تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

از :  خالد ایوب مصباحی شیرانی تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

 وارث علوم اعلی ٰحضرت، قاضی القضاۃ فی الہند،حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی شاہ اختر رضا خاں قادری برکاتی رضوی  المعروف ب: ازہری میاں علیہ الرحمہ ان نابغہ روزگار ہستیوں میں سے ایک تھے جنھیں علاقائی حدود و قیود سے بہت بالاتر قبول عام حاصل تھا۔ کیا ہندو سند اور کیا عرب و عجم، کیا علما و عوام ، کیا اپنے اور کیا غیر۔ ہر طبقے میں اس قدر غیر معمولی مقبولیت صدیوں بعد کسی شخصیت کا مقدر ہوتی ہے۔

یہ لکھنا بے جا نہیں کہ حضور تاج الشریعہ کی یہ نا قابل یقین مقبولیت آیت کریمہ : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ۔(سورہ مریم، 96) کی عملی تفسیر ہے۔اگر یہ دعوی ہے تو ہمارے پاس اس کی دلیلیں بھی ہیں اور دلیلیں بھی ایسی منہ بولتیں جنھیں کوئی معاند ترین انسان بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ 

جبکہ دیدہ بینا، انصاف پسند طبیعت اور علمی مزاج رکھنے والوں کے لیے حضور تاج الشریعہ کے علمی اور عملی کارناموں کے علاوہ ان اقوال و تاثرات کا حرف حرف بھی اس دعوے کی  بین دلیل ہے، جو حضور تاج الشریعہ کے متعلق مختلف الجہات میدانوں کے ارباب علم و فضل اور اصحاب فکر و دانش اپنے اپنے طور پر کہتے اور دیتے رہے ہیں۔

 یہ تاثرات اتنے زیادہ ہیں کہ یہاں بنا کسی چھوٹے اوربڑے  کے امتیاز کے ان کا صرف نمونہ پیش کیا گیا ہے اور امید ہے کہ اگر علمی کد و کاوش کے ساتھ انھیں یکجا کیا جائے تو مستقل دستاویز تیار ہو جائے۔ 

 ان اقوال و تاثرات کے مطالعہ کے بعد  ہر انصاف یہ کہتے نہیں ہچکچاتا کہ اب حضور تاج الشریعہ کی جو شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے، وہ کسی ایک بڑے پیر یا کسی ایک میدان کے ماہر کی  نہیں بلکہ ایک ایسے عبقری کی ہے جو صدیوں بعد جنم لیتا ہے۔

بنا کسی طول طویل تمہید کے ان تاثرات کا مطالعہ کیجیے، بنا کسی تبصرے کے اپنے ذوق سے ان کا وزن ناپنے کی کوشش کیجیے اور پھر دیانت دارانہ مزاج کے ساتھ اس بات پرخوشی منائیے کہ ہم نے تاج الشریعہ کا زمانہ پایا۔ 

 تاج الشریعہ اہل خانقاہ مشایخ کی نظر میں

۔ (1) مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خاں، بریلی شریف :۔ اختر میاں!اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے،کبھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے اب تم اس کام کو انجام دو! میں تمہارے سپرد کرتا ہوں ۔ (حیات تاج الشریعہ۔ از: مولانا شہاب الدین رضوی)  لوگوں سے مخاطب ہوکر مفتیٔ اعظم نے فرمایا:آپ لوگ اختر میاں سلمہ سے رجوع کریں انھیں کو میراقائم مقام اور جانشین جانیں۔ (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفا )۔

۔ 2) سید العلما علامہ سید شاہ آلِ مصطفیٰ برکاتی، مارہرہ شریف:۔ حضور سید العلما  نے (حضور تاج الشریعہ ) کو جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔ (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفا)۔

۔(3) احسن العلما علامہ سید حسن حیدر میاں، مارہرہ شریف14۔15 نومبر  1984 کو مارہرہ مطہرہ میں عرسِ قاسمی کی تقریب میں حضرت احسن العلما علامہ سید حسن حیدر میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ (علیہ الرحمہ ) نے جانشینِ مفتیٔ اعظم کا استقبال “قائم مقام مفتیٔ اعظم علامہ ازہری میاں زندہ باد” کے نعرہ سے کیا اور مجمع کثیر میں علما و مشائخ اور فضلاو دانش وروں کی موجودگی میں یوں کہہ کرخلافت دی

فقیر آستانۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتیٔ اعظم علامہ اختر رضا خاں صاحب کو سلسلۂ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت و اجازت سے ماذون و مجاز کرتا ہے۔ پورا مجمع سن لے! تمام برکاتی بھائی سن لیں! اور یہ علمائے کرام (جو عرس میں موجود ہیں ) اِس بات کے گواہ رہیں۔ (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفا)

۔(4) مفسر اعظم علامہ ابراہیم رضا خاں، بریلی شریف :۔ ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی لکھتے ہیں : (تاج الشریعہ کے)والد ماجد مفسر اعظم ہند نے اپنے فرزندِ ارجمند کو قبلِ فراغت علم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کا جانشین بنایا ایک تحریر بھی عنایت فرمائی حضرت رحمانی میاں علیہ الرحمہ ماہ نامہ اعلیٰ حضرت میں بعنوان:کوائف دارالعلوم” میں تحریر فرماتے ہیں:بوجہ علالت (والد ماجد ) یہ توقع نہیں کہ اب زیادہ زندگی ہو، بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو  لہٰذا اختر رضا سلمہٗ کو قائم مقام و جانشین اعلیٰ حضرت بنا دیا گیا، جانشین کا عمامہ باندھا گیا اور عبا پہنائی گئی۔(حیات تاج الشریعہ)۔

 ۔(5) علامہ محمد مشاہد رضا خاں حشمتی، پیلی بھیت:۔فقیر حقیر نے کتاب ٹائی کا مسئلہ (مصنفہ علامہ اختر رضا خاں قادری مد ظلہ العالی) بغور و خوض مطالعہ کیا،اپنے دلائل کے لحاظ سے وہ فتاویٰ  کسی کی تصدیق کے محتاج نہیں ہیں پھر بھی امتثال امر کے لیے فقیر تصدیق کرتا ہے۔(ٹائی کا مسئلہ)۔

 ۔(6)حضرت سید اشرف میاں ،مارہرہ شریف :۔دعاگو رہتا ہوں کہ کاش! ہماری خانقاہ برکات کی اگلی پیڑھیاں اپنے زمانے کے پودے والے سے یہ کہہ سکیں:سنو! ماضی قریب میں ہماری خانقاہ کی تین کرامتیں ہیں: احمد رضا، مصطفی رضا اور اختر رضادامت برکاتہم العالیہ۔(تجّلیات تاج الشریعہ ص: 285)۔

