امام اعظم ابوحنیفہ اور تصوف

 امام الائمہ  سید الفقہاء سراج الفقہاء ، تقریباً ۷۲ بہتر صحابہ کرام ے ملاقات کرنے والے امام اعظم ابوحنیفہ اور تصوف کے عنوان سے یہ بہت ہی خوبصورت اور لاجواب مضمون ہے اسے پڑھ کر شئیر کرنا نہ بھولیں۔ شافعی مالک احمد امام حنیف چار باغِ امامت پہ لاکھوں سلام

امام اعظم ابوحنیفہ اور تصوف

اسلامی معاشرہ میں تصوف روز اول سے مو جود ہے اور ان شا ء اللہ رہتی دنیا تک پوری آب و تاب کے ساتھ مطلع حیات پر جگمگا تا رہے گا۔

 اور سچ تو یہ ہے کہ تصوف اسلام کی خالص ترین اور پاکیزہ ترین تعبیر ہے سچا تصوف انسان کو حقیقت کا راستہ دکھاتا ہے اللہ ورسول کے راستے کا علم عطا کرتا ہے،صوفیا کا تعلق اسلام کے دور اول سے ہی ہے۔

اسی سلسلے میں سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان ہے کہ:’’ ہمارے طریقے کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے اور ہر وہ طریق جو کتاب و سنت کے خلاف ہو باطل اور مردود ہے۔

 آپ کا یہ بھی فرمان ہے جس شخص نے حد یث نہیں سنی اور فقہا کے پاس نہیں بیٹھا اور با ادب حضرا ت سے ادب نہیں سیکھا وہ اپنے پیروں کاروں کو بگاڑ دیگا۔

 جب تک انسان علم سے آشنا نہیں ہو گا تواللہ و رسول کے احکام کی پیروی کیسے کرے گا اور اسلامی زندگی کے آداب کو کیسے جا نے گا اسی لئے رب تبا رک وتعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے۔ فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ ا لذِّ کْرِاِ نْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوُنَ (القرآن،سورہ نحل 16، آیت43۔)۔

ترجمہ: تو اے لو گو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں۔(کنزالا یمان)۔

حضرت اسود الراعی رضی اللہ عنہ کے اسلام و شہادت کی ایمان افروز داستان

 علم ہی کی بنیاد پرانسان اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اسکی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور دین اسلا م میں اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے ،حلال و حرام میں امتیاز برت سکتا ہے۔

 اسی لئے قر آن کریم بھی بتا رہا ہے  قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی ا لَّذِ یْنَ یَعْلَمُوْ نَ وَ الَّذِ یْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (القرآن،سورہ زمر39،آیت9)۔

تر جمہ: تم فر ما ؤ کیا برابر ہیں جاننے والے(یعنی علم والے) اور انجان(یعنی ان پڑھ)۔(کنزالایمان)۔

 جا ننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے اللہ جسے چا ہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

  وَا للّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَا للّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔ (القرآن،سورہ بقر2، آیت105)۔

تر جمہ : اور اللہ اپنی ر حمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔(کنزالایمان)۔

 اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے ہر زمانہ ہر دور میں اللہ اپنے نیک بندوں کو علم وفضل کی د ولت سے نواز کر لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے انھیں نیک بندوں میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ:499۔747ء ۔70۔150ھ  آپ سنی حنفی فقہ اسلامی کے بانی تھے آپ ایک تابعی، عالم دین تھے، مجتہد اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کر نے والوں میں شامل تھے۔آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔

حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ   کی سوانح حیات کا مطالعہ کریں 

فضائل سیدنا غوث اعظم فتاوٰی رضویہ کی روشنی میں

امام اعظم کے مناقب وبشارت

امام ا عظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے فضا ئل ومناقب میں بڑے بڑے بزرگوں نے کتا بیں لکھیں ہیں مشہور مفسر قرآن( جنکی تفسیر تمام مکاتب فکر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے)۔

تفسیر جلالین شریف کے مصنف علامہ جلال الد ین سیوطی (749۔911ھ) (تبیض الصحیفۃ فی منا قب الا مام ابی حنیفہ) میں بہت خوب صورت باتیں لکھی ہیں جوپڑ ھنے سے تعلق رکھتی ہیں اہل علم ضرور پڑھیں۔

