حالات حاضرہ

اے اقبال کے شاہین سبق پھر پڑھ

عرض پرداز : شیر محمد مصباحی اے اقبال کے شاہین سبق پھر پڑھ

اے اقبال کے شاہین سبق پھر پڑھ

کل تک یہ دعویٰ تھا کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر تحفظ ناموس رسالت اور امت کی قیادت میں کوئی میدان عمل میں آ جائے تو ہم بھی عشق رسول کا ثبوت دیتے ہوئے سر دھڑ کی بازی لگا کر اس مسیحا کے دست و بازو بن جائیں گے اور امت کی خیر خواہی اور دین و ملت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
لیکن 
لٹتی، کٹتی، گھِستی، پِٹتی، پِستی، خراب حال، پریشان بال، مظلوم امت کا غم گسار و مسیحا بن کر حضرت قمر غنی عثمانی اور دیگر ملت کے گساران میدان میں اترے جو فی الحال مظلوم امت کی ہمدردی و غم زُدگی کے جرم میں قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، ہم نے کوفیوں کی طرح ان مجاہدین کو یزیدی فرعونی قوتوں کے مقابلے میں تنہا چھوڑ دیا! ۔

وہ آواز دیتے رہے؛ دہلی چلو کہ گستاخان رسول کو سبق سکھاتے ہیں ، بلکہ جہاں جہاں امت پر آفت آن پڑی، مظلومین و متأثرین کی معاونت اور ان کی ریلیف کے لیے آواز دیتے رہے چلو اٹھو کہ وقت قیام آیا ، متحد ہو کر دنیا کا اسلام مخالف نظام بدلتے ہیں۔ لیکن کتنے لوگوں نے لبیک کہا؟ اور اب جب کہ قید و بند کی آفت ان کے سروں پر آن پڑی ہے تو ہم میں سے کتنے بیدار ہو کر آئندہ قمر غنی عثمانی صاحب کی حمایت اور ملت کی قیادت کے لیے لائحہ عمل کی تیاری میں مصروف ہوئے؟

ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!۔

حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟

پس امت کے علما و مشائخ, خانقاہ و مدارس و مساجد کے ذمداران اور ٹرسٹیان، پیران طریقت و سجادگان ,ائمہ و خطبا و نقبا اور تمام تحریک و تنظیم کے بانیان سے اپیل ہے اب کی بار قمر غنی عثمانی و دیگر تحفظ ناموس رسالت کے مجاہدین کے قدم بقدم چلیں اور ان کے دست و بازو بن کر نمرودی قوتوں کو نیست ونابود کریں۔

https://wa.me/message/SHGDPS4GO36ZO1
البرکات ویلفئیر ٹرسٹ میں مدد کرنے کے خواہش مند ہیں تو کلک کریں

سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اے اقبال کے شاہینو! تم نے اپنی تاریخ کیوں کر بھلا دی؟ سبق پھر پڑھ شجاعت کا، فتح و کامرانی کا، امت کے درد کا، مظلوموں کی فریاد رسی کا! آپ کو یاد ہے؟ سندھ کے سمندری قزاقوں نے عرب کی اور جا رہی تاجران کی کشتی کو اغوا کر لیا تھا جس میں ایک عورت نے مدد کی گہار لگائی تو 17 سال کے نوجوان محمد بن قاسم کی غیرت ایمانی نے صرف ایک عرب مسلم خاتون کی آواز پر کشتی بھر مسلمانوں کی آزادی و تحفظ کی خاطر سندھ و ہند کو فتح کر لیا تھا۔
لیکن ہم

گجرات، کشمیر، بھاگل پور، تریپورہ ہند و مینمار میں ہوئے مسلمانوں پر ظلم و بربریت، لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں کی شہادت، مساجد و مدارس کی تخریب کاری، جگہ جگہ مسلمان کے جلتے گھر بار، بال عیال، ابھی تریپورہ کے بے بس مسلمانوں کے آشیانوں میں سنگ ریزی و آتش زنی، اسلام کی شہزادیوں کے تقدس کی پامالی مساجد کی مندروں میں تبدیلی۔ لیکن ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اپنی ذلت و رسوائی کی باری کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ کیا اب بھی کچھ کھونا باقی رہ گیا ہے؟
سبق پھر پڑھ۔۔۔

صفحۂ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھُڑایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!۔

میرے بھائیو! اے اقبال کے شاہینو! جاگو خدارا جاگو! ہمارے پاس محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا رب ہے اور اس رب کے آخری پیغمبر کا سایہ ہماروں سروں پر بے، جس نے دوبا سورج کو پھیر دیا اور اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دیے۔ بتاؤ! اتنی طاقت کسی کے پاس ہے؟

ہم توکل، یقین، عزم، ہمت، جواں مردی، شیر دلی، تحفظ ناموس رسالت کے جذبے سے سرشاری، محبت الہی اور عشق مصطفیٰ جیسے ہتھیاروں سے لیس ہو کر میدان میں اتریں تو سہی واللہ باللہ تاللہ بدر سا فتح نصیب ہوگا۔ سنو! تمہارا رب عز و جل کیا فرماتا ہے:۔

قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِۙ- كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۲۴۹) سورۃ البقرہ
جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا وہ بولے کہ بارہا تعداد میں کم لوگ اللہ کے حکم سے جیت گئے ان سے جو تعداد میں زیادہ تھے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

نصر من اللہ فتح قریب

عرض پرداز: شیر محمد مصباحی

ڈائریکٹر البرکات ویلفیئر ٹرسٹ ٹھاکر گنج

 تریپورہ کی جیل میں ختم قادریہ آپ کے بلند حوصلوں کوسلام

درگاہ اعلی حضرت پر بانی تحریک فروغ اسلام کی رہائی کے لیے ختم قادریہ ہوا اور ارسلان میاں نے کی خاص دعاء

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی گیارہویں شریف

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*