۔(7) حضرت سید فضل المتین چشتی،اجمیر شریف :۔ تاج شریعت مفتی اختر رضا ازہری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ذات بابرکات علمی، دینی روحانی،سماجی خدمات کے حساب سے ایک مثال ہے۔ یہ اس وقت کی ایک اہم قابل ذکر اور قابل قدر شخصیت ہیں اور ایسے حلقے کے سربراہ ہیں جس کے ذکر کے بغیر ہمارے عہد کی دینی، مسلکی اور فقہی تاریخ مکمل ہو نہیں سکتی۔یہ بذات خود شخصی اعتبار سےبلندمرتبہ ہے۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 35)۔

۔(8)حضرت مولانا سید اویس مصطفیٰ واسطی، بلگرام شریف :۔فقیر قادری کو جانشین مفتی اعظم ہند علامہ ازہری میاں صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے بارہا ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے،یہ ملاقات اوررابطے دیرینہ تعلقات کے باعث ہیں جو خانقاہ بلگرام و بریلی میں ہمیشہ سے رہے ہیں۔موصوف کو خانقاہ رضویہ میں وہ مقام حاصل ہے کہ تاج الشریعہ اور قاضی القضاۃ جیسے القاب سے یاد کیے جاتے ہیں۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 601)۔

۔(9)حضرت مولاناسید فخرالدین اشرف اشرفی جیلانی، کچھوچھہ شریف :۔اسی(خانوادہ رضویہ) عظیم روحانی خانوادے کے چشم و چراغ طریقت و شریعت کے علم بردار فقیہ عصر شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ مولانا تاج الشریعہ الحاج اختر رضا صاحب قبلہ ملقب بہ ازہری میاں دامت برکاتہم العالیہ کی ذات ستودہ صفات ہےجو علم و عمل،زہد و تقوی،شرم و حیا،صبر و قناعت،  صداقت و استقامت وغیرہ عظیم صفات حسنہ سے متصف ہیں۔ یہ عصر حاضر کی وہ عظیم ہستی ہیں جس سے عوام و خواص یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 249)

۔ (10)حضرت مولانا سید سہیل میاں ، بلگرام شریف : ہم سب نے اس وقت حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کو عالم سنیت میں جماعت کا رہ نما اور قائد مان لیا ہے،ہم سب کو چاہیے کہ حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا جو حکم ہو اس پر عمل کریں۔حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا قلم اس وقت قلم آخر ہے، جب کسی مسئلے پر تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا قلم چل جائے تو کسی سنی میں یہ جرأت نہیں ہونی چاہیے کہ ان کے قلم پر تضحیک کرے۔(اقتباس تقریر :امام احمد رضا کانفرس،بموقع عرس رضوی 2015)۔

۔ (11) حضرت میر سید حسین میاں واحدی،بلگرام شریف :۔مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ہی جنت کا راستہ ہے اور اس راستے کی کھلی پہچان حضور تاج الشریعہ ازہری میاں دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔

۔(12) حضرت سید محمد اسماعیل گلزار میاں واسطی،مسولی شریف:۔حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کا انتخاب(حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ) لاجواب ہے یہی وجہ ہے کہ آج تنہا ایک میرے شیخ اعظم حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا ڈنکا بج رہا ہے اور جو مقدس درویش قطب زماں مفتی اعظم کے انتخاب تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ پر انگلی اٹھاتا ہے، وہ درحقیقت مفتی اعظم اور اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ پر انگلی اٹھاتا ہے۔(اقتباس تقریر)۔

 ان اقتباسات میں کیا کچھ پنہاں نہیں؟ یہ دیانت دارارباب علم و فضل پر خوب روشن ہے۔ عقیدتیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک تاثر پر جداگانہ تبصرہ کیا جائے اور حضور تاج الشریعہ کے علمی قد کی پیمائش کے بارے میں کچھ باتیں ہوں لیکن  صفحات کی تنگ دامانی اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔اس لیے بنا رکے آگے بڑھتے ہیں اور مشایخ کرام کے قافلے میں جھانک کر دیکھتے ہیں:۔

حضور تاج الشریعہ قدس سرہ کی مقبولیت کا راز   از قلم علامہ مفتی ازھار احمد امجدی ازہری غفرلہ

تاج الشریعہ اہل علم کی نظر میں

۔ (13) قطبِ مدینہ علامہ ضیاء الدین مہاجرمدنی :۔ مجھے میرے مرشد حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو کچھ ملا اُن کے خانوادے کے شہزادوں مولانا ابراہیم رضا خاں ، مولانا ریحان رضا خاں  اور مولانا اختر رضا خاں کو عطا کر دیا ۔ (سوانح قطبِ مدینہ )۔

۔(14) مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن، اڑیسہ :۔ ایک صاحب کی والدہ حضور مجاہدِ ملت سے مرید ہونا چاہتی تھی، آپ نے فرمایا: میاں!سرکار اعلیٰ حضرت کے شہزادے حضرت ازہری میاں کی موجودگی میں ایسا کیسے  ہو سکتا ہے کہ میں مرید کروں ،انھیں سے مرید کروائیے۔ 

دوسری روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا : میں حضرت ازہری میاں صاحب کے سامنے سے ہو کر کیسے گزر سکتا ہوں،آخر کار عقبی دروازے سے حضرت اندر تشریف لے گئے اور فرماتے: کوئی تیز آواز میں نہ بولے حضرت ازہری میاں تشریف فرما ہیں، آہستہ بولو شہزادے قیام فرما ہیں ۔ (حیات تاج الشریعہ)۔

۔(15)شمس العلما علامہ قاضی شمس الدین،جون پور:۔ حضرت مولانا شمشاد حسین رضوی بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم تمام طالب حضرت قاضی صاحب (قاضی شمس العلما علامہ شمس الدین رضوی جونپوری ، تلمیذ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ ) کے درس میں موجود تھے اور حضرت پڑھارہے تھے،ایک بزرگ صفت انسان تشریف لائے،قاضی صاحب نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا، آنے والے کو اپنی مسند پر بٹھایا اور خود مؤدب ہوکر بیٹھ گئے اور طالب علموں کے ذہن و دماغ میں کیا تصور ابھرا ؟ اس کو میں نہیں بتا سکتا البتہ میں نے محسوس کیا قاضی صاحب جیسی شخصیت اللہ اللہ! ان کی علمی شان و شوکت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے ان کے سامنے طفلِ مکتب معلوم ہوتے تھے،اپنے اساتذہ میں سے کسی سے میں نے دریافت کیا: حضرت کون ہیں؟ فرمایا: یہ حضرت ازہری میاں قبلہ ہیں ۔ (حیات تاج الشریعہ) ۔

