حیات و خدمات

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور خلق خدا کی خدمت

از قلم : محمد اویس رضا قادری حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور خلق خد ا کی خدمت

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور خلق خد ا کی خدمت

سیکڑوں سال گزرنے کے باوجود بھی لوگ حضرت غوث اعظم کے دیوانے اور عقیدت کیش ہیں اور قیامت تک ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عقیدت کا شمع روشن رہے گا۔ اس مقبولیت کا سبب صرف آپ کے کمالات و کرامات ہی نہیں بلکہ خدمت خلق بھی اس کا ایک سبب ہے۔

خالق کائنات نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:۔ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ۔ جو لوگ لوگوں کو نفع پہنچاتے ہیں وہ تادیر زمین پر ٹکے رہتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما راوی رحمت دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ’’ ان اللّٰه تعالی يحب من عباده من هو انفع للناس، فکلما زاد النفع زاد حب اللّٰه لہ‘‘ ’’اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے اُس کے ساتھ زیادہ محبت فرماتا ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع رساں ہوتا ہے، جس قدر خلقِ خدا کی نفع رسانی میں اضافہ ہوگا، اُس کے لیے اللہ تعالی کی محبت میں اضافہ ہوگا۔

خدمت خلق بھی حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک روشن باب ہے جس کی وجہ سے آج تک آپ سے عقیدت و محبت روز فزوں ترقی پذیر ہے۔ لیکن شومی قسمت عموماً ہمارے خطبا و مقررین اور دعاۃ و ھداۃ غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی فضیلتیں اور کرامتیں ہی بیان کرتے ہیں۔ آپ کی زندگی کے دیگر گوشوں پر روشنی نہیں ڈالتے۔

اس لیے مناسب سمجھا کہ حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی *خدمت خلق* سے متعلق کچھ اہم معلومات آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ ہمارے خطبا و مبلغین بھی اسے مطالعہ کریں اور قوم کو غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی حیات کے اس درخشاں پہلو سے بھی آگاہ کریں۔

عزیز دوستو
حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اخلاقی خوبیوں کے انجمن تھے ایثار و قربانی کے مہر جہاں تاب تھے، مہمان نوازی میں بے مثال تھے اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورت پر ترجیح دینا آپ کی ستودہ صفات میں سے تھا۔
خاتم المحدثین شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ لکھتے ہیں :۔

حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے احباب میں سے ایک کسان حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے لیے بڑے اہتمام سے و خلوص سے گیہوں بویا کرتا تھا ایک دوست جو نان بائی (روٹی بنانے ) کا کام کرتا تھا آپ کے لیے بڑی پاکیزگی سے چار پانچ روٹیاں پکایا کرتا اور صبح سویرے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ ان روٹیوں کو لے کر اہل مجلس میں تقسیم فرمادیا کرتے جو کچھ بچ جاتا اپنے لیے رکھ لیتے ، اس کے علاوے جب بھی کوئی چیز آتی اس کو اہل مجلس میں تقسیم فرما دیاکرتے ( زبدۃ الاثار تخلیص بھجۃ الاسرار : ص 106 )۔

ایک مرتبہ ایک شکستہ دل فقیر کو ایک ہزار دینار کے علاوہ اپنا پیراہن عطا فر مادیا اور ارشاد فرمایا اس کو بازار میں بیچ کر اپنی ضروریات کو پوری کرلینا (ایضاً)۔

کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابن ابی القاسم
کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا

عزیز دوستو
حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کا اخلاق کریمانہ کیسا تھا اس کو پڑھیں اور سچے غلام غوث پاک بننے کی کوشش کریں

شیخ ابو الحسن علی القرشی رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو آپ نے بتایا کہ حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ ایک نور تھے، شگفتہ رو، با اخلاق، باحیا، کشادہ پیشانی، رحیم ،شفیق، پاک طینت، اہل مجلس کا احترام کرنے والے ، غم زدہ لوگ آپ کو دیکھ کر ہی خوش ہوجاتے۔

حضور غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر ایک اور بزرگ فرماتے ہیں کہ ، حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اگر دو کپڑے ہوتے تو ایک کپڑا غریبوں کو بخش دیتے ( ص: 108 ایضاً )۔

عزیز دوستو
کیا غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے چاہنے والے ان کے نام سے لنگر لوٹانے والے حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی اس سنت پر عمل کرتے ہیں یا صرف نام وری و دکھاوے کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں ۔ہر سال گیارویں کے نام پرکھانا بنواکر اپنے احباب اور رشتے داروں کو کھلا تے ہیں ،لیکن اگر غوث اعظم کے نام پر، اُسی رقم سے،کسی غریب اسلامی بہن کی شادی کا اہتمام کر دینے کو کہہ دیا جاے تومحفل چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں ۔

خود کو غوث پاک کا غلام کہنے والےاہلِ ثروت حضرات سےکہا جاےکہ آپ اس سال ، گیارہویں شریف کے موقع سے،حضور غوث پاک کے نام پر ،کسی غریب مسلمان کو کسی مناسب کاروبارمیں لگا دیں یا اپنی مسجد کے امام صاحب کو تجارت میں شریک کرلیں تو وہ غوث پاک کی غلامی کا سارا سبق بھول جاے گا اور اگلے سال تک آپ سے قطع تعلق بھی کر لے گا

