اہل سنت کی اصطلاح اور قیادت کی تبدیلیاں

اہل سنت کی اصطلاح اور قیادت کی تبدیلیاں

تحریر: طارق انور مصباحی اہل سنت کی اصطلاح اور قیادت کی تبدیلیاں

اہل سنت کی اصطلاح اور قیادت کی تبدیلیاں

مبسملا وحامدا :: ومصلیا ومسلما

ابن عبد الوہاب نجدی(1115-1206)کی تحریک وہابیت سے قبل کلمہ گویان اسلام دو بڑے طبقہ میں منقسم تھے۔سنی اور شیعہ

چوں کہ وہابی تحریک کا بانی وقائد ابن عبد الوہاب نجدی کا شمار اہل سنت وجماعت میں ہوتا تھا۔اس کی تحریک وہابیت میں بھی اہل سنت وجماعت کے لوگ ہی شریک ہوئے,گرچہ مذہبی اصول وضوابط کے اعتبار سے وہابیہ اپنی بدمذہبیت کے سبب مذہب اہل سنت سے خارج ہو گئے تھے,لیکن وہابیہ بھی خود کو اہل سنت اور حنبلی کہتے رہے اور اہل عالم بھی انہیں اہل سنت کا ایک طبقہ شمار کرتے رہے۔

دنیا بھر کے اہل سنت وجماعت ویابیہ کو خود سے جدا سمجھتے رہے,لیکن اہل عالم یہی سمجھتے رہے کہ دونوں طبقے اہل سنت وجماعت کے طبقے ہیں اور دونوں کے درمیان کچھ اختلاف ہے۔

جب 1240ھ مطابق 1825میں اسماعیل دہلوی نے بھارت میں وہابیت کی تبلیغ شروع کی تو اہل سنت وجماعت ہی کے چند لوگ اس کے ساتھ ہو گئے۔خود اسماعیل دہلوی بھی سنی خاندان کا ایک فرد تھا۔

گرچہ بدمذہبیت کے سبب دہلوی اور اس کے متبعین مذہب اہل سنت سے خارج ہو گئے تھے,لیکن اہل ہند انہیں اہل سنت وجماعت کا ایک طبقہ سمجھتے رہے۔وہ لوگ بھی خود کو اہل سنت ہی سمجھتے رہے۔

اسماعیل دہلوی کے بعد اس کے متبعین دو حصوں میں منقسم ہو گئے۔اس کے متبعین کا ایک طبقہ غیر مقلد ہو گیا۔اس کے مختلف نام ہیں۔سلفی جماعت,اہل حدیث,غیر مقلد۔یہ تین نام اسی ایک جماعت کے ہیں۔اس طبقہ کے ذمہ داروں نے بھارت کی انگریزی حکومت کو درخواست دے کر اپنا نام”اہل حدیث”رکھوایا۔یہ لوگ خود کو اہل حدیث کہنے لگے۔

دہلوی کے متبعین میں ایک گروہ حسب سابق امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقلد رہا,لیکن اس کے عقائد وہی تھے,جو وہابی مذہب کے عقائد تھے۔اس طبقہ کے لیڈران دیوبند سے تعلق رکھتے تھے,اس لئے اس طبقہ کو دیوبندی جماعت کہا جانے لگا۔یہ لوگ آج تک خود کو اہل سنت کہتے ہیں۔

بھارت میں مبلغ وہابیت اسماعیل دہلوی کے رد وابطال میں سب سے اہم حصہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ القوی کا ہے۔انہوں نے ہی اسماعیل دہلوی کا شرعی حکم “تحقیق الفتوی”میں بیان فرمایا۔دہلوی کی بدعقیدگی کے سبب اس پر کفر فقہی کا حکم عائد کیا گیا۔جس کو تمام علمائے اہل سنت وجماعت نے صحیح قرار دیا۔تحقیق الفتوی پر اپنی تصدیقات رقم فرمائیں۔

علامہ خیر آبادی(1797-1861) کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا عبد الحق خیر آبادی نے بد مذہبیت کے دفاع کے لئے نہ کوئی خاص کوشش کی,نہ ہی رد وابطال سے کوئی دل چسپی دکھائی۔

اس عہد میں خاندان ولی اللہی سمیت بے شمار علماے اہل سنت نے اسماعیل دہلوی کی کتاب”تقویۃ الایمان”اور وہابی مذہب کے رد وابطال میں کتب ورسائل لکھے۔تحریری وتقریری ہر اسلوب میں وہابیت کا رد کیا۔اسی عہد میں حضرت علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ العزیز نے رد وہابیہ کا محاذ سنبھالا اور فکر وہابیت کا خوب تعاقب فرمایا۔