۔(16) صدر العلماعلامہ تحسین رضا خان، بریلی شریف :۔الحمد للہ کہ حضرت علامہ ازہری میاں سلمہٗ نے با وجود گو نا گوں مصروفیت اور علالت طبع اس کا ترجمہ (معتقد ) فرمایا تاکہ اس کا فائدہ عام ہو جائے ۔ اس کا بالاستعاب مطالعہ میں نہ کر سکا مگر جستہ جستہ جن مقامات کو میں نے دیکھا، اُن سے بڑی خوشی ہوئی کہ بہت سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا ہے۔ (ترجمہ:المعتقد ص : 38 )۔

۔(17) رئیس القلم علامہ ارشد القادری، جمشیدپور:۔ اللہ تعالیٰ نے حضورازہری میاں کو زبردست مقبولیت دی ہے، ایسی مقبولیت تو دیکھنے میں نہ آئی، دیکھو تو سہی! ازہری میاں کو مختلف جگہ پروگرام میں جانا تھا، رانچی ایئر پورٹ پر اُترے ،پھر بذریعہ کار فلاں جگہ پہنچنا تھا مگر رانچی میں ان سے ملنے کے لیے ہزاروں مشتاقوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی جبکہ رانچی میں رکنا نہ تھا صرف وہاں گزرنا تھا مگر آنا فانا اتنے لوگوں کا اکٹھا ہو جانا بڑی بات ہے،معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دوسری مخلوق لوگوں کے کانوں تک بات پہنچا دیتی ہے اور آنافانا سب جمع ہو جاتے  ہیں۔ (حیات تاج الشریعہ)۔

۔(18) شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ، گھوسی :۔حضرت مفتی اعظم ہند کو اپنی زندگی کے آخری پچیس سالوں میں جو مقبولیت و ہر دل عزیزی حاصل ہوئی وہ آپ کے وصال کے بعد ازہری میاں کو بڑی تیزی کے ساتھ ابتدائی سالوں ہی میں حاصل ہوگئی اور بہت جلد لوگوں کے دلوں میں ازہری میاں نے اپنی جگہ بنالی۔(بروایت: علامہ یسین اختر مصباحی۔تجلیات تاج الشریعہ، ص: ٦٨. از: مولانا شاہد القادری)

۔(19) مفتی اعظم راجستھان علامہ اشفاق حسین نعیمی، جودھ پور:- اللہ رب العزت نے حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری مدظلہ العالی کو بے شمار فضائل اور مناقب جلیلہ سے نوازا ہے۔ میں آپ کے علم و فضل، حزم و اتقا، تصنیفی، فقہی، تبلیغی خدمات سے بہت متاثر ہوں۔اس وقت آپ مرجع علماء و فقہاء و مفتیان عظام ہیں عربی ادب میں آپ حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ الشاہ مفتی حامد رضا قادری علیہ الرحمہ کے پرتو ہیں نیز حضور سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی کا آپ پر خصوصی فیضان ہے جس کی وجہ نذیر یہ ہے کہ ایشیا یوروپ کی بلند آہنگ چوٹیوں پر آپ کی عظمتوں کے پرچم لہرہا رہے ہیں اور آپ کی علمی جلالت شخصیت وجاہت کے آگے بڑے بڑوں کے سر خم نظر آتے ہیں۔

۔(20) علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی،بہار:۔حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ (المعتقد المنتقد ) فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے اس کے با وجود جا بجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زباں سے نکل پڑتا ہے: یہ اعلیٰ حضرت اور مفتیٔ اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ ہی کا خاصّہ ہے۔ (ترجمہ:المعتقد ،ص: 46)

۔(21)  علامہ یٰسین اخترمصباحی، دہلی :۔جانشین مفتی اعظم، تاج الشریعہ نے علما کی آغوش تربیت میں پرورش پائی۔ بریلی شریف اور جامع ازہر مصر میں تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد بریلی شریف ہی میں ایک مدت تک تدریس و افتا کی خدمت انجام دیتے رہے۔مفتی اعظم ہند حضرت مولانا الشاہ مصطفی رضا نوری بریلوی کے خصوصی فیض سے طویل عرصہ تک سیراب ہوتے رہے اور جب1402ھ؍ مطابق 1981ء میں حضور مفتی اعظم کا وصال ہوا تو آپ جانشین مفتی اعظم ہند قرار پائے۔علما و طلبہ و خواص و عوام کے درمیان جانشین مفتی اعظم، تاج الشریعہ حضرت ازہری میاں کو جو شہرت و مقبولیت حاصل تھی اس زمانے میں مشکل ہی سے کہیں اس کی کوئی مثال اور نظیر مل پائے گی۔۔۔

خانوادۂ رضویہ بریلی شریف میں علم و فضل اور فقہ و افتا کے شعبے میں اپنے عہد میں حضرت ازہری میاں ہی آبروئے خاندان اورنمائندۂ خانوادۂ رضویہ تھے جن پر اہل سنت و جماعت کو فخر و ناز ہے۔ آپ کا ایک بڑا کارنامہ مرکز الدراسات الاسلامیہ معروف بہ جامعۃ الرضا، بریلی شریف کا قیام ہے جو وسیع و عریض زمین کے اندر شان دار عمارتوں پر مشتمل ہے اور جس میں تعلیم و تعلم کاشب و روز سلسلہ جاری ہے۔

حضرت ازہری میاں علیہ الرحمہ نے کئی کتابیں عربی سے اردو اور اردو سے عربی میں منتقل کیں ۔عربی ترجمے ،متعدد عرب ممالک سے شائع ہوئے۔آپ کا شاعرانہ ذوق، بہت بلند تھا۔ آپ نے بہترین نعتیں لکھیں ۔آپ کا نعتیہ دیوان’’ سفینۂ بخشش ‘‘کافی مقبول ہے۔ ملک و بیرون ملک آپ کے مریدین و منتسبین کی کثیر تعداد پھیلی ہوئی ہے۔

ملک سے باہر آپ نے بے شمار تبلیغی دورے کیے ۔ آپ نے ایک بار جامعہ ازہر مصر کا دورہ کیا تو اس کے متعدد اساتذہ اور بہت سے طلبہ سے آپ کی ملاقاتیں اور نشستیں رہیں اور آپ چوں کہ ازہری ہونے کے ساتھ اپنے ملک و وطن ہندوستان کے مقتدر عالم و مفتی اور مقبولِ خواص و عوام تھے اس لیے جامعہ ازہر نے اپنے اس ممتاز فرزند کو ’’اَلدّرعُ الفخری‘‘ یعنی تمغۂ اعزاز بخشا جیسا کہ اپنے دیگر ممتاز فرزندوں کو وہ یہ تمغہ پیش کرتا رہتا ہے۔( تجلیات تاج الشریعہ، ص: ٦٨. از: مولانا شاہد القادری)۔

