حیات و خدمات

حضرت امام العلما علامہ مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف

تحریر: محمد عزیز الرحمٰن قدسی جامعی حضرت امام العلما علامہ مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف

حضرت امام العلما علامہ مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف

مفتئ دین ہدی حضرت شبیر حسن
تھے تفقہ کی ضیا حضرت شبیر حسن
( علامہ قدسی )

ہر دور میں کچھ ایسی ہستیاں جلوہ گر ہوئیں، جواپنی نمایاں کار کر دگی کی بنیاد پر دنیا کے اژدہام و ہجوم کی جھرمٹ میں اپنی علمی، ادبی، تدریسی، تبلیغی، تحریری اور تقریری خدمات کی وجہ سے آفتاب و مہتاب بن کر چھا گئیں۔

انہی میں ایک، مرید مفتی اعظم ہند، عاشق سرکار اعلیٰ حضرت، فدائے سرکار غوث اعظم، ترجمان مسلک احمد رضا، امام المناطقہ، رئیس الفلاسفہ، منبع فیوض و برکات، امام العلما، جامع معقولات و منقولات حضرت علامہ الحاج مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ ( سابق شیخ الحدیث و صدر دارالافتاء الجامعۃالاسلامیہ، قصبہ روناہی، ضلع اجودھیا، یوپی، انڈیا ) کی ذات ہے

جو علم و فضل، زہدو ورع اور افکار و عقائد کی اس منزل پر فائز تھے، جہاں پہنچنے کی تگ و دو میں بڑے بڑے صاحبان فضل و کمال کے شاہین عقل کے بال و پر نذر حوادث ہوتے نظر آتے ہیں۔

ولادت باسعادت : حضور مفتی شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کی ولادت ضلع سنت کبیر کے ”دیور یا لعل “ نامی ایک گاؤں میں یکم جولائی 1948 ء کو ہوئی۔

تعلیم و تربیت اور اساتذۂ کرام 

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے قریب دارالعلوم تدریس الاسلام بسڈیلہ سے پائی،جہاں وقت کے عظیم علمائے کرام کی جماعت تھی، ان میں ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ اعجاز احمد خان نوری مصباحی، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ محمد نعمان خان اثر قادری علیہما الرحمہ اور محدث جلیل حضرت علامہ عبد الشکور صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ قابل ذکر ہیں۔

یہاں آپ نے عربی، فارسی، نحو، صرف، منطق اور فلسفہ کی ابتدائی کتابوں کی تعلیم نہایت محنت و لگن سے حاصل کی۔ اس کے بعد ”دارالعلوم منظر حق ٹانڈہ“ تشریف لے گئے جہاں وقت کے جلیل القدر مفتی و فقیہ حضرت علامہ قاضی شمس الدین جعفری جون پوری علیہ الرحمہ ( مصنف قانون شریعت ) سے معقولات و منقولات کی چند کتابوں کا درس لیا۔

پھر مزید تعلیم کے لیے باغ فردوس، ازہر ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کا قصد فرمایا۔ اور جلالۃ العلم، حضور حافط ملت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی، امام المعقولات و المنقولات حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی، قاضئی شریعت حضرت علامہ شفیع اعظمی اور بحر العلوم حضرت علامہ عبد المنان مبارکپوری علیھم الرحمہ کی شاگردی اختیار کی۔ تقریباً 1969ء میں یہیں سے 19 سال کی عمر میں رسمی تعلیم و تربیت سے فارغ ہوۓ اور عصری تقاضوں کے بموجب آپ نے مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ ( عربی، فارسی بورڈ الہ آباد ) سے منشی، عالم، کامل، فاضل دینیات اور فاضل طب کےامتحانات بہت اچھے نمبروں سے پاس کیے۔

درس و تدریس 

فراغت کے بعد آپ کی ذہانت اور علمی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر عاشق سرکار اعلیٰ حضرت، خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند، بلبل ہند حضرت علامہ مفتی رجب علی قادری علیہ الرحمہ نے ” مدرسہ عزیز العلوم نانپارہ ضلع بہرائچ شریف “ کے لیے صدر المدرسین کا انتخاب فر مایا۔
یہاں آپ نے درس و تدریس کا اچھا ماحول پیدا کیا، طلبہ کی کثرت ہونے لگی ، طلبہ اور علما کے مابین آپ کی علمی و فنی صلاحیتوں کو سراہا جانے لگا اور تقریباً دس سال تک علمی فیضان کا دریا بہاتے رہے۔

