اے اللہ بے سہاروں کو سہارا عطا فرما

اے اللہ بے سہاروں کو سہارا عطا فرما

ابو المتبسم ایاز احمد عطاری اے اللہ بے سہاروں کو سہارا عطا فرما

اے اللہ بے سہاروں کو سہارا عطا فرما

ایک زینب تھی ، پیاری و خوبصورت سی زینب ، جس کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ غربت کے مکان میں پیدا ہوئی ، غربت والے حالات میں پروان چڑھی۔ غربت سہتے سہتے زینب کی ماں بھی مر گئی کچھ عرصہ کے بعد زینب کے ابو نے زینب کو کہا کہ تیار ہوجائو میں آپ کو بڑے شہر میں لے جائونگا۔ اس وقت زینب کی عمر 14 سال تھی۔

زینب خوشی خوشی تیار ہوگئ۔ اس امید پہ کہ بڑے شہر جارہی ہوں۔ ابو اسے کراچی شہر لے کر پہنچا اور کراچی کے ایک امیر شخص کے گھر لے کر آیا۔

زینب کو گھر میں تو پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں ملتا۔ ابو نے سوچا ہوگا کہ کسی امیر کے گھر گندے برتن دھو لے گی۔ اور ان کی خدمت کرے گی تو زینب کو پیٹ بھر کھانا ملے گا۔ اتنا بڑا شہر تھا اور جس گھر اس کے ابو اسے لے کر آئے تھے وہ تو ایسا تھا جیسے کوئی محل تھا۔

زینب نے ایک لمحے کے لیے دل ہی دل میں سوچا کہ جیسے کہ وہ کوئی امیر لڑکی ہے اور کھانے کو بھی بہت کچھ ملے گا۔ میں خوب پیٹ بھر کر کھائوں گی ، لیکن زینب کو یہ سب کچھ خواب ہی نظر آرہا تھا۔

ایک بیگم اور صاحب نے زینب کے ابو کو چند ہزار دے دیے اور اس کی پیاری سی بیٹی کو گھر کے اندر لے کر چلے گئے۔ زینب جاتے ہوئے ابو کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اندر چلی گئ۔ ابو نے زینب کو یقین دلایا تھا کہ ہر ہفتے زینب آپ سے بات کرونگا۔ بیگم صاحبہ کا نمبر بھی لے لیا۔

بس پھر زینب کو اس محل میں دو مہینے گزر گئے ، دو مہینے کیا تھے اذیت کی دو صدیاں تھیں۔ زینب نے اپنے گھر میں غربت بھوک تو دیکھی تھی لیکن ظلم ، تشدد ، زیادتیاں ، مارپیٹ ہولناکیاں نہیں دیکھی تھیں

۔ 14 سالہ کم سن زینب صبح سے رات گئے تک نوکروں کی طرح کام کرتی رہتی۔ کھانے کو بچی کھچی روٹیاں ملتیں اور اس کے علاوہ گالیاں اور طرح طرح کی اذیتیں ملتیں۔ اس گھر کے مردوں کے لئے زینب ایک کھلونا بن گئی تھی۔ اس کا وجود مسلا جاتا ، روندا جاتا صرف دو مہینے میں زینب نے اذیت کے کتنے دریا پار کر لئے۔

ابو اسے فون کرتا تو بیگم صاحبہ بہانہ بناتی۔ اور ایک دن بھی زینب کی بات ابو سے نہ کروائی۔یوں ایک روز غربت کے جھولے میں پروان چڑھنے والی زینب جو شہر کے ایک خوشحال گھر میں اپنے باپ کا معاشی بوجھ بانٹنے آئی تھی

اس گھر کے ظالم بدبخت مالکوں کا بہیمانہ تشدد سہتے سہتے موت کے سکون سے ہمکنار ہو گئی۔ پیٹ بھر روٹی سالن کا خواب لے کر کراچی شہر کے ایک خوشحال گھرانے میں آئ تھی۔ لیکن جو ظلم و ستم ہوتا رہا۔ اس کی خبر کسی کو نہ ہوئی۔ مگر جب زینب یہ وحشت ناک تشدد سہتے سہتے موت کے ہمکنار ہوگئ۔

تو زینب کے ابو اور خاندان کی کچھ عورتیں سب پہنچ گئیں۔ اور زینب کا بے جان وجود ، زخموں ، ٹھڈوں ، زیادتیوں کے نشانات سے نیل و نیل ہوا دو مہینے اس پر گزرنے والے عذاب کی کہانی سنا رہے تھے۔ مقدمہ چلا عدالت میں ، عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کو ایک سال کی سزا ہوئی 

اور ایک لاکھ جرمانہ ہوا ، بڑی واہ واہ ہوئی کہ کیا انصاف ہے اور اس انصاف کی دوسری تصویر یہ نکلی کہ زینب کے والد نے دبائو میں آکر ایک صلح نامے پر دستخط کر دیے اور کہا کہ یہ سارا معاملہ غلط فہمی کی بنا پر ہوا۔ اللہ اللہ خیر صلا ، ایسی کئی زینبیں ، دولت مندوں کی وحشت اور ظلم کا شکار ہوتی ہیں کبھی اس تشدد سے جان سے گزر جاتی ہیں۔

اے ظالمو!! اگرچہ یہاں پہ آپ کا حکم چلتا ہے لیکن اس دن سے ڈریے کہ جس دن صرف ایک ہی ذات کا حکم چلے گا ، وہ ذات جو جبار ہے ، وہ ذات جو قہار ہے ، اس دن کیا کرو گے۔ جس دن مظلوم کو پورا پورا انصاف ملے گا اور ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے گی۔ اگر آپ کسی کی مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم کسی کی جان سے تو نہ کھیلیں۔غریب ہونے کا یہ تو مطلب نہیں ہے کہ جس طرح آپ اس کی ذات سے کھیلنا چاہیں ، کھیلیں۔

اے اللہ کے بندو!! آپ تو اس بات پہ اللہ کا شکر ادا کرو کہ اللہ نے آپ کو دینے والا بنایا ہے ، لینے والا نہیں ، اس بات پہ شکر ادا کرو کہ اللہ نے آپ کو صحت عطا فرمائی ہے ، اس بات پہ اس کریم ذات کا شکر ادا کرو جس نے آپ کو معاشرے میں عزت عطا کی ہے ، اس بات پہ اس رحمن ذات کا شکر ادا کرو جس ذات نے آپ نکمے جیسے کو بھی منصب عطا کیا ہے۔

آخر میں بے سہاروں سے عرض گزار ہوں کہ اے بے سہارو!! آپ پریشان نہ ہوں ان شاء اللہ عزوجل ایک ایسا دن آئے گا جس دن تم بھی خوشحال زندگی اپنے بچوں کے ساتھ گزارو گے ، رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو لیکن آخر کار سورج طلوع ہوہی جاتا ہے ، درخت پہ شاخیں رہیں تو پتے بھی ضرور آہی جائیں گیں۔

اے میرے اللہ عزوجل اپنے پیاروں کے صدقے بے سہاروں کو سہارا عطا فرما ، اے میرے کریم رب کسی مسلمان بھائ کو اپنی ذات کے سواء کسی کا محتاج نہ کر ، اے میرے اللہ پریشان حالوں کی پریشانی دور فرما۔

آمین بجاہ طہ و یسین ﷺ

۔✍ ابو المتبسم ایاز احمد عطاری

ان مضامین کو بھی پڑھیں

جیت آپ کی ہے لیکن 

مقاصد شریعت

غیر مقلد وہابیہ اور کفر کلامی

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

 تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت

بدعتی اور بد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top