حیات و خدمات

آفتاب ہدایت اور شہنشاہ ولایت ہیں غوث اعظم

تحریر: محمد صدر عالم قادری مصباحی آفتاب ہدایت اور شہنشاہ ولایت ہیں غوث اعظم

آفتاب ہدایت اور شہنشاہ ولایت ہیں غوث اعظم

گردش ایام سے اُفقِ کائنات پرکچھ ایسی مایہ نازاوریکتائے روزگارشخصیتیں جلوہ بارہوئی ہیں جن کے علمی وفکری اورعملی کارنامے تاریخ انسانیت کے لیے اصول ورہ نمااورآنے والی ذاتوں ونسلوں کے لیے لائق فخراورقابل تقلیدثابت ہوئے ہیں۔

جن کی فقاہت وذہانت ،حق گوئی،بے باکی،بالغ نظری،اصابت فکری اورمحققانہ صلاحیت جیسی تمام خصوصیات ایک عالَم کودرخشاں وتابندہ کیے رہتی ہے۔

خداے وحدہٗ لاشریک ایسی شخصیتوں کوبیشتران ہی مقامات وعلاقوں میں پیدافرماتا ہے جہاں کفروشرک ،گمراہی،بے حیائی،دین حق سے دوری،سنت رسول کے خلاف ورزی اورمعصیت عروج پرہوایسی جگہوں پریہ مقدس شخصیتیں اپنے قدم رنجہ فرماکرلوگوں کے قلوب واذہان میں سنتِ رسول کوعام اورمحبت مصطفی ﷺ کاچراغ روشن کرتے ہیں۔

اولیاے کرام نے انبیائے عظام کے مشن کوفروغ دینے اورانکی تعلیمات کولوگوں تک پہنچانے اوربھٹکے ہوئے انسانوں کوسیدھے راہ پرگامزن کرنے میں بڑااہم کرداراداکیا ہے،بدعات وخرافات،برے رسوم اورمعاشرے میں پھیلی گندگی کودورکرکے لوگوں کے دل کی دنیاکوبدلنا اورخدا اوررسول کی صحیح معرفت کرانا اللہ تعالیٰ کے مقدس اولیاےعظام کا کمال ہے

اورکیوں نہ ہوجب کہ ان کامقصدزیست ہی یہی ہے،ان کی زندگی کا مقصد الحب فی اللّٰہ والبغض فی اللّٰہ ہے اسی سلسلہ کی ایک عظیم کڑی  سیدالاولیاء ، سندالاصفیا، قطب ربانی، محبوب سبحانی ، شہباز لامکانی،شہنشاہ کشورولایت ، شیخ الاسلام والمسلمین ،غوث الثقلین،حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی حسنی حسینی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ(المعروف غوث اعظم،پیران پیر،پیردستگیر) کی ذات بابرکات ہے ۔

آپ  470ھ میں ایران کے ایک مشہورومعروف قصبہ جیلان نزدبغدادشریف میں پیداہوئے۔ آپ والدماجدکی نسبت سے حسنی اوروالدۂ ماجدہ کی نسبت سے حسینی سیدہیں۔

آپ کا خاندان اولیاء اللہ کا گھرانہ تھا۔ آپ کے ناناجان،داداجان،والدماجد،والدۂ محترمہ،پھوپھی جان،بھائی اورصاحبزادگان سب اولیاالرحمان تھے اورصاحب کرامات ظاہرہ وباہرہ اورمالک مقامات علیا تھے، یہی وجہ تھی کہ شہر،قریہ اوراطراف واکناف کے لوگ آپ کے خاندان کو اشراف کاخاندان کہتے تھے۔

آپ کے والد ماجد کانام شیخ ابوصالح موسیٰ جنگی دوست اوروالدۂ ماجدہ کانام امۃ الجبار ام الخیرفاطمہ ہے۔اس کائنات گیتی میں اولیاے کرام تو بہت تشریف لائے اورقیامت تک تشریف لاتے رہیں گے

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کشف وکرامات اورمجاہدات وتصرفات کی بعض خصوصیات کے لحاظ سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواولیاء کی جماعت میں ایک خصوصی امتیاز حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اولیاے متقدمین میں سے بہت سے باکمال اور بڑے بڑے صاحبان کشف وحال بزرگوں نے آپ کے ظہورکی بشارتیں دی ہیں۔اوراولیاے متاخرین میں سے ہر ایک آپ کی مقدس دعوت کانقیب اورآپ کی مدح وثنا کاخطیب رہااورعلماسلف وخلف نے آپ کے بلنددرجات اورتصرفات وکرامات کے بارے میں اس قدرکثرت کے ساتھ کتابیں تحریرفرمائیں کہ شایدہی کسی دوسرے ولی کے بارے میں مستند تحریروں موجودہو۔

آپ کی بزرگی وولایت اس قدر مشہور اورمسلم الثبوت ہے کہ آپ کے” غوث اعظم ”ہونے پرتمام امت کااتفاق ہے۔چناںچہ حضرت علامہ عزیزالدین بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ کسی ولی کی کرامتیں اس قدرتواترکے ساتھ ہم تک نہیں پہنچی ہیں جس قدرتواترکے ساتھ حضرت غوث اعظم کی کرامتیں ثقات سے منقول ہیں۔

