حیات و خدمات

امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

تحریر : نثار مصباحی رکن : روشن مستقبل، دہلی  امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

یہ مسلّمات میں سے ہے کہ نیتوں میں پاکیزگی اور ارادوں میں اخلاص ہی سے کوئی عمل قبولیت کے لائق ٹھہرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بارگاہِ الہی تک رسائی کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لیے مومن کا ہر عمل ہمیشہ “اللہ کے لیے” ہونا چاہیے اور بندے کو اپنے ہر عمل سے پہلے “تحسینِ نیت” کا بہر حال خیال رکھنا چاہیے۔

بلکہ عمل کے دوران اور اس کے بعد بھی اپنے اس نیک عمل کی حفاظت کرنا چاہیے۔ یعنی عمل کے آغاز میں “تحسینِ نیت” کے ساتھ عمل کے دوران اور اس کے بعد “نیت اور عمل کی حفاظت” بھی ایک نہایت ضروری چیز ہے تاکہ دورانِ عمل یا عمل کے بعد اسے اکارت کرنے والی کوئی چیز کسی طرف سے نہ آنے پائے۔

کوئی عملِ خیر کرنے کے بعد بہت سارے ایسے مواقع آتے ہیں جب ریا، یا سمعہ، یا اور کسی وجہ سے اس عمل کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ اور بسا اوقات انسان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
اسی لیے قرآن و حدیث میں جہاں ایک طرف ریاکاری کی مذمت آئی ہے وہیں دوسری طرف یہ بھی حکم آیا ہے

یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبۡطِلُوا۟ صَدَقَـٰتِكُم بِٱلۡمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ [سورة البقرة : 264] اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کرو۔

یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِیعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبۡطِلُوۤا۟ أَعۡمَـٰلَكُمۡ [سورة محمد : 33] اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال باطل (برباد) نہ کرو۔

اعمال کیسے برباد ہوتے ہیں ؟

ریا اور سمعہ عمل سے پہلے، عمل کے دوران اور عمل کے بعد بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر عمل صرف ریاکاری اور “سمعہ” (یعنی یہ خواہش کہ لوگوں میرے اس عمل کا چرچا کریں اور اچھا سمجھیں) ہی سے ضائع نہیں ہوتا اس کی دوسری وجوہات بھی ہوتی ہیں

مثلا صدقہ دے کر یا بھلائی کر کے احسان جتانے، یا صدقہ لینے والے کو اذیت دینے، یا اپنے عمل کی جزا کسی مخلوق سے چاہنے یا کسی کے تحفے و ہدیے کو اپنے اسی عملِ خیر کا صلہ و بدلہ سمجھنے سے بھی عمل کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے

نوٹ : یہاں گفتگو عمل کے دوران یا بعد میں کسی خامی کے سبب کسی نیکی کا ثواب ضائع ہونے کی ہے۔ کفر و شرک و نفاق وغیرہ کی وجہ سے جو اعمال اکارت ہوتے ہیں، ان پر گفتگو نہیں ہے۔

بعض معتمد احباب کی زبانی سنا ایک واقعہ اس موقعے پر ذکر کرنا فائدے سے خالی نہیں۔ ایک بڑے ادارے میں ایک طالبِ علم نے کئی سال تک بلاعوض اذان دی۔ ایک بار اس کی کسی غلطی پر پرنسپل نے کچھ تادیبی کاروائی کی۔

مگر اس طالبِ علم کا اصرار تھا کہ مجھ پر یہ کاروائی نہ کی جائے۔ اپنی گزارش کے دوران اس کے منہ سے یہ جملہ بھی نکلا : میں نے اتنے سالوں تک مفت میں بلاعوض اذان دی ہے اس لیے میرے ساتھ رعایت کی جائے۔ پرنسپل جو خود ایک نکتہ رس فقیہ و صوفی تھے انھوں نے برجستہ فرمایا: افسوس! تم نے ایک معمولی سی رعایت کے لیے اپنی اتنے سالوں کی اذان کا ثواب ضائع کر دیا۔!!!۔

اس قسم کے واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو جب تک اپنا نیک عمل یاد رہے تب تک اس کی حفاظت کرتے رہنا چاہیے۔ شاید اسی لیے بزرگوں نے اپنی نیکیاں بھول جانے کی تعلیم دی ہے۔

