خواجہ غریب نواز

خواجہ غریب نواز

خواجۂ خواجگان والئ ہندوستان خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی حسنی حسینی سنجری اجمیری رحمتہ اللہ علیہ آپ اللہ تعالی کے ایسے ولی ودوست ہیں کہ لاکھوں لوگوں نے آپ کے دست پاک پر توبہ کی اور کفر سے منہ پھیر کر توحید و رسالت کا اقرار کیا اور اپنی دنیا وآخروی زندگی میں کامیابی حاصل کئے۔

خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ

 

حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی ایک ہمہ گیر تحریک کا نام ہے آپ نے زندگی کے تمام پہلوؤں میں  وہ کام کیا اور خود عمل کرکے دیکھا یا جو آج لاکھوں کروڑوں نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے ۔

 حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے شریعت وطریقت کا جو درس و سبق دیا  کہ شریعت وطریقت دو الگ الگ راستے نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی ہیں جس کو حضرت شیخ یحیی منیری رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی ان کے مکتوب میں پڑھیں ۔

۔”شریعت میں توحید،نماز،روزہ،حج،زکاتہ ،جہاد اور دوسرے احکام وشرائع اور معاملات کا جاننا ہے اور طریقت ان معاملات کی حقیقت کو دریافت کرنا ہے ان مشروبات کی تہہ تک پہنچنا ،اعمال کو قلبی صفائی سے آراستہ کرنا،اخلاق کو نفسانی کدورتوں سے پاک کرنا ہے ،”۔

 حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آپ جہاں لوگوں کو نماز پڑھنے،زکوٰۃ دینے،روزہ رکھنے،حج کرنے کی دعوتِ فکر دی وہیں غریبوں،مسکینوں،محتاجوں کی مدد کرنے پر زوردیا ہے ۔

حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا مقصدِ حیات عقیدہ و ایمان صداقت، محبت، سخاوت، ایمانداری، اتحاد، اخلاص اور پاکیزہ معاشرے کی تعلیم ،اور سماجی خدمت کے جذبے کو عام کرنا تھا ۔

 حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ مادر  زاد ولی اور نجیب الطرفین سید ہونے کے باوجود تحصیل علم کی خاطر خراسان، بغداد، سمرقند، بخارا، ہارون، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی خاک چھان کر علماء صلحاء محققین مجتہدین جیسے حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ حضرت شیخ عبدالقادر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمتہ اللہ علیہ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی۔

خصوصا آپ کے مرشد برحق حضرت شیخ خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ  کی بارگاہوں میں زانوئے ادب خم کر علم قران و تفسیر حدیث، فقہ نحو صرف ادب منطق وفلسفہ وغیرہ  کو حاصل کرکےعلوم ظاہری کے امام بن گئے۔

  یہاں سے یہ علم ہوا کہ آج لوگ کہتے ہیں حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ یا ان کے ہم عصر میں زہد ورع مجاہدہ تو ہوتی ہی ہے لیکن علم تفسیروحدیث فقہ میں کوئی بلند مقام نہیں ہوتا وہ لوگ یہ خام خیال اپنے دل ودماغ سے نکال دیں اور یاد رکھیں حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ جہاں ہندوستان کے تمام ولیوں کے امام و وزیر اعظم ہیں۔ وہیں آپ مفسر بھی ہیں محدث بھی ہیں فقیہ بھی ہیں یعنی علوم ظاہری کے بھی امام ہیں اور علوم باطنی کے بھی امام ہیں۔

 حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے بارہ بیٹے تھےان کا نام سبھوں کو معلوم نہیں ہوگا  لیکن ان کے خلیفہ و مرید صادق حضرت نظام الدین اولیاء کو کون نہیں جانتا انہوں نے کہا کہ ایک پیر، ولی کے لئے ظاہری علوم کا جاننا کتنا ضروری  کہتے ہیں”پیر ایسا ہونا چاہیے کہ احکام شریعت،طریقت اور حقیقت کا علم رکھتا ہو اگر ایسا ہوگا تو خود کسی نا مشروع چیز کے لئے نہ کہے گا“۔(روح تصوف)۔

 اور حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کو دعا دیتے ہوئے ان کے ماموں و مرشد شیخ حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں “خدا تمہیں ایسا محدث بنائے جو علم تصوف سے آگاہ ہو یعنی ایسا پیر جو علم حدیث سےبھی آشنا ہو “۔(روح تصوف)۔

حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ جب تمام علوم و فنون میں  مہارت تامہ  حاصل کرتے ہیں اور اپنا حلقۂ درس وسیع کرتے ہیں تو وقت کے ممتاز شخصیتیں آپ کی بارگاہ میں پہنچ کر اکتساب فیض حاصل کرتےہیں۔

 اس لئے تو حضرت سید ہاشم فتح پوری نے کہا کہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ تین سال تک محدث مدینہ منورہ رہ چکے ہیں اللہ اللہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ مدینہ منورہ میں درس حدیث دے رہے ہیں اس زمانے میں جب علماء فقہاء محققین مجتہدین مصنفین اور ائمہ کی کوئی کمی نہیں تھی۔

خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ کی سیرت کو پڑھیں ہندی میں تو گھر بیٹھے کتاب خریدیں    کلک کریں  ہندی بک کے لیے

Hindi mai Sirat e khwaja Garib Nawaz

 حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے جہاں سنیاسی جوگی کو ولئ کامل بنایا،انا ساغر کو ایک کوزے میں بھر دیا، مردے کو زندہ کیا،اسی جگہ خراسان کے کھنڈرات میں درختوں کے پتے کھا کر شبنم کے قطرات چوس کر اللہ وحد ہ لاشریک کو راضی کے لیے جو مجاہدہ کیا وہ ناقابل فراموش ہے جو یقینا ہمارے لئے درس عبرت ہے۔

  آخر میں عرض کروں حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کوئی شخص نماز کی پابندی کئے بغیر خداوند قدوس کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوسکتا کیونکہ نماز مومن کی معراج ہے۔

 اور فرماتے جو شخص رزق حلال پر قناعت کرتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

 لہذا حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے دیوانوں کو بھی چاہیے کہ ان کے فرمودات پر مکمل طور پر عمل کریں اور جہنم کے اس آگ سے بچیں جس کا ایندھن انسان اور پتھر بنائے جائیں گے۔

 اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین  بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم