تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت قسط دوم

تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت قسط دوم

تحریر: طارق انور مصباحی تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت قسط دوم قسط اول پڑھنے کے لیے کلک کریں

تکفیر دہلوی اورعلماے اہل سنت وجماعت

مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ القوی نے اسماعیل دہلوی پر کفر کلامی کا صحیح فتویٰ دیاتھا تو اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔متعددسوال وجواب قسط اول میں مرقوم ہوئے۔ چند سوالا ت وجوابات قسط دوم مذکورہیں۔قسط سوم میں تکفیر دہلوی سے متعلق علمائے اہل سنت وجماعت کے ایک تحقیقی اور دو الزامی جوابات کا ذکر ہے۔

واضح رہے کہ عذر کے وقت کے احکام الگ ہیں اور عام حالا ت کے احکام الگ۔ دونوں قسم کے احکام میں خلط ملط کرنے سے معاملہ مشکل ہو جاتا ہے اور ذہن میں طرح طرح کے خیالات جنم لینے لگتے ہیں۔

سوال:جس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کوئی دینی بات سماعت کی اور وہ اس وقت تنہا تھے،تو وہ امر دینی خاص ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہے،لیکن وہ جب روایت کریں تو دوسروں کے حق میں وہ امردینی،ضروری دینی نہیں ہوگا،کیوں کہ غائبین کو خبر واحد کے ذریعہ وہ بات معلوم ہوئی۔

اسی طرح جس عالم نے تحقیق کامل کے بعدکسی پر کفر کلامی کا صحیح حکم عائد کیا توان کی نظر میں وہ کافر کلامی ہو، لیکن دوسروں کی نظر میں وہ کسی سبب سے کافر کلامی نہ ہو تو اس میں کیا حرج ہے؟جیسے ایک ہی امر ایک صحابی کے یہاں ضروری دینی ہے اوردوسروں کے یہاں ضروری دینی نہیں؟(رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

جواب:حاضرین دربار رسالت علیٰ صاحبہا التحیۃ والثنا کے لیے زبان اقدس سے سماع کے سبب کوئی امر دینی ضروری دینی ہوجائے گا،لیکن غائبین کے لیے صرف وہ امردینی، ضروری دینی ہوگا جو ان کو تواتر سے ملے۔جو خبر واحد کے ذریعہ موصول ہو، وہ نفس الامر کے اعتبارسے غائبین کے لیے ضروری دینی نہیں۔ حاضرین کے سماع کی جگہ غائبین کے لیے تواتر ہے۔ حاضرین وغائبین کے لیے ضروری دینی کا معیار الگ ہے۔

ایک مسئلہ عذر کی صورت کا ہے کہ کوئی امر دینی متواتر ہے اور وہ تمام غائبین کے لیے ضروری دینی ہے،لیکن غائبین میں سے کسی کو اس کے ضروری دینی ہونے کا علم ظنی یا علم قطعی نہ ہو،اس نے لاعلمی کی حالت میں انکار کردیا تو اس پر شرعی حکم وار د نہیں ہوگا۔یہ حکم صرف معذورین کے لیے ہے۔

ضروری دینی پر مطلع و باخبر مسلمانوں کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔

الحاصل ضروری دینی سے متعلق حاضرین وغائبین کے لیے جدا گانہ معیار ہے۔کفر کلامی یہ ہے کہ ضروری دینی کا قطعی بالمعنی الاخص انکار ہو،یعنی عدم انکار کا احتمال بعید واحتمال قریب نہ ہو۔ایسا آدمی کافر کلامی ہے۔ اب اگر کوئی اسے کافر فقہی کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ضروری دینی کے قطعی بالمعنی الاخص انکار کو وہ کفر فقہی قراردیتا ہے۔

اگر کامل تحقیق اس کو میسر نہیں تو مشروط طورپر کہہ سکتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کہا ہے تووہ کافر کلامی ہے،یا یہ کہے کہ ایسا کہنے والا کافر کلامی ہے،یا ایسا قول کفر کلامی کا ہے۔

