بانیان دعوت اسلامی اور امیر کو میرا سلام

بانیان دعوت اسلامی اور امیر کو میرا سلام

از : محمد اویس رضا قادری بانیان دعوت اسلامی اور امیر کو میرا سلام  ۔۲ ستمبر یوم دعوت اسلامی کے موقع پر خصوصی تحریر

بانیان دعوت اسلامی اور امیر کو میرا سلام

بیسویں صدی کے آخر میں ہندو پاک میں بے شمار معزز علماے کرام دنیا میں تشریف لاے اور اپنے علم و علم سے جہاں بھر میں اسلام کے پیغامات کو عام کرنے میں نمایاں کارنامے انجام دیے ۔

انہی میں ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ہیں۔ مصنف،مدرس، مفکر ، عالمی مبلغ ، اورمناظر کے ساتھ ساتھ ایک بہترین قائد بھی تھے۔ آپ اپنی صلاحیتوں و خوبیوں کو صحیح جگہ و وقت میں استعمال کرکے عالم اسلام اور مسلمانوں کی غیر معمولی خدمات کیں۔

تنظیم و تحریک کے ڈھانچے کو مظبوط و مستحکم کرنے کی جو صلاحیت آپ کے اندر تھی وہ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے 1985 میں بھارت کے سپریم کورٹ کے ذریعے شاہ بانو کیس کا فیصلے سے مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی اس مشکل گھڑی میں علامہ علیہ الرحمہ نے جو مجاہدانہ اورقائدانہ کرادر ادا کیا وہ سنہرے حرفوں سے لکھا گیا اور رہتی دنیا تک مسلمان آپ کے اس احسان کو بھول نہیں پاے گی۔

قائد و سپہ سالار کام یاب کب ہوتا ہے جب اپنے ماتحتوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر اس کا درست استعمال کرتا ہو اور یہ ہنر بھی علامہ علیہ الرحمہ کے اندر بحسن و خوبی پایا جاتا تھا ۔ علامہ موصوف کے اندر مسلک کی ترویج و اشاعت اوردین حق کی خدمت و دعوت و تبلیغ کا جذبہ کوٹ کوٹ کرکے بھر اہوا تھا ۔

اسی جذبہ ٔاشاعت دین کے لیے آپ کا تبلیغی دورہ پڑویسی ملک پاکستان کا ہوا اوروہاں کے معتمد و مستند علماے کرام خاص طو ر پر غزالی زماں، مترجم قرآن علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ شہزاہ حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی عبد المصطفیٰ الازہری قادری ،خلیفہ صدر الشریعہ علامہ مفتی ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ کو اعتماد میں لے کر آسان اور سادے انداز میں تبلیغ دین اور اشاعت مسلک حق یعنی مسلک اعلیٰ حضرت کے لیے ۲ ستمبر ۱۹۸۱کوایک خالص دعوتی تحریک دعوت اسلامی کی بنیاد ڈالی۔تاکہ یہ تحریک لوگوں کو دین سیکھاے اور عاشق رسول ﷺ بناے۔

پھر کچھ دنوں بعد 2 ذی القعدہ کو دار العلوم امجدیہ کے سالانہ اجلاس میں اہل سنت مولانا محمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ گیے تو وہاں شہزادہ صدر الشریعہ علامہ قاری رضاء المصطفی صاحب اعظمی علیہ الرحمہ سے امیر اہل سنت مولانا محمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ کی ملاقات ہوئی تو علامہ قاری رضائے المصطفی اعظمی صاحب فرمانے لگے کہ اور مامو جان علامہ ارشد القادری صاحب آپ کو یاد فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ الیاس قادری کو میں دعوت اسلامی کا امیر بناؤں گا۔

چناں چہ علامہ رضاء المصطفی اعظمی آپ کو ایک کمرے میں لے گیے جہاں علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ جلوہ بار تھے۔ وہاں علامہ ارشد القادری، دیگر علماے کرام نے مولانا الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کو دعوتِ اسلامی کا امیر منتخب کیا۔

علامہ کی دور بین نگاہ دیکھ رہی تھی یہ مولانا الیاس کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ ہزاروں میں ایک ہے معزز علماے کرام کے انتخاب کو امیرا ہل سنت مولانا الیاس عطار قادری نے سچ کر دیکھا اور چالیس سال کے مختصر عرصے میں دعوت اسلامی کو پوری دنیا میں پہنچادیا ۔

دعوت اسلامی آج دنیا کے تقریباًً ۲۰۰ دو سو سے زیادہ ملکوں میں دینی طور پر متحرک ہے اور 98 سے زائد اس کے شعبہ جات ہیں اور ہر شعبے میں لائق و بھروسہ مند شخص اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح سے نبھا رہا ہے رسول اکرم ﷺ کی پیاری سنت جو جس لائق ہو اس کو وہی کام دیا جاے امیر اہل سنت مولانا الیاس عطار قادری اسی پر عمل کرتے ہیں اور دعوت اسلامی کے تمام کام تقسیم کرکے خود گوشہ نشین کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

ہر پیر کا روزہ رکھتے ہیں تقویٰ کا یہ عالم ہے کہ ہر ہفتہ مدنی مذاکرہ میں شامل ہوتے وقت چاے بھی اپنے گھر کی پیتے ہیں ۔گوشہ نشین ہونے کے باوجود امت مسلمہ کا ہر وقت خیال رکھتے ہیں ۔

عالمی وبا کورنا وائرس سے جب پوری دنیا پریشان تھی کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا اس وقت امیر اہل سنت کی ایک آواز پر سینکڑوں لوگ اپنے گھروں سے نکل کر غربا مساکین کے لیے کھانے کا انتظام کرتے دیکھاے دیئے۔

اور ہزاروں لوگ کوروناوباسے فوت شدگان کی تجہیزو تدفین میں بھر چڑھ کر حصہ لینے لگے۔پوری امت مسلمہ امیر اہل سنت کے اس احسان کبھی نہیں بھول پاے گی۔
بانیان دعوت اسلامی پراللہ پاک کی رحمت ہو اور امیر اہل سنت کی عمر دراز۔آمین

از : محمد اویس رضا قادری

کشن گنج بہار

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

تذکرہ بانیان دعوت اسلامی 

دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

اپنے دلوں میں عشق مصطفوی سے روشن کریں

تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top