Categories: احکام شریعت

دنیا میں عذاب الہی کی صورتیں

پیش کش ۔ خلیفہ حضور تاج الشریعہ خطیب ماریشس افریقہ محمد غفران رضا قادری رضوی بانی دارالعلوم رضا ۓ خوشتر و جامعہ رضاۓ فاطمہ قصبہ سوار ضلع رامپور انڈیا (مقیم حال نانکار رانی) دنیا میں عذاب الہی کی صورتیں 

دنیا میں عذاب الہی کی صورتیں

ہماری روحوں پر ہمارے اعمال کے اثرات مُرتب ہوتے ہیں ۔ اعمالِ صالحہ سے رُوح کا تزکیہ ہوتاہے اور ایک سکُون ، اطمینان اور راحت اِسی دُنیا میں نصیب ہوتی ہے ۔ بداعمالیوں کے اثرات بھی روح پر مرتب ہوتے ہیں ۔

بد اعمالیوں سے رُوح بیمار ہوجاتی ہے اور کراہنے لگتی ہے ۔ اگر مرض حدود سے متجاوز نہ ہوگیا ہو اور رُوح پر موت نہ طاری ہوتو مریض رُوح کے درد وکرب کو محسوس کرتاہے اور اس کی کراہ سُنتاہے ۔ رُوح کا دردوکرب بھی عذاب کی ایک صُورت ہے ۔ قرآن مجید میں ہے

{ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ [الرحمن: 46 ]  ترجمہ : اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیئے دو جنتیں ہیں‘‘۔

غیر مقلدین کے پیشوا علامہ ابن تیمیہ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر کے تحت لکھا ہے إن في الدنيا جنة من لم يدخلها لن يدخل جنة الآخرة اس دنیا میں بھی ایک جنت ہے ، جو اس میں داخل نہ ہُوا ، وہ آخرت کی جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔

حضرت سید نا عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت دبستانِ من درسینئہ  من است ہر جاکہ بنشینم بھار خویشتم۔ یعنی میری بہشت میرے سینے میں،جودرودِ رحمت اور انوارِ الٰہی کے نزول سےپیدا ہوئی ہے میں جہاں بیٹھ جاتاہوں وہیں باغ وبہار ہوجاتی ہے ــ۔

اگر روح کی یہاں تربیت نہ کی جائے ، اس کا تزکیہ نہ ہو اور بداعمالیوں میں مُبتلا ہو کر بیمار ہوجائے ، تورُوح آخرت میں بھی بیمار رہے گی ۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہیں

{ وَمَنْ كَانَ فِي هٰذِهِ أَعْمٰى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمٰى وَأَضَلُّ سَبِيْلًا [الا ٔسراء: 72 ترجمہ کنزالایمان  اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اور بھی زیادہ گمراہ 

یعنی روح کے ہدایت پانے اور صحت مند ہونے کا تعلق اعمالِ صالحہ سے ہے اور اعمالِ صالحہ کا تعلق دار العمل سے ہے ۔ جب دار العمل سے انسان دا رالجزاء میں منتقل ہوگیا تو اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہوا ۔

 پھر روح کے لیے شفا پانا کیوں کر ممکن رہا الا من رحم ربی۔ پس بداعمالیوں سے جو عذاب روح پر طاری ہوتاہے ، وہ عذاب اس دنیا میں ، عالم برزخ میں اور آخرت میں مسلسل چلتاہے ۔ بد اعمالیوں کی سزا اس دُنیا میں بھی ہم کو بھگتنی پڑتی ہے اور آخرت کا عذاب تو دردناک ہے ۔

قوم عاد نے جب حضرت ہود علیہ السلام کی نافرمانی کی تو اِسی دُنیا میں انہیں ملعون قرار دیا گیا  { وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً [هود: 60] ترجمہ کنزالایمان۔ اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت ۔ 

وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذا دیتے ہیں ۔ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اسی دُنیا میں اللہ اُن پر لعنتیں بھیجتاہے

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا [الا ٔحزاب 57]۔

 ترجمہ کنزالایمان:’’ بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو،ان پر اللہ کی لعنت ہے ،دنیا اور آخرت میں، اور اللہ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

لعنت کی حقیقت

لعنت کی حقیقت کیا ہے ؟ لعنھم اللہ کے معنیٰ ہیں ابعد ہ عن الرّحمۃ ، اللہ نے اس پر لعنت کی یعنی اُسے اپنی رحمت سے دُور کیا ۔