 ۔(22) مفتی مجیب اشرف رضوی، ناگ پور:۔ حضرت والا مرتبت جانشین حضور مفتی اعظم ہند تاج الشریعہ قاضی القضات علامہ مولانا اختر رضا خان صاحب قبلہ کا تحقیقی جواب ٹائی کے عدم جواز کے بارے میں نظر سے گزرا جو بلاشبہ حق و ثواب اور دلایل شرعیہ سے مبرہن ہے۔

۔(23) علامہ بدر القادری، ہالینڈ :۔ ہالینڈ اور بلیجیم کے اندر سلسلہ رضویہ کی اشاعت ہو رہی ہے کئی خانوادوں کو بریلی شریف بھیج کر داخل سلسلہ کرایا گیا ہے بعض لوگوں نے حرمین طیبین کی سر زمین پر جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری دامت برکاتہم العالیہ دامن سے وابستگی حاصل کی ہے اور ایک بار کے سفر ہالینڈ کے دوران حضرت جانشین مفتی اعظم نے قادریت رضویت کے انوار سے اس خطہ تاریک کو خود رونق بھی بخشی ہے۔

۔ (24) مفتی مکرم احمد نقش بندی، دہلی :- الحمدللہ ان (اعلی حضرت اور مفتی اعظم ہند علیہما الرحمۃ)کی علمی و فقہی خدمات کی آب و تاب سے آج بھی عالم اسلام منور اور روشن ہے۔ آپ کے بعد کچھ بد خواہوں کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ خانوادہ اعلی حضرت میں اب ایسا کوئی فاضل جا نشین نہیں رہا جو باطل کو منہ توڑ جواب دے سکے

اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ہے کہ جانشین مفتی اعظم ہند حضرت تاج الشریعہ مولانا اختر رضا خان صاحب ازہری دامت برکاتہ نے اپنے تدبر سے اور فاضلانہ و قائدانہ صلاحیتوں سے ایک مرتبہ پھر اس خدمت عظیم کو بر قرار رکھا جس سے اعدا کی صفوں میں ماتم ہے۔ حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کی فقہی بصیرت، علمی طنطنہ اور علوم اسلامیہ پر دسترس اپنی جگہ مسلم ہے۔ آپ نے بیعت و ارشاد کے ذریعہ ملک و بیرون ملک کے گم گشتگان راہ کو صراط مستقیم پر گامزن کیا ہے، اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی ہے۔ اس پر سواد اعظم اہل سنت کو فخر ہوناچاہیے۔

۔(25)حضرت مفتی سید شاہد علی حسنی ، رام پور:۔ عصر حاضر میں اعلیٰ حضرت کے علوم و فنون کے سچے وارث، حجۃ الاسلام اور  مفتی اعظم کے صحیح جانشین، روحانیت کے تاج دار،رضویت کےامین، تاج الشریعہ، فقیہ اسلام، قاضی القضاۃ فی الہند محمد اختر رضا قادری ازہری دامت برکاتہم العالیہ ہیں،جو اہل سنت و جماعت کی عالمی سطح پر علمی و دینی اور اعتقادی و فکری قیادت و رہ بری فرما رہے ہیں جن کے آفتاب شہرت  اور اقبال کی کرنیں سارے عالم کو روشن و منور کر رہی ہیں۔(حیات تاج الشریعہ، جدید اضافہ ص: 12)۔

 ۔(26)حضرت مولانا سید غلام محمد حبیبی، اڑیسہ :۔حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے علمی سرمایہ کے امین ہیں اور عالم گیر شہرت و مقبولیت کے حامل ہیں، لاکھوں اہل طریقت کے قبلہ عقیدت، شرعی کونسل کے ذریعہ امت مسلمہ کو درپیش دینی مسائل کا حل نکالنے والے اور سواد اعظم کے منتشر ارباب افتا کو یکجہتی کا پیغام دینے والے قائد، قدیم علوم کے ساتھ جدید علوم کے ذریعہ عصری تقاضوں کی تکمیل کے لیے عظیم دانش گاہ کے بانی ہیں۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 74)۔

 یہ چند نمونے ہیں ورنہ اہل علم کے تاثرات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سب کا کسی ایک مضمون میں احاطہ مشکل ہے۔ 

 تاج الشریعہ عالمی تناظر میں

۔ (27) حضرت شیخ سید محمد بن علوی  مالکی، مکہ مکرمہ :۔شیخ علوی علیہ الرحمہ حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کو محدث حنفی، محدث عظیم اور عالم کبیر جیسے القاب سے یاد کرتے ہوئے اپنی ایک تقریر میں فرمایا: میں حضرت تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کو اس مقام پر فائز محسوس کرتا ہوں جس سے الفاظ اور حروف کی تعبیر آشنا نہیں۔ (تجلیات تاج الشریعہ ص: 594)۔

 ۔(28)  شیخ جمیل بن عارف حسینی شافعی، فلسطین :۔ آپ نے اپنی تقریر میں حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کے لیے شیخ الاسلام والمسلمین، عارف باللہ اور شیخ کامل جیسے القاب کا استعمال کرتے ہوئے فرمایا:حضور تاج الشریعہ عالیہ الرحمہ کی ذات وہ ذات ہے  جن کے توسل سے دعائیں مانگی جائیں تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور قبول فرمائے گا۔ ۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 595)۔

 ۔(29) ڈاکٹر عبد العزیز الخطیب حفظہ اللہ، شام :۔ آپ نے انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کے موقع پر فرمایا:میں نے تمنا کی تھی، آرزو کی تھی: اے کاش! آنے والے ان تمام صوفیائے کرام کی سرپرستی علامہ مفتی امام شیخ اختر رضا خاں ہندی حفظہ اللہ تعالی فرماتے، لیکن وہ اپنی مصروفیت اور دیگر مشکلات کے سبب نہ آسکے، ان کا فیض ہم پر جاری ہے اور ان کے فیض کی یہ برکت ہے کہ آج یہ اکابر اجلہ صوفیا اتقیا حسنی حسینی شہزادے آپ کے سامنے ہیں۔(اقتباس بیان بموقع: انٹرنیشنل صوفی کانفرنس۔)۔

۔ (30) شیخ محمد عمر بن سلیم مہدی دباغ،عراق :۔ آپ تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ  اور صدر العلما کی تعریف توصیف بڑی عقیدت مندانہ انداز میں فرماتے تھے۔ شیخ صاحب نے حضرت دامت برکاتہم العالیہ کی شان میں عربی میں منقبت بھی لکھی۔ آپ نے حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ سے حدیث و افتا کی سندواجازت  اور خلافت لی۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 595)۔