اعلی حضرت امام احمد رضا قادری کی سیرت و سوانح اور تحریرات کے مطالعے سے یہ چیز بالکل روشن ہو جاتی ہے کہ وہ تحسینِ نیت کے ساتھ حفاظتِ اعمال کا بھی ہمیشہ خیال رکھتے اور اس پر زور دیتے تھے۔

بحرِ تصوف کا ایک شناور ہونے کی وجہ سے وہ تمام باریکیوں سے واقف تھے اور اسی لیے نفس اور شیطان کی تمام چالوں سے اپنے اعمال کی حفاظت فرماتے تھے۔ بلکہ وہ ان دروازوں کو پیشگی بند کر دیتے تھے جن دروازوں سے ہمارا ازلی دشمن شیطانِ لعین ہمارے کیے ہوئے اعمال کا ثواب ضائع کرنے کے لیے حملہ آور ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امامِ اہلِ سنت اپنے کسی عمل یا فتوی نویسی یا تصنیفی کام پر اہلِ دنیا میں کسی سے نہ تو جزا و انعام کے کبھی خواہش مند ہوئے اور نہ پذیرائی اور تحفہ و بدل کے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک لِوَجہِ اللہ فتوی نویسی اور تصنیف و تالیف کرتے رہے اور کبھی اس پر اجرت اور دنیوی منفعت کا خیال بھی دل میں نہیں آنے دیا۔ (هذا ما يظهر لنا من خلال سيرته، ولانزكي على الله أحدا)

فتوے کی فیس
دور دراز سے آئے ایک استفتا میں مستفتی نے فتوے کی فیس کی بات کی، تو اس کے سوال کا جواب دینے کے بعد آخر میں اعلی حضرت لکھتے ہیں

“یہاں بحمد اللہ تعالیٰ فتوٰی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان و دیگر ممالک مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے استفتا آتے ہیں اور ایک وقت میں چار چار سو فتوے جمع ہو جاتے ہیں۔ بحمد ﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ١٣٣۷ھ تک اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے (٩١) برس

اور خود اس فقیر -غفرلہ- کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون (۵۱) برس ہونے کو آئے، یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس (۵۰) برس چھ (۶) مہینے گزرے۔ اس نو (۹) کم سو (۱۰۰) برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے۔ بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں

بحمد ﷲ یہاں کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا، نہ لیا جائے گا۔ بعونہٖ تعالیٰ ولہ الحمد۔ معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دَنِی ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی؟!!!۔

وَمَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ مِنْ اَجْرٍۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّاعَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ
میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ۔ میرا اجرتو سارے جہاں کے پروردگار پر ہے۔ اگر وہ چاہے۔ (فتاوی رضویہ مترجم، جلد 6، ص 562)

یہاں تعویذ بِکتا نہیں ہے
ایک مرتبہ ایک صاحب امامِ اہلِ سنت کے پاس آئے، اور خدمت میں بدایونی پیڑوں کی ہانڈی پیش کی۔

آپ نے فرمایا : کیسے تکلیف فرمائی؟
انہوں نے کہا کہ سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اعلیٰ حضرت جوابِ سلام فرما کر کچھ دیر خاموش رہے، اور پھر دریافت فرمایا: کوئی کام ہے؟

انہوں نے عرض کی: کچھ نہیں، حضور! محض مزاج پُرسی کے لیے آیا تھا۔

ارشاد فرمایا: عنایت و نوازش۔ اور کافی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر آپ نے مخاطب ہوکر فرمایا: کچھ فرمائیے گا؟ انہوں نے پھر نَفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے وہ شیرینی مکان میں بھجوا دی۔ اب وہ صاحب تھوڑی دیر بعد ایک تعویذ کی درخواست کرتے ہیں۔