 جیسے مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ، اسی طرح ہماری ارواح اللہ کی رحمت کے بغیر صحت مند اور توانا نہیں رہ سکتیں۔ جیسے مچھلی پانی سے باہر تڑپتی ہے ، اسی طرح انسان کی رُوح بھی اُس رحمت کے بغیر تڑپتی ہے ۔

 انسان کا ملعون ہونا یہی ہے کہ اُسے اللہ کی رحمت سے محروم کردیا جاتاہے ۔ اُس کی رحمت سے سیراب نہ ہونے کی وجہ سے رُوح مُرجھا جاتی ہے ۔اِس پر افسردگی اور پژمردگی طاری ہوجاتی ہے اور وہ ایک دردوکرب محسوس کرتی ہے

 بد اعمالیوں کی سب سے پہلی سزا جو اس دُنیا میں ملتی ہے ، وہ ملعون ہونا ہے اور اس کی رحمت سے دُور ہونا ہے ، رُوحانی اذیّت میں مُبتلا ہونا ہے ، اندیشہ ہائے دُور ودراز میں گرفتار ہونا ہے ، سرکا کھولنا ، رُوح کا دردوکرب میں مبتلا ہوناہے ۔

ذلّت ورسوائی

جب نافرمانی اور بڑھے تو اس کا عذاب ذلّت ورسوائی کی صورت میں ہوتاہے ۔  لوگوں کے دلوں سے اس کی عزّت اُچک لی جاتی ہے ۔ معاشرے میں اُسے ذلیل ورُسوا کیا جاتاہے ۔ اس کے گناہوں کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ اُس کے عیوب کا پَردہ چاک کیا جاتاہے ۔

 قرآن کریم اس عذاب کو’خزی‘سے تعبیر کرتا ہے ۔ قرآن مجید نے کہا: تم قرآن کے بعض حصّوں کو مانتے ہواور بعض حصوں سے انکار کرتے ہو

{ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا [البقرة: 85 ترجمہ کنزالایمان  تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہو ۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ  [البقرة: 114]۔

ترجمہ کنزالایمان۔۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے، ان میں نام خدا لئے جانے سے، اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے، ان کو نہ پہنچتا تھا، کہ مسجدوں میں جانیں، مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے،اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب

حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء دینے والوں کا حشر

قرآن مجید پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ جولوگ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء دیتے ہیں ، اللہ اسی دُنیا میں اُن پر لعنتیں بھیجتاہے، اور قیامت کے دن تودرناک عذاب تیار ہے ہی عذاب کی جتنے اقسام قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرماۓ وہ سب گستخانہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے ہیں۔

 پھر چاہیے وہ عذاب عظیم، عذاب الیم، عذاب مھین، عذاب شدید،ہو اور اس میں جہنم خالدین فیہا ابد۔ ہے پتہ چلا گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ معافی اور نہ وہاں

  • ابولہب جس کا نام عبد العزّیٰ تھا ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا حقیقی تایا تھا ۔ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب بعثت کے بعد قریش کو اکٹھا کیا اور اللہ کا پیغام سُنایا تو سب سے پہلے ابو لہب ہی نے تکذیب کی اور کہا تبّاَ لک الِھٰذا جمعتنا (معاذاللہ) ’’ تیرا ناس ہو ۔کیا اسی لیے تونے ہمیں اکھٹا کیا تھا ‘‘؟۔

اسی پر یہ سورۃ نازل ہوئی :  {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} [المسد: 1]۔ ترجمہ کنزالایمان:’’ تباہ ہو جایئں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا

واقعہ بدر کے سات روز بعد ابولہب کو ایک زہریلا دانہ نکلا ، بیماری مہلک تھی ، کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک،اتنی زہریلی اور بدبودار، گھناؤنی، کہ کوئی قریب نہیں پھٹکتا تھا ، سارے بدن میں زہر سرایت کرگیا ، اِسی حالت میں فوت ہوا ۔ تین دن تک لاش پڑی رہی ، فضا متعفّن ہوگئی۔

