حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نقوش حیات

حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نقوش حیات

ازقلم : محمد قمرانجم فیضی حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نقوش حیات

حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نقوش حیات

آپ کا نام احمد بن علی بن یحیٰ بن حازم بن علی بن رَفاعہ ہے۔جد امجد رفاعہ کی مناسبت سے رفاعی کہلائے

آپ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں،آپ کی کُنیت ابو العباس اور لقب مُحْیُ الدین ہے جب کہ مسلکی اعتبار سے شافعی ہیں ۔

آپ کی ولادت باسعادت15رجبُ المرجب 512 ھ/ بمقام اُم عبیدہ قصبہ حسن میں ہوئی۔آپ نسبًا حسنی حسینی موسوی کاظمی رفاعی سید ہیں

آپ کی شخصیت ہمہ جہت شخصیت تھی،آپ سلسلہ رفاعیہ کے بانی اور پیشوا ہیں، آپ انتہائی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔

امیر و غریب،ادنیٰ و اعلیٰ،ذات پات اور چھوٹوں بڑوں سب سے آپ بہت محبت کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کیا کرتے تھے۔

اکثر آپ مجذ وبوں، اپاہجوں، نابیناؤں اور کوڑھیوں کے پاس جاتے، انھیں نہلاتے، ان کے کپڑے دھوتے،سر اور داڑھیوں میں کنگھی کرتے،ان کے لیے کھانا لے جاتے اور خود ساتھ میں تناول فرماتے

ان سے دعاؤں کی گزارش کرتے اور فرماتے ایسے لوگوں کی زیارت مستحب بلکہ واجب ہے۔شیخ سید احمد کبیر ابھی سات سال ہی کے تھے کہ والد ماجد سید علی ہاشمی مکی کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔

اس کے بعد آپ کی نشو ونما اور پرورش شیخ سید منصور بطائحی  کی زیر نگرانی ہوئی، جو آپ کے حقیقی ماموں تھے۔ 

تعلیم

آپ کی تعلیم کے بارے میں پاکستان کے مشہور ومعروف قلم کار ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی لکھتے ہیں

ابتدائی تعلیم حاصل کر لینے کے بعدشیخ عبدالسمیع حربونی کی نگرانی میں پہنچے اور اُن کی شاگردی میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا، اور مزید تعلیم وتربیت کے لئے شیخ ابوالفضل علی واسطی قدس سرہ کے سپرد ہوئے

جہاں آپ نے  علوم عقلیہ ونقلیہ نیز حدیث، تفسیر،منطق، فلسفہ، مروجہ علوم و فنون  میں بطور خاص کمال و مہارت حاصل کی اور مختلف علمی فضل وکمال کے گوہر مراد سے اپنے دامن آرزو کو پُرکی

نیز فقہ کے غوامض ودقا ئق کی تحصیل اپنے ماموں شیخ منصور بطائحی کے ہاتھوں مکمل کر کے اُن سے اجازت وصول کی۔ جس وقت آپ کے ماموں شیخ منصور کو اپنی زندگی کا چراغ گل ہونے کا اندازہ ہوا

تو انھوں نے آپ کو بُلوا کر شیخ الشیوخ کی اَمانت اور اپنے خاص وظائف کی ذمہ داری نبھانے کاعہد لیا، اور آپ کو مسند سجادگی اورمنصب ارشاد پر فائز فرما دیا۔

شیخ احمد رفاعی نے اس قدر تحصیل علم کیا کہ آپ بیک وقت عالم وفقیہ بھی تھے، قاری ومجود بھی، مفسرو محدث بھی تھے اور دین کی اعلیٰ قدروں کی نشرواشاعت کرنے والے عظیم مجاہد بھی۔ فقہ میں آپ امام شافعی کے مذہب کے مقلد تھے

 سیرت وکردار

سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجدحضور سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے۔ سنت وشریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت وعظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا۔ مؤرخین نے آپ کی شخصیت پر بہت کچھ لکھا ہے۔

اور اَرباب فکر و قلم نے آپ کے فضائل و مناقب میں قلم توڑ دئے ہیں۔آپ رمز تصوف اور رازِ طریقت آشکار کرتے ہوئے کبھی کبھار فرمایا کرتے تھے:۔

[ما رایت أقرب ولا أسہل طریقاً إلی اللّٰہ من الذل و الا فتقار و الانکسار بتعظیم أمر اللّٰہ والشفقۃ علی خلق اللّٰہ و الاقتداء بسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم] ۔

یعنی میں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ تک پہنچنے کا اِس سے زیادہ سہل اور قریب ترین کوئی راستہ نہیں دیکھا کہ رضاے الٰہی کی خاطر تواضع و انکسار اِختیار کی جائے

خلق خدا کے ساتھ لطف ونرمی سے پیش آیاجائے، اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی پیروی میں زندگی کا سفرطئے کیا جائے۔

خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے۔ اگر کسی شخص کو بیمار سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے۔ اور بعدِ مسافت کے باعث ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے۔ 

آپ کی سخاوت

حضرت شیخ عبد الصمد حَربونی جو کہ َرواق (شہر) میں اوقافِ احمدی کے ذمہ دار تھے وہ فرماتے ہیں کہ 567ھ/ میں حضرت سیّدنا امام احمد رفاعی کے کھیت اور آپ کے رواق میں موجود اوقاف سے سات لاکھ دیوانی چاندی کے درہم اور بیس ہزار سونے کے ٹکڑے حاصل ہوئے۔