عزیز دوستو
حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے اندر ایثار و قربانی اور خدمت خلق کا جذبہ کتنا زیادہ تھا حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے خود جو بیان کیا ہے اس کے ذریعے سے اندازہ لگا سکتے ہیں واقعہ ملاحظہ فرمائیں :۔

ایک مرتبہ میں (حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ) نے بغداد میں بیس دن اِس حال میں گزارے کہ مجھے کھانے کے لیے کوئی حلال چیز نہ ملی۔ پس میں کھانے کے لیے کسی حلال چیز کی تلاش میں ایوان کسری کی طرف (موجود) ویرانے کی جانب گیا۔

میں نے وہاں ستر (70) فقرا کو(جوکہ وقت کے کبار اولیاے کرام تھے)اِسی جستجو میں دیکھا تو میں نے دل ہی دل میں کہا: یہ بات مروت کے خلاف ہے کہ میں اِن فقراء کی ضرورت مندی کو دیکھ کر بھی وہاں اپنے لیے کچھ تلاش کروں۔ یہ سوچ کر میں بغداد شہر کی طرف واپس آگیا جہاں مجھے اپنے شہر (جیلان ) کا ایک ایسا شخص ملا جسے میں جانتا نہیں تھا۔

اُس نے مجھے کچھ رقم تھماتے ہوئے کہا کہ یہ رقم آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کے لیے میرے ہاتھ بھیجی ہے۔ (آپ فرماتے ہیں:) میں نے اُس رقم میں سے ایک مختصر حصہ اپنے لیے الگ کیا اور باقی رقم لے کر ویرانے کی طرف تیزی سے روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر وہ رقم اُن ستر (70) فقرا پر تقسیم کردی

اُنہوں نے پوچھا :یہ رقم کہاں سے آئی؟ میں نے اُنہیں بتایا : یہ رقم میری والدہ ماجدہ نے بھجوائی ہے اور مجھے گوارا نہ ہوا کہ میں یہ رقم آپ حضرات کے علاوہ کسی پر خرچ کروں۔پھر میں بغداد کی طرف واپس آیا میں نے بچائی ہوئی رقم سے کھانا خریدا اور دیگر فقرا کو بلا کر اُن کے ہمراہ کھانا کھایا۔ (قلائد الجواهر،ص: 2)

عزیز دوستو
حضور غوث اعظم رحمہ اللہ تعالی کا ایثار اور آپ کے قلب اطہر میں موجزن خدمت خلق کا جذبہ اس قدر تھا کہ رقم ملنے پر خود بھوکا ہونے کے باوجود اپنی بھوک کو نظر انداز کرکے ویرانے میں کھانے کی تلاش میں مصروف اولیاے کرام کی خدمت میں رقم پیش کردیا

عزیز دوستو ! ۔
حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا لنگر خانقاہ قادریہ میں سال میں صرف ایک بار نہیں بلکہ سال کے بارہ مہینے اور رات و دن یکساں طور پر چلا کرتا تھا حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے لنگر کا حال شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی پڑھیں آپ لکھتے ہیں

کہ حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مصلے کے نیچے جو کچھ خزانہ غیب سے آتا تھا اسے ہاتھ نہ لگاتے تھے بلکہ اپنے خادم سے فرما دیتے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق مصلے کے نیچے سے نکال لے اور روٹی بنانے والے، سبزی بیچنے والے، اور دیگر دوکان داروں کے حساب بے باق کر دے ( بغیر رقم کے یہ سب لوگ ہمیشہ اپنا کام مستعدی کے ساتھ کرتے تھے)

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں خلیفہ وقت خلعت فاخرہ بھیجتا تو آپ فرماتے ابو الفتح آٹا والے کو دے دو

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ معمول تھا کہ مہمانوں، درویشوں، مسافروں کے کھانے کے لیے ابو الفتح کی چکی سے آٹا (ادھار) منگوا لیتے اور بعد میں خلعت ملنے پر چکی والے کا حساب بیباق کردیا کرتے تھے ( زبدۃ الاثار تخلیص بھجۃ الاسرار :ص 105،106) ناشر : مکتبہ نبویہ لاہور

لہذا اے غلامان غوث و گیارہویں شریف کا لنگر کرنے و کروانے والو اٹھو جاگ جاو اور سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی طرح خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرو اور اپنے کاموں سے سچے غلام غوث ہونا ثابت کرو
اللہ پاک مسلمانوں کو صراط مستقیم پر چلنے اور اپنی پونجی کو درست جگہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرماے ۔ آمین بجاہ طہ و یسین ﷺ

از قلم : محمد اویس رضا قادری
(کشن گنج بہار ،بھارت)

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

 غوث اعظم بحیثیت مفسر و محدث

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی گیارہویں شریف

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ وعلیہ بحیثیت استاذ

تعلیمات حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ضرور مطالعہ کریں

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سے پہلے بزرگان دین کی بشارتیں

سرکار غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی دریا دلی

تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور اصلاح معاشرہ

 آفتاب ہدایت اور شہنشاہ ولایت ہیں غوث اعظم

گیارہوں شریف کی شرعی حیثیت کیا ہے

غوث اعظم کی ولادت سے پہلے شہرت کا عام ہونا

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*