تاج الشریعہ کا فقہی تبحر

تاج الشریعہ کا فقہی تبحر

از قلم : قاضی فضل احمد مصباحی صدر شعبۂ افتاء جامعہ عربیہ ضیاء العلوم، بنارس؍ رکن شرعی کونسل بریلی شریف  تاج الشریعہ کا فقہی تبحر  

تاج الشریعہ کا فقہی تبحر

حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار دنیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جن کے نام اور کام رہتی دنیا تک باقی رہیں گے۔ آج حال یہ ہے کہ جو مہر تاباں غروب ہوتا ہے اس کی جگہ معمولی چراغ بھی جلتا ہوا نظر نہیں آتا۔

اب ایسے افراد پیدا ہی نہیں ہو رہے جو علم و عمل کے جامع اور بزرگوں کے مزاج و مسلک سے بخوبی واقف، امام احمد رضا قدس سرہٗ کے علوم کے شارح و ناشر، قرآن کریم کے قابل رشک مفسر، حدیث نبوی کے کام یاب ترین ماہر محدث ہوں۔

موصوف کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے، ان کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور تابناک تھا پاکیزہ اخلاق و سیرت، بحث و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیت، زبردست علمی استحضار، تحریر و بیان پر غیر معمولی قدرت، فقہ و افتاء میں حد درجہ مہارت گویا وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔

بلاشبہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ علم نبوت کی ترویج و اشاعت میں گزرا۔ انہوں نے علم و عمل اور عزیمت و کردار کے جو چراغ روشن کیے ان شاء اللہ ان کی روشنی قائم و دائم رہے گی۔ آج کی اس نشست میں میرا عنوان سخن ہے ’’تاج الشریعہ کا تفقہ فی الدین‘‘ اس لیے ذیل میں فقہ کی اہمیت و افادیت کا قدرے تفصیل سے جائزہ پیش کیا جا رہا ہے

تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ دین میں فقاہت کسی فقیہ کے لیے ایک عظیم نعمت اور سراپا خیرہی خیر ہے اور اس کے بعد حضور تاج الشریعہ کے فقہ و فتاویٰ سے کچھ تحقیقی شواہد پیش کیے جائیں گے۔

فقہ کے معنی دین کی گہری سمجھ ہے اور اصطلاح میں احکام شرعیہ کو تفصیلی دلائل کے ساتھ جاننے کا نام فقہ ہے۔ فقہ میں مہارت پیدا کرنا امت پر فرض کفایہ ہے اور ہر دور میں ایسے ماہر علما کا وجود ناگزیر ہے جو ضرورت کے وقت امت کی دینی و شرعی رہ نمائی کر سکیں۔

قرآن و حدیث میں تفقہ فی الدین کی اہمیت و افادیت بیان کی گئی ہے۔

ارشاد باری ہے: ’’فلو لا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین‘‘ (سورۂ توبہ) ترجمہ: تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔

فقہ سراپا خیر ہے اور دین میں تفقہ ایک عظیم نعمت ہے۔ حدیث شریف میں ہے ’’من یرد اللہ بہ خیراً یفقہہ فی الدین‘‘ (صحیح بخاری) جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔

فقہ کی اصل قرآن کریم سے: اللہ عزوجل نے تفقہ فی الدین حاصل کرنے کا حکم دیا جس سے فقہ کی اہمیت و رفعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کونوا ربانیین بما کنتم تعلمون و بما کنتم تدرسون۔‘‘ (سورۂ آل عمران) ترجمہ: تم اللہ والے بن جائو کیوں کہ تم کتاب الٰہی کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اسے پڑھتے ہو۔

امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:۔  ’’وقال ابن عباس کونوا ربانیین حکماً و فقہاء‘‘ (صحیح بخاری، کتاب العلم)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ’’کونوا ربانیین‘‘ کا معنی یہ ہے کہ تم حکمت و بصیرت والے، فقہ و استنباط والے بن جائو۔

فقہ کی اصل حدیث سے: نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:۔ ’’ان لکل شیء دعامۃ و دعامۃ ہذا الدین الفقہہ‘‘ (کنز العمال) یعنی ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے اور دین کا ستون فقہ ہی ہے۔

اس حدیث شریف میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ دین کا خلاصہ فقہ ہے، دین کا مدار فقہ ہے، دین کا سرمایہ فقہ ہے، فقہ قرآن و حدیث کے بالمقابل کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ قرآن کریم اور حدیث نبوی کے صحیح فہم و ادراک کا نام فقہ ہے۔

ائمہ کرام و فقہائے عظام نے قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی روشنی میں اصول و ضوابط اور قواعد و احکام بیان کیے ہیں اور انسانی زندگی میں پیدائش سے لے کر موت تک پیش آمدہ تمام مسائل کو انہوں نے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے، اسی کے مجموعہ کو فقہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس لیے ان معتمد ائمہ کرام و مجتہدین عظام کی پیروی اور تقلید دراصل کتاب و سنت کی پیروی اور تقلید ہے۔ زبان نبوت سے جب فقہ اور فقہاء کی عظمت بیان ہوئی تو صحابۂ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت علم فقہ حاصل کرنے میں مصروف ہوگئی۔