وہ ایسا زمانہ تھا کہ محض ترغیب عمل سے مسلمانان بر صغیر کو عقائد اہل سنت پر قائم ومستحکم رکھنا مشکل امر تھا,اس لئے ترغیب عمل کے ساتھ تصحیح عقائد پر زور دیا گیا۔

ماہ وسال گزرتے گئے۔اسی درمیان 1857 مطابق 1271ھ میں بھارت کی پہلی جنگ آزادی ہوئی۔انگریز اپنی عیاری کے سبب جنگ جیت گئے۔سلطنت مغلیہ کا خاتمہ ہو گیا۔حضرت علامہ خیر آبادی سمیت بے شمار علمائے اہل سنت وجماعت نے جنگ آزادی میں حصہ لیا تھا۔حضرت علامہ خیر آبادی نے جہاد کا فتوی دیا تھا۔جس پر علمائے حق کے دستخط ہوئے تھے۔

جنگ آزادی میں ناکامی کے سبب سلطنت مغلیہ کا بھی خاتمہ ہو گیا اور جنگی تحریک اور اس میں شرکت وتائید کے سبب بے شمار علمائے اہل سنت کو انگریزوں نے پھانسی کی سزا دی۔حضرت علامہ خیر آبادی سمیت بہت سے علمائے اہل سنت کو گرفتار کر کے جزیرۂ انڈمان میں قید کر دیا گیا۔

وہابیت جو نیم مردہ ہو چکی تھی۔سلطنت مغلیہ کے خاتمہ اور علمائے اہل سنت وجماعت کی پھانسی وگرفتاری کے سبب پھر سے اپنا دائرہ وسیع کرنے میں لگ گئی۔وہابیہ کے مقلد وغیر مقلد دونوں طبقے اس قدر آزاد ہو گئے کہ فکر وہابیت میں ضلالت وکفر کے اضافے کرنے لگے۔ مقلد وہابیوں کا مرکز دیوبند بن گیا۔قصبہ دیوبند میں 1866مطابق 1283ھ میں مدرسہ دیوبند کا قیام ہوا۔

مدرسہ دیوبند کے قیام سے قریبا دس سال قبل امام احمد رضا قادری کی پیدائش 1856 مطابق 1272ھ میں ہو چکی تھی۔

حضرت علامہ فضل رسول بدایونی(1798-1872) کے بعد ان کے مشہور روز گار فرزند ارجمند حضرت علامہ عبد القادر بدایونی(1837-1901) اور دیگر علماے اہل سنت نے محاذ کو سنبھالا۔اسی عہد میں بریلی کے ایک وسیع العلم عالم دین حضرت مفتی نقی علی خاں (1830-1880) بھی اس محاذ میں شریک ہو گئے۔

وہابی مذیب میں دیابنہ کے اضافی کفریات

قاسم نانوتوی(1833-1880) نے 1290ھ مطابق 1872میں تحذیر الناس لکھی۔اس میں اس نے ختم نبوت کا انکار کیا۔

حضرت علامہ محمد شاہ پنجابی علیہ الرحمہ نے دہلی میں نانوتوی سے مناظرہ کیا۔علمائے اہل سنت نے نانوتوی کا زبردست رد کیا۔

خلیل احمد انبیٹھوی (1852-1927)نے 1304ھ میں رشید احمد گنگوہی کے حکم پر براہین قاطعہ لکھی۔اس میں شیطان کے علم کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اقدس سے زیادہ بتایا گیا۔

حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے بہاول پور میں انبیٹھوی سے مناظرہ کیا اور انبیٹھوی کو سکشت فاش دی۔

رشید احمد گنگوہی (1829-1905) نے 1308ھ مطابق 1890میں وقوع کذب کا فتوی لکھا۔حضرت علامہ نذیر احمد رام پوری ودیگر علمائے اہل سنت نے گنگوہی کا رد بلیغ سپرد قلم فرمایا۔

اشرف علی تھانوی نے1319ھ مطابق 1901میں حفظ الایمان لکھی,جس میں علم نبوی کو بچوں,پاگلوں اور حیوانات وبہائم کے علم کے برابر اور اس کے مماثل قرار دیا۔علمائے اہل سنت نے اس کا بھی رد کیا۔

اسی عہد میں نیچریت,قادیانیت اور ندویت کے فتنے بھی سر ابھار چکے تھے۔بعض متصوفین بھی الحاد وگمرہی کی راہ پر جا جکے تھے۔یہ سب فتنے باب اعتقادیات سے متعلق تھے۔باب فقہیات میں بھی فتنے کم نہ تھے۔علمائے اہل سنت فتنوں کو دور کرنے کے لئے بہت مشقت وجاں فشانی کی۔

بدمذہبیت اور کفروضلالت میں مبتلا ہونے والے لوگ پہلے اہل سنت وجماعت سے تعلق رکھتے تھے,پھر بداعتقادی کے سبب مذہب اہل سنت وجماعت سے خارج ہو گئے,بلکہ بہت سے لوگ مذہب اسلام سے خارج ہو چکے تھے۔