آپ کانام نعمان بن ثابت زوتا اور کنیت ابو حنیفہ تھی۔آپ امام اعظم کے لقب سے یاد کئے جا تے ہیں آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مر تبے پر فائز ہیں۔

اسلامی فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کا پایا بہت بلند ہے، آپ نہایت ذہین، ا نتہائی قوی حافظہ

 کے ما لک تھے آپ کا زہدو تقویٰ، فہم وفراست اور حکمت ودانائی بہت مشہور تھی۔

 امام اعظم ابو حنیفہ دن میں علم دین پھیلا تے اور رات میں اللہ کی عبادت کرتے انکی حیات مبارکہ کے لا تعداد گوشے ہیں، ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں تو دوسری طرف زہدو تقویٰ وطہارت کے پہاڑ ہیں۔

 آپ اکثر خوش لباس رہتے، گفتگو نہایت شیریں فر ماتے او ر فصاحت تو آپ کی گھٹی میں تھی بے شما ر فضائل و منا قب ہیں چھوٹے سے مقالہ میں لکھنا ممکن نہیں۔

 یاد رہے کہ چار امام (1) امام اعظم ابو حنیفہ(2) امام مالک(3) امام شافعی(4) امام احمد بن حنبل۔ دین اسلام کے سنگ میل ہیں، اسلام کے ستون ہیں اور اہلسنت و جماعت کے علماء میں سے ہیں، ان کے فضائل ومناقب بہت مشہور ہیں کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔

 ہر مذ ہب کے علماء نے اپنے اپنے امام کا تذکرہ کیا ہے، ان کی تعریفوں میں مبالغہ کیا ہے اور اپنی عقیدت کے مطابق ان کے منا قب بیان کئے ہیں،بہت سی کتا بوں میں امام اعظم کے مناقب مو جود ہیں۔

حضرت امام اعظم کا گزر بسر ان کی اپنی کمائی اور رزق حلال سے تھی علماء مشائخ پر بہت خر چ فرماتے تھے علم سیکھنے سکھا نے کا بہت زیا دہ ذوق تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے اسا تذہ کی تعداد چار ہزار سے زیادہ تھی۔

علم الادب، علم ا لا نساب اور علم الکلام کی تحصیل کے بعد فقہ سے فیضیاب ہوئے۔ آپ علم فقہ کے عالم ہیں۔ آپ کے شیوخ اسا تذہ کی تعداد چا ر ہزار بتائی جا تی ہے، جن سے وقتاً فوقتاً اکتساب علم کرتے رہے۔

امام محمد باقر اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہما کی شا گر دی کا شرف اور فخر بھی آپ کو حاصل ہے ، امام اعظم ابو حنیفہ نے تقریباً چار ہزار مشائخ سے علم حاصل کیا۔

خود امام اعظم کا قول ہے کہ میں نے کوفہ و بصرہ کا کوئی ایسا محدث نہیں چھوڑا جس سے میں نے علمی استفا دہ نہ کیا ہو ۔

مشہورمجذوب ( خدا کی محبت میں غرق رہنے والا) صوفی بزرگ حضرت بہلول دانا رضی اللہ عنہ بھی آپ کے استاد تھے امام اعظم ابو حنیفہ آپ کے پاس تعلیم حاصل کر نے جاتے رات را ت بھر ان کی خد مت میں رہکر تصوف کے راز جانتے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ تصوف کے کس قدر اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔

 شاگردوں کی تعداد لا کھوں میں ہے،آپ نے تحصیل علم کے بعد جب درس و تدریس کے سلسلے کا آغاز کیا تو آپ کے حلقہ درس میں ازدھام ہوتا اور حاضرین میں اکثریت اس دور کے جید علما کرام کی ہوتی۔

 علامہ کروری نے آپ کے خاص شاگر دوں کی تعداد ایک ہزار فقہا ،محد ثین، صوفیا ومشائخ شمار کیا ہے یہ ان لا کھوں انسانوں کے علاوہ تھے جو ان کے درس میں شامل ہوتے تھے آپ کے شاگر دوں میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المر تبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے تھے وہ آپ کے مشیر خاص تھے۔