جس کے پاس ایک کر و ڑ روپے ہو،اس کو معاشرہ میں مالدار مانا جاتا ہے۔بکرکے پاس پچاس کروڑ ہے۔زید کو صرف تین آدمی نے خبر دیا کہ بکر کے پاس پچاس کروڑ ہے۔ اب زید کہے کہ بکر کے پاس پچا س کروڑ ہونے کی خبرمجھے تواتر سے نہیں مل سکی،لہٰذا میری نظر میں وہ فقیر ہے،مالدار نہیں تو کیا یہ بات قابل قبول ہوگی؟ہر گز نہیں۔

اسے کہا جائے گا کہ آپ تحقیق کریں،اوراپنی معلومات کو درست کریں۔ہاں، زید یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے یقینی خبر نہیں مل سکی ہے،اس لیے ابھی میں فیصلہ نہیں کرسکتا ہوں،نہ کہ اپنی ناقص معلومات کے مطابق غلط فیصلہ کرے۔

کوئی کہے کہ مجھ کوفلاں ضروری دینی کا علم تواتر سے نہیں ہوسکا تومیں اس کو ضروری دینی نہیں مانوں گا،بلکہ ضروریات اہل سنت سے مانوں گا تو کیا یہ بات صحیح ہے؟ہر گزنہیں۔ اسے یہی کہا جائے گا کہ مزید لوگوں سے معلوم کرلیں،تاکہ آپ کومتواتر علم حاصل ہوجائے۔

جب تحقیق کامل کے بعد کسی ملزم پر کفر کلامی کا صحیح حکم صادر ہوگیا تو اس کوکافر ماننا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔جس کو علم ہے کہ اس پر کفر کلامی کا صحیح حکم عائد ہوچکا ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس کو کافر کلامی مانے۔اس صحیح فتویٰ کونظر انداز کرکے کوئی جدید تحقیق شروع کردے اور متکلم یا تکلم میں کسی احتمال کے سبب اس حکم کفرکاانکار کرنا چاہے،گر چہ کلام کفر ی معنی میں متعین ومفسر ہو تو ایسا حکم شریعت میں نہیں ہے۔یہ نئی شریعت گڑھنا ہے۔

امام احمدرضا قادری نے اشخاص اربعہ سے متعلق بہت سے مقامات پر رقم فرمایا کہ جو ان کے کفرمیں شک کرے،وہ کافر ہے۔ یہ کہیں نہیں فرمایا کہ میری تحقیق میں یہ لوگ کافر ہیں، جس کی تحقیق میں یہ کافر نہیں،وہ کافر نہ مانے تو کوئی حرج نہیں۔

امام احمدرضا قادری اور تکفیر دہلوی کی خبر

بالفرض اگر اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی ہوئی تھی تو تکفیردہلوی کاذکر صرف تحقیق الفتویٰ یا سیف الجبار میں نہیں تھا،بلکہ علمائے اہل سنت اس تکفیر کا ذکر تواتر کے ساتھ کرتے آرہے تھے۔ ۰۴۲۱؁ھ میں تحقیق الفتویٰ مرقوم ہوئی۔اس پرسترہ علمائے کرام کے دستخط ہوئے،پھر وہ فتویٰ علمائے حر مین طیبین کوبھیجا گیا،وہاں سے تصدیق آئی۔یہ ساری باتیں متواتر ہیں۔

1240ھ میں تحقیق الفتویٰ میں دہلوی کا حکم بیان ہوا۔32:سال بعد 1272ھ میں امام اہل سنت کی پیدائش ہوئی۔بہت طویل وقفہ بھی نہیں۔ نہ بریلی سے دلی بہت دور،نہ ہی بدایوں بہت دور۔اسماعیل دہلوی نہ کوئی غیر معروف شخص تھا، نہ ہی اس کے فتنے بند یاکمزورہوئے تھے۔

