حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

 از  ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ عرس حضور تاج الشریعۃ علیہ الرحمۃ آپ سبھی احباب کو بہت مبارک  حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

          وارث علوم اعلی حضرت، جانشین مفتی اعظم ہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمۃ و الرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آ پ کی شخصیت عالمی شخصیت تھی، یوں تو آپ مختلف علوم و فنون میں ماہر تھے مگر علم فقہ اور علم حدیث میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی اور آپ کی نعت گوئی بھی خوب ہے، سن کر دل و دماغ پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہوجاتی ہے

علوم و فنون میں مہارت تو کوئی بھی محنت اور جد و جہد کرکے حاصل کرسکتا ہے، لیکن علم کے ساتھ عمل بھی کرنا، ہر گھڑی شریعت کا پاس و لحاظ رکھنے کی پوری کوشش کرنا، تقوی و پرہیزگاری اور تصلب فی الدین کو اپنا طرہ امتیاز بنانا وغیرہ یہ ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتا، یہ اسی کے حصہ میں آتا ہے جسے اللہ تعالی اپنا محبوب بناتا ہے ۔

اور حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ کو اللہ تعالی نے اپنا محبوب بنایا ہے؛ کیوں کہ آپ کی زندگی میں عوام و خواص کا آپ سے بے پناہ محبت کرنا اور دار فانی سے رخصت ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں علما اور عوام کا آپ کے جنازہ میں شرکت کرنا، اللہ تعالی کے نزدیک اور فرشتوں کے جھرمٹ میں آپ کے محبوب ہونے کی واضح و بین دلیل ہے

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا ) (مریم:19، الآیۃ:96)  ترجمہ : بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عن قریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا (کنز الایمان)۔  

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ العَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الأَرْضِ   (متفق علیہ)۔

ترجمہ: جب اللہ تعالی بندہ کو محبوب بناتا ہے؛ تو جبریل علیہ السلام کو ندا دے کر فرماتا ہے: بے شک اللہ تعالی فلاں بندہ کو پسند کرتا ہے، اے جبریل تم بھی اسے محبوب رکھو؛ تو جبریل علیہ السلام اسے محبوب رکھتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں کے درمیان یہ اعلان فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالی فلاں بندہ کو محبوب رکھتا ہے، تم بھی اسے محبوب رکھو؛ تو آسمان والے بھی اسے محبوب رکھتے ہیں، پھر اس فلاں شخص کو اہل زمین کے درمیان مقبولیت عطا کردی جاتی ہے

اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیاے اہل سنت آپ کو جانتی اور مانتی ہے، آپ کے دست حق پرست پر سیکڑوں لوگ کفر کے اندھیرے کو چھوڑکر اسلام کی تابناک روشنی میں داخل ہوتے نظر آئے، ہزاروں بے راہ رو آپ کی حکیمانہ تبلیغ سے بے راہ روی کو چھوڑکر راوہ ست اختیار کرتے ہوئے دکھائی دئے اور لاکھوں کی تعداد میں عوام و خواص آپ کی بیعت و ارادت میں شامل ہوکر خوشی و سعادت محسوس کر رہے ہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خداے بخشندہ

ایک حاکم جب ملک فتح کرتا ہے؛ تو اس کے لیے قوت اور طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، تب جاکر کہیں اسے ملک اور قوم کے اعصاب پر راج کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر قربان جائیے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کی ذات پر کہ جنہوں نے طاقت و قوت کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور حکیمانہ زندگی سے ملک اور لوگوں کے جسم پر نہیں بلکہ ان کے دلوں پر راج کیااور یوں ان کے دلوں کی فتح و نصرت آپ کے حصہ میں آئی، کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے

وہ اداے دلبری ہو کہ نواے عشقا نہ

جو دلوں کو فتح کرلے وہ فتح زمانہ

حضور تاج الشریعہ قدس سرہ کا تفقہ فی الدین  از قلم الحاج حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

آپ علم و حکمت میں بھی یگانہ روزگار تھے؛ یہی وجہ ہے کہ آپ کے رشحات قلم سے متعدد علمی و تحقیقی تصنیفات وجود میں آئیں، آپ کے علم و حکمت اور خطاب نایاب سے صرف متعدد صوبے یا ایک ملک ہندوستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ عرب و عجم میں کئی ملک کے لوگ مستفید ہوئے

آپ کے علم، تقوی و پرہیزگاری اور تصلب فی الدین کو علماے عرب و عجم بلکہ علماے جامعہ ازہر ،مصر نے بھی نگاہ تحسین سے دیکھنے کے ساتھ آپ کے اس وصف محمود کو سراہا، آپ اہل سنت و جماعت کے بے مثال رہنما تھے، آپ سنیت کی جان تھے، آپ سنیت کی آن بان شان تھے

آپ نے اپنی پوری زندگی مسلک اعلی حضرت یعنی مسلک اہل سنت و جماعت کے لیے وقف کردی تھی؛ انہی تمام اوصاف حمیدہ اور بے لوث قربانیوں ہی کی وجہ سے جب آپ کے دار فانی سے کوچ کرنے کی جانکاہ خبر ۶؍ذوالقعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۰؍جولائی ۱۸ء سنیچر کی رات بعد مغرب عالم اسلام میں ہوا کی طرح پھیلی

 تو اہل سنت تو اہل سنت غیروں کی بھی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، دل اضطراب کا شکار ہوگیے، چین و سکون غارت ہوگیا، لوگوں پر ایک لمحہ کے لیے سکتہ طاری ہوگیا اور جب ہوش میں آئے؛ تو پورے عالم اسلام سے علماے کرام اور پیران عظام تعزیتی خطوط بھیجنے لگے اور مختلف ممالک سے عوام و خواص سبھی لوگ آپ کی ایک جھلک دیکھنے اور آپ کے مبارک جنازہ میں شرکت کے لیے اپنے مرکز عقیدت بریلی شریف کا رخت سفر باندھ لیا، دیکھتے ہی دیکھتے بریلی شریف میں سیلاب کی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوگیے، جدھر نظر دوڑائیے صرف انسانوں کے ہی سر نظر آرہے ہیں!۔

 بالآخر تمام محبین و مخلصین نے اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر ۸؍ذو القعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۲؍جولائی ۱۸ء بروز اتوار صبح ۱۱؍ بجے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد اپنی پرنم آنکھوں سے اس مرد مجاہد اور مرد قلندر کو بریلی شریف کی سرزمین پر ازہری گیسٹ ہاؤس میں سپر دخاک کیا۔

ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری

حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

            اللہ تعالی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قرب عطا فرمائے، اہل سنت و جماعت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے، آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا عسجد رضا صاحب قبلہ دام ظلہ، دیگر اہل خانہ اور اعزا و اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور ہم سب کو عملی طور پر سچی محبت کرکے آپ کے نقش قدم پر چل کر دین و سنیت اور مسلک اعلی حضرت کی بیش بہا خدمت کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

طالب دعا

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے    

بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ

اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

amjadiazhari@gmail.com

Amazon Flipkart   Havelles  Bigbasket

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top