جاہلانہ رسومات و بدعات کے خلاف امام احمد رضا خان محدث بریلی کے فتوے

جاہلانہ رسومات و بدعات کے خلاف امام احمد رضا خان محدث بریلی کے فتوے

مولانا شہزاد قادری ترابی جاہلانہ رسومات و بدعات کے خلاف امام احمد رضا خان محدث بریلی کے فتوے

جاہلانہ رسومات و بدعات کے خلاف امام احمد رضا خان محدث بریلی کے فتوے

شیخ الاسلام والمسلمین مجدد اعظم دین وملت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم فاضل تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں بیک وقت بہت سی خصوصیات کو جمع فرما دیا تھا۔

ایک طرف آپ ایک بہترین فقیہ تھے۔ آپ کی نظر علم تفسیر و تاویل اور احادیث نبوی پر بہت گہری تھی اور آپ کی علمیت اور اصابت رائے کے اپنے ہی نہیں بلکہ بیگانے بھی قائل تھے۔ آپ کی سب سے بڑی امتیازی خصوصیت ’’عشق رسول‘‘ ہے۔ ساری زندگی آپ نے مدح رسول میں صرف کی۔

امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ ان کی وجہ سے برصغیر پاک وہند میں بدعات کو فروغ حاصل ہوا اور دین میں ایسی نئی نئی باتیں پیدا ہوئیں جن سے شارع علیہ السلام کا دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔۔۔ لیکن جب ہم امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحریروں اور خاص طور پر ان کے فتاویٰ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بدعات کو فروغ دینے کا الزام نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ سراسر ان سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔

کھلے ذہن و دماغ کے ساتھ امام اہلسنت علیہ الرحمہ کی تحریروں اور فتاویٰ کے مطالعہ سے امام اہل سنت کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے وہ ایک ایسے داعی اور دینی رہ نما کی ہے جس نے اپنے زمانے میں شدت کے ساتھ اور باضابطہ طور پر بدعات و منکرات کے خلاف تحریک چلا رکھی تھی اور اپنے مخصوص مزاج کے مطابق ان کے خلاف بڑے ہی سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔

لہذا ہم اس کتاب میں ان تمام غیر شرعی رسومات اور وہ خرافات جن کی نسبت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی طرف جاتی ہے‘ آپ ہی کی کتب سے اس کی مخالفت ثابت کریں گے تاکہ عام مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ ان تمام خرافات اور بدعات کا امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور ان کے سچے مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اپنی غلط گمانی کا محاسبہ کریں نیز اندازہ لگائیں کہ انہوں نے بدعتوں کا سدباب کیا یا ان کو فروغ دیا۔ آج بھی ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کی کوشش کی جائے تو معاشرے میں نکھار آسکتا ہے۔ بدعات و منکرات کی بیخ کنی کے لئے تصنیفات امام احمد رضاعلیہ الرحمہ سے ہمیں بہت کچھ مل سکتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے یہی پیغام دیا اور ہر موڑ پر اسلامی احکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا سفر شوق آگے بڑھانے کی تلقین فرمائی۔

[ہم آج سے انشاءاللہ عزوجل اس بیان کا سلسلہ وار اسی پیج “کیا خیال ہے” پہ آغاز کر رہے ہیں، احباب سے گزارش ہے کہ ہمارے پیج کو جوائن فرما لیں اور جنہوں نہ جوائن کر رکھا ہے وہ وزٹ کرتے رہیں تاکہ بآسانی آپ تک ہماری پوسٹس پہنچتی رہیں اور آپ مستفید ہو سکیں۔ شکریہ]

بدگمانی حرام ہے

القرآن: یایھا الذین امنوا احتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم    ترجمہ : اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بے شک بعض گمان گناہ ہیں سورۂ حجرات آیت 12 پارہ 26 ۔

حدیث شریف: )برے( گمان سے دور رہو کہ )برے( گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔   صحیح بخاری‘ کتاب الادب‘ حدیث 6066‘ جلد 3ص 117 

بعض گمان گناہ ہیں
ایک مرتبہ امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ تنھا ایک گدڑی پہنے مدینہ طیبہ سے کعبہ معظمہ کو تشریف لے جارہے تھے اور ہاتھ میں صرف ایک تاملوٹ[یعنی ڈونگا] تھا۔ شفیق بلخی علیہ الرحمہ نے دیکھا تو دل میں خیال کیا کہ یہ فقیر اوروں پر اپنا بار یعنی بوجھ ڈالنا چاہتا ہے۔

یہ وسوسہِ شیطانی آنا تھا کہ امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا! شفیق۔۔۔ بچو گمانوں سے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ نام بتانے اور وسوسہ دلی پر آگاہی سے نہایت عقیدت ہوگئی اور امام کے ساتھ ہولئے۔

راستے میں ایک ٹیلے پر پہنچ کر امام صاحب نے اس سے تھوڑا ریت لے کر تاملوٹ یعنی ڈونگے میں گھول کر پیا اور شفیق بلخی سے بھی پینے کو فرمایا۔ انہیں انکار کا چارہ نہ ہوا جب پیاتو ایسے نفیس لذیذ اور خوشبودارستو تھے کہ عمر بھر نہ دیکھے نہ سنے۔ عیون الحکایات‘ حکایت نمبر 131ص 150/149 ۔

شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی میاں کچھوچھوی فرماتے ہیں کہ محدث بریلی علیہ الرحمہ کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے از اول تا آخر مقلد رہے۔ ان کی ہر تحریر کتاب و سنت اور اجماع و قیاس کی صحیح ترجمان رہی۔

نیز سلف صالحین و ائمہ مجتہدین کے ارشادات اور مسلک اسلاف کو واضح طور پر پیش کرتی رہی۔ وہ زندگی کے کسی گوشے میں ایک پل کے لئے بھی ’’سبیل مومنین صالحین‘‘ سے نہیں ہٹے۔ اب اگر ایسے کرنے والوں کو’’بریلوی‘‘ کہہ دیا گیا تو کیا بریلویت و سنیت کو بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا؟اور بریلویت کے وجود کا آغاز محدث بریلی علیہ الرحمہ کے وجودسے پہلے ہی تسلیم نہیں کرلیا گیا؟