اعلی حضرت نےارشاد فرمایا : میں نے تو آپ سے 3 بار دریافت کیا تھا مگر آپ نے کچھ نہیں بتایا۔ اچھا تشریف رکھیے۔ اور اپنے بھانجے علی احمد خان صاحب (جو تعویذ دیا کرتے تھے) کے پاس سے تعویذ منگا کر ان صاحب کو عطا فرمایا اور ساتھ ہی حاجی کفایتُ اللہ صاحب(خادم) نے اعلیٰ حضرت کا اشارہ پاتے ہی مکان سے وہ مٹھائی کی ہانڈی منگوا کر سامنے رکھ دی۔ اعلیٰ حضرت نے وہ مٹھائی ان الفاظ کے ساتھ واپس فرمادی

اس ہانڈی کو ساتھ لیتے جائیے۔ یہاں تعویذ بِکتا نہیں ہے  (حیاتِ اعلی حضرت)۔

یہ سدِ باب اور ضیاعِ عمل کا دروازہ بند کرنے کی ایک مثال ہے۔ اِمامِ اہلِ سنت -علیہ الرحمہ- خلقِ خدا کی امداد، اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی صرف رِضائے الٰہی کے لیے کرتے تھے۔ نام و نمود یا کسی بندے سے اس عمل پر کسی صلہ کے کبھی خواہش مند نہ ہوتے۔

اسی لیے تعویذ اور دم درود جو خدمت و اِفادۂ خلق کا ایک موثر اور اہم ذریعہ ہے اس پر اجرت جائز ہونے کے باوجود کبھی کسی سے کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔ اجرت لینا تو دور، اجرت کے شبہے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔ انھوں نے آنے والے شخص کا نذرانہ قبول فرما لیا کیوں کہ نذر قبول کرنا سنت ہے۔

ان سے نہایت حکیمانہ انداز میں آنے کا مقصد بھی پوچھ لیا اور جب اطمینان ہو گیا کہ مٹھائی کا یہ برتن خالص نذرانہ ہے، اس کے بدلے یہ کسی چیز کے خواہاں نہیں ہیں تو پھر وہ مٹھائی گھر کے اندر بھجوا دی۔ مگر جب انھوں نے تعویذ طلب کی تو یہ لگا کہ وہ تعویذ لینے کے لیے ہی مٹھائی لے کر آئے تھے۔

اگر اب بھی اسے قبول کر لیا جاتا تو یہ خدمتِ خلق، عوض اور صلے سے پاک نہ ہوتی، یا کم از کم اجرت و بدل ہونے کا ایک قوی احتمال ضرور رہتا۔ بلکہ اگر آپ کے دل میں یہ بات جم جاتی کہ یہ مٹھائی اسی تعویذ کے لیے ہے تو اس عملِ خیر کا ثواب ہی نہیں ملتا۔ اس لیے اپنے عملِ خیر کی حفاظت کے لیے مٹھائی کا برتن واپس کر دیا، اور انھیں تنبیہ بھی کر دی تاکہ آئندہ وہ خود بھی آگاہ رہیں اور دوسرے بھی۔!!۔

میلاد خوانی کا بدلہ ؟

ایک بار آپ سے سوال کیا گیا کہ
میلاد شریف جس کے یہاں [ہے، وہ] پڑھنے والے کی دعوت کرے تو پڑھنے والے کو [کھانا] چاہیے یا نہیں؟ اور اگر کھایا تو پڑھنے والے کو کچھ ثواب ملے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

اس پر اعلی حضرت نے جو جواب دیا اسے پڑھنے سے پہلے آج کے ماحول پر غور کریں اور پھر یہ دیکھیں کہ ان سے سوال کرنے والے علما و طلبہ بھی کس قدر احتیاط پسند، باریک بیں، اور نیکیوں کے معاملے میں بیدار تھے۔
امامِ اہلِ سنت نے اس سوال کا یہ جواب دیا

الجواب : “پڑھنے کے عوض” کھانا کھلاتا ہے تو یہ کھانا نہ کھلانا چاہئے، نہ کھانا چاہئے۔ اور اگر کھائے گا تو یہی کھانا اس کا ثواب ہو گیا اور ثواب کیا چاہتا ہے؟

بلکہ جاہل [جاہلوں] میں جو یہ دستور ہے کہ پڑھنے والوں کو عام حصوں سے دونا [شیرینی وغیرہ] دیتے ہیں اور بعض احمق پڑھنے والے اگر ان کو اوروں سے دونا نہ دیا جائے تو اس پر جھگڑتے ہیں۔ یہ زیادہ لینا دینا بھی منع ہے، اور یہی اس کا ثواب ہو گیا۔ قال ﷲ تعالٰی : لاتشتروا بآیٰتی ثمنا قلیلا