۔ (31)حضرت سید پیر علاءالدین گیلانی،پاکستان :۔   آپ نے تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کی تعریف میں فی البدیہہ  ایک عربی قطعہ پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا: اختر رضا ستارہ کی طرح تابندگی بکھیرے گا۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 250)

۔(32) علامہ عبد الحکیم شرف قادری، پاکستان :۔علامہ موصوف کے صاحب ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی بیان ہیں:حضور تاج الشریعہ سے حضرت کے روابط بہت گہرے تھے، سفر پاکستان کے موقع پر والدِ گرامی علیہ الرحمہ سے مسائلِ شرعیہ پر سنجیدہ ماحول میں گفتگو ہوا کرتی تھی،حضرت والد ماجد قدس سرہ حضور تاج الشریعہ کےعلم وفضل،فقہی بصیرت اور حدیث دانی کے معترف تھے ۔ (حیات تاج الشریعہ)۔

 ۔(33)پروفیسر مسعود احمدمجددی، پاکستان :۔ آپ علیہ الرحمہ اعلی حضرت کے تعلق سے لکھتے ہیں: پاکستان کے ایک محقق پاک و ہند کی عربی نعتیہ شاعری پر ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں، انھوں نے مقالے میں امام  احمد رضا علیہ الرحمہ کے کمالات شاعری کو بیان کیا ہے اور نمونہ شاعری پیش کیا ہے۔امام احمد رضا کے انتقال کو62 سال گذر چکے ہیں۔ان کے جانشین ان کے پوتے علامہ اختر رضا خان ازہری ہیں۔بڑے متقی اور با عمل 1983 میں پاکستان تشریف لائے ۔  از راہ کرم غریب خانہ پہ ٹھٹھہ بھی تشریف لائے۔ایک عربی نعت کی فرمائش کی ،قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی۔اس سے اندازہ  ہوتا ہے کہ عربی زبان نےامام احمد رضا علیہ الرحمہ کے گھرانے میں گھر کر رکھا ہے۔یہ اس گھرانے کا امتیاز خاص ہے۔(اجالا،ص: ۳)

۔ (34) علامہ فیض احمد اویسی، پاکستان :۔ حضرت تاج الشریعہ نے المعتقد المستند کا ترجمہ فرمایا فقیر نے سعادت سمجھ کر کتاب مذکور کا مطالعہ کیا اس سے فقیر علمی طور پر خوب مستفید ہوا فقیر یقین اور نہایت وثوق سے عرض کرتا ہے کہ عوام کے لیے عقائد کے معاملات میں بلا شبہ یہ ترجمہ شریف رہبر و ہادی ہے لیکن علمائے کرام کے لیے بھی بہترین دستاویز ہے۔ 

۔ (35)حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری ، پاکستان :۔ ہند و پاک میں ہماری مرکزی شخصیت حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں صاحب قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ ہیں جو نائب مفتی اعظم ہند کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

 

 ۔(36) حضرت علامہ سید عرفان شاہ مشہدی، پاکستان :۔ دور حاضر میں اعلی حضرت، حجۃ الاسلام اور مفتی اعظم ہند کے سچے جانشین افکار رضا کے اکہرے وارث قائد اہل سنت حضور تاج الشریعہ مفتی اعظم علامہ الشاہ اختر رضا قادری بریلوی دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔(تجلیات تاج الشریعہ ص: 46)۔

 ۔(37) حضرت علامہ سید مظفر حسین شاہ صاحب، پاکستان :۔الحمد اللہ میرے شیخ (تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ) نے اس وقت فتاوی رضویہ کی تین جلدیں مکمل عربی میں کر دی ہیں اور عربی بھی وہ جس پر مصری بھی نثار ہو جائیں۔ تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا آج کوئی نظیر نہیں نہ تقوی میں کوئی نظیر،  نہ علم میں کوئی نظیر۔ (اقتباس تقریر)۔

 علما کی طرح یہ فہرست بھی نا تمام ہے، ہنوز ایک طویل سلسلہ  ہے جو دنیا کے لگ بھگ تمام بر اعظموں کا احاطہ کرتا ہے، جہاں سے حضور تاج الشریعہ کی زلف گرہ گیر کے اسیروں نے آپ کے تئیں اپنے جذبات عقیدت کا والہانہ اظہار کیا ہے لیکن چوں کہ اس مضمون میں ہمارا مقصود احاطہ نہیں، نمونہ گیری ہے، اس لیے اسی تعداد پر بس کیا جاتا ہے۔ 

   تاج الشریعہ تعزیت ناموں کی روشنی میں

حضور تاج الشریعہ کا دائرہ ارادت جتنا وسیع تھا، آپ کا حلقہ عقیدت بھی اسی قدر عالم گیر تھا اور آپ کے محبین کا حلقہ جتنا عالم گیر تھا، اتنا ہی متنوع بھی تھا۔ آپ کے عقیدت کیشوں میں جہاں ارباب طریقت اورمشایخ کرام ہیں، وہیں اصحاب دانش و بینش اور مفکرین و مدبرین کی بھی ایک فہرست ہے

ظاہر ہےآپ کا وصال پر ملال ان سب وابستگان رضویت کے لیے نہایت حوصلہ شکن مرحلہ تھا، جس سے جو جہاں تھا، غم گین تھا۔اس لیے ضروری ہے کہ اس آزمائش کی گھڑی میں نوک قلم اور جنبش زباں پر جاری کلمات کا عطر بھی لیا جائے ۔ ویسے بھی پس مرگ  اس وقت تک ستائشی کلمات نا مکمل مانے جاتے ہیں، جب تک اس خاص کیفیت کی عکاسی کرنے والے کلمات شامل ستائش نہ ہوں۔ آئیے! یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ اس غم کی گھڑی میں حضور تاج الشریعہ کے متنوع حلقے کے تاثرات کیا کچھ ہیں

۔(38) حضرت سید محمدمدنی میاں اشرفی، کچھوچھہ شریف :۔ مفتی اختر رضا ازہری صاحب کی رحلت بلا شبہ علمی و روحانی دنیا میں عظیم خلا ہے جس کا پر ہونا مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔ ازہری صاحب نے دین و سنیت اور رشد و ہدایت کی جو خدمات انجام دی ہیں، یقینا وہ تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ 

۔ (39) حضرت سید محمد امین میاں برکاتی، مارہرہ شریف:۔ ازہری میاں کا وصال دنیائے سنیت کا عظیم نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، حضرت والا کا خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ سے پانچ پشت کا تعلق تھا۔ والد ماجد حضور احسن العلما علیہ الرحمہ ازہری میاں کو جملہ سلاسل  طریقت کی خلافت و اجازت سے نوازا تھا۔ 

