اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا

اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا

از : خبیب القادری نعمانی اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا

اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا

جو لوگ اپنے باپ کی طرف نسبت کرنے کے بجاے دوسرے کی طرف اپنے کو منسوب کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کا خوف کرنا چاہیے

اپنے آپ کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کی طرف کرنا کیسا ہے؟

اس سلسلے میں چند حدیثیں سماعت فرمائیں

حدیث نمبر 1
جو شخص جانتے ہوے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔
صحیح البخاری 4327

حدیث نمبر 2
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی ( نسبی ) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
صحیح البخاری 3508

حدیث نمبر 3
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ أَوْ ، يَقُولُ  عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑا بہتان اور سخت جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہے یا جو چیز اس نے خواب میں نہیں دیکھی۔ اس کے دیکھنے کا دعویٰ کرے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی حدیث منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔“
صحیح البخاری 3509

حدیث نمبر 4
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔
صحیح البخاری 6766

حدیث نمبر 5
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیوں کہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے ( اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو ) یہ کفر ہے۔“
صحیح البخاری 6768

ہدایت
عمل کرنے کے لیے ایک حدیث ہی کافی ہوتی ہے

ایک شعر
عمل کرے نہ کرے سن تو لے میری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

اللہ تعالیٰ ان احادیث مبارکہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

از : خبیب القادری نعمانی ؛ ارشدی؛ خلیلی؛ فیضی؛ نقشبندی؛ مجددی؛ اویسی
بانی : غریب نواز اکیڈمی مدناپور

7247863786

دیگر مضامین پڑھیں 

علماے کرام عوام اور تجارت

کیا محمد رسول اللہ ﷺ آخری رسول ہیں ؟

غار ثور میں یار غار کو مار غار نے کاٹ لیا 

اسی مضمون کو ہندی میں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top