاویٰ ہندیہ، جلد۵ ص۳۴۶

۔۴۔فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۴ ص۳۲۰
۔۵۔ الملفوظ حصہ دوم، ص۸۰

۔۶۔ فتاویٰ رضویہ، جلد۹ ص۵۱۲
۔۷۔ کشف الغطاء، ص۷۹

۔۸۔ اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص۷۱۶
۔۹۔ فتاویٰ رضویہ، جلد۱۰، ص۵۲۸

۔۱۰۔ منسک متوسط، ص۳۴۲
۱۱۔ فتاویٰ رضویہ، جلد۲۴ ص۴۰۰

۔۱۲۔ ترمذی شریف
۔۱۳۔ احیاء العلوم، جلد اول، ص۱۳

۔۱۴۔ احیاء العلوم، ص۱۳
۔۱۵۔ رسالہ قشیریہ، ص۲۳

۔۱۶۔ فتاویٰ افریقہ، ص۱۳۹

از قلم : قاضی فضل احمد مصباحی

 صدر شعبۂ افتاء جامعہ عربیہ ضیاء العلوم، بنارس

رکن : شرعی کونسل بریلی شریف

 تاج الشریعہ کا فقہی تبحر  

ان مضامین کو بھی پڑھیں اوراپنے احباب کو شئیر کریں

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائنس دان

اعلی حضرت مسلم سائنس دان

  امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

اعلیٰ حضرت اور خدمت خلق

اجمیر معلیٰ میں اعلیٰ حضرت

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اغیار کی نظروں میں

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top