((فتاوی رضویہ، مترجم، جلد ۲۱، صفحہ ۶۶۴، ۶۶۵۔ ۔۔۔نوٹ: سوال و جواب میں بریکٹ[] کے اندر والے الفاظ میرے ہیں جو وضاحت کے لیے ہیں۔۔۔۔نثاراحمد))

یہ فتوی جہاں نیکی کی حفاظت پر مہمیز کرتا ہے وہیں آج کے رائج ماحول میں اسٹیجی طبقے کو اصلاحِ نفس کی بھی دعوت دیتا ہے۔ اس فتوے کی روشنی میں ہم اپنا اور اپنے سماج کا جائزہ لیں کہ نیک اعمال کا اخروی ثواب ہم لوگ کس-کس طرح ضائع کر دیا کرتے ہیں۔!!!۔

تحریر۔۔۔۔۔ایک حسنۂ جاریہ اور گناہِ جاری
انسان کی موت کے بعد دنیا میں اس کے باقی رہنے والے اعمال میں اس کی تحریریں بھی ہوتی ہیں۔ تصنیف و تالیف انسانی اعمال میں اس جہت سے بےحد اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ اس کی موت کے بعد بھی نیکی یا بدی میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔

اگر خیر پر مبنی اور بندگانِ خدا کے لیے نفع بخش ہیں تو نیکیوں کا ایسا سلسلہ قائم کر دیتی ہیں جس سے بندہ اپنی موت کے بعد بھی لگاتار نفع اٹھاتا رہتا ہے۔ لیکن اگر -خدا نخواستہ- شر پر مبنی ہیں تو مرنے کے بعد بھی گناہوں کا بوجھ بڑھاتی رہتی ہیں۔

اس لیے قلم اٹھاتے وقت بندے کو کافی محتاط رہنا چاہیے۔ اگر اس موضوع پر لکھنے اور انصاف کرنے کی اہلیت نہ ہو یا نیت اور الفاظ آلودہ ہوں تو قلم روک لینا چاہیے۔

ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی کتاب “تطہیر الطویۃ” کے خاتمے میں لکھتے ہیں: المخلصون علی خطر عظیم ‘اخلاص [کے ساتھ عمل کرنے] والے بھی بڑے خطرے میں ہوتے ہیں۔'(یعنی عمل کے ضائع ہونے کا خطرہ ہمیشہ لگا رہتا ہے)

علامہ شاطبی (متوفی ۷۹۰ھ) “الموافقات” میں لکھتے ہیں: طُوبَى لِمَنْ مَاتَ وَمَاتَتْ مَعَهُ ذُنُوبُهُ، وَالْوَيْلُ الطَّوِيلُ لِمَنْ يَمُوتُ وَتَبْقَى ذُنُوبُهُ مِائَةَ سَنَةٍ وَمِائَتَيْ سَنَةٍ، يُعَذَّبُ بِهَا فِي قَبْرِهِ، وَيُسْأَلُ عَنْهَا إِلَى انْقِرَاضِهَا۔

“بھلائی ہے اس کے لیے جو مرا اور اس کے ساتھ اس کے گناہ بھی فنا ہو گئے۔ اور لمبی تباہی ہے اس کے لیے جو مرجاتا ہے مگر اس کے گناہ ۱۰۰ سال اور ۲۰۰ سال تک باقی رہتے ہیں۔ جن کی وجہ سے قبر میں اسے عذاب ہوتا ہے اور ان کے ختم ہونے تک اس سے محاسبہ ہوتا ہے۔”۔

اس لیے قلم چلاتے وقت انسان کو کافی ہوشیار رہنا چاہیے۔ خاص طور سے اس سوشل میڈیائی دور میں جب قلم کا کام محض انگلیوں کی حرکت سے ہو جاتا ہے اور ہمارا لکھا ہوا لفظ سوشل میڈیا کے وسیع سمندر میں اس طرح پھیل جاتا ہے کہ اسے مٹانا پھر ہمارے بس میں نہیں رہتا، اس میں تو نہایت درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

