تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

از : محمد اویس رضا قادری تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

سپہ سالار محافظین ناموس رسالت اعلی حضرت قدس سرہ ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے آپ کی ذات بابرکات میں بے شمار خوبیاں تھیں لیکن جوخوبی آپ کی ذات ستودہ صفات میں نمایاں تھی وہ عشق رسول ہے، اس عظیم خوبی نے آپ کو پورے عالم اسلام میں ممتاز کر دیا۔آپ علیہ الرحمہ ایک سچے عاشق رسول تھے اور عشق رسول کے چراغ کو اپنے دل میں اس طرح روشن کیے رکھا جس کو ان ہی کی زبانی سماعت کریں


خدا ایک پر ہو تو ایک پر محمد
اگر قلب اپنا دو پا رہ کروں میں


جب باطل سوچ و فکر رکھنے والے افراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چراغِ محبت کو عوام و خواص کے دلوں سے بجھانے کی ناپاک کوشش کر رہے تھے تو اعلیٰ حضرت عاشق رسول اور دشمن رسول کے درمیان ایک ایسا خط امتیاز کھینچتے ہیں جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی اور تاریخ کے اوراق اس احسان کو کبھی فراموش نہیں کر پاے گی۔


اعلیٰ حضرت قدس سرہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے اپنی عزت و وقار کا کچھ بھی خیال نہیں کرتے، اور لوگوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سچا عاشق اور ان کے در کا شیدائی بناتے کہ جس کو سمجھنے کے لیے اس کو پڑھیں، آپ فرماتے ہیں :۔


نبی ﷺ کے کپڑوں کو گندہ نہیں کہہ سکتے! کسی نے پوچھا، حضرت ! سرکار ابد قرار ﷺ تو زمین پر بھی بیٹھ جایا کرتے تھے، ہم مٹی والے کپڑوں کو کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا اگر خدا توفیقِ ادب دے تو یہ کیوں نہیں کہتے مٹی نے دامن رحمت ﷺ میں پناہ لے رکھی ہے۔


آپ کی تحریک و عمل ، تقریر و تحریر،اور تجدید و اصلاح کا مرکزی نقطہ نظر اور بنیادی نصب العین عظمت توحید اور ناموس رسالت کا تحفظ تھا ۔ اسی کے گرد آپ کا پورا کاروان فکر و عمل گردش کرتا نظر آتاہے۔ آپ کی حیات کا ایک ایک گوشہ اور ستر علوم وفنون پر ایک ہزار سے زائد تصانیف جس کے سچے شواہد اور منھ بولتے ثبوت ہیں ۔ نظر تقدیس الوہیت اورعظمت رسالت سے آشنا اور دل محبت الہی و عشق رسول میں سرشار تھا ۔

سنئے آپ خود فرماتے ہیں۔بحمد اللہ : اگر میرے قلب کے دوٹکڑے کئے جائیں تو خدا کی قسم ایک پر لاالہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ ہوگا۔ [الملفوظ جلد دوم صفہ ۱۶۷]۔


فاضل جامعہ ازہر کے اس اقتباس کو پڑھیے اور امام عشق و محبت قدس سرہ کے ناموس رسالت کی عظمت و شان کے لیے مرمٹنے کا جذبہ و ایثار دیکھیے۔۔

۔” ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ لمحہ ذکر خدا اور یاد مصطفی علیہ اجمل التحیۃ و الثناء سے معمور ہے پھیلا تو کائنات کی پنہائیوں کو سرشار کرتا گیا اور جب سمٹا تو عشق مصطفی بن کر رہ گیا ، یہی آپ کا ایمان تھا کہ جب حبیب کبریا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جان ایمان اور روح دین ہیں ۔ اسی کے پرچار میں آپ نے اپنی ساری عمر صرف کردی ، اسی کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں وقف کردیں”۔[پیر کرم شاہ ازھری، مقالات یوم رضا حصہ دوم صفحہ ۲۲]۔

حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کی خاطر عبادات میں سے سب سے افضل عبادت نماز اور وہ بھی درمیانی نماز یعنی نمازِ عصر کو آپ نے کریم آقا پر قربان کردیا ،نیزہجرت کے موقع پر یار ِغار حضرت ابوبکر صدیق ِاکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو جاں نثاری کی مثال قائم کی ہے وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :۔

مَولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خَطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے۔
اور حفظِ جاں تو جان فُروضِ غُرَر کی ہے
ہاں تُو نے اُن کو جان اِنھیں پھیر دی نماز
پَر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فُروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجْوَر کی ہے


الغرض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شاہکار تعظیم اور بے مثال ادب و احترام کیا کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کے ادب و تعظیم کا صدقہ ہمیں بھی عنایت فرماے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرماے آمین۔


لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام مخلوق پر حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے۔
سپہ سالار محافظین ناموس رسالت امام احمد رضا رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں :معلوم ہوا کہ دین و ایمان محمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کا نام ہے،جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصلِ رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتا ہے۔ ( فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۶۸ )۔


سپہ سالار محافظین ناموس رسالت اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر جو تبلیغی کارنامے انجام دیے ہیں اس کی ایک جھلک آپ کی کتاب تمہید ایمان سے ملاحضہ فرمائیں :۔ پیارے بھائیو! السّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، اللہ تعالیٰ آپ سب حضرات کو اور آپ کے صدقے میں اس ناچیز، کَثِیْرُ السَّیِّئاٰت کو دین ِحق پر قائم رکھے اور اپنے حبیب مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی محبت ،دل میں سچی عظمت دے اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ کرے ۔ اٰمِیْنْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن ۔

تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: اِنااَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ( ۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا ‘‘ ( فتح: ۸ ، ۹ ) اے نبی! بے شک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو!تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو۔ مسلمانو! دیکھو دین ِاسلام بھیجنے ، قرآنِ مجید اتارنے کا مقصود ہی تمہارے مولیٰ تبارک و تعالیٰ کا تین باتیں بتانا ہے

اول یہ کہ لوگ اللہ و رسول پر ایمان لائیں

دوم یہ کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کریں
سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں رہیں

مسلمانو!ان تینوں جلیل باتوں کی جمیل ترتیب تو دیکھو،سب میں پہلے ایمان کوفرمایا اور سب میں پیچھے اپنی عبادت کو اور بیچ میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کو، اس لیے کہ بغیر ایمان، تعظیم بیکار ہے اور کار آمد نہیں ، بہتیر ے نصاری (یعنی بہت سے عیسائی ایسے) ہیں کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفعِ اعتراضاتِ کافرانِ لئیم (یعنی کمینے کافروں کے اعتراضات دور کرنے) میں تصنیفیں کرچکے ،لکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے کچھ مفید نہیں کہ یہ ظاہری تعظیم ہوئی دل میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی عظمت ہوتی تو ضرور ایمان لاتے

پھر جب تک نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی تعظیم نہ ہو عمر بھرعبادتِ الہٰی میں گزارے سب بیکارو مردود ہے، بہتیرے (یعنی بہت سے) جوگی اور راہب ترکِ دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکر و عبادتِ الہٰی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں کہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ کا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے ہیں مگر اَزانجاکہ مُحَمَّدٌ دل میں مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِٖ وَسَلَّمَ کی عظمت بہت عظیم ہے ۔ ہاں ہاں ماں باپ اولاد اور سارے جہان سے زیادہ ہمیں حضو ر کی محبت عزیز ہے۔

بھائیو!خدا ایسا ہی کرے مگرذرا کان لگا کر اپنے رب کا ارشادسنو ۔ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ’’ الٓمّٓۚ( ۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ‘‘ ( عنکبوت: ۱ ، ۲ ) کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔

یہ آیت مسلمانوں کو ہوشیار کر رہی ہے کہ دیکھوکلمہ گوئی اور زبانی اِدِّعائے مسلمانی پرتمھارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں ہاں سنتے ہو!آزمائے جاؤگے، آزمائش میں پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے ۔ہر شے کی آزمائش میں یہی دیکھا جاتا ہے کہ جو باتیں اس کے حقیقی واقعی ہونے کو درکار ہیں وہ ا س میں ہیں یانہیں؟ ا بھی قرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کو دوباتیں ضروری ہیں :۔
۔(1) محمد رسول اللہ ﷺکی تعظیم
۔(2) اورمحمد رسول اللہ ﷺَ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم
تو اس کی آزمائش کا یہ صریح طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم، کتنی ہی عقیدت ، کتنی ہی دوستی، کیسی ہی محبت کا علاقہ ہو، جیسے تمہارے باپ ،تمہارے استاد،تمہارے پیر ،تمہارے بھائی ، تمہارے احباب، تمہارے اصحاب،تمہارے مولوی ،تمہارے حافظ،تمھارے مفتی ،تمھارے واعظ وغیر ہ وغیرہ کَسے باشَد

جب وہ محمد رسول اللہ ﷺَ کی شانِ اقدس میں گستاخی کریں ، اصلاً تمہارے قلب میں ان کی عظمت ان کی محبت کا نام ونشان نہ رہے فوراً ان سے الگ ہوجاؤ ،دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو، اُن کی صورت اُن کے نام سے نفرت کھاؤ، پھرنہ تم اپنے رشتے، علاقے، دوستی، اُلفت کا پاس کرو، نہ اس کی مَولَوِیَّت،شَیْخِیَّت، بزرگی ، فضیلت کو خطرے میں لاؤ کہ آخر میں یہ جو کچھ تھا محمد رسول اللہ ﷺَ ہی کی غلامی کی بنا پر تھا جب یہ شخص انہیںکی شان میں گستاخ کیا پھرہمیں اس سے کیا علاقہ رہا، اس کے جُبّے عمامے پر کیا جائیں ، کیا بہتیرے (یعنی بہت سے) یہودی جبے نہیں پہنتے؟۔ عمامے نہیں باندھتے ؟ ۔

اس کے نام علم و ظاہری فضل کو لے کر کیا کریں ، کیا بہتیر ے پادری ، بکثرت فلسفی بڑے بڑے علوم وفنون نہیں جانتے اوراگر یہ نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابل تم نے اس کی بات بنانی چاہی، اُس نے حضور سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نباہی، یا اسے ہر برے سے بدتر برا نہ جانا، یا اسے برا کہنے پر برا مانا،یا اسی قدر کہ تم نے اس امر میں بے پرواہی منائی، یا تمہارے دل میں اُس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئی تو لِلّٰہ ! اب تمھیں انصاف کر لو کہ تم ایمان کے امتحان میں کہاں کام یاب ہوے ،قرآن و حدیث نے جس پر حصولِ ایمان کا مدار رکھا تھا اس سے کتنی دورنکل گیے۔

مسلمانو!کیا جس کے دل میں محمد رسول اللہ ﷺَ کی تعظیم ہوگی وہ ان کے بد گو کی وقعت کرسکے گا اگر چہ اُس کا پیر یا استادیا پدر ہی کیوں نہ ہو ، کیا جسے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں وہ ان کے گستاخ سے فوراً سخت شدید نفرت نہ کرے گا اگر چہ اس کا دوست ،یابرادر، یا پِسر ہی کیوں نہ ہو ، للہ اپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنو۔

امام اہل سنت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ پوری زندگی عشق رسول کا جام پلاتے رہے اور تبلیغ ناموس رسالت، و تحفظ ناموس رسالت کے لیے قلم کی روشنائی خشک فرماتے رہے لیکن جب فانی زندگی کو خیر باد کہنے کا وقت آیا تو اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عظمت، عصمت پر مر مٹنے کا درس دیتے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

جس سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں ادنی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو ، اس سے جدا ہوجاؤ ، جس کی بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخی دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ ، معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو۔[وصایا شریف از امام احمد رضا ]۔

تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے
تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

 

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top