حالات حاضرہ

تریپورہ کی جیل میں ختم قادریہ آپ کے بلند حوصلوں کوسلام

از قلم : عقیل احمد فیضی تریپورہ کی جیل میں ختم قادریہ آپ کے بلند حوصلوں کوسلام

تریپورہ کی جیل میں ختم قادریہ آپ کے بلند حوصلوں کوسلام

یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا
ہرمدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

عزیز قارئین کرام

آج ہندوستان کے جو حالات ہیں اس سے ہر کس و نا کس واقف ہے ، لٹتی عزتیں ، جلتے گھر ، روتے بلکتے مظلومین ، محبوب خدا کی عزت و عظمت پر حملے، خود ذات کبریائی میں غلاظت بھرے جملے ، یہ سب کچھ سر بازار ہورہا ہے جس سے ہر غیرت مند مسلمان نالاں کناں ہے

لیکن میرے عزیز یہ حالات کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی جب جب قوم غفلت کی نیند سوئی ہے جب جب جبہ و دستار کے مالکان نے عیش پرستی ، اور بزدلی کی چادر اوڑھی ہے تب تب یہ حالات ہوئے ہیں قوم کو یرغمال بنایا گیا ہے ، ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا گیا ہے

لیکن پھر مشیت نے کسی مرد مجاہد کو , کسی مرد قلندر کو میدان میں بھیجا ہے اور اس نے بر سر ممبر و محراب باطل قوتوں کو للکارتے ہوئے کہا ہے ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں ، وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں۔

عزیمت کی راہ اختیار کرنے والی ، اپنے پیچھے منزلوں کا نشان چھوڑنے والی انھیں محترم شخصیات میں سے ایک نام قمر عثمانی کا بھی ہے
عزیز قارئین کرام

ہو سکتا ہے کہ آپ کو لگے کہ مولانا جذباتی ہو گئے ہیں یا عقیدت میں بو لے جا رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے میرے پیارے میں نے بہت قریب سے عثمانی صاحب کو دیکھا اس کے بعد یہ لکھ رہا ہوں میں اپ کے سامنے اس مرد مجاہد کےحوصلے کی چند جھلکیاں رکھتا ہوں

۔ 1 کشمیر سے 370 ہٹا چاروں طرف سناٹا چھا گیا لوگ خوف و ہراس میں تھے پھر بھی یہ مجاہد دوڑ پڑا رفقا نے کہا ہم کیا کر سکتے ہیں جواب آیا ہم کچھ نہیں کر سکتے تو اپنے بھائیوں کی مزاج پرسی کریں گے۔

۔2  نرسمہا نند نے گستاخی کی ، احتجاج و ایف آئی آر کے بعد حکومت نے ایک نہیں سنی (اور اسے سننا بھی نہیں تھا ) تب اس مرد مجاہد نے اعلان کیا کہ ہم جیل بھرو آندولن کریں گے ، رفقا نے کہا قوم ایک ایف آئی آر سے گھبراتی ہے وہ جیل میں کیسے جائیگی جواب آیا نہیں آتی ہے نا آئے جب تک گستاخ باہر گھوم رہا ہے ہم خاموش نہیں رہ سکتے،

۔ 3  یہ معاملات ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنتر منتر دہلی میں علی الاعلان ذات باری تعالی کو گالیاں دی گئیں تمام مذہبی جماعتیں خاموش رہیں الا ما شاء اللہ اس وقت یہ پھر مرد مجاہد اٹھ کھڑا ہوا چند جیالوں کو لے کر جنتر منتر پہنچ گیا اور حکومتی کارندوں کی آنکھوں میں آکھیں ڈال کر اعلان کیا کہ ابھی عاشقان مصطفے زندہ ہیں لہذا اسلام دشمنی سے باز آ جاؤ ورنہ یہ عشاق اپنے سروں کو ہتھیلی میں رکھ کے میدان میں آئیں گے

عزیز قارئین کرام
اس طرح سے ایک نہیں سینکڑوں کام ، خواہ وہ تحفظ ناموس رسالت ہو ، تحفظ شریعت ہو ، تحفظ حقوق مسلمین ہو ہر جگہ یہ مرد مجاہد سرگرم عمل ہے ، ابھی حالیہ دنوں جب تریپورہ میں مسلم مخالف فساد ہوا ، مسجدیں جلا دی گئیں ، جلوس میں گستاخانہ نعرہ لگائے گیے۔

جب اس کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعہ عام ہوئیں تو عثمانی صاحب ایک ٹیم لے کر تریپورہ پہنچے تو انھیں ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ جیسا کہ ظالم حکمران ان ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے کرتے ہیں اب تک وہ جیل میں ہیں آج 17 نومبر بروز بدھ جب کچھ لوگ حضرت سے ملنے جیل گئے تو بتایا کہ ان کے ماتھے پر ذرہ برابر شکن نہیں ہے جیل میں بھی ختم قادریہ اور دیگر معاملات جاری ہیں اللہ تعالی کی بار گاہ میں دعا ہیکہ ہمارے سینوں میں بھی ایسے حوصلے پیدا فرمائے

عزیز قارئین کرام
یہیں پر ٹھہر کر ایک بات اور بتاتا چلوں کہ آج بہت افسوس ہو رہا ہے افسوس اس بات کا نہیں کہ ان کو گرفتار کیا گیا، سنگین الزامات لگائے گئے، جیل بھیجا گیا بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ کروڑوں ہندوستانی مسلمان بشمول بڑے بڑے طرم خاں کی زبانوں سے چند کلمات بھی نہیں نکلے بجز چند کے اللہ انہیں جزائے خیر دے ، ایسا لگا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں کوئی عام آدمی تھا پولیس نے پکڑا ہے چھوڑے گی تو چھوڑ دے گی ورنہ جیل میں رہے گا ۔

عزیز قارئین کرام
اب آپ سب خود منصفانہ فیصلہ کریں کہ ہم نے تمہید میں جو باتیں کہیں وہ محض جذباتی ہیں یا حقیقت ؟؟ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ ڈاکٹر اقبال کے اسی شعر پر اپنی گفتگو تمام کرتا ہوں کہ

یہ رتبہ بلند ملا ، جس کو مل گیا
سب کے نصیب میں دار و رسن کہاں

عقیل احمد فیضی
خادم :  تحریک فروغ اسلام
رابطہ :   9473962637
18 نومبر 2021 بروز جمعرات

درگاہ اعلی حضرت پر بانی تحریک فروغ اسلام کی رہائی کے لیے ختم قادریہ ہوا اور ارسلان میاں نے کی خاص دعاء

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی گیارہویں شریف

جاہلانہ رسومات و بدعات کے خلاف امام احمد رضا خان محدث بریلی کے فتوے

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اغیار کی نظروں میں

اعلیٰ حضرت کے تعلیمی افکار کی عصری معنویت

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

اس کو پڑھیں: حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ وعلیہ بحیثٰت استاذ

تعلیمات حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ضرور مطالعہ کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*