مزارات اولیاء پر ہونے والے خرافات

اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے مزارات شعائر اﷲ ہیں‘ ان کا احترام و ادب ہر مسلمان پر لازم ہے‘ خاصان خدا ہر دور میں مزارات اولیاء پر حاضر ہوکر فیض حاصل کرتے ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے مولیٰ کے مزار پر حاضر ہوکر آپ سے فیض حاصل کیا کرتے تھ

پھر تابعین کرام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مزارات پر حاضر ہوکر فیض حاصل کیا کرتے تھے‘ پھر تبع تابعین‘ تابعین کرام کے مزارات پر حاضر ہوکر فیض حاصل کیا کرتے تھے‘ تبع تابعین اور اولیاے کرام کے مزارات پر آج تک عوام وخواص حاضر ہوکر فیض حاصل کرتے ہیں اور انشاء اﷲ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

لادینی قوتوں کا یہ ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ مقدس مقامات کو بدنام کرنے کے لئے وہاں خرافات و منکرات کا بازار گرم کرواتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے مقدس مقامات اور شعائر اﷲ کی تعظیم و ادب ختم کیا جاسکے۔ یہ سلسلہ سب سے پہلے بیت المقدس سے شروع کیا گیا۔ وہاں فحاشی و عریانی کے اڈے قائم کئے گیے‘ شرابیں فروخت کی جانے لگیں اور دنیا بھر سے لوگ صرف عیاشی کرنے کے لیے بیت المقدس آتے تھے ۔
معاذ اﷲ
اسی طرح آج بھی مزارات اولیاء پر خرافات‘ منکرات‘ چرس و بھنگ‘ ڈھول تماشے‘ ناچ گانے اور رقص و سرور کی محافلیں سجائی جاتی ہیں تاکہ مسلمان ان مقدس ہستیوں سے بدظن ہوکر یہاں کا رخ نہ کریں۔ افسوس کی بات تو یہ ہےکہ بعض لوگ یہ تمام خرافات اہلسنت اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے کھاتے میں ڈالتے ہیںجوکہ بہت سخت قسم کی خیانت ہے۔

اس بات کو بھی مشہور کیا جاتا ہے کہ یہ سارے کام جو غلط ہیں‘ یہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی تعلیمات ہیں۔ پھر اس طرح عوام الناس کو اہلسنت اور امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے برگشتہ کیا جاتا ہے۔ اگر ہم لوگ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی کتابوں اور آپ کے فرامین کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بدعات و منکرات کے قاطع یعنی ختم کرنے والے تھے۔ اب مزارات پر ہونے والے خرافات کے متعلق آپ ہی کے فرامین اور کتابوں سے اصل حقیقت ملاحظہ کریں اور اپنی بدگمانی کو دور کریں۔

مزار شریف کو بوسہ دینا اور طواف کرنا

امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ ہے۔ مزار شریف کو بوسہ نہیں دینا چاہئے۔ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔

آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائزکہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیں ہوسکتی۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ’’انالحکم الا اﷲ‘‘ ہاتھ باندھے الٹے پاؤں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایااس میں حرج نہیں۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز[بچا] کیا جائے

[فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]

روضہ انور پر حاضری کا صحیح طریقہ

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ خبردار جالی شریف حضورﷺ کے مزار شریف کی سنہری جالیوں] کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے بلکہ [جالی شریف سے] چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ۔

یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا‘ اپنے مواجہ اقدس میں جگہ بخشی‘ ان کی نگاہ کرم اگرچہ ہر جگہ تمہاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10 ص 765‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور]

روضہ انور پر طواف و سجدہ منع ہے

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں روضہ انور کا طواف نہ کرو‘ نہ سجدہ کرو‘ نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ حضور کریمﷺ کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔  [فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد 10ص 769 مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور]

معلوم ہوا کہ مزارات پر سجدہ کرنے والے لوگ جہلا میں سے ہیں اور جہلاء کی حرکت کو تمام اہل سنت پر ڈالنا سراسر خیانت ہے‘ اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

مزارات پر چادر چڑھانا

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا تو جواب دیا جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں اﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لیے محتاج کو دیں_ [احکام شریعت حصہ اول ص 42]

عرس کا دن خاص کیوں کیا جاتا ہے

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ بزرگان دین کے اعراس کی تعین [یعنی عرس کا دن مقرر کرنے] میں بھی کوئی مصلحت ہے؟

آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ہاں اولیاے کرام کی ارواح طیبہ کو ان کے وصال کے دن قبور کریمہ کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے چناں چہ وہ وقت جو خاص وصال کا ہے۔ اخذ برکات کے لئے زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ [ملفوظات شریف ص 383‘ مطبوعہ مکتبتہ المدینہ کراچی]

عرس میں آتش بازی اور نیاز کا کھانا لٹانا حرام ہے

سوال : بزرگان دین کے عرس میں شب کو آتش بازی جلانا اور روشنی بکثرت کرنا بلا حاجت اور جو کھانا بغرض ایصال ثواب پکایا گیا ہو۔ اس کو لٹانا کہ جو لوٹنے والوں کے پیروں میں کئی من خراب ہوکر مٹی میں مل گیا ہو‘ اس فعل کو بانیان عرس موجب فخر اور باعث برکت قیاس کرتے ہیں۔ شریعت عالی میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : آتش بازی اسراف ہے اور اسراف حرام ہے‘ کھانے کا ایسا لٹانا بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے‘ تصنیع مال ہے اور تصنیع حرام۔ روشنی اگر مصالح شرعیہ سے خالی ہو تو وہ بھی اسراف ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24ص 112‘ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]

عرس میں رنڈیوں کا ناچ حرام ہے

سوال: تقویۃ الایمان مولوی اسمعیل کی فخر المطابع لکھنؤ کی چھپی ہوئی کہ صفحہ 329 پر جو عرس شریف کی تردید میں کچھ نظم ہے اور رنڈی وغیرہ کا حوالہ دیا ہے‘ اسے جو پڑھا تو جہاں تک عقل نے کام کیا سچا معلوم ہوا کیوں کہ اکثر عرس میں رنڈیاں ناچتی ہیں اور بہت بہت گناہ ہوتے ہیں اور رنڈیوں کے ساتھ ان کے یار آشنا بھی نظر آتے ہیں

اور آنکھوںسے سب آدمی دیکھے ہیں اور طرح طرح کے خیال آتے ہیں۔ کیوں کہ خیال بد ونیک اپنے قبضہ میں نہیں‘ ایسی اور بہت ساری باتیں لکھی ہیں جن کو دیکھ کر تسلی بخش جواب دیجئے؟

جواب: رنڈیوں کا ناچ بے شک حرام ہے‘ اولیاے کرام کے عرسوں میں بے قید جاہلوں نے یہ معصیت پھیلائی ہے [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 29ص 92‘ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]

وجد کا شرعی حکم

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا کہ مجلس سماع میں اگر مزامیر نہ ہوں [اور] سماع جائز ہو تو وجد والوں کا رقص جائز ہے یا نہیں؟
آپ نے جوابا ارشاد فرمایا کہ اگر وجد صادق [یعنی سچا] ہے اور حال غالب اور عقل مستور یعنی زائل اور اس عالم سے دور تو اس پر تو قلم ہی جاری نہیں۔

اور اگر بہ تکلف وجد کرتا ہے تو ’’تشنی اور تکسر‘‘ یعنی لچکے توڑنے کے ساتھ حرام ہے اور بغیر اس کے ریا و اظہار کے لیے ہے تو جہنم کا مستحق ہے اور اگر صادقین کے ساتھ تشبہ بہ نیت خالصہ مقصود ہے کہ بنتے بنتے بھی حقیقت بن جاتی ہے تو حسن و محمود ہے حضور کریمﷺ فرماتے ہیں کہ جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے [ملفوظات شریف ‘231‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ‘کراچی]

حرمت مزامیر

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزامیر یعنی آلات لہو و لعب بر وجہ لہو و لعب بلاشبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیا،و علما دونوں فریق مقتداء کے کلمات عالیہ میں مصرح‘ ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہے اور حضرات علیہ سادات بہشت کبرائے سلسلہ عالیہ چشت کی طرف اس کی نسبت محض باطل و افتراء ہے [فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص 54]

نشہ و بھنگ و چرس

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ نشہ بذاتہ حرام ہے۔ نشہ کی چیزیں پینا جس سے نشہ بازوں کی مناسبت ہو اگرچہ حد نشہ تک نہ پہنچے یہ بھی گناہ ہے ہاں اگر دوا کے لیے کسی مرکب میں افیون یا بھنگ یا چرس کا اتنا جز ڈالا جائے جس کا عقل پر اصلا اثر نہ ہو حرج نہیں۔ بلکہ افیون میں اس سے بھی بچنا چاہئے کہ اس خبیث کا اثر ہے کہ معدے میں سوراخ کردیتی ہے۔ [احکام شریعت جلد دوم]

تصاویر کی حرمت

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جاندار کی تصویریں بنانا ہاتھ سے ہو خواہ عکسی حرام ہےاور ان معبود ان کفار کی تصویریں بنانا اور سخت تر حرام و اشد کبیرہ ہے‘ ان سب لوگوں کو امام بنانا گناہ ہے اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب الحرام ہے۔ [ فتاویٰ رضویہ جلد سوم ص 190]

غیر اﷲ کو سجدہ تعظیمی حرام اور سجدہ عبادت کفر ہے

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اے مسلمان! اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان! جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزت عز جلالہ [رب تعالیٰ] کے سوا کسی کے لیے نہیں غیر اﷲ کو سجدہ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرک مہین و کفر مبین اور سجدہ تحیت [تعظیمی] حرام و گناہ کبیرہ بالیقین۔  [الزبدۃ الزکیہ لتحریم سجود التحیہ‘ ص 5 مطبوعہ بریلی ہندوستان]

چراغ جلانا

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو شیخ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ کی تصنیف حدیقہ ندیہ کے حوالے سے تحریر فرمایا کہ قبروں کی طرف شمع لے جانا بدعت اور مالکا ضائع کرنا ہے [اگرچہ قبر کے قریب تلاوت قرآن کے لئے موم بتی جلانے میں حرج نہیں مگر قبر سے ہٹ کر ہو][البریق المنار بشموع المزار ص 9 مطبوعہ لاہور]

اس کے بعد محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ سب اس صورت میں ہے کہ بالکل فائدے سے خالی ہو اور اگر شمع روشن کرنے میں فائدہ ہوکہ موقع قبور میں مسجد ہے یا قبور سر راہ ہیں‘ وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے تو یہ امر جائز ہے [البریق المنار بشموع المزار ص 9 مطبوعہ لاہور]

ایک اور جگہ اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں اصل یہ کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ حضور فرماتے ہیں عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور جو کام دینی فائدے اور دنیوی نفع جائز دونوں سے خالی ہو عبث ہے اور عبث خود مکروہ ہے اور اس میں مال صرف کرنا اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔

قال اﷲ تعالیٰ ولا تسرفوا ان اﷲ لا یحب المسرفین اور مسلمانوں کو نفع پہنچانا بلاشبہ محبوب شارع ہے۔   حضور فرماتے ہیں کہ تم میں جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی کو نفع پہنچائے تو پہنچائے [احکام شریعت حصہ اول ص 38 مطبوعہ آگرہ ہندوستان]

اگر بتی اور لوبان جلانا

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے قبرپر لوبان وغیرہ جلانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو جواب دیا گیا عود‘ لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز کرنا چاہئے [بچنا چاہیے] ۔