انہوں نے اتنا ملکہ حاصل کر لیا کہ فتاوے دے کر امت مسلمہ کی رہنمائی کی پھر آگے چل کر تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین نے فقہ و فتاویٰ سے امت مسلمہ کے لیے ہر دور میں رہنمائی کا فریضہ انجام دیا اور انشاء اللہ زمانہ ان بندگان خدا سے کبھی خالی نہ ہوگا جو نت نئے مسائل کا حل انہیں اصول و ضوابط کی روشنی میں باذن الٰہی نکالنے پر قادر ہوں گے۔

حضرت تاج الشریعہ کی ذات والا صفات بھی تفقہ فی الدین حاصل کرنے والوں کی فہرست میں نمایاں اور ممتاز ہے۔ مسائل شرعیہ کی تحقیق و تدقیق میں آپ کا مقام معاصر علماء میں سب سے بلند ہے۔

مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے فیصل بورڈ میں آپ بحیثیت صدر الصدور فائز تھے اور شرعی کونسل آف انڈیا یا بریلی شریف کے سرپرست اور روح رواں تھے۔ ان دونوں مجلسوں کے تحت بے شمار نوپید مسائل کے حل میں آپ کے قول کو قول فیصل اور آپ کی تحقیق کو حرف آخر کی حیثیت حاصل تھی۔

فیصل بورڈ کے تحت کئی اہم فیصلے ہوئے مثلا

۔ (۱) الکحل آمیز دوائوں اور رنگین چیزوں کا استعمال (۲) بیمۂ زندگی کے شرعی احکام (۳) جبری و اختیاری بیمۂ اموال کے احکام (۴) شناختی کارڈ کے لیے فوٹو کھینچانا (۵) دوامی اجارہ یعنی پگڑی کے ساتھ معاملہ کرایہ داری (۶) اعضاء کی پیوند کاری اور خون کی منتقلی کے احکام۔

غالباً یہ دوسرے فقہی سیمینار کا موقع تھا، حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ پورے علمی جاہ و جلال کے ساتھ اشرفیہ مبارک پور کی مجلس بحث و مذاکرہ میں موجود تھے ’’دوامی اجارہ کے جواز یا عدم جواز کا مسئلہ‘‘ زیر بحث تھا مجھے وہ دن، وہ جگہ، وہ وقت اچھی طرح یاد ہے۔

دوامی اجارہ پر لکھا ہوا میں اپنا مقالہ پڑھ رہا تھا میرا موقف یہ تھا کہ اجارہ اگرچہ اصل مذہب میں ناجائز ہے مگر چونکہ اس پر لوگوں کا تعامل ہے اس لیے جائز ہے۔

میں نے کتب فقہ سے اس کی چند نظریں بھی پیش کی تھیں کہ اصل مذہب میں ناجائز ہوتے ہوئے بھی یہ چیزیں بوجہ تعامل جائز ہیں۔ مثلاً بٹائی پر کھیت دینا اصل مذہب میں ناجائز ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر وعید بیان فرمائی ہے تاہم بوجہ تعامل و حاجت صاحبین کے نزدیک جائز ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔

مقالہ خوانی کے دوران حضور تاج الشریعہ نے فرمایا کہ یہاں تعامل و حاجت دونوں کا ذکر ہے تو کیا یہاں قرآن فی النظم کی طرح قرآن فی الحکم بھی ہے؟ میں نے عرض کیا شوافع کے نزدیک قرآن فی النظم قرآن فی الحکم کو واجب کرتا ہے احناف کے یہاں نہیں

حضرت نے پھر فرمایا کیا یہ دونوں یعنی تعامل و حاجت مل کر مؤثر ہیں یا صرف ایک۔ میں نے عرض کیا کہ اسباب ستہ جن سے قول امام بدل جاتا ہے وہ مستقلاً علیحدہ علیحدہ سبب ہیں۔

تعامل ایک الگ مستقل سبب ہے اور حاجت ایک الگ مستقل سبب، اور دونوں مستقلاً تغیر حکم میں مؤثر ہیں، البتہ اس مسئلہ میں دونوں متحقق ہیں اس لیے بدرجۂ اولیٰ تغییر حکم میں مؤثر ہیں حضرت نے فرمایا بحث کے دوران اس پر مزید گفتگو ہوگی۔

