حیات و خدمات

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت استاذ

تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت استاذ

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت استاذ

بیان وتدریس کے ذریعے نئی نسل کے اندرعلم کی لازوال اور بیش قیمتی دولت منتقل کی جاتی ہے۔

جس کی بدولت عقائد و اعمال میں پختگی اور بہتری آتی ہے، اخلاق و کردار نکھرتے ہیں،معاشرے سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔

اسی لیے متقی، پرہیزگار اور ماہر استاذ کی زیر تربیت و نگرانی میں رہنے والے طلبہ جس بھی میدان میں قدم رکھتے ہیں،کام یابی ان کے قدم چومتی ہے۔

شہنشاہ ولایت حضرت غوث الثقلین شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ دین کی تکمیل اور زہد و مجاہدہ کے طویل سفر کے بعد تعلیم و تدریس کا آغاز استاذِ گرامی حضرت ابو سعد مخرمی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ مدرسہ سے 528 ہجری میں کیا۔

حضور غوث پاک کے وعظ و تدریس کے شہرت کے سبب عاشقانِ علم دین کی تعداد اس قدر بڑھی کہ یہ مدرسہ انہیں سمونے سے قاصر رہا، اس لیے دوبارہ مدرسہ کی توسیع کی گئی۔

حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ فقہ،حدیث،تفسیر،نحو جیسے تیرہ مضامین کی تدریس فرماتے تھے۔بعد نمازِ ظہر قرأتِ قرآن جیسا اہم مضمون پڑھاتے۔

آپ سے علم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد تقریباًایک لاکھ ہے۔جن میں فقہا کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔

حضرت غوث پاک کے صحبت کی برکت

حضرت سیدنا عبد اللہ خشاب علیہ الرحمہ علم نحو پڑھ رہے تھے۔آپ نے حضور غوث پاک کے درس کا شہرہ بھی سن رکھا تھا۔ایک روز آپ حضور غوث پاک کے درس میں شریک ہوئے۔جب آپ کو درس میں کوئی نحوی نکات نہ ملے تو دل میں وقت برباد ہونے کا خیال گزرا۔

ٹھیک اسی وقت حضور غوث پاک آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:’’ہماری صحبت اختیار کرلو ہم تمہیں علم نحو کے مشہور امام سیبویہ کی طرح بنا دیں گے‘‘۔یہ سن کر حضرت عبد اللہ خشاب نحوی نے حضور غوث اعظم کے یہاں رہنا شروع کر دیا۔

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو علم نحو کے ساتھ ساتھ علوم نقلیہ وعقلیہ پر بھی مہارت حاصل ہو گئی۔حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی یہ شان تھی کہ آپ کے کلاس میں چار سو علماے کرام علم وحکمت کی باتیں سیکھنے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔

حضور غوث اعظم کے شاگرد

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے آخری عمر تک تدریس و تعلیم کاسلسلہ جاری رکھا جو 33 سال کا ایک لمبا زمانہ ہے۔

اسی لیے آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہیں جواچھے اچھے عہدوں پر فائزبھی ہوئے۔ اس بات کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے ایک شاگرد حضرت حامد بن محمود حرانی کو اپنے یہاں حران میں جج اورمعلّم کے منصب پر رکھا تھا۔

جب کہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے ایک شاگرد جن کا نام حضرت زین الدین علی بن ابراہیم دمشقی ہے،کو مشیر کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔

آپ کی علمی شان

حضرت عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی شان بہت بلند و ارفع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری اور باطنی دونوں علوم میںکمال کی مہارت عطا فرمائی تھی۔ قرآن و حدیث پر آپ پوری طرح عبور رکھتے تھے۔

آپ کا حافظہ بڑا غضب کا تھا۔جس چیز پر ذرا بھی غور فرماتے فوراً ازبر یاد ہوجاتی۔ ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد جب آپ نے بے پناہ عبادت و ریاضت کی تو اس وقت متعدد علوم آپ پر ظاہر ہوئے اور اسرار و رموز کے بہت سے پردے آپ سے اٹھ گئے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ نے درس وتدریس اور خطبات کا آغاز فرمایا تو دنیا آپ کے غیر معمولی علم پر حیران ششدر رہ گئی۔دوران تدریس و خطابت ایسے ایسے نکات بیان فرماتے کہ بڑے بڑے علما کے علم میں نہ ہوتے ۔یہی وجہ تھی کہ تھوڑی ہی دن میں آپ کے علم کی شہرت دور ونزدیک میں بہت جلد پھیل گئی۔آپ کی درسگاہ سے بہت جید علما وفضلا سیراب ہوئے۔غرض کہ حضرت غوث اعظم دینی علوم کا انمول خزانہ تھے جس سے تشنگان علوم دینیہ نے خوب فائدہ اٹھایا۔

آپ کے علم وفضل کی شہرت سن کر لوگ سینکڑوںکوس کا سفر کا پرمشقت سفر طے کرکے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے اورعلم کے اس کوہ ہمالیہ اور بہر زخار سے سیراب ہوتے۔

وسعت علم کے لحاظ سے آپ تمام علما اور فقہا پر سبقت لے گئے اور دنیاے اسلام میں کوئی ایسا عالم نہیں تھا جو آپ کے تبحر علمی ،عظمت اور کمال کا معترف نہ ہو۔