اگرچہ کسی برتن میں ہو اور قبر کے قریب سلگانا [ اگر نہ کسی تالی یا ذاکر یا زائر حاضر خواہ عن قریب آنے والے کے واسطے ہو] بلکہ یوں کہ صرف قبر کے لیے جلا کر چلا آئے تو ظاہر منعہے اسراف [حرام] اور اضاعیت مال[مال کو ضائع کرنا ہے] میت صالح اس عرضے کے سبب جو اس قبر میں جنت سے کھولا جاتا ہے اور بہشتی نسیمیں [جنتی ہوائیں] بہشتی پھولوں کی خوشبوئیں لاتی ہیں۔ دنیا کے اگر اور لوبان سے غنی ہے  [السنیۃ الانیقہ ص 70 مطبوعہ بریلی ہندوستان]

فرضی مزار بنانا اور اس پر چادر چڑھانا

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں سوال کیا گیا

مسئلہ: کسی ولی کا مزار شریف فرضی بنانا اور اس پر چادر وغیرہ چڑھانا اور اس پر فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب ولحاظ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی مرشد اپنے مریدوں کے واسطے بنانے اپنے فرضی مزار کے خواب میں اجازت دے تو وہ قول مقبول ہوگا یا نہیں؟

الجواب: فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل کا سا معاملہ کرنا ناجائز و بدعت ہے اور خواب کی باتیں خلاف شرع امور میں مسموع نہیں ہوسکتی   [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 9ص 425‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور]

عورتوں کا مزارات پر جانا ناجائز ہے

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’غنیہ میں ہے یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزاروں پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبر کی جانب سے۔

جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپسی آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ رسولﷺ کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں۔ وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے اور قرآن کریم نے اسے مغفرت کا ذریعہ بتایا

[ملفوظات شریف ص 240‘ ملخصاً رضوی کتاب گھر دہلی]

مزارات اولیاء پر خرافات

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اولیاء کرام کے مزارات پرہر سال مسلمانوں کا جمع ہوکر قرآن مجید کی تلاوت اور مجالس کرنا اور اس کا ثواب ارواح طیبہ کو پہنچانا جائز ہے کہ منکرات شرعیہ مثل رقص و مزامیر وغیرھا سے خالی ہو‘ عورتوں کو قبور پر ویسے جانا چاہئے نہ کہ مجمع میں بے حجانہ اور تماشے کا میلاد کرنا اور فوٹو وغیرہ کھنچوانا یہ سب گناہ و ناجائزہیں جو شخص ایسی باتوں کا مرتکب ہو‘ اسے امام نہ بنایا جائے_

[فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 216‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]

مزارات پر حاضری کا طریقہ

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب فتاویٰ رضویہ سے ملاحظہ ہو:۔

مسئلہ

حضرت کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ بزرگوں کے مزار پر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں اور فاتحہ میں کون کون سی چیز پڑھا کریں؟

الجواب : مزارات شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی قدموں کی طرف سے جائے اور کم از کم چارہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز با ادب سلام عرض کرے السلام علیک یا سیدی و رحمتہ اﷲ و برکاتہ

پھر درود غوثیہ‘ تین بار‘ الحمد شریف ایک‘ آیتہ الکرسی ایک بار‘ سورہ اخلاص سات بار‘ پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے تو سورہ یٰس اور سورہ ملک بھی پڑھ کر ﷲ تعالیٰ سے دعا کرے کہ الٰہی! اس قرات پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے‘ نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کی نذر پہنچا

پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو‘ اس کے لئے دعا کرے اور صاحب مزار کی روح کو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے‘ پھر اسی طرح سلام کرکے واپس آئے۔ مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے [ادب اسی میں ہے] اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔ واﷲ تعالی اعلم   [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 9ص 522‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور پنجاب]

مردے سنتے ہیں

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ یہ حدیث پیش کرتے ہیں:۔

حدیث شریف: غزوہ بدر شریف میں مسلمانوں نے کفار کی نعشیں جمع کرکے ایک کنویں میں پاٹ دیں حضورﷺ کی عادت کریمہ تھی جب کسی مقام کو فتح فرماتے تو وہاں تین دن قیام فرماتے تھے‘ یہاں سے تشریف لے جاتے وقت اس کنویں پر تشریف لے گیے ۔

جس میں کافروں کی لاشیں پڑی تھیں اور انہیں نام بنام آواز دے کر فرمایا ’’ہم نے تو پالیا جو ہم سے ہمارے رب تعالیٰ نے سچا وعدہ [یعنی نصرت کا] فرمایا تھا کیوں تم نے بھی پایا جو سچا وعدہ [یعنی نار کا] تم سے تمہارے رب تعالیٰ نے کیا تھا؟۔

امیر المومنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے عرض کی یارسول اﷲﷺ! بے جان سے کلام فرماتے ہیں؟ فرمایا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں‘ اسے تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر انہیں طاقت نہیں کہمجھے لوٹ کر جواب دیں   [صحیح بخاری ‘ کتاب المغازی‘ حدیث 3976جلد 3‘ ص 11]

تو جب کافر تک سنتے ہیں‘ [تو پھر] مومن تو مومن ہے اور پھر اولیاء کی شان تو ارفع اعلیٰ ہے [یعنی اولیاء اﷲ کتنا سنتے ہوں گے]  [پھر فرمایا] روح ایک پرند ہے اور جسم پنجرہ۔۔۔ پرند جس وقت تک پنجرے میں ہے اور اس کی پرواز اسی قدر ہے‘ جب پنجرے سے نکل جائے اس وقت اس کی قوت پرواز دیکھئے [ملفوظات شریف ص 270‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی]

ایک اہم فتویٰ

سوال:——- کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے یہ نیت کی کہ اگر میری نوکری ہوجائے تو پہلی تنخواہ زیارت پیران کلیر شریف کی نذر کروں گا‘ وہ شخص تیرہ تاریخ سے نوکر ہوا اور تنخواہ اس کی ایک مہینہ سترہ دن بعد ملی۔ اب یہ ایک ماہ کی تنخواہ صرف کرے یا سترہ دن کی؟۔

اور اس تنخواہ کا صرف کس طرح پر کرے یعنی زیارت شریف کی سفیدی و تعمیر وغیرہمیں لگائے یا حضرت صابر پیا صاحب علیہ الرحمہ کی روح پاک کو فاتحہ ثواب بخشے یا دونوں طرف صرف کرسکتا ہے؟۔