دہلوی کے معتقدین مقلد اورغیر مقلد دو حصوں میں منقسم ہوکر ہرجگہ اسماعیلی مذہب پھیلا رہے تھے۔علمائے اہل سنت ہرچہار جانب سے اس کارد وابطال کر رہے تھے۔

تقویۃ الایمان کے رد میں ایک روایت کے مطابق ایک سوسے زائد کتب ورسائل لکھے گئے۔ایسی صورت میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی کی روایت کا تواتر کے ساتھ امام اہل سنت تک پہنچنا کون سا بعید ہے،جب کہ امام موصوف کا مشغلہ بھی رد وہابیہ ودیابنہ تھا۔ کسی غیر متعلق شخص کے بارے میں یہ خیال گزرسکتا ہے کہ اس کوخبر نہ ہوئی ہوگی۔
امام اہل سنت قدس سرہ القوی کو تکفیر دہلوی کی اطلاع ضرور تھی۔اسی سے متعلق سوالات ہوئے تو حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیزکی زندگی میں ”الموت الاحمر“ تصنیف فرمائی اور سوالوں کے جواب دئیے۔ امام اہل سنت نے اس کتاب کا ذکر ”الطاری الداری (ص83-حسنی پریس بریلی) میں بھی کیا ہے۔یہ کتاب امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان (۲۷۲۱؁ھ-۰۴۳۱؁ھ)کی حیات میں ہی 1337ھ میں شائع ہوئی۔

اگرامام احمد رضا قادری کو خبر واحد کے ذریعہ دہلوی کی تکفیر کلامی کا ظنی علم ہوا تو ظنی علم بھی شریعت میں معتبر ہے۔گرچہ ظنی علم ہونے پر کوئی ضروری دینی کا انکار کرے توحکم کفر عائد نہیں ہوگا،لیکن منکر کی تضلیل ہوگی۔بہت سے فقہا لاعلمی کی حالت میں بھی ضروری دینی کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں۔

ظنی علم پر تضلیل کا حکم درج ذیل فتویٰ سے ظاہر ہے۔

مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اسماعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان کو حق جانتا ہو، اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے،یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:اگر اس کے ضلالت وکفریات پر آگاہی ہوکر اسے اہل حق جانتا ہوتو خود اس کی مثل گمراہ بددین ہے،اور اس کے پیچھے نماز کی اجازت نہیں۔
اگر نادانستہ پڑھ لی ہو تو جب اطلاع ہو، اعادہ واجب ہے:کما ہو الحکم فی سائر اعداء الدین من المبتدعین الفسقۃ المردۃ المفسدین۔

اور اگر آگاہ نہیں تو اسے اس کے اقوال ضالہ دکھائے جائیں،اس کی گمرہی بتائی جائے۔رسالہ الکوکبۃ الشہابیہ بطور نمونہ مطالعہ کرایا جائے۔اگر اب بعد اطلاع بھی اسے اہل حق کہے تو وہی حکم ہے، اور اگر توفیق پائے، حق کی طرف فا خوانکم فی الدین -واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(فتاویٰ رضویہ جلد سوم:ص189-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح:منقولہ بالا عبارت میں ہے کہ اس شخص کو الکوکبۃ الشہابیہ مطالعہ کرایا جائے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اسماعیل دہلوی کو اہل حق جانتا ہے تووہ اسی کی طرح گمراہ ہے۔

الکوکبۃ الشہابیہ ایک عالم دین کی کتاب ہے۔ جب ایک فرد کوئی خبر دے تووہ ظنی ہوگی۔ قطعی ویقینی نہیں ہوگی۔ اسماعیل دہلوی کے کفریات کی ظنی خبرپاکر انکار کرنے پربھی اس کو گمراہ تسلیم کیا گیا ہے۔