 اُس کے گھر والے اس اندیشے سے کہ اس کی بیماری کہیں اِنہیں نہ لگ جائے ، اسے ہاتھ نہ لگاتے تھے ۔ چند حبشی مزدوروں کو بُلا کر لاشے کو اُٹھایا گیا۔ مزدوروں نے ایک گڑھا کھودا اور لکڑیوں سے دھکیل کر اُس کے لاشے کو گڑھے میں ڈالدیا۔

[1]یہ ہے  وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً اور یہ ہے  خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا

۔(2)  ابو جہل اس امت کا فرعون تھا ، اس کی انانیت کی وجہ سے اس کو اس طرح عذاب دیا گیا کہ دو بچوں کے ہاتھوں مارا گیا ۔[صحیح البخاری،کتاب الجہاد،ج،۲،ص۔۴۴۳

۔(3)  عاص بن وائل سہمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے والد تھا ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ٹھٹھا اُڑاتے تھا۔ نبی ﷺ  کے ہاں جتنے بیٹے ہوئے اُن کی زندگی میں ہی وفات پاگئے ۔

عاص نے کہا  انّ محمّدا ابتر لا یعیش لہ ولد (معاذاللہ

محمد مقطوع النسل ہیں ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا

اسی پر یہ آیت نازل ہوئی : إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ  [الكوثر: 3]۔ ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب/بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمایئں۔

ہجرت کے ایک ماہ بعد کسی جانور نے پیر پر کاٹا ، اس قدر پھولا کہ اُونٹ کی گردن کے برابر ہوگیا ، اسی میں عاص کا خاتمہ ہوا ۔ [ابن الاثیر،ج،۲،ص۲۷]۔

۔(4)  اسود بن مطلب اور اُس کے ساتھی جب کبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھیوں کو دیکھتا ، آنکھیں مٹکاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا ۓ ہلاکت فرمائی کہ اے اللہ اسود کو اس قابل نہ چھوڑ کہ یہ آنکھیں مٹکا سکے ۔ اسود ایک کیکر کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھا ہی تھا کہ اپنے لڑکوں کو آواز دی

مجھے بچاؤ ! مجھے بچاؤ! میری آنکھوں میں کوئی کانٹے چبھورہا ہے ۔ لڑکوں نے کہا یہاں   تو کوئی نظر نہیں آتا ۔ اسود چلّا تا رہا ، مجھے بچاؤ، میری آنکھوں میں کوئی کانٹے چبھورہا ہے ، یہ کہتے کہتے وہ اندھا ہوگیا۔ [ابن الاثیر،ج-۲،ص/۲۷]

۔(5)  اسود بن عبد یغوث نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرتاتھا ۔ اُسے اپنی عقل پر بڑا ناز تھا ۔ ایسی بیماری ہُوئی کہ مُنہ سے پاخانہ آتا تھا ۔ اسی بیماری میں فوت ہُوا ! یہ ہے تفصیل اس آیت کی

{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا [الأحزاب: 57

 ترجمہ کنزالایمان:’’ بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کوان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذا دینے والوں کی ہلاکت اور تباہی کی تفصیلات جاننا چاہیں تو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ، حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ ، حضرت امام طبرانی رحمہ اللہ اورحضرت امام بیہقی رحمہ اللہ امام اہلسنت اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ وغیرہم کی کتب  کا مطالعہ کریں انشاءاللہ ایمان تازہ ہو جائے گا۔

عذاب کی انواع واقسام

جیسے اُس کی نوازشیں بے حد وبےحساب ہیں ، ویسے ہی اُس کے عذاب کی قسمیں بھی بے شمار ہیں ۔ وہ بڑا رحمان اور بڑا رحیم ہے ، تو وہ بڑا جباروقہار بھی ہے،وہ ذوالجلال والاکرام ہے،وہ اس کائنات کی جس شے کو چاہے عذاب میں بدل دے ، یہ ہوا جس سے انسان کے سانس کی آمد وشد جاری ہے ، وہ جب چاہتاہے اس ہوا کو طوفان اور آندھی بنا دیتاہے ۔

{وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ  [الحاقہ: 6 ترجمہ کنزالایمان : اور رہے عادوہ ہلاک گیۓ گۓ نہایت سخت گرجتی آندھی سے۔

{فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ [الحاقہ: 7

ترجمہ کنزالایمان:’’ وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اورآٹھ دن، لگادی سات راتیںاورآٹھ دن، لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے، گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ(سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے، ۔

