حیات و خدمات

تدریس و افتا کے شاہ کار تھے امام العلما

از قلم۔ نازش مدنی مرادآبادی تدریس و افتا کے شاہ کار تھے امام العلما

تدریس و افتا کے شاہ کار تھے امام العلما

ماہرین رضویات میں جن شخصیات کے اسماء مبارکہ سرفہرست ہیں ان میں امام العلماء استاذ الفقہاء جامع معقول ومنقول حاوی اصول و فروع شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا مفتی شبیر الحسن مصباحی رضوی قدس سر العزیز کا اسم گرامی بھی انتہائی نمایاں نظر آتا ہے

آپ علیہ الرحمہ ایک کہنہ مشق اور باریک بیں مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حقیقی استاد بھی تھے اور کیوں نا ہو کہ جن کی تدریس کے بارے میں بلبل ہند حضور مفتی اعظم نانپارہ علیہ الرحمہ فرماتے ہوں کہ ” علماء تو بہت ملے مگر مدرس صرف ایک ملے اور وہ مفتی شبیر حسن ہیں (معارف بلبل ہند ص:-775)

فراغت کے بعد حضور مفتی نانپارہ علیہ الرحمہ کے حکم پر آپ علیہ الرحمہ کا حضرت ہی کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ عزیز العلوم نانپارہ ضلع بہرائچ میں بحیثیت صدر المدرسین تقرر ہوا جہاں آپ نے تقریباً دس سال تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے اور علما کی بڑی جماعت تیار کی

پھر اس کے بعد حضرت علامہ مفتی نعمان رضا خاں علیہ الرحمہ کے حکم پر عظیم درسگاہ جامعہ اسلامیہ روناہی میں تقریباً 43 سال تک تشنگان علوم نبویہ کو سیراب کیا آپ. علیہ الرحمہ نے تدریس کو حرز جاں بنائے ہوئے تھا یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ تا حین حیات اس منصب جلیلہ سے سبکدوش نہیں ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ دور حاضر میں پورے ہندوستان میں نئی نسل کے جملہ علماء بالواسطہ یا بلا واسطہ آپ کے فیض یافتہ ہیں اور شاگردوں میں شامل ہیں۔ تو مبالغہ نا ہوگا

دوسری جانب میدان فقہ و افتاء میں بھی آپ منفر المثال نظر آتے ہیں اور کیوں نا ہوں کہ جس کے تالامذہ میں سراج الفقہاء حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی (صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ مبارک پور) ۔

جیسے عظیم محقق اور استاذ العلماء مفتی معراج القادری علیہ الرحمہ اور مفتی شمس الہدی مصباحی جیسے عظیم فقہا شامل ہوں تو اس کا فقہ و افتاء میں کیا مقام اور گیرائی حاصل ہوگی اس لیے کہ یہ مسلم ضابطہ ہے کہ شاگر استاد کی عکاسی کرتا ہے جبھی تو ایسے نابغایہ روزگار علماء و فقہاء آپ علیہ الرحمہ کے تلامذہ میں شامل ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا

آپ علیہ الرحمہ کے فتاوٰی انتہائی تحقیق پر مشتمل اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ کے فتاوی کے عکاس ہوا کرتے ہیں ۔امید ہے ان فتاویٰ کو قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے تلامذہ جلد ہی منظر عام پر لائیں گے
اللہ جل مجدہ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی تربت اطہر پر رحمت و نور کی بارشیں نازل فرمائے اور حضرت کے فیضان سے ہم سب کو مسفیض و مستنیر فرمائے
آمین. بجاہ طہ و یس

از قلم ۔ نازش مدنی مرادآبادی

ان مضامین کو بھی پڑھیں

امام العلما حضور مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کا سوانحی خاکہ

حضرت امام العلما علامہ مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

وجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

 موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

 آزمائش کا زمانہ ہے امت کو بچانا ہے

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

معاشرہ کی تعمیر میں دینی مدارس کا کردار

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*