جب میں مقالہ پڑھ کر بیٹھ گیا تو میں نے دیکھا کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ امام علم و فن علی الاطلاق حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ سے استفسار فرما رہے تھے کہ یہ کون ہیں؟ کیا نام ہے؟ کہاں سے آئے ہیں؟ بالآخر یہ مسئلہ بھی فیصل بورڈ کے حوالہ ہوا اور حضور تاج الشریعہ کی سربراہی میں بورڈ کے ذریعہ حل ہوا۔ یہ واقعہ ۱۹۹۳ء؁ بمطابق ۱۴۱۴ھ؁ کا ہے۔

اسی طرح ۱۹۹۸ء؁ میں اعضاء کی پیوند کاری اور خون کی منتقلی کا مسئلہ اشرفیہ مبارک پور کے فقہی سیمینار میں زیر بحث تھا کافی بحث اور مذاکرہ کے بعد بھی مسئلہ کا شافی حل نہ نکل سکا تو یہ مسئلہ بھی فیصل بورڈ کے حوالے ہوا، اس تعلق سے بریلی شریف کے دفتر سے ایک بیان جاری ہوا جس کی رپورٹ ۳؍اکتوبر ۱۹۹۸ء؁ کے اخباروں میں شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کا کچھ اقتباس ہم یہاں نقل کر دیتے ہیں۔

مسلمانوں کا فیصل بورڈ الجھن میں پڑا: بریلی دفتر! مسلم علماء اور دانشوروں کا ’’اعضاء کی پیوند کاری اور خون کی منتقلی‘‘ کے مسئلے پر مختلف نظریہ سامنے آیا ہے۔

نئی نسل کے علما کافی وسیع نظریہ کے حامل ہیں او راس میں رخصت و گنجائش کے قائل ہیں مگر قدیم علماء مکمل رخصت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ فیصل بورڈ کے تمام ارکان اس مسئلے پر غور و خوض کر رہے ہیں جلد ہی کوئی اجلاس طلب کر کے اس مسئلہ کا حل ڈھونڈ لیا جائے گا اور اس کے بعد اس کا اعلان بھی کر دیا جائے گا چوں کہ علما کی رائیں مختلف ہیں اس لیے فی الوقت فیصل بورڈ الجھن میں پڑتا دکھ رہا ہے۔

درگاہ اعلیٰ حضرت کے موجودہ مفتیٔ اعظم ہند علامہ اختر رضا خاں عرف ازہری میاں کی صدارت میں ۱۴، ۱۵؍ستمبر کو جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ میں ایک اسلامی فقہی سیمینار منعقد ہوا جس میں ملک بھر کے علماء جمع ہوئے۔

جامعہ اشرفیہ مبارک پور پورے ملک میں دینی تعلیم کی بڑی درس گاہ اور یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا ہے اس سیمینار میں علاج کے لیے انسانی خون کے استعمال کو مفتی نظام الدین صاحب جائز مانتے ہیں اوروہ فرماتے ہیں کہ خون انسان کا ایسا جزء مائع ہے جو ضرورت کے وقت مباح ہو جاتا ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خون کا استعمال حرام ہے مگر زندگی بچانے کے لیے اس کا استعمال جائز ہے، حالانکہ مولانا ارشاد پرانی روایت پر قائم رہنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ علاج کے لیے انسانی خون کو دوسرے جسم میں داخل کرنا حرام ہے

جمال مصطفی قادری کہتے ہیں کہ ضرورت شرعیہ کے وقت جائز ہے لیکن اگر ضرورت کی منزل میں ہو تو حاجت شرعیہ بھی مؤثر ہوگی، سیمینار میں سب سے صاف بات قاضی فضل احمد مصباحی نے کہی، انہوں نے کہا کہ انسان کے جزء مائع (خون) کو بطور دوا استعمال کرنے کی علماء نے اجازت دی ہے ۔

جامعہ اشرفیہ میں دو دن تک چلے سیمینار میں زیر بحث مسائل پر غور و خوض اور اس کے حل کے لیے جو فیصل بورڈ بنایا گیا ہے اس میں حضرت ازہری میاں کے علاوہ علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری، مفتی شریف الحق امجدی اور مفتی جلال الدین امجدی شامل ہیں۔‘‘ (خلاصۂ اخبار دینک جاگرن ۳؍اکتوبر ۱۹۹۸ء؁)

فیصل بورڈ نے ان مسائل کا جو حل نکالا اس کی تفصیل مجلس شرعی کے فیصلے میں درج ہے۔

حضور تاج الشریعہ نے گونا گوں مصروفیات کے باوجود پوری زندگی دارالافتاء و دارالقضاء کی ذمہ داری نبھائی اور بے شمار فتاویٰ اور اہم فیصلوں کے ذریعے قوم و ملت کی صحیح رہنمائی فرمائی۔ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ دو جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔

ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو امام احمد رضا قدس سرہٗ سے تفقہ فی الدین کا وافر حصہ بطور وراثت ملا تھا۔ میرے اس دعویٰ کی تائید ان کے درج ذیل فتاویٰ سے بھی ہوتی ہے۔