دراصل تکفیرکلامی،تکفیرفقہی اورتضلیل کے شرائط الگ ہیں۔
تکفیر کلامی کے لیے لازم ہے کہ منکر کو ضروری دینی کا قطعی علم ہو۔تضلیل اورتکفیر فقہی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ منکر کو ضروری دینی کاقطعی بالمعنی الاخص علم ہو۔

گرچہ یہاں ایک عالم کی تحریر سے شخص مذکور کو دہلوی کی گمرہی کا ظنی علم ہوا، اور قطعی علم حاصل نہ ہوسکا،لیکن تضلیل کے لیے یہ ضروری نہیں کہ منکر کو قطعی علم ہو۔

کافرکلامی کوکافرماننا ضروری دینی:

کافر کلامی کوکافرماننا ضروریات دین سے ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ متکلمین صرف ضروریات دین کے انکار پر کفرکلامی کا حکم دیتے ہیں،ضروریات اہل سنت کے انکار پر نہیں۔

کافرکلامی کو کافر نہ ماننے پر متکلمین کفر کا حکم دیتے ہیں۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ کافر کلامی کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے،ورنہ متکلمین انکارپرحکم کفر عائد نہیں فرماتے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے ایک سوال کے جواب میں رقم فرمایا:
”جوان کے خیالا ت وحالات پر مطلع ہوکر انہیں عالم جانے،یا قابل امامت مانے، ان کے پیچھے نماز پڑھے،وہ بھی انہیں کی طرح کافر ومرتد ہے کہ: من شک فی کفرہ فقد کفر۔

اس کے لیے حسام الحر مین کی وہ عبارتیں کہ سوال سوم میں مذکور ہوئیں،کافی ہیں۔ یوں ہی جوان احکام ضروریات اسلام کو کہے:یہ مولوی کے جھگڑے ہیں،وہ بھی کافر ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص109-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح:مذکورہ عبارت سے واضح ہے کہ کافر کلامی کوکافرماننا ضروریات دین سے ہے۔ جوکہے کہ یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں،وہ ضروری دینی کے انکار اور اس ضروری دینی کے استخفاف کے سبب کافر ہے۔واضح رہے کہ کوئی ایسا ضروری دینی نہیں ہے کہ جاہل کے لیے ضروری دینی ہو،اور مفتی کے لیے ضروری دینی نہ ہو۔

دین خداوندی کے ضروریات دین جاہل ومفتی،مقلد ومجتہد سب کے لیے برابر ہیں۔ کفر کلامی کے صحیح فتویٰ کا علم یقینی ہونے کے بعد جو بھی اس کافر کلامی کو مومن مانے،یا اس کے کفر میں شک کرے،وہ کافر ہے۔

ضروریات دین کے انکار کی مختلف صورتیں:

(1)ضروری دینی کا جب قطعی علم ہوجائے تواس کا انکار کفر کلامی ہے۔

(2)ضروری دینی کا ظنی علم ہونے پر انکار کرے توحکم ضلالت ہے۔
مثلاً کسی جاہل مسلمان کو اس کی نظر میں کوئی معتمداورقوی العلم عالم دین بتائے کہ روزہ رکھنا فرض ہے۔اس کا انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے یعنی اسلام سے نکل جاتا ہے۔چوں کہ ایک عالم نے اس جاہل کو خبر دی تھی تویقین حاصل نہیں ہوگا،کیوں کہ تواتر کے ساتھ معلوم نہیں ہوا، لیکن ظن ضرور حاصل ہوگا،کیوں کہ وہ عالم اس کی نظرمیں معتمد عالم دین ہے۔

اب اس جاہل نے روزہ کی فرضیت کا انکار کر دیا توقطعی علم نہ ہونے کے سبب اس انکار پر حکم کفرنہیں ہوگا،لیکن حکم ضلالت عائد ہوگا۔ظنی علم بھی شریعت میں معتبر ہے۔