۔(40) حضرت علامہ محمد احمد مصباحی، مبارک پور: ۔ تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری کی رحلت کا غم صرف ایک خاندان ، ایک شہر یا ایک ملک کا غم نہیں بلکہ ان کی جدائی پر پوری ملت سوگوار ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اور بے شمار خطوں میں ان کے وصال کے بعد ہی سے تعزیتی جلسوں اور فاتحہ و ایصال ثواب کا سلسلہ جاری ہے۔

آج 7 ذی قعدہ 1439 ہجری مطابق 21 جولائی 2018 سنیچر کی صبح کو الجامعۃ الاشرفیہ ، مبارک پور میں بھی تلاوت قرآن، ایصال ثواب اور تعزیت کی محفل دیر تک منعقد ہوئی پھر علما و طلبہ کی کثیر تعداد جنازہ میں شرکت کے لیے بریلی شریف روانہ ہو گئی اور جامعہ میں آج اور کل کی تعطیل کر دی گئی۔ میں اپنے متعلقہ تمام اداروں کی طرف سے حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے اہل خاندان کو خصوصا اور پوری ملت کو عموما تعزیت پیش کرتا ہوں۔ 

۔(41) علامہ قمر الزماں خاں اعظمی، لندن : حضور تاج الشریعہ کا وصال ایک ایسا المیہ ہے جسے ہمیشہ محسوس کیا جائے گا، اور دنیائے سنیت میں جو خلا پیدا ہوا ہے،وہ  شاید کبھی پر نہ ہو سکے۔ خدائے قدیر و جبار حضرت تاج الشریعہ کو جنت میں مقام بلند عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ النبی الامین۔ کل ہی سے جلسہائے تعزیت و ایصال ثواب کا آغاز ہو رہا ہے۔ ورلڈ اسلامک  مشن کی طرف سے انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ہالینڈ،امریکہ، کناڈا ،  بلجیم اور ناروے کی جملہ مساجد میں  جلسہائے تعزیت منعقد ہوں گے۔ (کلپ: تعزیتی پیغام)۔

۔ (42) سید نجیب حیدر حسن صاحب، مارہرہ شریف :۔ مفتی اعظم ہند، قاضی القضاۃ فی الھند، علامہ مفتی اختر رضا خاں المعروف ازہری میاں کا وصال دنیائے سنیت کا نا قابل تلافی نقصان ہے جس سے علم فقہ کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ ازہری میاں ان شخصیات میں سے ایک تھے جنھیں اللہ تعالی نے بے شمار محاسن و کمالات سے سرفراز فرمایا۔

آپ عظیم و محقق اور اعلی حضرت کے علوم کے سچے وارث تھے۔ آپ مارہرہ مطہرہ کے افکار و نظریات کے بے باک ترجمان اور مفتی اعظم ہند کی علمی و روحانی وراثتوں کے سچے امین و جا نشین تھے۔ کیوں نہ ہوتے،یہ عظیم تاج ان کے سر پر ان کے مرشد والد گرامی سید العرفا احسن العلما نے سجایا تھا۔ موصوف کی فکری و علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ عربی اور اردو زبان میں ان کی تحریر کردہ متعدد کتابیں اس پر شاہد ہیں۔ 

 ۔ (43) پروفیسر اختر الواسع، جودھ پور:۔حضرت ازہری میاں صاحب خاندان اعلی حضرت کی علمی روایت و وراثت کے امین اور علم و فضل و زہد و ورع کے پیکر تھے۔ آپ کا ہم لوگوں کے درمیان سے اٹھ جانا ایک عظیم علمی و روحانی  پیشوا کا اٹھ جانا ہے۔  قحط الرجال کے اس عہد میں ملت اسلامیہ آبروئے خانوادہ اعلی حضرت سے محروم ہو گئی، یہ ایک ایسا خسارہ ہے جسے صرف وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جنھوں نے ان کے علم و فضل اور تقوی کو قریب سے دیکھا، سمجھا ، جانا او رپہچانا ہوگا۔

۔(44)شیخ علی طارق حنفی قادری امام و خطیب: مسجد مزار مبارک حضرت جنید بغدادی و سر سقطی:۔ شیخ نے ہندوستان کے ایک وفد سے حضور تاج الشریعہ کی تعزیت کرتے ہوئے آپ کو ان الفاظ سے یاد کیا سیدنا و مرشدنا وشیخنا و قدوتنا العلامہ السید الشیخ الدکتور مجدد الدین فی ھذا الدین العظیم حضرت سیدنا شیخ محمد اختر رضا خان علیہ رحمۃاللہ ۔۔۔

 آپ نے  دعائیں کرتے ہوئے کہا: ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کل بروز قیامت شیخ محمد اختر رضا خان قادری  کو ہمارے لیے ذریعہ شفاعت بنائے ۔ (ویڈیو کلپ)۔

۔ (45) علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی،پاکستان :۔ رضا ہی میں رضا ہے، رضا سے نسبت، اعتبار ہے، افتخار ہے۔ بات رضا کی ہے تو وہ بھی میرے پیارے نبی کریم کی نسبت سے ہے اور نبی پاک ﷺ کی نسبت ہی میں سرفرازی ہے۔  رضا کی طلب کیوں نہ ہو، میرے رضا کے تو نام لیوا بھی کام یاب ہیں۔  آفتاب و ماہ تاب کی آب و تاب دنیا  دیکھ رہی تھی، اب  (تاج الشریعہ ) ” اختر ” کی تب و تاب بھی دیکھ لی۔ 

بلاشبہ  وہ ایک فرد ہی تھے مگر اپنی ذات میں ایک جمعیت۔  انھوں نے اپنی نسبتیں  خوب  نبھائیں اور خلقت  نے ان کی  متابعت کی۔  وہ اپنے خاندان ہی کی نہیں بلکہ مسلک حق کی بھی آبرو تھے۔ ہر چند کچھ مسائل میں بعض  نے اختلاف کیا لیکن ان کی مرتبت پہ اعتراض کرنے کی  کوئی جرأت  نہیں کرسکا۔ شروع ہی سے  انہیں مرکزیت حاصل تھی جو قائم و دائم رہی۔

  علمی،  فقہی اور روحانی سطح پر سمتوں میں ان کی فضیلت و مرتبت مسلم رہی۔  ان کا  ظاہر و باطن ایک تھا۔  ان سے محبت و رفاقت کی  قریبا  چاردہائیاں، یادوں اور یادگاروں کا ہجوم ہے۔  جانے کیوں  اب سناٹا سا لگ رہا ہے۔اللہ کریم جل شانہ اپنے حبیب کریم ﷺ کے صدقے ان کے درجات بلند فرمائے اور تاج دار بریلی کے فیضان کی گونج بڑھتی رہے۔ 