وحدت الوجود کا مسئلہ: وحدت الوجود کا مسئلہ صوفیہ کے یہاں معرکۃ الآراء مسئلہ ہے جس کے ظاہر میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اشتراک فی الوجود ہے مگر حاشا ایسا ہرگز نہیں۔ یہ ایسا واحد نہیں کہ چند کی طرف تحلیل کر جائے اور نہ ایسا واحد کہ حلول عینیت سے متہم ہوکر اثنیت کے مرتبہ میں اتر آئے

بلکہ وحدۃ الوجود کا مفاد صرف اس قدر ہے کہ حقیقتاً ایک ہی وجود ہے باقی سب ظلال و عکوس اور اسی کے پرتو وجود سے موجود ہیں، ذات پاک اس واجب الوجود کی نہ اس کی کوئی مثل و شبیہ نہ وہ کیف و شکل سے متصف، جسم و جہت و مکان سے معرا اور امروز و زمان سے منزہ، اس کی ذات اور ذوات کی مناسبت سے مبرا ہے۔ چنانچہ اس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے امام احمد رضا قدس سرہٗ راقم ہیں:۔

’’عقیدہ جماہیر اہل سنّت یہ ہے کہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ شانہ، واحد ہے، نہ عدد سے خالق ہے نہ علت سے فعال ہے نہ جوارح سے قریب ہے نہ مسافت سے، حیات و کلام و سمع و بصر و ارادہ قدرت و علم وغیرہا تمام صفات کمال سے ازلاً وابداً موصوف اور تمام شیون شین عیب سے اولاً و آخراً بری، ذات پاک اس کی نہ ند و شبہ و مثل و کیف و شکل و جسم و مکان امروز زمان سے منزہ جس طرح ذات کریم اس کی مناسبت ذات سے مبرا اسی طرح صفات کمالیہ اس کی مشابہت صفات سے معرا تمام عزتیں اس کے حضور پست اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست۔

کل شیء ہالک الاوجہہ الآیہ وجود واحد موجود واحد باقی سب اعتبارات ہیں ذرات اکوان کو اس کی ذات سے ایک نسبت مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و توکو موجود و کائن کہا جاتا ہے اور اس کے آفتاب وجود کا ایک پرتو ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے

اگر اس نسبت پرتو سے قطع نظر نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت اوج وحدت سے حضیض اثنیت میں اتر آئے ہو ولا موجود الاھو آیت کریمہ ’’سبحانہ تعالی عما یشرکون‘‘ جس طرح شرکت فی الالوہیہ کو رد کرتی ہے یوں ہی اشتراک فی الوجود کی نفی فرماتی ہے الخ ملخصاً۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۹؍صفحہ ۳۴۳، ۳۴۴)
مسئلہ وحدۃ الوجود سے جو عینیت و اتحاد کا وہم ہوتا ہے اس تعلق سے حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا فرمان ہے کہ یہ اصطلاح صوفیہ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے ورنہ حقیقت میں یہ نہ عینیت ہے نہ اتحاد خالق و مخلوق۔
وہ رقم طراز ہیں:
’’عینیت و اتحاد میان خالق و مخلوق کا قول صوفیہ کے موہمات و مشکلات میں غلو کا ثمرہ اور ان کی اصطلاح سے ناواقفی کا نتیجہ ہے اور اسے صوفیہ صافیہ کا مذہب سمجھنا جہالت ہے وہ صاف صاف اتحاد خالق و مخلوق کو الحاد و زندقہ بتا رہے ہیں بلکہ وہ جو عینیت بولتے ہیں وہ اصطلاح ہے جو عینیت کے ساتھ مجتمع ہو جاتی ہے

اور اس کا مرجع و مآل وہی وحدت موجود مطلق و وحدۃ وجود حقیقی مطلق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ اس کے اعتبارات و ظلال و عکوس ہیں جن کے اوپر احکام حدوث و فنا و تغیر و تبدل و زوال جاری ہوتے ہیں

اور وہ موجود مطلق قدیم و باقی، حدوث و فنا سے منزہ، تغییر و تبدل سے معرا لہٰذا ایک کا دوسرے پر اطلاق الحاد و زندقہ ہے لہٰذا حضرات صوفیاء سے جو کچھ موہم عینیت منقول ہو وہ اولاً عدم ثبوت پر اور ثانیاً بعد ثبوت غلبۂ حال و سکر پر محمول اور اس میں تاویل ضرور اور وہ مستحق اتباع نہیں جیسا کہ ماسبق سے ظاہر۔‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، ج۱ ص۱۹۰،۱۹۱، ۱۹۲)