ضروری دینی کا لزومی انکار ہوجائے تو فقہائے کرام کفر فقہی کا حکم عائدفرماتے ہیں۔ یہاں صریح انکار ہے تو کفر فقہی سے کون سا امر مانع ہے؟گرچہ علم قطعی نہ ہونے کے سبب کفر کلامی کا حکم عائد نہ ہوگا۔لیکن ضلالت وگمرہی کا حکم عائدہوگا۔

(3)اگر کسی عالم کو کسی ضروری دینی کا علم ظنی طورپر ہوا۔اس نے یہ سمجھا کہ گرچہ یہ ضروری دینی ہے،لیکن مجھے تو اس کا قطعی علم نہیں تو اس کے انکار پر مجھ پر حکم کفر نہیں ہوگا۔

یہ سمجھ کر اس نے اس ضروری دینی کا انکار کر دیا تو وہاں استخفاف بالدین اور تلاعب بالدین پایا جارہا ہے، اور استخفاف بالدین وتلاعب بالدین کفر ہے۔

(4)جب بقول بعض حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی نے اسماعیل دہلوی پر کفر کلامی کا فتویٰ دیا تھا تو اس کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔
زید کو ظنی طورپر معلو م ہواکہ حضرت علامہ خیرآبادی نے اسماعیل دہلوی کو کافر کلامی قرار دیا ہے۔اب وہ دہلوی کوکافر کلامی نہ مانے تووہ گمراہ قرار پائے گا۔

اگر زید کو علم قطعی حاصل ہوگیا کہ اسماعیل دہلوی کوعلامہ خیرآبادی نے کافرکلامی قرار دیا ہے،اس کے باوجود زید اسماعیل دہلوی کوکافر کلامی نہ مانے تووہ یقیناکافرہے۔

اگر زید یہ کہتا ہے کہ حضرت علامہ خیرآبادی نے کفر کلامی کا فتویٰ نہیں دیا تھا،کیوں کہ دہلوی کے کلام میں احتمال تھا تو ضرور اس کی بات کی تصدیق کی جائے گی،کیوں کہ حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیزنے بھی یہ صراحت نہیں فرمائی ہے کہ یہ کافرکلامی ہے۔

تحقیق الفتویٰ کی عبارتیں واضح دلیل ہیں کہ دہلوی کی عبارتوں میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا استخفاف قطعی بالمعنی الاخص نہیں،پھر کفرکلامی کا حکم کیوں کر ہوگا؟

من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کی توضیح:

اگر”من شک فی کفر ہ فقدکفر“کی یہ تاویل کی جائے کہ جس کی تحقیق میں اس ملزم کا کافر ہونا ثابت ہوجائے،بس اسی کے لیے حکم ہے کہ وہ اس ملزم کوکافر مانے تویہ تاویل سلف وخلف کے خلاف ہے۔کافرکلامی کوکافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔ضروری دینی کا علم ہونا ضروری ہے۔ایسا نہیں کہ جس کی تحقیق میں ثابت ہوجائے کہ یہ ضروری دینی ہے تو وہ مان لے،اورجس کی تحقیق میں ثابت ہوکہ یہ ضروری دینی نہیں ہے تو وہ نہ مانے۔

حکم کا مدار ضروری دینی کے علم پر ہے۔ ضروری دینی کی شخصی تحقیق پر نہیں،ورنہ ہرایک کو تمام ضروریات دین میں شخصی تحقیق کرنے کا حکم ہوتا،جب کہ ہر مسلمان اس کا اہل نہیں۔

امام احمدرضا قادری نے کافر کلامی سے متعلق بہت سے مقامات پر رقم فرمایا کہ جو اس کے کفرمیں شک کرے،وہ کافر ہے۔ یہ کہیں نہیں فرمایا کہ میری تحقیق میں یہ کافرہے،جس کی تحقیق میں یہ کافر نہیں ہے،وہ کافر نہ مانے۔ضروری دینی میں نئی راہ اختیار کرنے کا حکم نہیں۔