۔(46) فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمٰن صاحب، پورنیہ :۔    حضرت تاج الشریعہ کا یہ شعر ذہن کی اسکرین پر بار بار نمودار ہو رہا ہے  دیکھنے والو!جی بھرکے دیکھو ہمیں کل نہ رونا کہ اختر میاں چل دئے

   شعر کے پہلے مصرعے پر تو اوپر اوپر سب نے عمل کیا ،ان کے ظاہر کو خوب دیکھا، مگر اندر جھانکنے  کی کوشش بہت کم لوگوں نے کی ۔وہ کیا تھے اور کیسے تھے؟ کاش! ان پر حاشیہ نشینوں کے اپنے ذاتی مفادات کا حجاب  نہ ہوتا تو لوگ بند آنکھوں سے ہی نہیں،کھلی آنکھوں سے بھی دیکھ پاتے کہ وہ امام احمد رضا، حجۃ الاسلام اور حضور مفتی اعظم کی علمی و روحانی امانتوں کے کیسے عظیم وارث و امین تھے۔

پہلی بار کیرالہ کے جامعہ “الثقافة السنية سےشیخ ابو بکر شافعی مد ظلہ اور “الجامعة السعدية “سے شیخ عبد القادر شافعی  علیہ الرحمۃ بریلی شریف حاضر ہوئے ۔

اس وقت وہ حضرات اردو بالکل نہیں بول پاتے تھے بلکہ صحیح طور پر سمجھ بھی نہیں پا رہے تھے اسی لیے عربی میں گفتگو شروع ہوئی۔ہر چند کہ شافعی حضرات کو حدیث و تفسیر سے شغف زیادہ ہوتا ہے مگر ہم نے دیکھا کہ کسی بھی موضوع پر وہ حضرات اگر دو یا تین حدیثیں پیش کرتے تو حضرت علیہ الرحمۃ اسی عنوان پر پانچ چھ حدیثیں کتابوں کے حوالوں کے ساتھ پیش فرما دیتے۔

 وہ حضرات اگر  کوئی آیت تلاوت کرتے اور اس کی تفسیر میں ایک یا دو کتابوں کی عبارتیں پڑھتے تو حضرت علیہ الرحمۃ چار پانچ تفسیروں کی عبارتیں سنا دیتے، جس سے ان حضرات کے ساتھ میں (مفتی مطیع الرحمن) اور مصباحی صاحب (علامہ یسین اختر مصباحی) بھی استعجاب و حیرت کے ساتھ حضرت علیہ الرحمۃ کا منھ تکنے لگے اور دل اس اعتراف پر مجبور ہوا کہ یہ دراصل امام احمد رضا، حجۃ الاسلام اور حضور مفتی اعظم علیہم الرحمۃ والرضوان کے فیضان علمی کا ثمرہ ہے۔ 

رحمان پور ضلع کٹیہار کے مسلمانوں کا ایک گروہ اجمیر شریف سے واپسی پر بریلی شریف حاضر ہوا تو حضور مفتی اعظم صاحب فراش تھے۔ دیکھ کر ان میں سے بھی بہت سے حضرات کے دل میں بیعت ہونے کی خواہش پیدا ہوئی تو آپس میں مشورہ کیا۔ اس وقت کے زیر تعلیم ایک احسان نامی نوجوان (جو آج کٹیہار کے سینیر  وکلا میں شمار ہوتے ہیں )نے کہا : یہاں مرید ہونے سے قوالی چھوڑنی پڑے گی اسی لیے میں تو مرید نہیں ہوں گا۔

 یہ لوگ سلام و دست بوسی کے بعد غلامی میں داخل ہوئے مگر احسان صاحب اپنی سوچ پر قائم رہے۔واپسی کے مصافحے  پر کچھ لوگوں نے نذریں پیش کیں،اور قبول ہوئیں مگر جب احسان صاحب کا نمبر آیا تو حضور مفتی اعظم نے منع فرما دیا۔ چھ،سات مہینوں کے بعد فقیر کی دعوت پر حضرت تاج الشریعہ پورنیہ بہار پہنچے،تو موضع سیتل پور جاتے ہوئے راستے میں رحمان پور آیا۔

سورج غروب ہوئے کوئی پندرہ بیس منٹ ہو چکے تھے، اس لیے نماز وہیں خانقاہ لطیفیہ کی مسجد میں ادا کی گئی۔ علم ہوتے ہی پورا گاؤں جمع ہوگیا اور مصافحہ و دست بوسی ہونے لگی۔ کئی لوگوں نے جن میں احسان صاحب بھی شامل تھے کچھ نذریں پیش کیں۔ عجب اتفاق کہ سب کی نذریں قبول ہوئیں مگر احسان صاحب کو منع فرما دیا گیا۔حالاں کہ ان سے تاج الشریعہ کی نہ کبھی ملاقات تھی نہ تاج الشریعہ  کو پتا تھا کہ حضور مفتی اعظم نے ان کی نذر قبول نہیں فرمائی تھی۔

جب کہ تاج الشریعہ کی بینائی کمزور تھی اس پر مستزاد یہ کہ شام کا  ملگجا تھا ؛کیوں کہ ابھی بجلی اس گاؤں تک پہنچی نہیں تھی ۔اس وقت احسان صاحب نے تعجب کے ساتھ حضور مفتی اعظم کے نذر قبول نہ فرمانے کی بات سب کے سامنے بیان کی۔ جب ہم لوگ وہاں سے اپنی منزل کے لیے روانہ ہوئے تو فقیر نے حضرت تاج الشریعہ سے احسان صاحب کی نذر قبول نہ ہونے کا سبب جاننا چاہا تو یہ فرما کر خاموش ہوگئے کہ : “حضور مفتی اعظم کی کرامت تھی ”۔

۔ (47) مولانا ڈاکٹر غلام زرقانی، امریکہ :۔حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ علم و عمل،دونوں پس منظر میں اوج ثریا پر پہنچے ہوئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ علم و عمل ،زہد و تقوی اور فکر و فن کا روشن و تابناک آفتاب شام کے وقت جب بریلی کے افق پر غروب ہوا تو صبح ہوتے ہوتےظلمت و تاریکی روئے زمین کے چپہ چپہ پر پھیل گئی۔(روز نامہ انقلاب)

۔(48)مولانا محمدحنیف خان شیرانی، راجستھان :۔قاضی القضات فی الہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری بریلوی  نور اللہ مرقدہ  کی ذات ستودہ صفات پوری دنیائے سنیت کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے ایک نعمت بے بہا تھی۔ خلاق ازل نے آپ علیہ الرحمہ کو گونا گوں خوبیوں سے نوازا تھا