شب معراج رویت باری: شب معراج حضور اکرم ﷺ نے رب کا دیدار فرمایا یا نہیں۔ یہ مسئلہ سلف میں مختلف فیہ رہا ہے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ شد و مد کے ساتھ اس رویت کا انکار کرتی ہیں بلکہ صحیح بخاری میں تو یہاں تک ہے کہ ام المومنین فرماتی ہیں اگر کوئی حدیث بیان کرے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لا تدرکہ الابصار۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے رویت کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے تاج الشریعہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابن عباس کا قول سماع و تلقی پر محمول ہے جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا انکار بربنائے اجتہاد و استنباط ہے لہٰذا حضرت ابن عباس کے قول کو حکماً مرفوع ہے حضرت عائشہ کے اجتہاد و استنباط والے قول پر ترجیح حاصل ہے۔ چنانچہ آپ رقم طراز ہیں:
’’یہ مسئلہ سلف میں مختلف فیہ ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو شب معراج سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ رہا حضرت عائشہ کا انکار تو وہ بربنائے اجتہاد و استنباط ہے نہ بربنائے روایت اور یہ روایات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سماع و تلقی پر محمول ہیں کہ رویت خداوندی کی حکایت ایسی بات نہیں کہ قیاس سے کہے جائے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے یہ قول اپنی رائے اور گمان سے کہہ دیا ہوگا

بلکہ لامحالہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا ہوگا تو ان کا یہ قول حدیث مرفوع و مسند بہ جناب رسالت مآب ﷺ کے حکم میں ہے اور حضرت عائشہ کے قول پر مقدم ہے لہٰذا اکثر علماء اہلسنّت کے نزدیک راجح و معتمد یہی ٹھہرا کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو بچشم سر لیلۃ الاسراء میں دیکھا۔‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، ج۱ص۳۳۲،۳۳۳)

مسئلہ علم غیب

اہل سنت و جماعت اور بدمذہبوں کے درمیان علم غیب کا مسئلہ بھی معرکۃ الآراء رہا ہے اہل حق و باطل کے درمیان اس عنوان پر کئی ایک مناظرے ہو چکے ہیں، باطل کو ہمیشہ کی طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے وہ باز نہیں آتے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ علم غیب ذاتی اللہ عزوجل کے لیے خاص ہے جو کسی مخلوق کے لیے ثابت کرے وہ یقینا شرک ہے اسی طرح علم غیب عطائی مخلوق کے ساتھ خاص ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرے وہ بھی مشرک ہے۔ یوں ہی نبی کے معنی غیب کی خبر دینے والے کے ہیں جو مطلقاً نبی سے علم غیب کی نفی کرے وہ کافر ہے، اس تعلق سے تاج الشریعہ نے جو علم غیب ذاتی و عطائی میں فرق کیا اور وہابیہ و دیابنہ کا جس طرح رد فرمایا ہے خود ان ہی کے الفاظ میں سنئے۔

’’بالجملہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم غیب کی نفی اصل نبوت کا انکار اور بکثرت آیات قرآنیہ کی تکذیب بھی ہے جو کفر ہے یوں ہی وحی کو غیب نہ کہنا قرآن کو جھٹلانا ہے البتہ علم غیب ذاتی خاصۂ باری تعالیٰ کا ہے جو مخلوق کے لیے ثابت کرے بلاشبہ مشرک ہے اور بفضلہ تعالیٰ کوئی سنی ایسا نہیں اور علم غیب عطائی اصالۃً انبیاء و سید الانبیاء اور ان کے طفیل میں اولیاء بلکہ عام مومنین کے لیے بھی ثابت ہے اس عطائی کو خاص بجانب باری تعالیٰ بتائے وہ مشرک ہے اگرچہ مؤحد بنتا ہو۔‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، ج۱ ص ۳۴۰)

بدعت کی بحث: بدعت کی دو قسمیں ہیں (۱) بدعت حسنہ (۲) بدعت سیئہ
بدعت حسنہ: وہ ہے جس کی اصل شرع سے ثابت ہو اور مقصد شرع کی موافق ہو۔
بدعت سیئہ: وہ ہے جس کی اصل شرع سے ثابت نہ ہو اور وہ مخالف و مزاحم سنت ہو۔

بدعت سیئہ قبیح و شنیع اور بمقتضائے حدیث گمرہی ہے اس کے برخلاف بدعت حسنہ ضلالت تو درکنار مستحب و مباح کے در جے سے ترقی کر کے کبھی واجب کے درجہ تک بھی پہنچ جاتی ہے مگر وہابیہ و دیابنہ اس قسم کی بدعت کو بھی بدعت وضلالت کے زمرے میں شامل کر کے علم سے بیگانگی کا برملا اظہار کرتے ہیں ملا علی قاری رقمطراز ہیں:۔