یہ پانی جو بقائے حیات کے لیے ناگزیر ہے ، وہ جب چاہتا ہے اسے طُغیانیوں میں بدل دیتا ہے

{ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ } [هود: 43]

ترجمہ کنزالایمان۔۔ کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے ۔

یہ آواز جو مطالب کے اظہار کے لیے ازبس ضروری ہے ۔ وہ جب چاہتا ہے اُس آواز کو عذاب میں بدل دیتا ہے ۔

{وَمِنْھمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَة   ترجمہ کنزالایمان۔۔ ’’ اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا ‘‘۔

یہ زمین جس پر ہم چلتے ہیں ، جب اس کی مشیت ہوتی ہے ، تو زمین انکار کردیتی ہے کہ ہم اُس پر چل سکیں :

{ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ  [العنكبوت: 40]

ترجمہ کنزالایمان۔۔ ’’ تو ان میں ہرایک کوہم نے اس کے گناہ پر پکڑا، تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا، اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا، اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسا دیا،اور ان میں کسی کو ڈبو دیا، اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے۔ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے‘‘۔

وہ اللہ لطیف وحکیم ہے ، رحمان و رحیم ہے، علیم و خبیر ہے، سمیع و بصیر،خالق ومالک ہے، جب چاہتا ہے نعمت کو عذاب میں بدل دیتا ہے ۔ مال اگر اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے ، تو اللہ کی نعمت ہے او ریہی مال اگر اللہ سے عزیز تر ہو جائے ، اندیشہ وغم کا باعث ہو اور بخل ، خست اور دنایت پر آمادہ کرے تو وہ عذابِ الٰہی بن جاتاہے ۔

 اِسی طرح اولاد اگر صالح ہو تو اللہ کی دین ہے اور یہی اولاد اگر اللہ سے دُور ہٹادے اور حجاب بن جائے تو عذابِ الٰہی ہے ۔ ہاں اللہ کا عذاب کبھی مال اور اولاد کی صورت میں بھی ہوتاہے

: {فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا [التوبة: 55] ترجمہ کنزالایمان۔ ’’ تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے، اللہ ہی چاہتا ہے کہ دنیا میں زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے  ‘‘۔

طُغیانیاں اب بھی آتی ہیں ، طُوفان اب بھی اُٹھتے ہیں ، زلزلوں سے بستیاں اب بھی ویران ہوتی ہیں ، زمین میں بستیوں کے دھنس جانے کی خبریں اب بھی اخباروں میں ہم پڑھتے ہیں ۔

 مگر ایک ایسی غفلت ہم پر چھا گئی ہے ، ایک ایسی قساوت دلوں پر طاری ہے کہ اِن بربادیوں کو دیکھتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاقات ہیں ، جو اِس دُنیا میں رُونما ہوتے ہیں ۔ اللہ کہتاہے یہ محض اتفاقات نہیں ہیں

فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ   [الا ٔعراف: 96] ترجمہ کنزالایمان۔۔ ’’  تو ہم نے انہیں ان کے کیۓ پر گرفتار کیا

{فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ  [التوبہ: 70] ترجمہ کنزالایمان۔ ’’ تو اللہ کی شان نہ تھی کہ اللہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے ‘‘۔

وہ لوگ جن کے مزاج پربہیمیت کا غلبہ ہوتاہے ، ہمیشہ سے عذاب ِ الٰہی کو اتفاق قرار دیتے رہے ہیں ۔ شیطان اُن کے جی میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ تم دانشور ہو ، عبقری ہو، عذاب وثواب توہمات کی باتیں ہیں اور بے وقوف لوگ ان توہمات کو مانتے ہیں ۔

{ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ   [البقرة: 13]  ترجمہ کنزالایمان۔۔ ’’ اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگو ایمان لائے تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ‘‘۔

بعض لوگوں کی عقل موٹی ہوتی ہے اور انہیں احساس اور اعتراف ہوتاہے کہ وہ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہیں ۔ اُن کی عاجزی اور فروتنی ان کے عیب پر پردہ ڈال دیتی ہے بعض لوگ بے وقوف ہوتے ہیں اور انہیں اپنے آپ پر دانشور اور عبقری ہونے کا گمان ہوتاہے ، ایسے بے وقوفوں کی حالت بڑی مضحکہ خیز ہوتی ہے ۔

