رمضان المبارک اپنی رحمتوں کو بکھیرتا ہوا ہم سے رخصت ہو رہا ہے

رمضان المبارک اپنی رحمتوں کو بکھیرتا ہوا ہم سے رخصت ہو رہا ہے

مفتی محمد ضیاءالحق قادری رمضان المبارک اپنی رحمتوں کو بکھیرتا ہوا ہم سے رخصت ہو رہا ہے

رمضان المبارک اپنی رحمتوں کو بکھیرتا ہوا

رمضان المبارک کا با برکت و مقدس مہینہ اپنی تمام تر رحمتیں اور برکتیں نچھاور  کر کے رخصت ہونے کو ہے آج اس مقدس مہینے کا  جمعة الوداع بھی ہم سے  رخصت ہوا ۔ گزرتے  گزرتے آخری لمحے بھی ہم سے  رخصت ہو جائیں گے اور ماہِ رمضان ہم سے جدا ہو جائے گا۔

 رمضان المبارک کا با برکت مہینہ تو ہر سال آتا ہے اور  آتا رہے گا مگر ہم ہر سال نہ ہوں گے۔  اللہ عزوجل بہتر جانتا ہے اگلا رمضان ہمیں اپنا فیض لوٹنے کا موقع دے گا یا نہیں۔  نہ جانے ہم اس کی رحمتیں اور برکتیں دوبارہ  سمیٹ پائیں گے یا نہیں۔

 کتنے ہی  لوگ ایسے تھے جو بیماری میں  مبتلا  تھے اور انہوں نے پچھلے سال بیماری کے باوجود روزے اس لئے رکھے کہ نہ معلوم ہم اگلے سال ہوں گے یا نہیں۔ اور ایسا ہی ہوا کہ انہوں نے اس جہاں کو الوداع کہہ دیا اور  انہیں ہم نے خود  اپنے ہاتھوں سے قبر وں میں دفن کر دیا۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرماے ۔

کتنے   لوگ ایسے بھی تھے جو گزشتہ   رمضان میں ہماری نظروں کے سامنے تھے  اور ہمارے شہر اور محلے  میں اپنی زندگی کے شب و روز کو بسر کر رہے  تھے مگر اب ان کا پتہ بھی نہیں  چلتا کہ وہ کہاں اپنی زندگی بسر کر رہیں ہیں اور کیسے جی رہیں ہیں ۔ ان کو نظروں سے  اوجھل ہوئے برسوں گزر  گئے۔ اب ان کی منزلوں اور ہماری منزلوں کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ۔  اور اب ہمارا ان سے  کوئی رابطہ  بھی نہیں۔   کچھ جانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ جو اپنی یادیں ہمارے درمیان   چھوڑ جاتے ہیں اور خود پلٹ کر  کبھی نہیں آتے ۔ 

یہ رمضان کا مقدس  مہینہ ہمیں بہت کچھ سیکھا نے کے لئے آتا ہے۔ وہ علم ،  و ہ تربیت ،  وہ عمل کہ جس سے  ہم شاید پورے سال  اغماض برتتے رہتے ہیں۔ ہمارے بھوک اور  پیاس کی تو میرے رب  کو کوئی حاجت نہیں۔ یہ تو بندے کا امتحان ہے  کہ   تو خدا کو صدق دل سے مانتا ہے۔ تو کیا خدا کے فرمان کو بھی مانتا ہے یا نہیں؟ ۔

 رمضان المبارک کے تیس دن کا روزہ   جو  ہمیں صَبر و شُکر کی انتہائی کوشش کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔  مگر افسوس صد افسوس  ہم نے رمضان المبارک   کا مقدس  مہینہ یوں ہی گزرنے دیا۔  ہم یہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مقدس لمحے گزر گئے تو ہاتھ نہ آئیں گے۔

 بے عملوں کی زنجیروں سے خود کو رہا نہ کر پائے۔ اور کئی خوش نصیبوں نے اِسی مہینے اچھے اعمال کے بیج  اپنی زندگی کے معاملات میں ایسے بوئے کہ اس  سے وہ آیندہ  سال بھی  اور پوری عمر  مستفید ہو سکتے ہیں۔

  رمضان کے روزے رکھنے والے۔ منتظر رہیں۔  خدائے ذوالجلال کی زیارت کا وعدہ ہے ان سے۔  منتظر رہیں کہ آفتوں  کے طوفان چھٹنے والے ہیں۔  حکمِ خداوند کے پیروکار روزے دار مستحقِ انعام ہیں۔

 اور یہی فرمانبرداری  اور خدا پرستی انسان کو خود پرستی  سے نجات دے کے اسے  صاحبانِ انعام کی صفوں میں شامل کرتی ہے۔ منعِم  کا انعام۔سکون کا پیغام اور سکوت طوفان کا پیامبرہے 

 ہماری توجہ کے مراکز بدلنے چاہیے سکون دنیا میں نہیں بلکہ  دین میں ہے۔ ہم ہیں کہ اپنے آپسی  جھگڑوں سے باہر ہی نہیں نکلتے۔ ہمیں چاہیے کہ شر کو پاوں تلے روند دیں اورخیر  کی  جو جنگ   ہے وہ ادھوری پڑی  ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے ہم تاخیر کر رہے ہیں ۔ اس پائے تکمیل کو پہنچائیں۔