’’قال النووی البدعۃ کل شیء عمل علی غیر مثالِ سبق وفی الشرع احداث مالم یکن فی عہد رسول اللہ ﷺ و قولہ کل بدعۃ ضلالۃ عام مخصوص قال الشیخ عزالدین بن عبدالسلام فی آخر کتاب القواعد البدعۃ اما واجبۃ کتعلم النحو لفہم کلام اللہ و رسولہ و اما محرمۃ کمذہب الجبریۃ والقدریۃ والمرجئۃ والمجسمۃ والرد علی ہؤلاء من البدعۃ الواجبۃ لان حفظ الشریعۃ من ہذہ البدع فرض کفایۃ و اما مندوبۃ کاحداث الربط والمدارس واما مکروہۃ کزخرفۃ المساجد و تزویق المصاحف۔ یعنی عندالشافعیۃ ایضا والافعند الحنیفۃ مکروہۃ۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح، ج۱ ص ۲۲۳)

یعنی امام نووی نے فرمایا ہر وہ کیا جانے والے والا کام جس کی ماسبق میں کوئی مثال نہ ہو بدعت کہلاتا ہے اور شرع میں ایسی ایجاد کو کہتے ہیں جو رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں نہ تھی اور حضور کا یہ فرمان کہ ہر بدعت گمرہی ہے عام مخصوص ہے

شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے کتاب القواعد کے آخر میں فرمایا بدعت یا تو واجب ہے جیسے اللہ عزوجل اور رسول اکرم ﷺ کے کلام کو سمجھنے کے لیے علم نحو سیکھنا، یا بدعت حرام ہوتی ہے جیسے جبریہ قدریہ مرجۂ اور مجسمہ کا مذہب۔ ان گمراہ فرقوں پر رد بدعت واجبہ ہے اس لیے کہ ان بدعتیوں سے شریعت کی حفاظت فرض کفایہ ہے۔

یا بدعت مندوب و مستحب ہوتی ہے جیسے پل اور مدرسے بنانا یا بدعت مکروہ ہوتی ہے جیسے مساجد کی تزئین اور مصاحف پر سونے کا پانی چڑھانا، یہ شافعیوں کے نزدیک ہے ورنہ حنفی کے یہاں یہ سب مباح ہے یا بدعت مباح ہوتی ہے جیسے فجر و عصر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا یعنی شوافع کے نزدیک ورنہ حنفی کے یہاں فجر و عصر کی تخصیص مکروہ ہے۔

بدعت کی تعریف اور اس کے مصادیق کی تحدید و تعیین اور اس کے اطلاق کے جواز و عدم جواز کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے حضرت تاج الشریعہ بڑے جامع الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں:۔

’’لفظ بدعت شرع میں دو معنی پر آتا ہے معنی اول مخالف و مزاحم و معارض و مصادم سنت مثلاً حکم شرع کے برخلاف ہے بدعت بایں معنی ضلالت ہونے میں کوئی شک نہیں حدیث میں جو بدعت کی شناعت اور بدعتی پر وعید وارد ہے یہی معنی ہے اور اس معنی کے اعتبار سے خوارج، روافض، معتزلہ ظاہریہ وغیرہم بدمذہبوں کو اہل بدعت کہتے ہیں اور عقائد وہابی اس معنی میں داخل اور یہ لوگ باعتبار اس معنی کے اہل بدعت میں شامل ہیں۔

معنی دوم جو فعل بعینہ و بہئیت کذائی رسول اللہ ﷺ نے نہ خود کیا نہ امت کو حکم دیا نہ برقرار رکھنا منقول ہوا تو اصل اس کی شرع سے ثابت اور مقصود شرع کے مناسب اور قواعد حسن و وجوب کے تحت مندرج اور مصالح دینیہ پر مشتمل ہو بدعت بایں معنی علی الاطلاق گمرہی و ضلالت نہیں حسنہ بھی ہوتی ہے اور اقسام پنجگانہ واجب، مستحب، مباح، مکروہ، حرام کی طرف تقسیم کی جاتی ہے۔‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، ج۲ ص ۵۵)

ذکر ولادت کا استحسان: ذکر میلاد مصطفی ﷺ اور اس موقع سے زینت و آرائش اظہار فرحت و سرور زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے گوکہ مروجہ میلاد و قیام کا ثبوت دور صحابہ و تابعین میں مخصوص ہیئت و کیفیت کے ساتھ کہیں مذکور و منقول نہیں مگر یہ بدعت بھی نہیں جیسا کہ بدمذہب زمانہ اسے شرک و بدعت قرار دیتے نہیں تھکتے اور اپنا پورا زور اس میں صرف کر دیتے ہیں جب کہ کسی کام کا نہ کرنا اور ہے اور منع کرنا شے دیگر ہے نہ کرنے سے بدعت و حرمت کا حکم نہیں لگے گا جب تک کہ اس سے منع نہ کیا گیا ہو

علماے عرب و عجم ایک زمانہ سے میلاد و قیام بوقت ذکر خیرالاانام مستحب و مستحسن قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور اس سے مقصود حضور ﷺ کی تعظیم اور ان کی پیدائش پر خوشی کا اظہار ہے اور یہ شرعاً محبوب ہے تو یہ یقینا مسنون و مستحسن ہے