مگر افسوس کہ بہت سے لوگوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ وہ گالی، بدزبانی، افترا، جھوٹ، اور نہ جانے کیسی کیسی برائیوں پر مشتمل تحریریں اپنی انگلیوں کی حرکت سے لکھ ڈالتے ہیں

جو سالہا سال تک باقی رہتی یا ادھر ادھر گردش کرتی رہتی ہیں اور اس طرح لکھنے والے کا یہ گناہ، گناہِ جاری بن جاتا ہے۔ انسان لکھ کر بھول جاتا ہے، مگر نہ تو ” مَّا یَلۡفِظُ مِن قَوۡلٍ إِلَّا لَدَیۡهِ رَقِیبٌ عَتِیدࣱ ” [سورة ق : 18] فرمانے والا رب عزوجل بھولتا ہے اور نہ ہی اس کے فرشتے انسانی اعمال لکھنے سے کبھی غافل ہوتے ہیں۔

بندے کی ایسی تحریر کی وجہ سے وبالوں اور مصیبتوں کا ایک پہاڑ تیار ہوتا رہتا ہے جس کا سامنا یقینا موت کے بعد اسے کرنا ہی ہوگا۔
اللہ عزوجل سمجھ عطا کرے۔

نہ مُرا نوش زتحسیں
اگر انسان کچھ لکھتے وقت اور لکھنے کے بعد اپنی نیت خالص رکھے، جو لکھے اللہ کی رضا کے لیے لکھے، اور اس پر کسی انسان سے جزا و انعام یا خلقِ خدا میں شہرت و پذیرائی کی خواہش اپنے دل میں نہ پیدا ہونے دے تو یہ بہت بڑی حصولیابی ہے۔ جس کی لاثانی اہمیت کا ہم میں سے بہتوں کو صحیح اندازہ نہیں ہے۔

پہلے بعض علمی حلقوں میں ایک جزوی رواج پایا جاتا تھا کہ اپنی نوتصنیف شدہ علمی و تحقیقی کتاب کسی حاکم و نواب یا بادشاہ کی طرف منسوب کر دی جاتی تھی، یا لکھ کر اس کا پہلا نسخہ بادشاہ و حاکم کو تحفہ و ہدیہ کیا جاتا تھا۔ بھارت میں مسلم سلطنتوں اور نوابی ریاستوں کی بقا کے دور تک یہ ظاہرہ پایا جاتا رہا ہے۔

جو علما بادشاہوں اور حاکموں کی طرف اپنی کتابیں منسوب کرتے رہے یقینا حسنِ ظن کا تقاضا یہی ہے کہ وہ کسی اچھی نیت کے ساتھ یہ کام کرتے رہے ہوں گے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ عمل فسادِ نیت اور اکارتِ سعی کی ایک راہ ضرور کھولتا ہے۔

شیطان کی چالیں نہایت باریک ہوتی ہیں۔ ممکن ہے انسان اس پر صلہ و انعام کی خواہش کر بیٹھے، یا اس تصنیف کے ذریعے حاکموں کے قرب یا ان کے دربار میں قدر و منزلت میں اضافے کا تمنائی ہو جائے۔ اور اس طرح وہ دینی و علمی تصنیف اخروی اعتبار سے ضائع ہو کر رہ جائے۔

امام احمد رضا قادری کے دور میں بھی بہت سے مصنفین اپنی اہم تصنیفات مکمل ہونے کے بعد انھیں حکمرانوں، بادشاہوں اور نوابوں کی خدمت میں پیش کرتے یا منسوب کرتے تھے۔ اور حاکمانِ دنیا کی طرف سے بسا اوقات انھیں انعام و اِکرام سے بھی نوازا جاتا تھا۔

مَیں آج ہی ردِّ آریہ پر شمالی ہند کے ایک مصنف کی تقریبا ۱۰۰ سال پرانی ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس کے ٹائٹل پر “ہدیۂ مصنف بعالی جناب فیض مآب نواب سالار جنگ بہادر حیدرآباد دکن” لکھا ہوا ہے۔

