خلفاے ثلثہ اہل تشیع کی نظر میں قسط ہفتم

خلفاے ثلثہ اہل تشیع کی نظر میں قسط ہفتم

تحریر: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی خلفاے ثلثہ اہل تشیع کی نظر میں قسط ہفتم [دوسری سیریز۔ آخری قسط [کُتُبِ شیعہ سے خلیفۂ سوم حضرتِ سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقِب کا ثبوت]

خلفاے ثلثہ اہل تشیع کی نظر میں

مذکورہ گفتگو میں شیعہ مذہب کی انتہائی معتبر کتابوں سے تین حوالے پیش کیے گئے ،جن سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ حضورِ اقدس ﷺ کی شہزادیوں کی حقیقی تعداد چار ہے۔

اور حضرتِ ذو النورین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور سرورِ عالَم ﷺ کے حقیقی داماد ہیں، نہ کہ مجازی؛ مگر آج کے مرثیہ خواں ، تبرا باز اور ماتم کی مجلسیں گرم کرنے والے بد دماغ ذاکرین نہ جانے کیوں اپنے اکابر علما سے ناراض ہیں۔

کہ اُن کی تصریح[واضح اعلان] کے باوجود ، صرف حضرتِ سیدتنا فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضورِ اقدس ﷺ کی شہزادی اور صرف حضرتِ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو نبیِّ اکرم ﷺ کا دامادمانتے ہیں ۔

شیعہ کتب سے اور بھی حوالے پیش کیے جا سکتے ہیں ؛مگر ضرورت محسوس نہیں ہوتی،کیوں کہ حق پرست و حق جوٗ کے لیے ایک ہی حوالہ کافی ہوگا ،جب کہ باطل پرست اور معاند و ہٹ دھرم کے لیے دفتر کے دفتربھی بے سود ثابت ہوں گے ۔

البتہ عوامِ اہلِ تشیع کی تسلی کے لیے قرآنِ مقدس کی وہ آیتِ کریمہ پیش کرنا مناسب معلوم ہو رہاہے،جو صریح طور پر یہ ثابت کر تی ہے کہ آقاے دو جہاں ﷺ کی شہزادیاں ایک سے زائد تھیں ۔

اللہ عز وجل نے سورۂ احزاب میں ارشاد فرمایا: ـ

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ۔ذٰلِکَ اَدْنٰٓی أنْ یُعْرَفْنَ فَلَا یُؤذَیْنَ ۔ وَکَانَ اللہُ غَفُوْراً رَّحِیْماً ۔[سورۂ احزاب ، آیت نمبر ۵۹:]

ترجمہ:اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہیے کہ وہ[گھر سے نکلتے وقت]اپنی چادروں کا کچھ حصہ [اپنے منہ پر]لٹکا لیا کریں ۔ یہ اس کے بہت قریب ہے کہ ان کو پہچان لیا جائے [کہ یہ شریف عورتیں ہیں ] تو ان کو ایذا[تکلیف] نہ دی جائے اور اللہ بہت بخشنے والا ،بے حد رحم فرمانے والا ہے ۔

اِس آیتِ کریمہ میں مذکور لفظِ’’بنات‘‘ بنت کی جمع ہے ،جس کا معنٰی ہے ’’بیٹیاں‘‘ ۔ اِس سے اُمت کی بیٹیاں مراد نہیں لی جا سکتیں ؛ کیوں کہ آگے ’’ وَ نِسَآءِ الْمُؤمِنِیْنَ ‘‘ آیا ہے۔

لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں مسلم خواتین کو مجازا ً حضورِ اقدس ﷺ کی بیٹیاں قرار دیا گیا ہے؛ اس لیے ماننا پڑے گا کہ ’’بنات‘‘ سے آقاے دو جہاں ﷺ ہی کی بیٹیاں مراد ہیں نہ کہ کسی اور کی ۔اور یہ دعویٰ بھی نا قابلِ قبول ہے کہ آیتِ کریمہ میں واحد پر جمع کا اطلاق کیا گیا ہے ؛ کیوں کہ یہ اصل کے خلاف ہے ۔

اصل یہ ہے جماعت پر صیغۂ جمع کا اور مفردپر صیغۂ واحد کا اطلاق کیا جائے۔جب بغیر کسی تعذر کے ’’بنات‘‘ کو اصل پر محمول کیا جاسکتا ہے تو بلا وجہ خلافِ اصل مراد لینے کی کیا حاجت ؟۔