حضرت علامہ رضا علی خاں بریلوی علیہ الرحمہ کے وقت سے چل رہی  خانوادہ رضویہ کی علمی ، فکری اور مسلکی خدمات کے آپ گویا آخری امین تھے،جو علمی متانت، فکری اصابت اور مسلکی تصلب میں اپنے اجداد کرام اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی،  حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں، مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد مصطفی رضا خاں بریلوی اور مفسر اعظم مولانا ابراہیم رضا خاں ۔ علیہم الرحمہ۔ کے مذہبی

علوم و فنون کے سچے وارث، با وفا امین اور بجا  جانشین تھے۔

 اللہ رب العزت نے حضور تاج الشریعہ کو غیر معمولی قبول عام عطا فرمایا تھا۔ آپ کا جس جگہ سے گزر ہو جاتا بلکہ جہاں سے گزرنے کی خبر بھی موصول ہوتی، ایک نظر دیدار کے لیے خلق خدا کا ہجوم امڈ پڑتا۔ من جانب اللہ ودیعت اس قبول عام پر اس وقت حتمی مہر ثبت ہو گئی جب آپ کے جنازے میں شرکت کے لیے دنیا کے کونے کونے سے  آپ کے پروانے تین دن کی قلیل مدت میں اس طرح دیوانہ وار جمع ہو گئے کہ اب تک لوگوں کے لیے نا قابل یقین ہے اور دنیا پر نگاہ رکھنے والے بتاتے ہیں

اس سے پہلے تاریخ میں اتنا بڑا جنازہ نظر نہیں آتا۔ سچ ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ۔(سورہ مریم، 96)بےشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمٰن محبت پیدا فرما دے گا۔ 

 میں یہ دیکھ کر حیران تھا کہ چورو سے رتن گڑھ آنے تک آپ نے کئی ایک فتووں کے جوابات لکھ دیے جبکہ یہاں کے جغرافیہ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہ مسافت کل 42 کلومیٹر کی مسافت ہے۔ بے شک اس وقت ٹرینوں کی رفتار وہ نہیں ہوا کرتی تھی، جو آج ہے لیکن  ظاہر ہے اگر ٹرین کی رفتار آج سے قدرے کم تھی تو اس وقت  آپ کے پاس کوئی کتاب بھی تو  نہ تھی جس سے استفادہ کرتے۔

سچ یہ ہے یہ حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے روحانی فیضان کی برکت تھی۔  جب  رتن گڑھ اسٹیشن کراس ہو گیا اور آپ اپنے فتووں  سے فارغ ہو گئے تب آپ نے اپنی سیٹ پر آرام فرمایا ۔

۔ (49)حضرت مولانا محمد ارشد مصباحی،انگلینڈ :۔ مجھے دورانِ طواف حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا موقع ملا جبکہ آپ وہیل چیئر کے ذریعے مشغولِ طواف تھے۔ جب مطاف سے نکلنے لگے تو بہت بڑا ہجوم جو اہلِ عرب کا تھاوہ جیسے ہی قریب آیا تو حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے دیدار کو رک گیا

اور سبحان اللہ! کی صدائے دل نواز بلند ہوئی۔بے شک ولی کی شان ہے کہ جسے دیکھ کرخدا یاد آئے۔ ذکراللہ سے زبانیں ترہو جائیں۔۔۔میں حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے عہد کا، اپنے زمانے کا اعلیٰ حضرت مانتا ہوں۔ (خطاب بمقام:مالیگاؤں ۲۷؍ جولائی 2018)۔

۔(50) مولانا فیاض احمدمصباحی، شراوستی :۔ حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم مفتی، بے باک قاضی، عشق رسالت ماٰب ﷺ میں فنائیت کی منزل پر فائض ، فی البدیہہ شاعر، بڑے سے بڑے نازک حالات کا اپنے ناخن تدبیر سے اعلی پیمانے کی تدبیر کرنے والے با کمال مدبر، ہزاروں مساجد اور مدارس کے بانی، عربی اور اردو کے ساتھ کئی بڑی زبانوں کے ادبی اسلوب پر دسترس رکھنے والے صوفی منش فقیر ادیب تھے۔ آپ کی پوری زندگی تبلیغی اسفار کے نام رہی۔ زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام کی آپ جیتی جاگتی تصویر تھے۔ 

۔(51) مولانا عبد المصطفی صدیقی، ردولی شریف :۔ حضور تاج الشریعہ سراپا رحمت و برکت اور عالم اسلام کی ضرورت تھے۔ ان کی ذات علمی مجلسوں کی میر اور فقیہ بے بدل تھی۔ وہ استقامت علی الحق کے کوہ ہمالہ تھے۔ وہ اعلی حضرت کے علوم، حجۃ الاسلام کے جمال اور مفتی اعظم کے زہد و تقوی کے سچے وارث و امین تھے۔ ہزاروں تحقیقی فتاوی اور مختلف علوم و فنون پر مختلف زبانوں میں درجنوں کتابیں تاج الشریعہ نے تصنیف کیں۔  

 بچتے بچاتے اور چھٹائی کرتے کراتے بنا تبصرے کے عددی تبرک کے طور پر یہ 51 نمونے وہ ہیں جو حضور تاج الشریعہ کی ولایت ماٰب، مقبول آفاق اور عبقری شخصیت کی زندگی کے بہت سے خد و خال کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت والا کی مقبولیت حدود و قیود سے بالاتر تھی، وہیں ان سے یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ آپ بیک وقت علم و فضل، زہد و اتقا اور شہرت و مقبولیت کے سب سے اونچے درجے پر فائز تھے۔ آپ کی یہی گونا گوں خوبیاں ہیں جن کے آگے بڑے بڑے کج کلاہ سر خمیدہ نظر آتے ہیں۔ 

 آپ کے پس وصال تعزیت کرنے والوں میں ابھی ایک ایسی فہرست بھی ہے جن کے لیے یہ تصور بھی مشکل ہے کہ وہ کسی عالم دین کے لیے تعزیت کریں

لیکن اسے آپ علیہ الرحمہ کا ربانی کمال شمار کیا جانا چاہیے کہ آپ کے بعد وہ بھی غم زدہ ہیں۔ ان ضمن میں سیاسی لیڈر، سماجی رہ نما اورقد آور مذہبی شخصیات سبھی شامل ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو حضور تاج الشریعہ کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق بخشے اور آپ کے فیضان سے مالامال فرمائے۔

حضور تاج الشریعہ قدس سرہ اور مرکز اہل سنت کا دور ششماز قلم  مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی

از قلم   مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

khalidinfo22@gmail.co

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز 

علم کا شیدائی حضور تاج الشریعہ

ان مضامین کو بھی پڑھیں

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

وجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

 موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

 آزمائش کا زمانہ ہے امت کو بچانا ہے

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top