جامعہ روناہی کے تدریسی، تحقیقی، علمی اور فنی عروج و ارتقا میں کلیدی کردار استاذ الاساتذہ حضرت علامہ محمد نعمان خان اثر قادری اعظمی المعروف بہ ”بڑے مولانا“ علیہ الرحمہ نے ادا کیا۔ سن 1957ء میں مفکر اسلام حضرت علامہ محمد قمر الزماں خان نوری اعظمی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ (بانی و سربراہ اعلیٰ الجامۃ الاسلامیہ روناہی و جنرل سیکریٹری ورلڈ اسلامک مشن، لندن) کی نظر بہ شکل جوہر علامہ اثر قادری علیہ الرحمہ پر ٹھہری اور بحیثیت صدر المدرسین انتخاب فرمایا۔

علامہ اثر قادری علیہ الرحمہ ہمیشہ جامعہ کی تعلیمی و تعمیری ترقی کے لیے جہد مسلسل کرتے ہوئے لائق فائق اساتذۂ کرام کی ٹیم اکٹھا کی اور جامعہ روناہی کی تعلیم و تدریس کے میدان میں منفرد شناخت قائم کی۔ تعلیمی و تدریسی سلسلہ کے عروج و ارتقا کی فکر میں علامہ اثر قادری علیہ الرحمہ نے سن 1976ء میں حضور امام العلما علامہ شبیر حسن رضوی علیہ الرحمہ کی بہ حیثیت شیخ الحدیث تقرری کی۔

حضور مفتی صاحب علیہ الرحمہ سن 1976ء سے لے کر 2019ء تک طالبان علوم نبویہ کو علمی فیضان سے مالا مال کرتے رہے۔ تقریباً 43 سال تک صدر دارالافتاء اور شیخ الحدیث کے عظیم عہدے پرفائز رہے اور انتہائی محنت و لگن سے تدریس اور فتوی نویسی کی اہم ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔

آپ نے ہزاروں تلامذہ پیدا کیے، جو ملک و بیرون ملک میں تدریسی، تحقیقی، تبلیغی، تصنیفی اور تنظیمی امور انجام دے رہے ہیں، غرضیکہ کوئی ایسا مدرسہ نہیں جہاں آپ کا علمی فیضان جاری نہ ہوا ہو بلکہ میں یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ دور حاضرکے قدیم علما کے سوا اکثر و بیشتر علما، فضلا، اور فقہا بالواسطہ یا بلا واسطہ آپ کے شاگرد ہیں۔

ہیں ہزاروں علماء آج بھی شاگرد ان کے
درسگاہوں کی جلا حضرت شبیر حسن
( علامہ قدسی )

چند مشاہیر تلامذہ یہ ہیں۔ مفتی عبد المجید قادری مصباحی جامعی گورکھپوری علیہ الرحمہ، مفتی محمد معراج القادری جامعی مصباحی علیہ الرحمہ (سابق استاذ، و نائب صدر افتاء جامعہ اشرفیہ مبارک پور)، علامہ بخش اللہ قادری جامعی صاحب بستوی روناہی ، مفتی مرتضی خان رضوی جامعی صاحب روناہی، مفتی اختر حسین قادری جامعی علیمی صاحب جمداشاہی، مفتی نظام الدین رضوی مصباحی صاحب مبارک پور، مفتی قمر الحسن رضوی جامعی صاحب امریکہ، مولانا کمال اختر رضوی جامعی صاحب چرہ محمد پور، مولانا فروغ القادری جامعی صاحب انگلینڈ

مولانا سید معین الدین اشرف جامعی صاحب ممبئی، مولانا شمس الہدیٰ جامعی مصباحی صاحب مبارکپور، مفتی مسیح الدین حشمتی جامعی صاحب اترولہ، مولانا سلمان رضا خان جامعی ازہری صاحب روناہی، مولانا جنید احمد بستوی جامعی صاحب روناہی، مولانا سید نجیب اشرف جامعی صاحب روناہی، مفتی نقیب الرحمٰن صدیقی حشمتی جامعی صاحب سیتامڑھی، مولانا حفیظ القادری جامعی صاحب افریقہ، مولانا خالد رضا جامعی صاحب لندن، مولانا علی حسن جامعی ازہری صاحب براؤں شریف اور مولانا مبین احمد جامعی صاحب وغیرھم

تدریسی خصوصیات
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل آپ میں مختلف طرح کی علمی خصوصیات ودیعت فرمائی تھی، منطق و فلسفہ کے میدان میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا، علاوہ ازیں قدیم علوم و فنون پر بھی آپ دسترس رکھتے تھے جیسے ہیئت و ہندسہ، توقیت و مساحت اور علم الحساب وغیرہ۔