 ان میں چند کے نام یہ ہیں امام حماد بن ابی حنیفہ ، امام زفر بن بذیل ،امام عبداللہ بن مبارک، امام وکیع بن براح، امام داؤدبن یفر، امام ابو یوسف اسکے علاوہ قر آن مجید کے بعد اہلسنت وجما عت کی صحیح ترین کتاب صحیح بخا ری کے مولف حضرت امام محمد اسما عیل بخاری و بڑے بڑے محد ثین کرام آپ کے شاگر دوں کے شاگرد تھے۔

 یہ آپ کے علم کا حال تھا۔آ پ   تحفے تحائف اور عطیات قبول نہیں فر ماتے، جب اپنے گھر والوں کے لیے کوئی چیز خرید تے تو بزرگ علما کے لیے بھی خرید تے، علما کو بہت نواز تے، علما کے نواز نے کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔

 شافیعہ کے مقتدا شیخ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب قلا ئد العیقان فی منا قب النعمان میں لکھتے ہیں، مروی ہے کہ آپ نے اپنے بیٹے حماد کو ایک استاد کے پاس بھیجا، استاد نے انھیں پڑھایا ۔

الْحَمْدُ لِلّٰہ امام اعظم نے انھیں پانچ سو درہم بھجوائے، استاد نے کہا کہ یہ تو بہت زیادہ ہیں( ابھی میں نے پڑھا یا ہی کیا ہے؟) امام اعظم ناراض ہو گئے اور اپنے بیٹے کو روک لیا اور فر مایا: تمہارے نزدیک قر آ ن پاک کی کچھ قدرو منز لت نہیں ہے( ایسے شخص سے اپنے بیٹے کو نہیں پڑھا سکتا)۔

تصوف پر آپ کا عمل

آپ کا تصوف پر عمل کس قدر تھا اس واقعہ سے اندازہ لگائیں جامع الا صول میں ہے اور بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ جب آپ نے حج کیا تو بیت اللہ شریف کے دربانوں کو نذرانہ پیش کیا اور انتہائی ادب سے بیت اللہ شریف کے اندر نماز پڑھنے کی اجا زت مانگی آپ کو اجازت مل گئی۔

 چنانچہ آپ نے ایک پا ؤں پر کھڑے ہو کر آدھا قرآن پاک پڑ ھا اور باقی آدھا قرآن پاک دوسرے پا ؤں پر کھڑے ہو کر پڑھا، اور دعا کی ۔

اے میرے رب! میں نے تجھے پہچانا جیسے کہ تیری معرفت کا حق ہے، لیکن تیری عبادت کا جو حق ہے وہ میں نہیں ادا کر سکا۔

 یہ معر فت خدا کا کمال تھا کہ آپ نے اپنی عبا دت کو نا قص جانا، بیت اللہ شریف کے ایک کونے سے آواز آئی۔ تم نے خوب معرفت حاصل کی اور اخلاص کے ساتھ عبادت کی، ہم نے تمھیں اور قیامت تک تمھا رے مذہب والوں کو بخش دیا۔

 (عقو دالجمان۔ حید رآبا د دکن) ص 120 مصنف محمد یوسف صالحی،فقہ وتصوف، شاہ عبدالحق دھلوی رحمتہ اللہ213,212)۔

عبادت میں کمال آپ تصوف کے پیکر تھے آج کل کے نام نہاد صوفیا عبادات میں پابند نہیں اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کر تے ہیں کہ صو فیا کی عبادت فلاں فلاں جگہ ہوتی ہے سب عیاری ومکاری ہے،صو فیا ئے کرا م تو اللہ والے ہوتے ہیں شریعت مطہرہ کی پابندی میں اپنی عا فیت کی راہ کھوجتے ہیں۔

 آپ کے سوانح نگاروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ نے عشاء کے وضو سے چالیس سال تک فجر کی نماز ادا کی، اور تیس سال تک (ایام ممنوعہ کے علاوہ) روزہ دار رہے۔

 اکثر راتوں میں ایک رکعت میں قرآن پاک ختم کیا کر تے تھے، یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس جگہ آپ کی وفات ہوئی وہاں آپ نے سات ہزار مر تبہ قرآن پاک ختم کیا تھا۔