پھر ’’بنات‘‘ سے قبل ’’ازواج‘‘اور اس کے بعد ’’نساء‘‘ دونوں ہی جگہ ’’جمع‘‘ مراد ہے ، کسی بھی جگہ واحد مراد نہیں لیا جا سکتا ؛ کیوں کہ پردے کا حکم کسی ایک خاتون یا کسی ایک زوجہ کے لیے نازل نہیں ہوا تھا ؛بلکہ اس کا نزول تمام مومنات اور کل ازواجِ مطہرات کے لیے ہوا تھا ۔

لہذا اِس مقام پر ’’بنات‘‘ کی دلالت واحد پر نہیں ہوسکتی کہ یہ کہہ دیا جائے کہ یہاں اِس سے صرف حضرتِ خاتونِ جنت سلام اللہ علیہا مراد ہیں ؛ بلکہ پورے وثوق و اذعان سے کہا جائے گا کہ یہاں ’’بنات‘‘ سے حضور سرورِ عالَم ﷺ کی چاروں مقدس بیٹیاں مراد ہیں ۔

اگر صرف حضرتِ سیدتنا فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور خاتم النبیینﷺ کی حقیقی شہزادی ہوتیں تو قرآنِ مقدس یوں اعلان کرتا ’’قل لأزواجک و بِنْتِکَ و نساء المؤمنین ‘‘ [اے محبوب ! آپ اپنی بیویوں، اپنی بیٹی اور مومنوں کی بیویوں سے کہہ دیجیے ] ۔

جب کہ قرآنِ مجید نے حضور ﷺ کی بیٹیوں پر جمع کا اطلاق فرمایا ہے ۔ جمع کا اطلاق کم از کم تین افراد پر ہوتا ہے ۔ تین بیٹیوں کا فریقین میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہے اور خلافِ اصل ہونے کے سبب ایک پر بھی اطلاق درست نہیں ہے، تو ثابت ہوا کہ ہمارے آقا ﷺ کی مقدس بیٹیوں کی تعداد چار تھی ؛کیوں کہ یہ تعداد روایاتِ صحیحہ معتبرہ سے ثابت ہے ۔

اِن تبرا باز ،مرثیہ خواں ذاکرین سے سوال ہے کہ جب خود حضورِ اقدس ﷺ زندگی بھر ’’حضرتِ زینب،حضرت رقیہ اور حضرتِ ام کلثوم‘‘رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین کو ’’بیٹی‘‘ کے خطاب سے مخاطب کرتے رہے۔

اور قرآنِ کریم نے بھی اُنھیں ’’نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیٹیاں‘‘ کہا تو تمھیں کیا ہوا کہ تم شیطانِ لعین کی پیروی میں انھیں حضور ﷺ کی بیٹیاں نہیں مانتے ؟جنھیں حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کہا انھیں ’’بناتِ رسول‘‘ [رسول اللہ کی بیٹیاں] کہنے میں کیوں تمھارے کلیجے پھٹے جارہے ہیں ۔

جنہیں ہمارے رب نے ’’بناتِ نبی‘‘ [نبی کی بیٹیاں ] کہا ،انھیں ’’نبی کی بیٹیاں ‘‘ تسلیم کرنے کے لیے کیوں تمھہارے دل تیار نہیں ہیں؟ تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے ، یا تم قرآنِ کریم کو کلامِ الٰہی نہیں مانتے ؟

صرفِ حضرتِ خاتونِ جنت کے شہزادیٔ رسول ہونے پر اہلِ تشیع کی دلیل

صرفِ حضرتِ خاتونِ جنت کے ’’بنتِ رسول‘‘ ہونے پر ، اہلِ تشیع کے اَن پڑھ ذاکرین صبحِ قیامت تک کوئی قابلِ اعتنا دلیل نہیں پیش کر سکیں گے ؛ البتہ اُن کےکچھ نادان و احمق یہ پھسپھسی اور بودی دلیل پیش کرتے ہیں۔

کہ احادیث و سِیَر کی کتابوں میں جتنے فضائل و مناقب حضرتِ سیدتنا خاتونِ جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے ثابت ہیں ،حضرت زینب ، حضرتِ رقیہ اور حضرتِ ام کلثوم ‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین کے لیے اُن کا عشرِ عشیر بھی ثابت نہیں ؕ

اور یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آقاے دو جہاں جتنی محبت حضرتِ خاتونِ جنت سلام اللہ علیہا سے فرمایا کرتے تھے ، رِوایاتِ صحیحہ سےاُن تینوں کے لیے محبتِ رسول ﷺ کے وہ جذبات ثابت نہیں ۔ حضورِ اقدس ﷺ کی ذاتِ گرامی سے یہ بہت بعید ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے مابین نا انصافی کریں ۔