تعلیم و تدریس

آپ نے تعلیم وتدریس میں بڑی جاں فشانی کے ساتھ زندگی گزاری۔چوں کہ علم وتعلیم انسانی معاشرے کے قیام کی بقا اور استقرار کا بنیادی عنصر ہے۔آپ نے تعلیمی سلسلے کے ذریعہ سے افراد سازی کا فریضہ انجام دیا کیوں کہ اچھے اور قابل افراد کے ذریعے سے ہی ایک اچھا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

چھٹی صدی ہجری بھی اس بات کی متقاضی تھی کہ با صلاحیت اور صاحبان استعداد افراد منظر عام پر آئیں جو بد امنی اور تخریبی تحریکوں کا خاتمہ کریں۔

اس کے بارے میں آپ کی سب سے بڑی کاوش ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ کی علمی اور روحانی نشست میں ستر ہزار افراد تک شریک ہوتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ جن میں چار سو علماے کرام قلم و دوات لے کر حاضر ہوتے تھے جو آپ کے ارشادات وتعلیمات کو قلم بند کیا کرتے تھے۔

آپ سے بہت سے لوگوں نے اکتساب فیض اور علم حاصل کیا حتیٰ کہ آپ کے شاگردوں میں بہت سے ثقہ علما کے طبقات ہیں۔
آپ کو تعلیم وتربیت اور درس و تدریس سے گہری دلچسپی تھی۔آپ کا یہ معمول تھا کہ نماز فجر سے فارغ ہو کر آپ مدرسہ تشریف لاتے اور طلباء،خدام دیگرحضرات کو شریعت و طریقت کی تعلیم دیتے۔

قرآن وحدیث،فقہ اور دیگر درسی کتا بوں کا درس دیتے۔شام تک درس وتدریس کایہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔

اس کے علاوہ فتویٰ نویسی کی خدمت بھی انجام فرماتے تھے۔ہفتہ میں عام طور سے تین دن محفل وعظ منعقد ہوتی،جن میں لوگ اتنے ذوق وشوق سے شریک ہوتے تھے کہ ہجوم کے باعث شہر سے باہر عید گاہ میں آپ کا منبر رکھا جانے لگا۔

چند ہی سالوں کے اندر آپ کے شاگرد اور عقیدت مند تمام عراق،عرب،شام اور دوسرے ممالک میں پھیل گیے۔

طلبہ سے آپ کے روابط اور طریقہ تفہیم

طالب علموں سے آپ کے روابط بہت ہی عمدہ تھے ان کے پسند و ناپسند کا خیال کئے بغیران کے حق میں جو بہتر ہوتا اسی کی نصیحت فرماتے۔بعض اوقات اس میں تیزی اور تندی پیدا ہو جاتی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ لوگوں کے دلوں پر میل جم گیا ہے

جب تک اسے زور سے رگڑا نہیں جائے گا صاف نہیں ہوگا۔میری سخت کلامی ان شاء اللہ ان کے لیے آب حیات ثابت ہوگی۔اے لوگو!میری سخت کلامی سے مت بھاگو ۔ جو مجھ سے اور میرے جیسے لوگوں سے بھاگا اس کو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی۔

احمد بن مبارک بیان فرماتے ہیں کہ ایک عجمی شخص ابی نامی آپ سے تعلیم حاصل کرتا تھا۔جو بہت کند ذہن اور غبی تھا کہ بہت مشکل سے اس کی سمجھ میں کوئی بات آتی تھی۔اس کے باوجود بھی حضرت غوث اعظم انتہائی صبر وتحمل کے ساتھ اس کو درس دیا کرتے تھے۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت استاذ

 

اس مضمون کو بھی پڑھیں: تعلیمات حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ


قارئین کرام ! حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے کتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہوگی کہ آپ نہ صرف فقہ،حدیث اور قرآن و تفسیر کے ساتھ13علوم پڑھاتے تھے بلکہ آپ جس فن میں بھی چاہتے تھے

دوسروں کو ماہر بھی بنا دیتے تھے۔

اسی طرح آپ کے پڑھانے کا انداز اور طالب علموں کے ساتھ آپ کا اخلاق و رویہ کتنا عمدہ اور اچھا تھا کہ آپ کے کلاس و مجلس میں ستّر ہزار لوگ شامل ہوتے تھے جس میں سے چار سو بڑے بڑے علما و فضلا ہوتے تھے۔

آج بھی ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم صرف دامنِ غوث پاک تھامنے کا ہی دعویٰ نہ کریں بلکہ ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم خودپڑھیں اور اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم کی طرف راغب کریں اور صرف پڑھیں یا پڑھائیں ہی نہیں بلکہ کسی بھی فن یا کسی بھی چیز میں پہلے خود اکسپرٹ وماہر بنیں اور اپنے بچوں کو بھی بنائیں۔

اورہم اساتذہ کرام کو چاہئے کہ حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت پاک سے آپ کے تدریسی طریقہ کار، طلبہ سے آپ کا سلوک و لگاؤ اور پڑھانے کے انداز کا بغور مطالعہ کریں۔

تاکہ ہم بھی تعلیم و تعلم کے ذریعہ سے ملک و ملت کی ترقی میں اور بہتر طریقے سے کام کر سکیں اور ایسے ہونہار افراد پیدا کر سکیں جو اعلیٰ عہدوں اور منصبوں کی زینت بن سکیں۔


تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی
اعزازی ایڈیٹر: ہماری آواز ( مہراج گنج)۔
9792642810
mohdnaeemb@gmail.com

اس مضمون کا بھی مطالعہ کریں : حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت مفسرو محدث

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*