 رمضان المبا رک کے ہر دن اور رات میں ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے، عید کے دن دو مر تبہ ختم قرآن فرماتے، ہر سال حج کیا کرتے، اس طرح آپ نے 55 حج کئے۔

مومن کی پہچان صبرو حلم

امام اعظم انتہائی درجے کے صابر اور حلیم تھے، لوگوں کی ایذا رسانی پر صبر وحلم کا مظاہرہ فرماتے یزید بن ہا رون کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ سے زیادہ صبر کر نے والا کوئی نہ دیکھا۔

 جب آپ کو اطلاع ملتی کی فلاں شخص نے آپ کی برائی بیان کی ہے تو آپ اسے نر می سے پیغام بھیجتے کہ بھائی اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فر مائے، میں نے تجھے اللہ کے سپرد کیا، وہ جانتا ہے کہ تم نے غلط بات کی۔

 آج کے صو فیا کے لئے آپ کا کر دار مشعل راہ ہے آج تو زرہ زرہ سی بات پر اپنے مخالفوں کے لیے بدعا کر نے کا رجحان عام ہو گیا ہے جو کی انتہائی فکر اور شرم کی بات ہے۔

امانت ودیانت میں آپ کا مقام

 آپ بہت امانت دار تھے امانت کو ہر بات میں تر جیح دیتے تھے اگر اللہ کی راہ میں ان پر تلواریں لہرائی جائیں تو انھیں برداشت کر لیتے۔

کہتے ہیں ان کے زمانے میں ایک بکری چوری ہو گئی، امام اعظم نے پوچھا کہ بکری کی عمر عام طور پر کتنی ہو تی ہے؟ بتایا گیا چارسال پھر آپ نے چار سال تک بکری کا گوشت نہیں کھایا( مبادا اس میں چوری کا گوشت نہ کھا جاؤں)۔

امام اعظم کی صفات

معانی ابن عمران موصلی سے منقول ہے کہ امام ابو حنیفہ میں دس صفات تھیں، جس شخص میں ان میں سے ایک صفت بھی ہو گی وہ اپنے قبیلے کا سردار اور اپنی قوم کا سردار ہو گا۔

۔1پرہیزگاری ، 2 سچائی ، 3  فقاہت، 4 لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، 5 سچی مروت، 6 کچھ سنا اس کیطرف متوجہ ہو نا، 7  طویل خا موشی، 8  پریشان لو گوں کی مدد کر نا چاہے وہ دوست ہو یا دشمن، 9 صحیح بات کہنا، 10 سخاوت۔

 ابراھیم بن سعیدی جو ہری سے مر وی ہے کہ میں ایک دن امیر المو منین ہارون رشید کے پاس تھا ان کے پاس امام ابو یوسف تشریف لائے، امیرالمؤمنین نے کہا، یو سف! مجھے امام ابو حنیفہ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں، اما م ابو یوسف نے فر مایا۔

 اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فر ماتا ہے

  مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِ لَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ  ۔(القرآن،سورہ ق 50، آیت18)۔

تر جمہ : کو ئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک محافظ تیار ہوتاہے، ۔ اور یہ ہربات کر نے والے کے پاس ہو تا ہے۔

 امام اعظم ابو حنیفہ کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حرام کئے ہوئے کا موں سے شدت کے ساتھ منع کر نے والے تھے۔

 اللہ تعالیٰ کے دین کی جو بات ان کے علم میں نہ ہوتی اسے کہنے سے سخت پر ہیز کرتے تھے۔

 وہ اس بات کو محبوب رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور نا فر مانی نہ کی جائے۔

 وہ دنیا کے معاملے میں دنیا سے دور دور الگ تھلگ رہتے تھے۔   دنیا کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے تھے چاہے وہ قیمتی ہو یا معمولی۔

 ان کی خا موشی طویل ہوتی تھی ہر وقت غور و فکر میں مصروف رہتے تھے۔   ان کا علم بہت وسیع تھا*فالتو لغو گفتگو با لکل نہیں کرتے تھے۔

 ان سے کوئی علمی مسئلہ پو چھا جاتا تو اگر انھیں اس مسئلے کا علم ہوتا تو اس پر گفتگو فر ماتے اور جو کچھ سنا ہو بیان کردیتے ورنہ خاموش رہتے۔