وہ تو انسانیت کو عدل و مساوات کا درس دینے تشریف لائے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ خود آپ ہی کے دستِ انور سے دامنِ عدل و انصاف چھوٹ گیا ہو ؟۔

یہ بات تبھی درست ہوسکے گی جب کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ صرف حضرتِ خاتونِ جنت سلام اللہ علیہا کو حضور ﷺ کی حقیقی بیٹی ہونے کا شرف و کمال حاصل ہے۔ اور جہاں تک باقی تینوں بیٹیوں کا تعلق ہے تو وہ آقاے دو جہاںﷺ کی سوتیلی بیٹیاں تھیں نہ کہ حقیقی ۔معاذ اللہ ۔

اِس دلیل کا جواب

یہ محض ایک شیطانی وسوسہ ہے جس کا حقیقت و واقعیت سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔نادان اہلِ تشیع کا یہ دعویٰ کہ ’’ حضرتِ زینب ، حضرت رقیہ اور حضرتِ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین کے معتد بہ فضائل و مناقب ثابت نہیں‘‘کسی بھی زاویے سے ہمیں تسلیم نہیں۔

اولاً اِس لیےکہ یہ ایک پروپیگنڈہ ہے جو اہلِ تشیع کی جانب سے، آج سے نہیں؛ بلکہ صدیوں سے کیا جا رہا ہے ،جس سے متاثر ہو کر خود کو سنی کہلانے والے بعض نام نہاد اہلِ تصوف بھی اِسے مبنی بر حقیقت سمجھنے لگے ہیں ۔

حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغض نے اہلِ رفض کو بر انگیختہ کیا کہ وہ اِس فارمولے کو اختیار کریں ’’جھوٹ اِتنا بولو کہ لوگ اُسے سچ سمجھ بیٹھیں ‘‘۔یہ ایسا سفید جھوٹ ہے جس کی سفید چمک آفتابِ نصف النہار کو بھی منہ چڑھا رہی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جن آیات و احادیث سے اہلِ بیتِ اطہار کے فضائل و مناقب ثابت ہیں ، یہ تینوں نفوسِ قدسیہ بھی اُن کا مصداق ہیں ۔ اُن کے علاوہ بھی آقاے دو جہاں ﷺ نے اپنی اِن تینوں شہزادیوں کے فضائل متعدد بار نام بنام بیان فرمائے ہیں ۔

کتبِ اہلِ سنت اُن کے بیان سے مالا ہیں ، جسے یقین نہ آئے ،وہ اہلِ سنت کی معتبر و مستند کتابیں اٹھا کر دیکھ لے ۔

ثانیاً اِس لیے کہ یہ ،تبرا باز جاہل ذاکروں کی ٹامک ٹوئیاںہیں ، بس ۔ اِس طرح کے قیاساتِ فاسدہ سے حقیقت رو پوش نہیں ہو سکتی ۔

اِس طرح کی گندی سوچ رکھنے والے دنیا کے تمام اہلِ تشیع کو میرا چیلینج ہے کہ وہ ایک بھی ایسی معتبر روایت پیش کردیں جس میں آقاے دو جہاں ﷺ نے اِن تینوں کو اپنی سوتیلی بیٹی قرار دیا ہو ۔

یہ کنجر صبحِ قیامت تک ایسی کوئی بھی روایت پیش نہیں کر سکتے ؛ کیوں کہ کتبِ حدیث و سِیَر تاریخ میں ایسی کسی روایت کا کوئی وجود نہیں ہے۔بر سبیلِ تنزل اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ حضرت ِ خاتونِ جنت کے فضائل و مناقب کا دسواں حصہ بھی اُن تینوں شہزادیوں کے لیے ثابت نہیں ہے۔

تب بھی اِس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ’’ وہ تینوں ،حضور ﷺ کی حقیقی بیٹیاں نہیں ‘‘ کیوں کر درست ہو سکتا ہے ؟کیا یہ ضروری ہے کہ ایک شخص کی تمام بیٹیاں فضائل ومناقب اور اوصاف کمالات میں مساوی ہوں ؟۔