اللہ پاک اس آیت مبارکہ میں یہ کہہ رہاہے کہ یہ نام نہاد دانشور اُن بیوقوفوں میں سے ہیں ، جنہیں یہ وقوف بھی نہیں کہ وہ بے وقوف ہیں ۔

اس دورکے دانشوروں سے بھی جب ہم آج کہتے ہیں کہ کرونا وائرس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دردناک عذاب ہے ، تو وہ کہتے ہیں اس میں عذاب کی کیا بات ہے ؟۔

یہ تو بس ایک مہلک بیماری ہے ایک وائرس ہے۔یہ تو انسان کا جسم ہےموسم کی تبدیلی کی وجہ سے کبھی بیمارہوتاہے کبھی نہیں ۔جیسےقوموں کو کبھی فتح ہوتی ہے کبھی شکست ہوتی ہے :

بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُونَ  [المؤمنون: 81]۔ ترجمہ کنزالایمان””بلکہ انہوں نے وہی کہی جو اگلے کہتے تھے۔

’’ تاریخ گواہی دیتی ہےکہ فراستِ ایمانی سے محروم انسان ہمیشہ سے ایک جیسی باتیں کرتے رہے ہیں ‘‘۔

عراق،شام،یمن،لیبیا،فلسطین،  افغانستان،برما،اوروطن عزیز میں کشمیر،احمدآباد،گودھڑا،مظفرنگر،دہلی کولٹوا کر،بابری مسجد کو کھوکر،تین طلاق قرآن کریم و احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قانون بنواکر ،اور اب  سی اے اے کے گھٹا ٹوپ اندھیرے بادل ہمارے  گناہوں کی سزا بن کر اپنی زد میں لیۓ ہوئے  ہیں،اس کے بعد بھی ہم ہیں کہ ہماری غفلت اور شقاوت شدید تر ہوگئی ۔

 ہم انفرادی اور اجتماعی بد اعمالیوں،بدکردایوں، بداخلاقیوں،گناہوں،شباب وکباب میں ایسے مست ہوگئے ہیں  جیسے ہم اللہ کی ملک سے باہر ہوگئے ہوں یا جیسے اس ملک میں اللہ کا قانونِ جزاوسزا معطّل ہوگیاہو

 اب اللہ تعالیٰ نے غیر مری نامحسوس جیسے کرونا وائرس (کوِڈ 19)  کا نام دیا گیا ہے یہ وبا اتنی تیزی سے پھلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لی اور دنیا کے سپر پاوروں کو ایک لمحہ میں زمین پر گرا دیا،یہ ایک جھلک دکھائی ہے

نہ سنبھلوں گےتومٹ جاؤ گے اے طاغوتوں ۔۔۔‌ تمہاری داستاں بھی نہ ہو گی داستانوں میں

{ أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ، أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ  أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ [الا ٔعراف: 97 – 99

ترجمہ کنزالایمان۔۔ کیا بستیوں والے ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آۓ جب وہ سوتے ہوں۔ یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب چڑھے آۓ جب وہ کھیل رہے ہوں۔ کہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخبر ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔

اللہ تعالیٰ مالک الملک ذوالجلال والاکرام اپنے پیارے حبیب حضور رحمتہ للعالمین سیئد الانبیاء والمرسلین امام اولین والاخرین خاتم النبیین جناب محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صدقے وطفیل میں ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہمیشہ باادب رکھے آمین۔  

انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا 

خوف خدا سے دوری گناہوں پر دلیری کورونا سب پر بھاری 

شب برات کی فضیلت و شرعی حیثیت

ان مشہور کمپنیوں سے آن لائن خریداری کرسکتے ہیں 

Amazon   Flipkart   BIgbasket Havells

Recent Posts

مولانا افروز احمد اشرفی مصباحی مبارک پوری

تحریر محمد ہاشم اعظمی مصباحی مولانا افروز احمد اشرفی مصباحی مبارک پوری  مولانا افروز احمد… Read More

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا

از قلم مفتی خبیب القادری مدنا پوری اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا… Read More

علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ اپنی تصنیفی خدمات کے آئینے میں

خطیب ایشیا و یورپ حضرت علامہ ابوالحقانی صاحب علیہ الرحمہ اپنی تصنیفی خدمات کے آئینے… Read More