 وہ اپنی جان اور دین کی حفاطت کرتے تھے۔   علم اور مال کثرت سے خرچہ کرتے تھے۔    اپنی ذات اور اپنی دولت کی بنیاد پر سب لو گوں سے بے نیاز رہتے تھے۔   لا لچ کی طرف میلان نہیں رکھتے تھے۔

 غیبت سے یکسر دور تھے اور کسی کا ذکر سوائے بھلائی کے نہیں کرتے تھے۔

ہارون رشید نے کہا کہ صالحین(اولیائے کرام) کے اخلاق ہیں پھر منشی کو کہا یہ صفات تحریر کرکے میرے بیٹے کو پہنچا دو کہ وہ ان کا مطالعہ کرے،پھر اپنے بیٹے کو کہا ان اوصاف کو یاد کر لو، میں تم سے سنوں گا۔

امام اعظم کے بیان کردہ مسائل پانچ لاکھ

بیان کیا گیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے بیان کردہ مسائل کی تعداد پانچ لاکھ ہے ان کے شا گردوں کی تصانیف سے اس کی تا ئید ہوتی ہے، سب سے پہلے آپ نے کتاب الفرائض کی بنیاد رکھی ۔

 احکام استنباط کیا ، اجتہاد کے فوائد اور فقہ کے اصول وضع کئے، یہ سب ان سے منقول اور مروی ہے پھر ان کے شاگردوں نے ان اصول کی تحریر اور شرح کا کام اس حد تک پہنچا دیا کہ اس پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔

امام اعظم کی وفات

حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ ابن ہبیرہ نے امام اعظم کو کوفہ کا قاضی بنانا چاہا تو آپ نے انکار کر دیا اور فر مایا۔

 اللہ کی قسم اگر مجھے قتل بھی کردے تو میں یہ منصب قبول نہیں کروں گا، آپ کو کہا گیا کہ وہ محل تعمیر کر نا چاہتا ہے،آپ اینٹوں کی گنتی قبول کر لیں، امام اعظم نے فر مایا: کہ اگر وہ مجھے کہے کہ میں اسکے لئے مسجد کے دروازے ہی گن دوں تو میں نہیں گنوں گا ،(دیکھئے ذیل الجواہر المضیہ،ج2،ص505، )۔

 امام علامہ محمد بن یو سف صا لحی رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام اعظم کو کو فہ سے بغداد بلایا ہی اسی لیے تھا کہ انھیں شہید کر دے، امام اعظم ابو حنیفہ لوگوں میں بہت معزز تھے اور ان کی بات سنی جاتی تھی۔

 ان کے پاس مال تجارت کی بھی فراوانی تھی، ابو جعفر کو سید ابراھیم کی طرف ان کے میلان سے خوف محسوس ہوا، چنانچہ اس نے بلا وجہ انھیں قتل کر نے کی جراٗت تو نہ کر سکا، البتہ انھیں قاضی بننے کی پیش کش کی۔

 کیونکہ وہ جانتا تھا کہ امام اعظم ابو حنیفہ یہ منصب قبول نہیں کریں گے،آپ نے انکار کیا تو آپ کو قید کردیا اور اس نے بہانے سے انھیں زہر دیکر شہید کر دیا،( عقو دالجمان ص359،فقہ و تصوف ص282،)۔

 اللہ تعا لیٰ ہم اور تمام مسلمانوں کو حق پر چلنے اور سچ پر قائم رہنے کی  توفیق عطا فر مائے آ مین ثم آمین

حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ

اسلام نگر کپا لی وایا مانگو

جمشیدپور جھارکھنڈ

پن کوڈ 831020

 رابطہ 09279996221

 hhmhashim786@gmail.com

Amazon   Flipkart    Bigbasket   Havells

Recent Posts

کیا نبی کریمﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل گزشتہ امتوں سے قبر میں تیسرا سوال ہوتا تھا

کیا نبی کریمﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل گزشتہ امتوں سے قبر میں… Read More

اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے قسط یازدہم

تحریر: طارق انور مصباحی کیرلا اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے قسط یازدہم اختلاف… Read More

سرکار غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی دریا دلی قسط دوم

تحریر: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی سرکار غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی دریا… Read More