قطعی اعتقادیات میں بیک وقت دو حکم صحیح نہیں ہوسکتے۔ان میں سے ایک یقینا غلط ہوگا۔

اس موقع پر وہ عبارتیں پیش کی جاتی ہیں، جن میں یہ ہے کہ لاعلمی کے سبب کسی ضروری دینی کا انکار کر دیا تو حکم کفر نہیں،اور کسی کو امر متواتر کا علم نہیں تو وہ اس کے لیے متواتر نہیں۔

واضح رہے کہ عدم علم کے سبب اس منکر پر حکم شرعی عائد نہیں ہوگا،یعنی وہ معذور قرار پائے گا،لیکن وہ امر دینی،نفس الامر کے اعتبارسے اس کے حق میں بھی ضروری دینی ہی رہے گا۔ کسی کے عدم علم سے کسی ضروری دینی کا ضروری دینی ہونا معدوم نہیں ہوگا،نیز جب اس لاعلم کو علم ہوجائے تو اس علم کے مطابق حکم وارد ہوگا،جیسے ضروری دینی کا ظنی علم ہوگیا،اس کے باوجود انکار کیا تو حکم ضلالت عائد ہوگا۔قطعی علم ہونے پر انکار کیا تو حکم کفر عائد ہوگا۔

اسی طرح جب امر متواتر کا علم ہوگیا تووہ اس کے حق میں متواتر ہوگیا۔

سوال:اگر یہ کہا جائے کہ ”من شک فی کفرہ فقد کفر“ کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے نزدیک اس ملزم کا کافرکلامی ہونا ثابت ہو جائے، وہ اسے کافرکلامی نہ مانے،تب وہ کافر ہے۔

اگرکسی کے نزدیک اس ملزم کا کافرکلامی ہونا ثابت نہ ہوسکے،اوروہ اسے کافر کلامی نہ مانے،تب وہ کافر نہیں۔

اس قول کا یہی مفہو م ہوا کہ ایک ہی آدمی کسی کے یہاں کافر کلامی ہو،اور کسی کی نظر میں کافر کلامی نہ ہوتو یہاں قطعیات میں دوفتویٰ ہوگیا۔آپ نے کہاکہ قطعیات میں ایک ہی حق ہے اور اس کے علاوہ سب باطل تویہاں دوصورتوں کا حکم کیسے بیان کیاگیا؟

جواب:یہ عذر کی صورت کا بیان ہے کہ کوئی کافر کلامی ہے،لیکن کسی کو اس کے کافر کلامی ہونے کی نہ یقینی خبر مل سکی، نہ ظنی خبر،بلکہ ایسے غیر معتبرذریعہ سے خبرملی کہ وہ شک میں مبتلا ہوگیا،ابھی نہ اس کو ظنی علم حاصل ہے,نہ قطعی علم۔اس شک کی حالت میں اس نے کافر کلامی کو کافر نہیں مانا تو وہ کافر نہیں,بلکہ وہ معذور ہے۔معذور کا حکم الگ ہوتا ہے اور غیر معذور کا حکم الگ۔

مسافر کو سفر کے سبب رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے۔مسافر ہونے کی حالت میں جتنے روزے چھوٹ گئے ہیں۔وہ بعد میں رکھ لے تو فرض ادا ہو جائے گا۔یہ عذر کا حکم ہے۔

جس کے پاس کوئی شرعی عذر نہیں,وہ رمضان میں روزہ نہ رکھے اور دوسرے دنوں میں اس کی قضا کرے تو وہ گنہ گار ہو گا۔معذور کے احکام غیر معذور کے لئے نہیں ہوتے ہیں۔

تحریر: طارق انور مصباحی
مدیر:  پیغام شریعت دہلی
اعزازی مدیر:  افکار رضا

قسط اول پڑھنے کے لیے کلک کریں 

ہندی میں مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top