آفتاب ہدایت اور شہنشاہ ولایت ہیں غوث اعظم

 

اس مضمون کو بھی پڑھیں غوث اعظم بحیثیت مفسر و محدث

یہی وجہ ہے کہ ہردورکے بڑے بڑے علماے دہر اور اولیاے عصرنے آپ کے تبحرعلمی اوردرجۂ ولایت کی عظمت کا اعتراف کیااورآپ کی شان اقدس میں ایسے ایسے کلمات تحسین ارشادفرمائے جو آب زرسے لکھنے کے قابل ہیں۔

نسبی شرافت اورخاندانی وجاہت کے علاوہ علمی جلالت،علمی عظمت،کمال ولایت،کثرت کرامت کی جامعیت آپ کی یہ وہ اخص الخاص خصوصیات ہیں جو بہت کم اولیاے عظام کو حاصل ہوئیں

یہی وجہ ہے کہ بہت سے اولیاء اللہ اپنے اپنے دورمیں چاند کی طرح چمکے اورچند دنوں ان کی شہرت ومقبولیت کا ڈنکا بجتارہا مگررفتہ رفتہ چودہویں کے چاند کی طرح ان کے ذکروشہرت کی روشنی گھٹتی اورکم ہوتی چلی گئی اوروہ سب پردۂ خفا میں پنہا ہوگیے

حتیٰ کہ دنیاان کے ناموں کوبھی فراموش کرگئی۔مگرحضرت محبوب سبحانی غوث اعظم شیخ عبد القادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوباوجودیکہ آٹھ سواناسی برس(879) کاطویل عرصہ گزرگیا مگرآپ کی شہرت وعظمت کے آفتاب کوکبھی گہن نہیں لگا۔ بلکہ ہمیشہ آپ کی ولایت وکرامت کا ڈنکا چاردانگ عالم میں بجتاہی رہا ۔

اورآج بھی آپ کی عظمتوں اورکرامتوں کاآفتاب اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمک دمک رہاہے اورانشاء اللہ العزیزقیامت تک چمکتادمکتاہی رہے گا۔
کیا خوب اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے ارشادفرمایا!۔


سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کرڈوبے
افق نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا


اپنوں نے توآپ کی علمی کمال اورعظمت ولایت کااعتراف کیاہی ہے،اغیارومعاندین نے بھی آپ کوغوث اعظم ہی تسلیم کیاہے۔آپ اپنے علم وفضل میں یگانۂ روزگار،بزرگی میں وحیدعصر،اورعلم وعمل میںبے مثال اورمنفردتھے، تقویٰ وطہارت، خشیت وللٰہیت،فقروفاقہ،مجاہدۂ نفس اوردنیاسے کنارہ کشی آپ کی اعلیٰ ترین خصوصیات ہیں۔آپ جہاں شریعت کے آفتاب وہیں طریقت کے ماہتاب بھی تھے،یعنی شریعت وطریقت کے مجمع البحرین تھے۔

آپ کی بارگاہ میں وقت کے قدآوراولیاء کرام نے حاضری دیکراکتساب فیض کیاہے۔آپ عالم بیداری میں حضوراکرم نورمجسم سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کیاکرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ وقت کادرماندہ اوراپنی مراد وحاجت کا طلب گار اپنی آرزؤں کی کلیاں کھلانے کے لیے آپ کے دربارفیض پرانوارمیں حاضری دیتے ہیں۔آپ وعدہ کے پکے اورصداقت کے علم بردارتھے اپنی والدۂ ماجدہ کی نصیحت پرعمل کرتے ہوئے آپ نے کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا۔

اے کاش آج ہماری مائیں اوربہنیں بھی اپنے بچوں کوایسی نصیحت کرتیں توہمارے گھروں سے بھی غوث اعظم کا متوالا اوران کا خادم ضرورپیدا ہوتا۔ ہمارے نوجوان نسلوں کے لئے یہ بات کارآمد ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے شمارمصیبتوں،پریشانیوں اورکھانے پینے کے عدم انتظام وانصرام کے باوجودطلب علم وجہدمسلسل میں ہمہ تن گوش ہوکرلگے رہے اورہمہ جہت شخصیت بن کرابھرے۔

آج ہمارے بچوں کے پاس ہرچند فراوانیاہیںپھربھی دینی ودنیوی تعلیم سے جی چراتے ہیں۔آپ کامقام ومرتبہ بہت ہی ارفع واعلیٰ ہے

چناں چہ حضرت شیخ احمدسرہندی حضرت مجددالف ثانی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تک پہونچنے کے لیے دوطریقے ہیں ایک مرتبۂ نبوت جو حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم تک ختم ہے اوردوسرامرتبۂ ولایت جو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے پھردیگراہلبیت کرام سے حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ تک ختم ہے،لیکن ایسا نہیں کہ ولایت کادروازہ بندہوگیا بلکہ جوبھی ولی ہوگاوہ بارگاہ غوث کا گدا اورانہیں کا فیض یافتہ کہلاے گا۔