الجواب:——- امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں صرف نیت سے تو کچھ لازم نہیں ہوتا جب تک زبان سے الفاظ نذر ایجاب کہے اور اگر زبان سے الفاظ مذکور کہے اور ان سے معنی صحیح مراد لئے یعنی پہلی تنخواہ اﷲ تعالیٰ کے نام پر صدقہ کروں گا اور اس کا ثواب حضرت مخدوم صاحب علیہ الرحمہ کی نذر کروں گا یا پہلی تنخواہ اﷲ تعالیٰ کے لیے مخدوم صاحب علیہ الرحمہ کے آستانہ پاک کے فقیروں کو دوں گا‘ یہ نذر صحیح شرعی ہے اور استحساناً وجوب ہوگیا۔

پہلی تنخواہ اسے فقیروں پر صدقہ کرنی لازم ہوگئی مگر یہ اختیار ہے کہ آستانہ پاک کے فقیروں کو دے اور جہاں کے فقیروں محتاجوں کو چاہے اور اگر یہ معنی صحیح مراد نہ تھے بلکہ بعض بے عقل جاہلوں کی طرح بے ارادہ صدقہ وغیرہ قربات شرعیہ صرف یہی مقصود تھاکہ پہلی تنخواہ خود حضرت مخدوم صاحب کو دوں گا تو یہ نذر باطل محض و گناہ عظیم ہوگی۔

مگر مسلمان پر ایسے معنی مراد لینے کی بدگمانی جائز نہیں جب تک وہ اپنی نیت سے صراحتاً اطلاع نہ دے۔ اسی طرح اگر نذرزیارت کرنے سے اس کی یہ مراد تھی کہ اﷲ تعالیٰ کے واسطے عمارت زیارت شریف کی سفیدی کرادوں گا یا احاطہ مزار پرانوار میں روشنی کروں گا۔ جب بھی یہ نذر غیر لازم و نامعتبرہے کہ ان افعال کی جنس سے کوئی واجب شرعی نہیں۔ رہا یہکہ جس حالت میں نذر صحیح ہوجائے۔

پہلی تنخواہ سے کیا مراد ہوگی یہ ظاہر ہے کہ عرف میں مطلق تنخواہ خصوصا پہلی تنخواہ ایک مہینہ کی اجرت کو کہتے ہیں۔ اگرچہ اس کا ایک جز بھی تنخواہ ہے اور عمر بھر کا واجب بھی تنخواہ ہے تو پہلی تنخواہ کہنے سے اول تنخواہ ایک ماہ ہی عرفا لازم آئے گی۔

کیوں کہ کسے عقد والے‘ قسم والے‘ نذر والے اور وقف کرنے والےکے کلام کو متعارف معنی پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے [رد المحتار‘ باب التعلیق‘ داراحیاء التراث العربی بیروت جلد 2ص 533,499]  [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 13 ص591‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور]

وفات کے موقع پر بے ہودہ رسومات

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ باقی جو بے ہودہ باتیں لوگوں نے نکالی ہیں مثلا اس میں شادی کے سے تکلف کرنا‘ عمدہ عمدہ فرش بچھانا‘ یہ باتیں بے جا ہیں اور اگر یہ سمجھتا ہے کہ ثواب تیسرے دن پہنچتا ہے‘ یا اس دن زیادہ پہنچے گا اور روز کم‘ تو یہ عقیدہ بھی اس کا غلط ہے۔ اسی طرح چنوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ نہ چنے بانٹنے کے سبب کوئی برائی پیدا ہو

[الحجتہ الفاتحہ لطیب التعین والفاتحہ‘ص 14 مطبوعہ لاہور]

میت کے گھر مہمان داری

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میت کے گھر انتقال کے دن یا بعد عورتوں اور مردوں کا جمع ہوکر کھانا پینا اور میت کے گھر والوں کو زیر بار کرنا سخت منع ہے

[جلی الصوت لنہی الدعوت امام الموت‘ مطبوعہ بریلی شریف ہندوستان]

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا

سوال :– کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی ہے تو اس صورت میں ہندہ کو کب تک دوسرے کے یہاں کی میت کا کھانا نہیں چاہئے اور اگر ہندہ کے گھر میں کوئی مرجائے تو اس کا بھی کھانا جائز ہے اور کب تک یعنی برس تک یا چالیس دن تک۔ اور اگر بندہ نے شروع سے جمعرات کی فاتحہ نہ دلائی ہو تو چالیس دن کے بعد سات جمعرات کی فاتحہ دلانا چاہے‘ ہوسکتی ہے یا نہیں؟بینوا توجروا

الجواب:– میت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کی جاتی ہے‘ اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے‘ اور بغیر دعوت کے جمعراتوں‘ چالیسویں‘ چھماہی ‘ برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے‘ وہ بھی اگرچہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع ہے۔

بہتریہ ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں اور ان سب احکام میں وہ جس نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی اور جس نے نہ کی سب کے سب برابر ہیں اور اپنی یہاں موت ہوجائے تو اپنا کھانا کھانے کی کسی کو ممانعت نہیں اور چالیس دن کے بعد بھی جمعراتیں ہوسکتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے فقیروں کو جب اور جو کچھ دے ثواب ہے واﷲ تعالیٰ اعلم

[فتاویٰ رضویہ جدید جلد 9ص 673‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور]

ایصال ثواب سنت ہے اور موت میں ضیافت ممنوع

فتح القدیر وغیرہ میں ہے اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں اور یہ بدعت شنیعہ ہے۔ امام احمد اور ابن ماجہ بسند صحیح حضرت جرید بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ سے راوی ہیں ہم گروہ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے لیے کھانا تیار کرنے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے [فتح القدیر‘ فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ‘ سکھر 103/2]  [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 9ص 604‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور پنجاب]