آپ کے درس و تدریس کا منفرد کمال یہ تھا کہ فقہ، حدیث ، تفسیر، منطق ، فلسفہ، بلاغت ، معانی، نحو ، صرف، خواہ کسی بھی فن کی کتاب ہو ۔ اس میں مثالوں کے ذریعے اس طرح سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا ذکر شامل کرتے کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس گفتگو کا تعلق اسی درس سے ہے۔

ساتھ ہی فرماتے کہ : ٫٫ اگر کوئی سرکار اعلی حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی کتابوں کانام صحیح پڑھناجان جاۓ تو نصف عالم ہوجاۓگا ” نیز یہ بھی ارشاد فرماتے کہ ” عالم بننا ہےتو سرکار اعلی حضرت کی کتابوں کا مطالعہ کرو “- اپنی درسگاہ میں مدینہ منورہ، بغداد شریف، اجمیر معلی، کچھوچھ مقدسہ اور بریلی شریف کا نقش آویزاں کیے ہوئے تھے ۔

جب جلال میں آتے تھے تو ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کرتے کہ ’’ یہاں کچھ نہیں بلکہ سب کچھ یہاں سے آتا ہے ،، اس جملے کے ادا فرمانے کے بعد ایسے ایسے نکات اور دلیلوں کا بہتات لگا دیتے کہ ذہن و دماغ حیران و پریشان ہوجاتے اور دل خوش۔ بلاشبہ یہ سب بزرگوں کے فیوض و برکات خصوصاً سرکار اعلیٰ حضرت کے فیضان علمی کا نتیجہ تھا ۔

ان کے تعلیم و تعلم کا ہے اسلوب گواہ
علم کے سر کی جلا حضرت شبیر حسن
( علامہ قدسی )

حضور غوث پاک و سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہما سے والہانہ عشق و محبت(اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں

حضور مفتی صاحب علیہ الرحمہ اولیا ء کرام اور بزرگان دین سے سچی عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔ پیران پیر بڑے پیر حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے اس قدر عقیدت و محبت تھی کہ سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا لکھا ہوا منقبت ہمیشہ سنا کرتے تھے ۔ ساتھ ہی حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کی کشف و کرامت سنایا کرتے تھے ۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ حاضرین کے قلوب و اذہان ، ان کی شان و عظمت سے متعارف ہوں ۔ اور دعا کر تے وقت یہ اشعار ضرور پڑھتے تھے ۔

قادرا قدرت تو داری ہر چہ خواہی آں کن
مردہ را جان دہی و زندہ را بے جا ں کنی

حکم نافذ ہے ترا خامہ ترا سیف تر ی
دم میں جو چاہے کرے دور ہے شاہا ترا

پیر پیراں میر میراں شاہ جیلاں غوث پاک
اک نظر بر حال داری ما پریشاں غوث پاک

اس مضمون کو بھی پڑھیں: حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت مفسرو محدث

جب کو ئی شخص اپنی مصیبت و پریشانی کا ذ کر کرتے ہوئے عرض کرتا ، حضور تعویذ بنا دیجئے کہ مشکل و دشواری کا ازالہ ہو جائے تو حضور مفتی صاحب علیہ الرحمہ اسے ’’ یا غوث اعظم المدد ،، کے ذکر و ورد کے لیے کہتے اور لوگوں کا کام بنتا ہوا نظر آتا ۔ یقینا یہ عقیدت و محبت کا ہی تحفہ ہے کہ حضرت کو یہی مہینہ حاصل ہوا ۔

رضا کا خاتمہ بالخیر ہوگا
تری رحمت اگر شامل ہے یا غوث
( سرکار اعلیٰ حضرت )

سرکار اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا کلام اکثرو بیشتر سنا کر تے تھے اور خوب جھو متے ۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے اس قدر لگاوَ تھا کہ تقریبا پچاس سال سے عرس رضوی میں بلا نا غہ شریک ہوتے رہے ۔ سال گزشتہ ( 2019 ء ) بھی عرس رضوی میں تشریف لے گئے تھے ۔ واپسی کے کچھ دن بعد حضرت کی طبیعت سخت علیل ہو گئی ، یہاں تک کہ آئی ، سی ، یو ، میں داخل کیے جانے کے حالات پیدا ہو گئے ۔ درمیان میں بہت حد تک طبیعت میں بہتری آئی ، اس کے بعد دوبارہ آئی ، سی ، یو ، کا رخ کرنا پڑا اور اسی درمیان حضرت وصال فرماگئے ۔