حضرت مفتی نقی علی خان بریلوی(1830-1980) اور حضرت علامہ عبد القادر بدایونی(1837-1901)کے بعد علمائے اہل سنت وجماعت میں سےامام احمد رضا قادری (1856-1921)اور ان کے تلامذہ وخلفا محاذ سنبھال چکے تھے۔ان کے معاصر علما بھی ان کے ساتھ آ گئے۔

امام احمد رضا قادری نے 1320ھ مطابق 1902میں علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ القوی کی کتاب”المعتقد المنتقد”کا حاشیہ “المعتمد المستند”تحریر فرمایا۔اس میں بھارت کی ان تمام بد عقیدہ جماعتوں کے شرعی احکام بیان کئے گئے تھے جو شیعوں کے بالمقابل اہل سنت وجماعت کہلاتے تھے۔

یہ کتاب 1321ھ مطابق 1903میں مطبع تحفہ حنفیہ(پٹنہ)سے چھپ کر شائع ہوئی۔1323ھ میں امام احمد رضا قادری جب حج وزیارت نبوی کو جانے لگے تو”المعتمد المستند” کے جس حصے میں قادیانی اور مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ پر کفر کلامی کا حکم عائد کیا گیا تھا,اس کو ساتھ لیتے گئے۔آپ نے اس حصہ کو استفتا اور سوال کی صورت میں علمائے حرمین طیبین کی بارگاہ میں پیش کیا,تاکہ علمائے حرمین شریفین حکم شرع بیان فرمائیں۔

علماے حرمین طیبین نے 1323-1324ھ مطابق 1906 میں امام احمد رضا قادری کے سوال کا جواب رقم فرمایا۔امام موصوف کے بیان کردہ حکم شرعی کی تائید وتوثیق فرمائی۔انہی تصدیقات کا مجموعہ”حسام الحرمین”ہے۔

امام احمد رضا قادری نے خود کو خدمت اسلام کے لئے وقف فرما دیا تھا۔وہ حتی الامکان سفر سے گریز کرتے۔گھریلو امور کی ذمہ داری بھی ان کے بھائی حضرت علامہ حسن رضاخاں علیہ الرحمہ انجام دیتے۔

اپنے عہد میں امام احمد رضا قادری نے ہر اٹھنے والے فتنے کا تعاقب فرمایا۔بے شمار تحقیقی فتاوی اور کتب ورسائل لکھے۔باب اعتقادیات کے ساتھ فقہیات اور دیگر علوم وفنون سے متعلق بھی آپ کی بے مثال تحقیقات موجود ہیں۔

ان کے معاصر علمائے اہل سنت وجماعت اور ان کے تلامذہ وخلفا نے ان کے ساتھ مل کر انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ بدمذہبیت کا دفاع کیا اور فروغ سنیت میں نمایاں کردار ادا فرمایا,یہاں تک کہ تمام باطل فرقوں کا بطلان ظاہر ہو گیا۔

اکثر فرقوں کو عوام مسلمین بھی اہل سنت وجماعت سے خارج سمجھنے لگے۔دیوبندی فرقہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تقلید کا سہارا لے کر خود کو اہل سنت وجماعت کہتا رہا

حالاں کہ فرقہ دیوبندیہ کے عقائد میں متعدد کفریات کلامیہ پائے جاتے ہیں۔نہ ان لوگوں نے ان کفریات سے توبہ ورجوع کیا,نہ ہی دعوی سنیت سے دستبردار ہوئے,نہ ہی وہابیت کو ترک کیا۔یہ عوام مسلمین کے لئے قدم پھسلنے کا مقام اور ایک بڑی آزمائش ہے۔

دیوبندی لوگ عوام مسلمین کو یہ فریب بھی دیتے رہے ہیں کہ ہماری طرف جو عقائد منسوب کئے جاتے ہیں۔وہ ہمارے عقائد نہیں ہیں,بلکہ ہم پر الزام ہے۔بہت سے ناواقف عوام دیوبندیوں کے دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

قیادت کی تبدیلی اور تعلیمات کی برقراری

سنت الہیہ یہی ہے کہ ہر محاذ پر قیادت کی تبدیلی ہوتی رہی ہے۔خلافت راشدہ کے بعد خلافت بنو امیہ,پھر خلافت عباسیہ,بعد ازاں سلطنت مملوکین مصر وسلطنت عثمانیہ۔اس کے بعد مرکزی سلطنت کا خاتمہ اور اسلامی ملکوں کی تقسیم ولا مرکزیت کا دور آیا۔