سلسلۂ رفاعیہ کے مسلم الثبوت بزرگ حضرت شیخ احمدرفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ غوث پاک کے دوکندھوں میں سے ایک پرشریعت کااوردوسرے پرطریقت کابوجھ ہے۔

آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ مسلسل فاقہ کشی کے باوجود عبادت وریاضت ،تلاوت قرآن کریم ،تسبیحات وتہلیلات واوراد ووظائف میں مشغول رہتے تھے۔ بھوک وپیاس کی شدت سے نڈھال ہوتے مگر فرائض،واجبات،سنن،مستحبات کوکبھی ترک نہیں فرماتے۔

آپ کی کرامات بے شمار ہیںجن کواجلہ اولیاے کرام اوروقت کے امام ومحدث نے نقل فرماکرسند کا درجہ عطاکیا ہے۔

اورایسا کیوں نہ ہو جب کہ زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ کواپنی ولایت کاعلم ہوچکاتھا،بہجۃ الاسرار میںلکھاہے کہ آپ کومکتب جانے اورگھرواپس آنے میں فرشتے مددکیاکرتے تھے۔جب بیٹھنے کے لئے جگہ کی تنگی ہوتی تو غیبی آواز آتی کہـ ـ’’ اللہ کے ولی کوجگہ دے دو‘‘۔مہلک اورلاعلاج مریضوں کوبھی آپ کی کرامتوں سے اکثرشفامل جاتی تھی

چناں چہ مشہورواقعہ ہے کہ بغداد کے مشہورتاجرابوغالب نے آپ کی دعوت کی جب آپ اس کے مکان پرپہنچے توعراق کے بڑے بڑے علماومشائخ پہلے ہی سے وہاں موجود تھے۔انواع واقسام کے کھانے دسترخوان پررکھے گئے،پھرلوگوں نے ایک بندٹوکرالاکرمہمانوں کے سامنے رکھ دیا،تمام علماومشائخ آپ کی ہیبت وجلال سے خاموش بیٹھے رہے

مگرآپ نے فرمایاکہ ٹوکرامیرے سامنے لاکرکھولوجب ٹوکراکھولاگیاتو اس میں ابوغالب تاجر کا اندھا اورفالج زدہ لڑکا بیٹھا ہواتھا،حضورغوث اعظم نے سمجھ لیاکہ اس دعوت کا مقصد یہی ہے کہ اس بچے کوعلما ومشائخ کے سامنے دعا ء کے لیے پیش کیا جائے

چناں چہ حضورغوث اعظم نے اس بچے کو دیکھ کر فرمایا کہ’’قم باذن اللّٰہ معافی‘‘یعنی ائے لڑکے!توخدائے تعالیٰ کے حکم سے شفایاب ہوکرکھڑاہوجا۔آپ کا یہ فرماناتھاکہ لڑکابینااورتندرست ہوکرزمین پردوڑنے لگا۔آپ کی یہ کرامت دیکھ کرمجلس میں ایک شوربرپاہوگیا اورحضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ خاموشی کے ساتھ اٹھ کربغیرکھانا کھائے ہوئے اپنی خانقاہ میں تشریف لے آئے۔ کیا ہی خوب کسی نے کہا ہے !۔

شفا پاتے ہیں صدہا جاں بلب امراضِ مہلک سے
عجب دارالشفا ہے آستانہ غوث ا عظم رحمۃ اللہ علیہ کا

اس کو بھی پڑھیں غوث اعظم بحیثٰت استاذ

آفتاب ہدایت اور شہنشاہ ولایت ہیں غوث اعظم


آپ نے اپنی وفات سے چند دنوں پہلے ہی اپنے عزیزوں واقرباء کوبتادیاتھا کہ اب میری وفات کازمانہ قریب آگیاہے ،اس کے بعد ہی آپ علیل ہوگئے اوردوماہ تک علالت کا سلسلہ جاری رہا آخری وقت میں آپ نے کچھ  دعاؤں کا ورد شروع  فرمایا اوردعا کے آخرمیں ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُرَّسُولُ اللّٰہِ‘‘ پڑھا اوراکیانوے(91)برس کی عمرمیں 11؍ربیع الثانی 561 ؁ھ کورات میں آپ نے وصال فرمایا ۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیہِ رَاجِعُون۔

آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت سیدشاہ عبدالوہاب قادری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی نمازجنازہ پڑھائی اورآپ مدرسہ قادریہ کے ایک سائبان کے نیچے مدفون ہوئے۔
بغداد جدید میں آج بھی آپ کامزارپرانورعوام وخواص کے لئے فیض بخش ہے۔مولیٰ تعالیٰ ہم تمام خوش عقیدہ مسلمانوں پرآپ کافیض جاری فرمائے اورآپ کے دامن کرم سے وابستہ رہنے کی توفیق بخشے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم


تحریر: محمد صدرِعالم قادری مصباحی
امام روشن مسجد،میسورروڈ،بنگلور26
09108254080

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*