سوئم کے چنے کون تناول کرسکتا ہے؟

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے سوئم کے چنوں اور طعام میت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ چیزیں غنی نہ لے‘ فقیر لے اور وہ جو‘ان کامنتظر رہتا ہے‘ ان کے نہ ملنے سے نا خوش ہوتا ہے اس کا قلب سیاہ ہوتا ہے‘ مشرک یا چمار کو اس کا دینا گناہ گناہ گناہ ہے جبکہ فقیر لے کر خود کھائے اور غنی لے ہی نہیں اور لے لیے ہوں تو مسلمان فقیر کو دے دے۔

یہ حکم عام فاتحہ کا ہے نیاز اولیاء کرام طعام موت نہیں وہ تبرک ہے فقیر وغنی سب لیں جبکہ مانی ہوئی نذر بطور نذر شرعی نہ ہو۔ [شرعی نذر پھر غیر فقیر کو جائز نہیں ) فتاویٰ رضویہ جلد چہارم]۔

ایک اور جگہ یوں فرمایا میت کےیہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے اور بغیر دعوت کے جمعراتوں‘ چالیسویں ‘ چھ ماہی‘ برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگرچہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں بہتر ہے کہ غنی نہ کھائے [فتاویٰ رضویہ]

امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی وصیت

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے یہ وصیت فرمائی کہ ہماری فاتحہ کا کھانا صرف فقراء کو کھلایا جائے  [وصایا شریف]

میت پرپھولوں کی چادر ڈالنا کیسا ؟

سوال : ہمارے یہاں میت ہوگئی تھی تو اس کے کفنانے کے بعد پھولوں کی چادر ڈالی گئی اس کو ایک پیش امام افغانی نے اتار ڈالا اور کہا یہ بدعت ہے‘ ہم نہ ڈالنے دیں گے؟

الجواب : پھولوں کی چادر بالائے کفن ڈالنے میں شرعاً اصلاًحرج نہیں بلکہ نیت حسن سے حسن ہے جیسے قبورپر پھول ڈالنا کہ وہ جب تک تر رہیں گے تسبیح کرتے ہیں اس سے میت کادل بہلتا ہے اور رحمت اترتی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے قبروں پر گلاب اور پھولوں کا رکھنااچھا ہے [فتاویٰ ہندیہ‘ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور‘ جلد 5ص 351‘ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور]

فتاویٰ امام قاضی خان و امداد الفتاح شرح المصنف لمراقی الفلاحو رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: پھول جب تک تر رہے تسبیح کرتا رہتا ہے جس سے میت کو انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے [رد المحتار‘ مطلب فی وضع الجدید و نحو الآس علی القبور‘ جلد اول ص 606 مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر] [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 9 ص 105‘مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور]

جنازہ پر چادر ڈالنا کیسا ؟

سوال: جنازہ کے اوپر جو چادر نئی ڈالی جاتی ہے اگر پرانی ڈالی جائے تو جائز ہے یا نہیں؟ اگر کل برادری کے مردوں کے اوپر ایک ہی چادر بنا کر ڈالتے رہا کریںتو جائز ہے یا نہیں؟ اس کی قیمت مردہ کے گھر سے یعنی قلیل قیمت لے کر مقبرہ قبرستان یا مدرسہ میں لگانی جائز ہے یا نہیں؟ اور چادر مذکور اونی یا سوتی بیش قیمت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب : امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چادر نئی ہو یاپرانی‘یکساں ہے ہاں مسکین پر تصدق [صدقے] کی نیت ہو تو نئی اولیٰ‘ اور اگر ایک ہی چادر معین رکھیں کہ ہر جنازے پر وہی ڈالی جائے پھر رکھ چھوڑی جائے اس میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ اس کے لیے کپڑا وقف کرسکتے ہیں۔ در مختار میں ہے۔ ہنڈیا‘ جنازہ اور اس کے کپڑے کا وقف صحیح ہے۔ [درمختار‘ کتاب الوقف‘ جلد اول ص 380‘ مطبوعہ دہلی]۔

طحطاوی و ردالمحتار میں ہے: جنازہ کسرہ کے ساتھ چارپائی اور اس کے کپڑے جن سے میت کو ڈھانپا جائے [ردالمحتار کتاب الوقف‘ جلد 3 ص 375 مطبوعہ بیروت] اور بیش قیمت بنظر زینت مکروہ ہے کہ میت محل تزئین نہیں اور خالص بہ نیت تصدق[صدقہ] میں حرج نہیں جیسا کہ ہدی [قربانی] کے جانور کے جھل [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 16ص 123‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور]

گیارہویں شریف کا انعقاد

سوال : گیارہویں شریف کے لئےآپ کیا فرماتے ہیں۔ گیارہویں شریف کے روز فاتحہ دلانے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے یا آڑے دن فاتحہ دلانے سے‘ بزرگوں کے دن کی یادگاری کیلئے دن مقرر کرنا کیسا ہے؟
جواب : محبوبان خدا کی یادگاری کے لئے دن مقرر کرنا بے شک جائز ہے۔ حدیث شریف میں ہے حضور کریمﷺ ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے [جامع البیان]تفسیر ابن جریر تحت آیۃ 24/13‘ داراحیاء التراث العربی بیروت 170/13]شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ایسی حدیث کو اعراس اولیائے کرام کے لئے مستند مانا اور شاہ ولی اﷲ صاحب علیہ الرحمہ نے کہا: مشائخ کے عرس منانا اس حدیث سے ثابت ہے_

[ہمعات ‘ ہمعہ 11 مطبوعہ شاہ ولی اﷲ اکیڈمی‘ حیدرآباد سندھ ص58]

وقت دفن اذان کہنا کیسا ؟

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ وقت دفن اذان کیوں کہی جاتی ہے ؟
آپ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان کو دور کرنے کے لیے کیوں کہ حدیث شریف میں ہے اذان جب ہوتی ہے تو شیطان36 میل دور بھاگ جاتا ہے۔ الفاظ حدیث میں یہ ہیں کہ ’’روحا‘‘ تک بھاگتا ہے اور روحا مدینہ منورہ سے 36 میل دور ہے۔ [صحیح مسلم شریف‘ کتاب الصلوٰۃ حدیث 388-389‘ ص 204]

[ملفوظات شریف ص 526‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی]