مذہبی قیادتیں بھی بدلتی رہی ہیں۔لیکن قائدین کے بیان کردہ احکام نہیں بدل سکتے,کیوں کہ وہ مذہب اسلام کے احکام ہوتے ہیں۔

بھارت میں ماضی قریب کی چند صدیوں کو دیکھیں تو حضرت مجدد الف ثانی وشیخ عبد الحق محدث دہلوی کے بعد سلطان اورنگ زیب عالمگیر,علامہ محب اللہ بہاری,میر عبد الواحد بلگرامی وغیرہم کو قیادت سونپی گئی۔

اس کے بعد خاندان ولی اللہی کو مذہبی قیادت تفویض کی گئی۔اس کے بعد حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی اور علمائے بدایوں کو قیادت سپرد ہوئی۔اس کے بعد امام احمد رضا قادری کو قیادت عطا ہوئی۔جن کو رب تعالی نے مذہبی قیادت کے لئے منتخب فرمایا,انہوں نے دین متین کی بے مثال خدمات انجام دیں۔

آج تک برصغیر میں امام احمد رضا قادری کی قیادت مسلم ہے۔مسلمانان برصغیر امام احمد رضا قادری کی تعلیمات پر متفق ہو گئے,پس فکری وحدت برقرار رہی۔اہل عرب کسی خاص قائد ورہنما پر متفق نہ رہ سکے,اس لئے عرب کے سنی علما میں فکری وحدت کا فقدان ہے۔

اب ہمیں پوری قوت کے ساتھ ان تمام لوگوں کو امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اہل سنت وجماعت ہیں۔خواہ وہ حنفی ہو,یا شافعی,مالکی ہو یا حنبلی۔قادری ہو یا چشتی,نقشںبندی ہو یا سہروردی۔

ہمیں ہر محاذ پر کام کرنے والے افراد چاہئے۔ہمیں محققین کی بھی ضرورت ہے اور مبلغین کی بھی۔مقررین کی بھی ضرورت ہے اور محررین کی بھی۔سماجی,رفاہی,سیاسی اور دیگر خدمات انجام دینے والے افراد کی ضرورت ہے۔تنقید نگاروں کی ہمیں ضرورت نہیں۔در حقیقت تنقید برائے اصلاح کا رنگ وروپ جداگانہ ہوتا ہے,جب کہ عہد حاضر میں تنقید برائے تحقیر وتنفیر ہوتی ہے۔

کئی سالوں سے بہت قوت کے ساتھ یہ سوال بھی منظر عام پر آتا رہا ہے کہ علمائے اہل سنت وجماعت صرف امام احمد رضا قادری کا نام کیوں لیتے ہیں,جب کہ دینی وتبلیغی خدمات بے شمار علما ومشائخ نے انجام دیا ہے۔

در حقیقت یہ سوال ہی غلط ہے۔ہند وپاک کےعلمائے اہل سنت وجماعت نے بر صغیر کے بے شمار اولیائے کرام وعلمائے عظام کی سیرت وسوانح تصنیف فرمائی۔ان سوانحی تصنیفات کی طباعت واشاعت کی۔اسلاف کرام کی خدمات اور کارناموں کو اجاگر کیا۔

چاروں سلاسل طریقت یعنی سلسلہ قادریہ,سلسلہ چشتیہ,سلسلہ نقشبندیہ وسلسلہ سہروردیہ میں بیعت ہوئے۔ان سلاسل کے خلیفہ بن کر سلسلہ کی خدمت کی,اور ان سلاسل کو فروغ دیا۔تمام سلاسل حقہ وجملہ سنی خانقاہوں سے عمدہ مراسم رکھے۔

ہاں,یہ ضرور ہے کہ علمائے کرام مذہب ومسلک کی ترویج واشاعت اور مذہب اہل سنت وجماعت پر عوام وخواص کو قائم ومستحکم رکھنے کے لیے امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی تعلیمات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے رہے ہیں۔

در حقیقت جن کو قیادت سپرد کی جاتی ہے۔من جانب اللہ عوام وخواص کا فطری رجحان اور قلبی میلان ان کی جانب ہو جاتا ہے۔جس طرح جمعہ کے خطبات میں خلیفۃ المسلمین اور بادشاہ اسلام کا نام لیا جاتا رہا ہے,اسی طرح مذہبی محاذ پر مذہبی قائدین کا نام لینے کا رواج قرون اولی سے چلا آ رہا ہے۔قانون فطرت پر غور کیا جائے

واللہ الہادی وہو المستعان

تحریر: طارق انور مصباحی
مدیر : ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی
اعزازی مدیر : افکار رضا

حضور تاج الشریعہ علم و فضل کے مہ تاباں 

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

حضور تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

ان مضامین کو بھی پڑھیں

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

وجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

 موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

 آزمائش کا زمانہ ہے امت کو بچانا ہے

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top