 ہمارا محول ایساہوگیا ہے کہ  بھائی بھائی سے ناراض ہے۔ اور  دوست دوستوں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنی ذات میں اپنی الجھنوں میں پریشان ہیں۔

 ہماری وہ الجھنیں جن کا سبب ہم خود ہوں وہ  تقاضا کرتی ہیں کہ ہم ان سے  جدائی اختیار کریں ۔صوفیاء کرام  کہتے ہیں کہ دل زندہ کرو تمہیں ہر طرف زندگی نظر آئے گی۔ 

ہم اگر ایمان زندہ کر لیں ہمیں ہر طرف ایمان اور اسلام  نظر آئے گا۔ اسلام اللہ اور اس کے  حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور الفت کا نام ہے.

اتنے کام  ہیں کرنے کے لیے ۔ ہمارے بڑوں کے وارث آخر کب بڑے  ہوں گے؟  ہمیں ابھی توحید کی روشنی سے ملک اور قوم کو منور کرنا ہے اور ہم ہیں کہ اپنی پرانی یادوں،  حال کے حالات اور مستقبل کے خیالات میں یادوں میں گم ہیں   ہم افسوس ہے کہ  بزرگوں کا مشن کیسے چلے گا ؟  مہربانی قدرتِ حق  پہ یقین کیسے آئے گا؟  اخر کار انعام تو  یونہی   نہیں ملتا  انعام والا ہونے کے لئے انعام والوں کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنا ضروری ہے۔ 

 اور اگر اِن راستوں سے کنارہ کشی  اختیار کر کے ہی جینا ہے تو کیا حاصل؟   روزے اور روزوں کی روحانیت رحمان  اور اس کی رحمت   سے ملاتی ہے۔ تیس روزوں کے بعد یکم شوال ،  عید کا دن انہی روزوں کا ایک انعام ہے۔کچھ حالات مشکل ہیں ،  گرمی سے زبان سوکھ جاتی ہے۔ پیاس  کی شدت اور پانی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ گرمی کا درجہ حرارت زیادہ ہوگیا ہے۔  لیکن گھبرانا نہیں۔یہ خوش نصیبوں کی آزمائش کا ایک باب ہے اور جب روزہ دار اس باب میں اپنا عمل احسن رکھیں گا تو انہیں دیدارِ الٰہی نصیب ہو گا۔

 مشکل وقت کٹ  جانے کے لئے ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں ہمارا رویہ ہماری منزل کا تعین کرتا ہے۔یہ آخری دن ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کا وقت بھی گزر گیا جو روزوں سے دور رہے اور ان کا وقت بھی کٹ گیا جنہوں نے روزے رکھے۔عافیت روزے میں ہے۔ 

 صوفیاء کرام  فرماتے ہیں کہ روزہ نہیں رکھنے والے جب عید  مناتے ہیں تو ان کے چہرے بے نور ہوتے  ہیں۔

عید والے دن یہی روزہ دار ہیں جو حقیقت میں  انعام پاتے ہیں۔ لیکن اس انعام   میں  فطری تقاضا ہے کہ ان  نعمتوں کا سلسلہ غریب کے دروازے سے کہیں پرہی نہ رہ جائے۔ یہ خوشیاں غریب کے ہونٹوں پے مسکراہٹ کی صورت میں کھل جائیں تو اچھاتب  ہی ہماری عید،  عید ہوگی۔

تب ہی ہمارا حال اچھا ہوگا۔ روٹھنے والوں کو منا لینا چاہیے۔روٹھے ہوے   کو مان جانا چاہیے۔یہی درسِ رمضان ہے۔ رمضان سے ملنے والی روحانیت کا اثر ہمارے اعمال  اور ہمارے اقوال  میں شامل رہے یہی مقصود ہے  اور یہی مقصد کا حصول ہے ۔دعا کرنی چاہئے کہ رمضان المبارک بیماروں کے لئے وسیلہ اور شفاء بنے۔ ہم ہر رمضان  ایک خوبی کو بھی اپنا لیں تو کیا خوب !  زندگی کا کیا بھروسہ کہ کب کہاں کیسے کیا ہو جائے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔

جب گزر جائیں گے ماہ گیارہ

تیری آمد کا پھر شور ہوگا

کیا میری زندگی کا بھروسہ

الوداع الوداع ماہ رمضان

آئیے مل کے لیلۃ القدر کی تلاش کرتے ہیں۔ صوفیاء کرام  فرماتے ہیں کہ جس رات اپ کا اللہ سے کنیکشن بن گیا وہی رات آپ کے لیے  لیلۃ القدر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مبارک مہینے کے متبرک لمحات کی برکتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور نبی کریم ﷺ  کی محبت میں ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

عید الفطر انعام الہی کا دن

مفتی محمد ضیاءالحق قادری

اسلامک ریسرچ اسکالر فیض آبادی  

  ٖFLIPKART     AMAZON    PayTM Mall  ٓٓ