امام بخاری راقم ہیں:۔ ’’ثم لازال اہل الاسلام فی سائر الاقطاع والمدن یشتغلون فی شہر مولدہ ﷺ بعمل الولائم البدیعۃ المشتملۃ علی الامور البہجۃ الرفیعۃ و یتصدقون فی لیالیہ بانواع الصدقات و یظہرون السرور و یزیدون فی المبرات ویعتنون بقرائۃ مولد الکریم و یظہر علیہ من برکاتہ کل فضل عمیم انتہی۔‘‘ (انسان العیون، جلد۱ صفحہ ۸۳)

یعنی اہل اسلام تمام اطراف و اقطار اور شہروں میں بماہ ولادت رسالت مآب ﷺ عمدہ کاموں اور بہترین شغلوں میں لگے رہتے ہیں اور اس ماہ مبارک کی راتوں میں قسم قسم کے صدقات اور اظہار سرور و کثرت حسنات و اہتمام قرآت مولد شریف عمل میں لاتے ہیں اور اس کی برکت سے ان پر فضل عمیم ظاہر ہوتا ہے۔

امام احمد رضا قدس سرہٗ رقمطراز ہیں:۔

’’ولادت حضور صاحب لولاک تمام نعمتوں کی اصل ہے تو آپ کی خوبیوں کے بیان و اظہار کا نص قطعی سے ہمیں حکم ہوا اور کار خیر میں جس قدر مسلمان کثرت سے شامل ہوں اسی قدر زائد خوبی اور رحمت کا باعث ہے اور قول بعض کا کہ میلاد بایں ہیئت کذائی قرون ثلاثہ میں نہ تھانا جائز ہے باطل اور پراگندہ ہے

اس لیے کہ قرون و زمانہ کو حاکم شرعی بنانا درست نہیں یعنی یہ کہنا کہ فلاں زمانے میں ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور فلاں زمانے میں ہو تو باطل اور ضلالت ہے حالانکہ شرعاً و عقلاً زمانے کو حکم شرعی یا کسی فعل کی تحسین و تقبیح میں دخل نہیں نیک عمل کسی وقت میں ہو نیک ہے اور بد کسی وقت میں ہو برا ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۳، ص۷۶۰،۷۶۱)

تاج الشریعہ کا فقہی تبحر

 

حضرت تاج الشریعہ اس تعلق سے خامہ فرسائی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:۔

’’ بالجملہ اصل ذکر ولادت مسنون ہے اور اس پر تمام کتب سیر و احادیث کا ذکر ولادت پر ہونا خود شاہد ہے البتہ یہ کیفیت مروجہ منقول نہیں مگر عدم نقل ہرگز نقل عدم نہیں اسے اس کی دلیل بنانا سراسر جہالت ہے اگر یہ تسلیم بھی کرلیں کہ عدم نقل نقل عدم ہے جب بھی اس امر کی ممانعت اس سے ثابت نہ ہوگی کہ کسی شئے کا نہ کرنا اور ہے اور اس سے منع کرنا اور۔

اور زینت و آرائش کے اہتمام سے مقصود حضور ﷺ کی تعظیم اور اظہار فرحت مطلقاً بلا تخصیص وقت و ہیئت مامور ہے اور شرعاً محبوب ہے تو یہ کیفیات مذکورہ اس مامور بہ مطلق کا فرد ہوکر لاجرم محبوب و مرغوب ہوئیں، انہیں بدعت سیئہ بتانا للہ انصاف تعظیم مصطفی علیہ التحیۃ والثناء سے روکنا نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ص۵۹)

بدمذہبوں سے میل جول: آج کل بدمذہبوں اور مرتدین سے مذہبی معاملات میں بلا دغدغہ اتحاد کر لیا جاتا ہے اور اسے صلح حدیبیہ کی نظیر بتانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اس کے جواز کے لیے ایک دو سبب نہیں بلکہ علل شتیٰ کے طور پر حاجت، ضرورت، مصلحت شرعیہ کے تحقق کا برملا اظہار کر دیتے ہیں

حالاں کہ صلح حدیبیہ ضرورت شرعیہ اور مصلحت شرعیہ کی بنا پر حضور اکرم ﷺ نے فرمائی تھی، وہ دراصل فتح مکہ کی تمہید تھی اور لوگوں کے کانوں نے فتح و نصرت کے شادیانے بجتے بھی سنے۔ حضور سرکار ابد قرار ﷺ بعطائے الٰہی غیوب پر مطلع تھے اس لیے حضور کے بعد اس قسم کی صلح کسی کے لیے جائز نہیں کہ انہیں انجام پر اطلاع نہیں ہے۔