سوال : قبر پر اذان کہنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں قبر پر اذان کہنے میں میت کا دل بہلتا اور اس پر رحمت الٰہی کا اترنا اور سوال جواب کے وقت شیطان کا دور ہونا‘ اور ان کے سوا اور بہت فائدے ہیں جن کی تفصیل ہمارے رسالے ’’ایذان لاجرفی اذان القبر‘‘ میں ہے_ [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 23‘ ص 374‘ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]

ایصال ثواب

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بات یہ ہے کہ فاتحہ‘ ایصال ثواب کا نام ہے اورمومن عمل نیک کا ایک ثواب اسکی نیت کرتے ہی حاصل اور کئے پر دس ہوجاتا ہے [الحجۃ الفاتحہ لطیب التعین والفاتحہ ص 14‘مطبوعہ لاہور]

رہا کھانا دینے کا ثواب وہ اگرچہ اس وقت موجود نہیں تو کیا ثواب پہنچانا شاید ڈاک یا پارسل میں کسی چیز کا بھیجنا سمجھا ہوگا کہ جب تک وہ شے موجود نہ ہو‘ کیا بھیجی جائے؟

حالاں کہ اس کا طریقہ صرف جناب باری میں دعا کرنا ہے کہ وہ ثواب میت کو پہنچائے۔ اگر کسی کا یہ اعتقاد ہے کہ جب تک کھانا سامنے نہ کیا جائے گا ثواب نہ پہنچے گا تو یہ گمان اس کا محض غلط ہے۔  [الحجۃ الفاتحہ لطیب التعین والفاتحہ ص 14‘ مطبوعہ لاہور]

ایک سوال کے جواب میں کہ زید اپنی زندگی میں خود اپنے لیے ایصال ثواب کرسکتا ہے یا نہیں؟
ارشاد فرماتے ہیں ہاں کرسکتا ہے‘ محتاجوں کو چھپا کر دے یہ جو عام رواج ہے کہ کھانا پکایا جاتا ہے اور تمام اغنیاء و برادری کی دعوت ہوتی ہے‘ ایسا نہ کرنا چاہیے   [ملفوظات شریف ص 48‘ حصہ سوم ‘ مطبوعہ مسلم یونیورسٹی پریس علی گڑھ ہندوستان]

قرآن خوانی کی اجرت

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے قرآن خوانی کے لئے اجرت لینے اور دینے کو ناجائز قرار دیا ہے  [فتاویٰ رضویہ جلد چہارم میں 318 مطبوعہ مبارکپور ہندوستان]

شب برأت اور شادی میں آتش بازی

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:۔  آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے‘ بے شک حرام اور پورا حرام ہے۔ اسی طرح یہ گانے باجے کہ ان بلاد میں معمول و رائج ہیں بلاشبہ ممنوع و ناجائز ہیں۔

جس شادی میں اس طرح کی حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہرگز شریک نہ ہوں۔ اگر نادانستہ شریک ہوگئے تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو‘ سب مسلمان مرد‘ عورتوں پر لازم ہے فورا اسی وقت محفل سے اٹھ جائیں  [ہادی الناس ص 3]

نسب پر فخر کرنا جائز نہیں ہے

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:۔
۔1۔ نسب پر فخرکرنا جائز نہیں ہے
۔2۔ نسب کے سبب اپنے آپ کو بڑا جاننا تکبر کرنا جائز نہیں
۔3۔ دوسروں کے نسب پر طعن جائز نہیں
۔4۔ انہیں کم نسبی کے سبب حقیرجاننا جائز نہیں
۔5۔ نسب کو کسی کے حق عار یا گالی سمجھنا جائز نہیں
۔6۔ اس کے سبب کسی مسلمان کادل دکھانا جائز نہیں
۔7۔ احادیث جو اس بارے میں آئیں‘ انہیں معافی کی طرف ناظر ہیں کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلا حاجت شرعی ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو‘ اسے ایذا پہنچے‘ شرعاً ناجائز و حرام ہے اگرچہ بات فی نفسہ سچی ہو [ارادۃ الادب لفاضل النسب ص 3]

پیرومرشد اور مریدہ کے درمیان پردہ

بعض خانقاہوں میں پیر صاحب اپنے مرید اور مریدنیوں کو بے پردہ اپنے سامنے بٹھاتے ہیں۔ بے تکلفی کے ساتھ گفتگو‘ ہنسی مذاق کرتے ہیں اور بعض تو معاذ اﷲ اپنی مریدنیوں سے ہاتھ بھی ملاتے ہیں اور مریدنیوں کی پیٹھ پر ہاتھ بھی مارتے ہیں مگر اس ناجائزفعل کے متعلق سنیوں کے امام۔

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک ہر غیر محرم سے پردہ فرض ہے جس کا اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے حکم دیا ہے بے شک پیر مریدہ کا محرم نہیں ہوجاتا۔ حضورﷺ سے بڑھ کر اُمتّ کا پیر کون ہوگا؟ وہ یقیناً ابو الروح ہوتا ہے اگر پیر ہونے سے آدمی محرم ہوجایا کرتا تو چاہیے تھا کہ نبی سے اس کی اُمتّ سے کسی عورت کا نکاح نہ ہوسکتا [مسائل سماع‘ مطبوعہ لاہور ص32]

جعلی عاملوں کا فال کھولنا

جگہ جگہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جعلی عاملوں کا ایک گروہ سرگرم عمل ہے‘ جوالٹے سیدھے فال نامے نکال کر عوام کے عقائد کو متزلزل کرتے ہیں‘ سادہ لوح مسلمانوں کی جیبیں خالی کروائی جاتی ہیں پھر یہ سب اہل سنت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے مگر اہلسنت کے امام اپنی کتاب میں مسلمانوں کی اصلاح اس طرح فرماتے ہیں۔

سوال : فال کیا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟سعدی و حافظ وغیرہ کے فالنامے صحیح ہیں یا نہیں؟