کیا مولا علی شیرِ خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی جملہ اولادِ اَمجاد اور کُل بناتِ اَطہار میں فرقِ مراتب نہیں ہے ؟ہے اور ضرور ہے ۔ کوئی گدھا ہی اس کا انکار کر سکتا ہے۔توجس طرح یہاں فرقِ مراتب کے باوجود سب، حضرتِ مولا علی کے حقیقی بیٹے اور بیٹیاں ہیں ،یوں ہی وہاں فرقِ مراتب کے باوجود چاروں حضور ﷺ کی حقیقی شہزادیاںہیں ۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ آقاے دو جہاں ﷺ سب سے زیادہ محبت حضرتِ خاتونِ جنت سلام اللہ تعالیٰ علیہا سے فرماتے تھے،اِسی لیے آپ نے اُن کے ایسے جزئی فضائل بیان کیے جو انھی کا حصہ ہیں۔

مگر اِس محبت کی وجہ یہ نہ تھی کہ صرف آپ ہی حضور ﷺ کی صاحب زادی ہیں ، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی حضرتِ فاطمہ زہرا بہنوں میں سب سے چھوٹی اور بفضلہ تعالیٰ ایسی خوبیوں سے متصف تھیں ،جو اُن کے سوا کسی کے حصے میں نہ آئیں ۔

بلکہ بہت سے اوصاف کمالات میں وہ اپنے والدِ بزرگوار حضور تاج دارِ عرب و عجم ﷺ کا عکسِ جمیل تھیں۔ اور یہ ایک فطری امر ہے کہ باپ اپنی اُس اولاد سے ،سب سے زیادہ اُنسیت و محبت رکھتا ہے جو چھوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ متعددخوبیوں کی جامع بھی ہو ۔

یہ چیز انسان کی قدرت سے باہر ہے ۔ اس لیے اِسے، نہ تو عدل و انصاف کے خلاف کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ظلم و زیادتی پر محمول کیا جا سکتا ہے ۔

حضرتِ خاتونِ جنت سلام اللہ علیہا کے،اپنے والدِ گرامی کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ اپنی نگاہِ نبوت سےملاحظہ فرما رہے تھے۔

کہ میراسلسلۂ نسب اِسی شہزادی سے جاری ہوگا ،اِسی کے ذریعے مسلمانانِ عالَم نسلِ نبی اورساداتِ کرام کے فیضان ِ کرم سے مالا مال ہوں گے ، صبحِ قیامت تک اِس کی اولاد میں ’’شہدا ، اغواث ، اوتاد ، اقطاب اور ابدال‘‘ ہوتے رہیں گےاور اِس کے صدقے میں اہلِ عالَم پر فیضِ نبوی ابرِ بارِندہ کی طرح برسے گا ، حتی کہ آخری زمانے میں امام مہدی بھی اسی کی نسلِ پاک سے ہوں گے ، جو کہ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

مذکورہ وجوہ کے سبب آقاے دو جہاں ﷺ حضرتِ خاتونِ جنت سیدۂ کائنات فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سب سے زیادہ محبت فرماتے تھے 

اِس لیے نہیں کہ صرف آپ ہی حضور ﷺ کی حقیقی بیٹی ہیں اور حضرتِ زینب ، حضرت رقیہ، حضرتِ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین سوتیلی بیٹی ہیں ۔

بہر حال یہ ثابت ہو گیا کہ خلیفۂ سوم حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’ذو النورین‘‘ ہیں ، حضورِ اقدس ﷺ کی دو شہزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئی ۔ یہ شرف آپ کے علاوہ نہ کسی کو حاصل ہوا نہ قیامت تک ہو سکتا ہے ۔

حضرتِ علی کے ستائشی کلمات

آج بھی ’’نہج البلاغہ‘‘ کے اندر حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق ،حضرتِ مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ستائشی کلمات موجو ہیں ،جب بلوائیوں میں سےکچھ لوگوں نے حضرتِ مولا علی رضی اللہ عنہ سے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایتیں کیں اور یہ چاہا کہ آپ، حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کریں۔

اور اُنھیں لوگوں کو راضی کرنے کی ترغیب دیں ،تو حضرتِ مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نےحضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لا کر درج ذیل گفتگو فرمائی

اِنَّ النَّاسَ وَرَائِیْ وَ قَدِاسْتَسْفَرُوْنِیْ بَیْنَکَ وَ بَیْنَھُمْ وَ وَاللہِ مَا اَدْرِیْ مَا اَقُوْلُ لَکَ وَ مَا اَعْرِفُ شَیْئًا تَجْھَلُہٗ وَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی اَمْرٍ لَا تَعْرِفُہٗ۔ اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نَعْلَمُ ۔مَا سَبَقْنَاکَ اِلٰی شَیْئٍی فَنُخْبِرَکَ عَنْہُ وَلَا خَلَوْنَا بِشَیْئٍی فَنُبَلِّغَکَ۔