علاوہ ازیں آج کے اتحاد کو صلح حدیبیہ کی نظیر بتانا درست نہیں کہ وہ صلح تھی نہ کہ اتحاد۔ اتحاد و صلح دونوں ایک چیز نہیں ہو سکتی کیا کوئی یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کفار سے اتحاد کا نام تھا۔ ہرگز نہیں تو مصالحت کی آڑ میں اتحاد کا کھیل کھیلنا شرعاً نا روا اور مذہب و ملت کا شیرازہ منتشر کرنے کے مترادف ہے۔ حضور تاج الشریعہ فیصلہ کن انداز میں فرماتے ہیں:۔

’’صلح حدیبیہ مصلحت شرعیہ اور ضرورت شرعیہ کی بنا پر سرکار ابدقرار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی جن کے عظیم فوائد مرتب ہوئے اور اسلام کو فروغ اور کفر کو عظیم نقصان اس سے ہوا اور صلح حدیبیہ کے بعض شرائط ایسے تھے جن میں بظاہر کفار کا فائدہ اور ان کی برتری تھی اور مسلمانوں کے لیے ظاہری طور پر ذلت تھی

اس لیے اکثر صحابۂ کرام کی رائے نہ تھی کہ ایسی صلح کفار سے ہو مگر ان سب نے بمتقضائے ایمان سرکار ابد قرار علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم احکم اور آں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مرضی پر اپنے سروں کو خم کر دیا

اس طرز کی مصالحت بعض زمانۂ نبوت کسی کو جائز نہیں، یہ سرکار ابد قرار علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خصوصیت تھی اس لیے سرکار ابد قرار علیہ الصلوٰۃ والسلام بعطائے الٰہی غیب پر مطلع تھے اور آپ کو اختیار شرعی بھی رب قدیر عزوجل سے ملا لہٰذا آپ کو اختیار ہے کہ جب چاہیں ظاہر پر حکم فرمائیں اور جب چاہیں باطن کے موافق حکم کریں، دوسرا کوئی ان کا سہیم و شریک اس خصوصیت میں نہیں ہو سکتا۔‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ ص۱۰۹،۱۱۰)

اور جہاں تک تحقق حاجت و ضرورت یا مصلحت شرعیہ کے تقاضہ کی بات ہے تو اکثر معاملہ برعکس ہی نکلتا ہے بات تو کی جاتی ہے مصلحت کی، مگر قدم قدم پر ضرر و مفاسد سے سابقہ پڑتا ہے۔ خود حضرت تاج الشریعہ اپنا تجربہ یوں بیان کرتے ہیں:۔

’’مذہبی معاملات میں کفار سے استعانت حرام اور ان سے موالات حرام اشد حرام بدکام کفر انجام مگر بارہا کا تجربہ ہے کہ نام ضرورت شرعیہ کا لیا جاتا ہے اور ضرورت نام کی بھی نہیں ہوتی اور مصلحت بتائی جاتی ہے مگر قوم و ملت کو ضرر و مفاسد سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور سائل نے خود ہی لکھا

جس سے ہمارے مذہبی معاملات مستثنیٰ ہوں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ سائل کے نزدیک بھی مذہبی معاملات میں مرتدین سے مصالحت حرام ہے۔ اب سائل فاضل کے کلمات سے خود ظاہر کہ شرعی معاملات کے لیے جو سمیلن ہو اور ملی جلی تنظیمیں بنیں وہ سب حرام بدکام بد انجام ہیں پھر مصالحت کا تو نام لیا جاتا ہے اور مرتدین سے اتحاد کا نعرہ لگایا جاتا ہے کیا مصالحت اور اتحاد کا مفہوم ان لوگوں کے نزدیک ایک ہے؟‘‘ (فتاویٰ تاج الشریعہ، ج۲ص۱۱۰)

الحاصل! حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا تفقہ فی الدین درج بالا فقہی اقتباس سے ظاہرو واضح ہے پوری کتاب اس طرح کے تحقیقی فتاویٰ سے بھری پڑی ہے جو حضرت موصوف کے عظیم فقیہ ہونے کی روشن دلیل ہے۔

میں نے بطور نمونہ چند مثالیں پیش کر دی ہیں جن کو تفصیل درکار ہے وہ حضرت کے مجموعہ فتاویٰ ’’فتاویٰ تاج الشریعہ‘‘ کے ساتھ ان تحقیقی فقہی رسائل کا بھی مطالعہ کرے جو وقتاً فوقتاً حضرت نے تحریر فرمائے ہیں۔

از قلم : قاضی فضل احمد مصباحی

صدر شعبۂ افتاء جامعہ عربیہ ضیاء العلوم، بنارس

رکن شرعی کونسل بریلی شریف

ان مضامین کو بھی پڑھیں اور اپنے احباب میں شئیر کریں 

تصانیف حضور تاج الشریعہ کا تجزیاتی مطالعہ

حضور تاج الشریعہ علم و فضل کے مہ تاباں 

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

حضور تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

حضور تاج الشریعہ مقبولیت عامہ اور جلوۂ تاباں

 طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top