جواب : امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں فال ایک قسم کا استخارہ ہے‘ استخارہ کی اصل کتب احادیث میں بکثرت موجود ہے‘ مگر یہ فالنامے جو عوام میں مشہور اور اکابر کی طرف منسوب ہیں بے اصل و باطل ہیںاور قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے اور دیوان حافظ وغیرہ سے بطور تفاؤل جائز ہے  [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 23ص 327‘ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]

اﷲ تعالیٰ کا علمِ غیب ذاتی اور حضورﷺ کا علمِ غیب عطائی ہے

پہلا فتویٰ

کیا اﷲ تعالیٰ اور اس کے محبوبﷺکا علم برابر ہے؟ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہم اہلسنت کا مسئلہ علم غیب میں یہ عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضورﷺ کو علم غیب عنایت فرمایاخود رب جل جلالہ فرماتا ہے:  القرآن: وَمَاْ ہُوَ عَلَیْ اْلغَیْبِ بِضَنِیْنَ ترجمہ: یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں [سورہ تکویر آیت 24 پارہ 30]

تفسیر معالم التنزیل اور تفسیر خازن میں ہے یعنی حضورﷺ کو علم غیب آتا ہے وہ تمہیں بھی تعلیم فرماتے ہیں [تفسیر خازن‘ سورہ تکویر تحت الایۃ 24‘ جلد 4ص 357]

اﷲ تعالیٰ اور حضورﷺ کا علم برابر تو درکنار‘ میں نے اپنی کتابوں میں تصریح کردی ہے کہ اگر تمام اولین و آخرین کا علم جمع کیا جائے تو اس علم کو علم الٰہی جل جلالہ سے وہ نسبت ہرگز نہیں ہوسکتی جو ایک قطرے کے کروڑہویں حصے کو کروڑ سمندر سے ہے کہ یہ نسبت متناہی کی متناہی [یعنی محدود] کے ساتھ ہے اور وہ غیر متناہی [یعنی لامحدود] متناہی کو غیر متناہی سے کیا نسبت ہے۔

[ملفوظات شریف‘ ص 93‘ تخریج شدہ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ‘ کراچی]

دوسرا فتویٰ

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ علم غیب ذاتی کہ اپنی ذات سے ہے بے کسی کے دیئے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ ان آیتوں میں یہی معنی مراد ہیں کہ بے خدا کے دیئے کوئی نہیں جان سکتا اور اﷲ تعالیٰ کے بتائے سے انبیاے کرام کو معلوم ہونا ضروریات دین سے ہے۔ قرآن مجید کی بہت آیتیں اس کے ثبوت میں ہیں [فتاویٰ رضویہ]

تیسرا فتویٰ

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ غیب کا علم اﷲ تعالیٰ کو ہے‘ پھر اس کی عطا سے اس کے حبیبﷺ کو ہے [فتاویٰ رضویہ جدید جلد 27 میں 233‘ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور

جاہل پیر کا مرید ہونا

موجودہ دور میں ہر جانب جاہل پیروں اور جعلی صوفیوں کا ڈیرہ ہے‘ نادان لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اور اپنا مال ان پر لٹاتے ہیں پھر جب ہوش آتا ہے تو چیخ اٹھتے ہیں کہ پیر صاحب نے ہمیں لوٹ لیا۔ ہمارا مال کھالیا۔ ہماری عزت پامال کردی۔

اسی لیے امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے جاہل فقیر و پیر سے بیعت کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ ہمیشہ سنی صحیح العقیدہ عالم اور پابند شریعت پیر سے بیعت کی جائے چناں چہ :امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ جاہل فقیر کا مرید ہونا شیطان کا مرید ہونا ہے؟

آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جاہل فقیر کا مرید ہونا شیطان کا مرید ہونا ہے  [ملفوظاتشریف ص 297‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی]

بیعت کے چار شرائط ہیں

بیعت اس شخص سے کرنا چاہئے جس میں چار باتیں ہوں ورنہ بیعت جائز نہ ہوگی۔
۔1۔ سنی صحیح العقیدہ ہو
۔2۔ کم از کم اتنا علم ضروری ہے کہ بلا کسی کی امداد کے اپنی ضرورت کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے
۔3۔ اس کا سلسلہ حضورﷺ تک متصل [یعنی ملا ہوا] ہو‘ منقطع[یعنی ٹوٹا ہوا] نہ ہو

۔4۔ فاسق معلن نہ ہو

تانبے اور پیتل کے تعویذ

امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ تانبے‘ پیتل کے تعویذوں کا کیا حکم ہے؟
آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ تانبے اور پیتل کے تعویذ مرد و عورت دونوں کو مکروہ اور سونے چاندی تعویذ کے مرد کو حرام‘ عورت کو جائز ہیں [ملفوظات شریف ص 328‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی]

امام ضامن کا پیسہ

آج کل ایک رواج چل پڑا ہے کہ جب بھی کوئی شخص سفر میں جاتاہے یا کسی کی جان کی حفاظت مقصود ہوتی ہے‘ تو عورتیں اس کے بازو پر ایک سکہ کپڑے میں لپیٹ کر باندھ دیتی ہیں اور اس کا نام ’’امام ضامن‘‘ رکھا گیا ہے جوکہ بالکل خود ساختہ کام ہے نہ اسکی کوئی اصل ہے نہ کہیں اس کا حکم دیا گیاہے۔

بعض بدلگام لوگ اس کو بھی اہل سنت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ بریلویوں کے امام کا کام ہے حالاں کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کا اس کام سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ کیا امام ضامن کا جو پیسہ باندھا جاتا ہے‘ اس کی کوئی اصل ہے؟

آپ نے ارشاد فرمایا کہ کچھ نہیں [ملفوظات شریف ص 328‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی]

ترتیب : مولانا شہزاد قادری ترابی

ان مضامین کو بھی پڑھیں اوراپنے احباب کو شئیر کریں

اعلیٰ حضرت بحیثیت سائنس دان

اعلی حضرت مسلم سائنس دان

  امام احمد رضا اور حفاظت اعمال

اعلیٰ حضرت اور خدمت خلق

اجمیر معلیٰ میں اعلیٰ حضرت

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اغیار کی نظروں میں

اعلیٰ حضرت کے تعلیمی افکار کی عصری معنویت

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top