مگرمیرے علم کی حد تک- امام احمد رضا نے کبھی اپنی کوئی تصنیف کسی حاکم کے نام منسوب نہیں کی، نہ اپنی کوئی تصنیف مکمل ہونے کے بعد کبھی کسی نواب و حکمراں کو تحفے و ہدیے کے طور پر پیش کی، اور نہ اپنی کسی تحریر کی خلق میں پذیرائی کی تمنا کی۔!!!۔

اِرضاے خلق اور طمعِ دنیا کے لیے کچھ لکھ کر اپنے دین کو پارۂ ناں بنانے کی بات تو دور، وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے لکھی گئی تحریروں کا اہلِ دنیا کی طرف انتساب بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔

فقہِ حنفی کے اصولِ افتا اور رسم المفتي پر آپ کی “بےنظیر” تصنیف “أجلی الاِعلام أن الفتوی مطلقاً علی قولِ الاِمام”(1334ھ) جب مکمل ہوئی تو آخر میں آپ نے لکھا :۔
۔”رأيتُ الناسَ يتحفون كتبهم إلى ملوك الدنيا، و أنا العبد الحقير خدمتُ بهذه السطور ملِكاً في الدين، إمام أئمة المجتهدين -رضى الله تعالى عنه و عنهم أجمعين- فإن وقعت موقع القبول فذاك نهاية المسئول و منتهى المأمول. و ما ذلك على الله بعزيز، إن ذلك على الله يسير، إن الله على كل شيء قدير، و لله الحمد و إليه المصير. و صلى الله تعالى على المولى الأكرم، و آله و صحبه و بارك و سلم”۔

ترجمہ : میں نے دیکھا ہے کہ لوگ شاہانِ دنیا کے دربار میں اپنی کتابوں کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔ اور مجھ بندۂ حقیر نے تو اِن سطور(أجلی الاِعلام) سے دین کے ایک بادشاہ اور ائمۂ مجتہدین کے امام (یعنی امام ابو حنیفہ) کی خدمت گزاری کی ہے۔

اللہ تعالی اُن سے اور سبھی مجتہدین سے راضی ہو۔ تو (یہ سطریں) اگر مقامِ قبول پا جائیں تو یہی انتہاے مطلوب اور منتہاے امید ہے۔ اور اللہ پر یہ کچھ دشوار نہیں۔ بلا شبہہ یہ خدا پر آسان ہے۔ یقینا اللہ ہر شی پر قادر ہے۔ اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اسی کی جانب رجوع ہے۔ اور اللہ تعالی درود وسلام و برکت نازل فرمائے آقاے اکرم اور اُن کی آل و اصحاب پر۔ (فتاوی رضویہ، طبع قدیم، جلد اول، صفحہ 407)

آپ ان کے الفاظ و تعبیرات پر غور کریں۔ لکھتے ہیں: اگر یہ سطریں مقامِ قبول پا جائیں تو یہی انتہاے مطلوب اور منتہاے امید ہے۔!!!! [ترجمہ]اتنا ہی نہیں۔ اس کے بعد کے تین جملے بارگاہِ الہی میں ان کی عاجزی، دلی کیفیات و جذبات اور تحریر کی قبولیت کی بیکراں چاہت پر بھی دلالت کر رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں [ترجمہ]

اللہ پر یہ کچھ دشوار نہیں
بلا شبہہ یہ خدا پر آسان ہے
یقینا اللہ ہر شی پر قادر ہے

امام احمد رضا قدس سرہ اپنے رب کی رضا کے لیے کیے گئے اعمال کی ہر غیر سے حفاظت فرماتے، اور صرف اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں قبولیت کے تمنائی رہتے۔ نہ مخلوقات کی رضامندی اور دنیا کی پذیرائی کے لیے کچھ کرتے، اور نہ اعمال ضائع کرنے والی چیزوں سے کبھی غافل ہوتے تھے۔

یہ امام احمد رضا کی زندگی کا وہ روشن باب ہے جو انھیں ایک عام مولوی سمجھنے والوں کو بھی دعوتِ نظارہ دیتا ہے اور ان سے نسبت و عشق کا دعوی رکھنے کے باوجود ان کے نقشِ قدم پر نہ چلنے والوں کو بھی دعوتِ عمل دیتا ہے۔

تحریر : نثار مصباحی

رکن : روشن مستقبل، دہلی

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ایک نظر میں

اعلیٰ حضرت اور خدمت خلق

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*