حج و زیارت

آپ نے دو بار زیارت حرمین طیبین کی سعادت حاصل کی۔ پہلی بار سن 1994ء میں تشریف لے گئے اور دوسری بار سن 1999ء میں اس عظیم نعمت سے سر فراز ہوۓ۔ انھیں دو دفعہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ پہلی بار سن 1994ء میں پیر پیراں نے بلایا اور دوسری بار سن 2019ء میں اپنی مرقد منور کی زیارت سے سرفراز کیا۔

تصنیف و تالیف

آپ مسند تدریس و افتاء کے بادشاہ تو تھے ہی ساتھ ہی ایک عظیم مصنف، صاحب طرز ادب اور انشا پرداز بھی تھے، آپ نے علماء ، فضلا کے لیے کئی نایاب کتابیں تصنیف کی ہیں جنہیں ماہر علم و فن نے بہت سراہا۔ کتابوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں
۔(1) الجوهر المنظم في شرح المسلم

۔(2) حاشیہ شرح ہدایۃ الحکمت ( الہیات ) عربی

۔(3) امام احمد رضا اور علوم عقلیہ

۔ (4) جوامع الحکم

۔(5) توضیحات کبری

۔(6) حاشیہ کبری وغیرہ

اس کے علاوہ کئی مضامین و مقالات اور اصحاب تصنیف کے علمی جواہر پاروں پر تقاریظ بھی رقم فرمائیں اور ہزاروں فتاویٰ تحریر فرماکر امت مسلمہ کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ ادا کیا۔

ان سے ہوتا رہا دشوار مسائل کا حل
تھے مہارت کی فضا حضرت شبیر حسن
( علامہ قدسی )

بیعت و خلافت

بیعت کا شرف شہزادۂ اعلی حضرت، تاجدار اہلسنت حضور مفتی اعظم ہند مفتی محمد مصطفٰی رضا خان نوری بریلوی رضی اللہ عنہ سے رکھتے ہیں۔ خلافت (1) عاشق اعلی حضرت، مفتی نانپارہ علامہ رجب علی رضوی علیہ الرحمہ (2) شہید راہ مدینہ حضرت علامہ سید انوار اشرف عرف مثنی میاں علیہ الرحمہ (3)) نبیرۂ سرکار اعلی حضرت، تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری میاں علیہ الرحمہ (4) گلزار ملت سید شاہ گلزار اسمعیل واسطی اسمعیلی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ (مسولی شریف) سے حاصل ہے۔

عقد مسنون اور اولاد

آپ کا عقد ضلع سنت کبیر نگر کے ایک گاؤں ” واسن ” میں ایک نیک گھرانے میں ہوا۔ جن سے پانچ اولاد ہیں۔ان میں ایک صاحبزادی اور چار صاحبزادے شامل ہیں۔ صاحبزادوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
۔(1) محمد جنید رضا

۔(2) مولانا ارشد رضا جامعی صاحب قبلہ (استاذ مدرسہ عربیہ بحر العلوم سدھود بارہ بنکی)۔
۔(3) محمد راشد رضا
۔(4) محمد شاہد رضا

وصال مبارک
رب کا خاص فضل و کرم ہے کہ حضور مفتی صاحب علیہ الرحمہ دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں آخری سانس تک سر گرم رہے ۔ بالآ خر لوہیا اسپتال میں 14/ربیع الآ خر 1441ھ مطابق 11/دسمبر 2019ء بروز بدھ سات بج کر پندرہ منٹ پر شام کے وقت فنا سے بقا کی جانب کوچ فرمایا ۔ اس سانحہ سے صرف ان کے عزیز و اقارب اور تلامذہ کو ہی زخت صدمہ نہیں پہنچا ، بلکہ پوری دنیا میں صف ماتم بچھ گئی ۔ علم و حکمت کا یہ خور شید تابا ں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

آسماں تیری لحد پر شبنم ا فشانی کرے
سبزہَ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
( ڈاکٹر اقبال )

حق کی ترویج واشاعت میں تھےسرگرم عمل
ناشر فکر رضا حضرت شبیر حسن

زہد وتقویٰ ہے گواہ آج بھی ان کا قدسی
تھے بزرگوں کی ادا حضرت شبیر حسن
( علامہ قدسی )

دعا ہے کہ رب کریم ان کے مراتب و درجات کو بلند فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے طلبہَ جامعہ ، اہلیان روناہی اور پوری دنیا پر ہمیشہ جاری و ساری رکھے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلیٰ اللہ علیہ و آلٰہ وسلم

تحریر: محمد عزیز الرحمٰن قدسی جامعی
ساکن : ۔ سیتامڑھی( بہار )۔

8574013804

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*