وَ قَدْ رَأیْتَ کَمَا رَأیْنَا وَ سَمِعْتَ کَمَا سَمِعْنَا وَ صَحِبْتَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ کَمَا صَحِبْنَا وَمَا اِبْنُ اَبِیْ قُحَافَۃَ وَلاَ اِبْنُ الْخَطَّابِ اَوْلٰی بِعَمَلِ الْحَقِّ مِنْکَ وَ اَنْتَ اَقْرَبُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ وَ وَ شِیْجَۃِ رَحْمٍ مِّنْھُمَا۔ قَدْ نِلْتَ مِنْ صِھْرِہٖ مَالَمْ یَنَالَا۔۔۔۔۔[نہج البلاغہ ، ص۵۶۶:، رقم الخطبۃ ۱۶۲:۔شرح نہج البلاغہ لابن حدید، ج۹:،ص۱۷۱:،رقم الخطبہ ۱۶۵:]

ترجمہ: بے شک[کچھ] لوگ میرے پیچھے [انتظار کر رہے] ہیں ، انھوں نے مجھے اپنے اور آپ کے درمیان سفیر بنایا ہے ، [لیکن] بخدا میں نہیں جانتا کہ آپ سے کیا کہوں ؟۔

میں کسی ایسی بات کو نہیں جانتا جس سے آپ نا آشنا ہوں اور نہ ہی کسی ایسے امر کی جانب آپ کی رہ نمائی کر سکتا ہوں جسے آپ نہ جانتے ہوں ۔بلا شبہ جو ہم جانتے ہیں وہ آپ کو [بھی]معلوم ہے ۔ ہم نے کسی شے کی جانب سبقت نہیں کی کہ آپ کو اُس سے با خبر کروں اور نہ ہی ہم نےکوئی بات تنہائی میں سنی کہ آپ تک پہنچاؤں ۔

آپ نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح ہم نے دیکھا ہے ، آپ نے اسی طرح سنا ہے جس طرح ہم نے سنا ہے اور آپ کو بھی حضور ﷺ کی صحبت کا فیض حاصل کیاہے جس طرح ہمیں اُن کی صحبت میں رہنے کا شرف ملا ہے۔

ابو قحافہ[ ابو بکر صدیق] اور[عمر] ابن خطاب [رضی اللہ عنہما بھی]حق پر عمل کرنے میں آپ سے زیادہ نہیں تھے ۔ اُن کی بنسبت آپ کو اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ قرب حاصل ہے اور آپ کو [تو] حضور سرورِ عالَم ﷺ کی دامادی کا وہ شرف بھی حاصل ہے جو انھیں حاصل نہیں تھا ۔

حضرتِ مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے یہ ستائشی کلمات آج بھی اُس نہج البلاغہ میں موجود ہیں جو اہلِ تشیع کے یہاں قرآنِ مجید کے بعد سب سے اونچا درجہ رکھتی ہے ۔

اِس عبارت میں حضرتِ مولا علی مشکل کشا نے انتہائی صاف اور واضح الفاظ میں ،حضرتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور ﷺ کا داماد اور صحابی کہا ہے ، اُن کو حضور ﷺ کا تربیت یافتہ اور فیض رسیدہ فرمایا ہے اور شرفِ دامادی کی اُس جزئی فضیلت کا اعتراف کیا ہے

جو حضراتِ شیخینِ کریمین کو حاصل نہ تھی ۔ کیا بد بخت، تبرا باز، مرثیہ خواں ذاکرین اب بھی حضرتِ ذو النورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبتِ مصطفوی ، دامادِ نبوی اور فضیلت و شان کا انکار کریں گے ؟۔

وما علینا الا البلاغ و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنا و مولانا محمد و علیٰ آلہ و صحبہ اجمعین ۔

تحریر: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی

صدر المدرسین : دارالعلوم محبوبِ سبحانی کرلا ویسٹ ممبئی

صدر: تحریکِ فروغِ اسلام شاخ کرلا

پیش کش نورِ ایمان اسلامک آرگنائیزیشن کرلا ویسٹ ممبئی

خلفاے ثلثہ اہل تشیع کی نظر میں  کے گزشتہ قسطوں کے لنک حاضر خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں 

قسط اول پڑھنے کے لیے کلک کریں 

قسط دوم پڑھنے کے لیے کلک کریں

قسط سوم پڑھنے کے لیے کلک کریں 

قسط چہارم کے لیے کلک کریں 

قسط پنجم کے لیے کلک کریں

قسط ششم کے لیے کلک کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top