اور اسی سال آپ کے لئے مختلف شہروں سے اَسّی ہزار چادریں ، پچاس ہزار تمشکۃ رومال وغیرہ بیس ہزار عجمی اونی کمبل، بتیس ہزار کاٹن کے عمامے اور گیارہ ہزار سونے کے دوافقی ٹکڑے آئے اور سات لاکھ ہندی چادریں آئیں

اور اسی دن آپ نے رواق کی نہر کے کنارے اپنے کپڑوں کو دھویا اور اپنی ستر پوشی اپنے رومال سے فرمائی اور رواق میں آپ کی الماری میں ایک بھی درہم نہ تھا جو کچھ آپ کو حاصل ہوا تھا وہ سب آپ نے کمزوروں، فقیروں پر صدقہ کر دیا، یا مستحقین، سائلین اور فقراء و مساکین کو دے دیا۔ (سیرت سلطان الاولیاء )۔

روضۂ سرکار پرحاضری

حضرت شیخ سید احمدکبیر رفاعی رحمتہ اللہ تعالی علیہ 555 سن ھجری/ میں حضور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کی حاضری کے لیۓ تشریف لےگئے تو گنبد خضری کے قریب پہنچ کر آپ نے بلند آواز سے عرض کیا

السلام علیک یاجدی! فوراً روضہ اقدس سے آواز آئی, وعلیک السلام یا ولدی ،یہ آواز سن کر آپ وجد میں آگئے تمام حاضرین نے اس سلام کے جواب کو سنا.اس وقت عبدالرزاق حسینی واسطی رحمتہ اللہ تعالی علیہ جیسے جلیل القدر لوگ موجود تھے 

تصنیف و تالیف

شیخ سید احمد رفاعی نے توحید و تصوف اور اخلاقِ حمیدہ پر مشتمل بہت سی مفیدو گراں قدر کتابیں اپنے پیچھے چھوڑی ہیں۔ حاجی خلیفہ نے اپنی کتاب کشف الظنون میں بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے

جب کہ کچھ کا ذکر سید محمد ابوالہدیٰ الصیادی کی تصنیف میں ملتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق شیخ الرفاعی کی تصانیف حسب ذیل ہیں

البرہان المؤید، الحکم الرفاعیۃ، الأحزاب الرفاعیۃ،النظام الخاص لأھل الاختصاص ، الصراط المستقیم فی تفسیر معانی بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، الرؤیۃ، الطریق إلی اللہ العقائد الرفاعیۃ، المجالس الأحمدیۃ، تفسیر سورۃ القدر، حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللّٰہ،  الأربعین، شرح التنبیہ، رحیق الکوثر،  البہجۃ فی الفقہ۔

اس میں کچھ تومطبوعہ ہیں، بعض تاہنوز مخطوطہ ہیں، اور بیشتر فتنہ تاتار یہ کی نذر ہو گئیں۔

ملفوظات عالیہ

حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی اپنے زمانے کے شیخ الوقت اور امام الاولیاء تھے۔ بڑے عابد و زاہد، عالم فاضل اور صاحبِ کشف و کرامت تھے۔ آپ اپنے مُریدین و مُحبّین کی حُسنِ تربیت کے لئے وقتاً فوقتا ًشریعت وطریقت کے بہترین رہنما اصول بھی بیان کرتے رہے۔

آپ کےچند ملفوظات مُلاحظہ کیجئے،جو اپنے اوپر غیر ضروری باتوں کو لازم کرتاہے وہ ضروری باتوں کو بھی ضائع کردیتا ہے ۔

مخلوق کو اپنے ترازو میں مت تولو بلکہ اپنے آپ کو مومنین کے ترازو میں تولو تاکہ تم ان کی فضیلت اور اپنی مُحتاجی جان سکو ۔جو شخص اللہ عزوجل پر توکل کرتاہے تو اللہ تعالی اس کے دل میں حکمت داخل فر ماتا ہےاور ہر مشکل گھڑی میں اسے کافی ہوجاتاہے۔

ہمارا طریقہ تین چیزوں پر مشتمل ہے : نہ تو کسی سے مانگو ،نہ کسی سائل کو منع کرو اور نہ ہی کچھ جمع کرو ۔(مناقب الاقطاب الاربعہ الشیخ یونس بن ابراہیم السامرائی)۔ 

وصال 

آپ مکمل 66 /سال تک اس دارِ فانی میں رہ کر مخلوقِ خدا کی رُشد  و ہدایت کا کام سر انجام دینے کے بعد بروز جمعرات ۲۲جمادی الاولی ۵۷۸ھ/بوقتِ ظہر اس عالمِ فنا سے عالمِ بقا کا سفر اختیار فرمایا۔۔نمازِ جنازہ کے وقت کئی لاکھ کا مجمع موجود تھا،بعد نمازِ جنازہ خانقاہ ِاُمِّ عَبیدہ (صوبہ ذِیقار، جنوبی عراق) میں آپ کی تدفین کی گئی۔

چیف ایڈیٹر ماہنامہ صدائے بازگشت

رابطہ -6393021704

qamaranjmfaizi@gmail.com

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

عا شق رسول و ولی کامل سید احمد کبیر الر فاعی علیہ الرحمہ

سید احمد رفاعی اور خدمت خلق

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top