رمضان المبارک میں بندوں پر خدا کے احسانات

رمضان المبارک میں بندوں پر خدا کے احسانات

از: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی رمضان المبارک میں بندوں پر خدا کے احسانات

رمضان المبارک میں بندوں پر خدا کے احسانات


رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی بندوں پر اللہ عزوجل کے انعامات اور احسانات کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتاہے۔اس ماہ مبارک میں اللہ عزوجل بندوںکے رزق میںکشادگی اور برکت عطا فرماتا ہے اوراس مہینے کی خاص رحمتوں سے انھیں سرفراز فرماتا ہے۔بندہ کبھی تو اللہ کے لطف وکرم کا مشاہدہ کر لیتا ہے کبھی نہیں کر پاتا۔اس سلسلے میں چند احسانات ذکر کیے جاتے ہیں۔

روزے داروں پر احسا ن

حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ’’جو ایمان اورنیت ثواب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے گااس کے پچھلے گناہ مٹادیے جائیں گے۔‘‘(جامع صغیر ،حدیث نمبر۸۷۷۵،ص۵۳۰)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ’’جو ایمان اور نیت ثواب کے ساتھ رمضان میں قیام کرے گا اس کے پچھلے گناہ مٹادیے جائیں گے۔‘‘(جامع صغیر ،حدیث نمبر ۸۹۰۱،ص۵۳۶)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا’’ جورمضان کاروزہ ایمان اورمحض اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے کے لیے رکھے گااللہ عزوجل اس کے اگلے پچھلے گناہوںکو بخش دے گا۔‘‘ (جامع صغیر ،حدیث نمبر ۸۷۷۶،ص ۵۳۱)

اس حدیث پاک میں نبی معظم ﷺنے فرمایا کہ بندہ جب ایمان کی حالت میں اللہ عزوجل سے ثواب حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں اگر رمضان المبارک کے لمحات میسر آئیںتو انہیں اللہ کی رضا حاصل کرنے میں گزارناچاہیے۔

رمضان المبارک میں تہجد پڑھنے والوں کو بہترین موقع ملتا ہے۔ بعض وہ حضرات جو تہجد پڑھنا چاہتے ہیں لیکن نیند نہ کھلنے کی وجہ سے پڑھ نہیں پاتے ،ان کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ سحری کے لیے تو اٹھتے ہی ہیں ذرا پہلے اٹھ کر بہ آسانی تہجد ادا کرسکتے ہیں اوراس مبارک گھڑی میں خوب دعائیں کر سکتے ہیں ۔تہجد میں کی گئی دعائیں مولیٰ جلدی قبول کر لیتا ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’جوروزہ رکھنا چاہے اسے چاہیے کہ کسی چیز سے سحری کرے۔( جامع صغیر ،حدیث نمبر ۸۳۸۸،ص ۵۱۱)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’سحری کرو ،کیوں کہ سحری میں برکت ہے۔‘‘(جامع صغیر ،حدیث نمبر ۳۲۹۱،ص ۱۹۷)

اس حدیث پاک سے سحری کی برکت کا پتا چلتا ہے کہ سحری کرنے میںبرکت رکھی گئی ہے۔اسی بنا پر ہمارا روزہ یہودیوں کے روزے سے ممتازہوتاہے کہ یہودی بغیر سحری کا روزہ رکھتے ہیں اور ہم سحری کرکے روزہ رکھتے ہیں۔ان کا روزہ چوبیس سے چھبیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور شام سے شروع ہو کر دوسرے دن غروب آفتاب کے بعد تک ہوتا ہے۔

اللہ کا قرب حاصل کرنے والوں پر احسان 

ٍٍ رمضان کا مہینہ یوں تو ڈھیر ساری رحمتیں برکتیں سمیٹے ہوتا ہے ۔ساتھ ہی اللہ عزوجل بندوں پر طرح طرح کے احسانات فرماتا ہے۔ انہیں میں سے ایک بڑا احسان اپنا قرب عطا کرکے فرماتا ہے اوراپنا خاص فضل بھی فرماتا ہے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیں۔

جب کوئی شخص کسی دولت والے اور اقتداروالے کے پاس جاتا ہے ۔ بار بار حاضری دے کر عرضیاں لگاتا ہے اگرصحیح طریقے سے التجا کرتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کی درخواست سن لی جاتی ہے اوراس کی مراد پوری کر دی جاتی ہے۔دوسروں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں تواُن کے صدقے اِسے بھی کچھ دے دیا جاتا ہے اور اس کا کچھ بھلا ہو جاتا ہے۔

اب اُس رب حقیقی کی بارگاہ میں ،جس کے خزانے میں کسی کمی کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ،بندہ بار بار حاضری دیتاہے۔خوب نمازیں پڑھتا ہے ۔عام دنوں میں تو دن میں پانچ بار جاتا ہی ہے ،اس ماہ مبار ک میں پانچویں بار کچھ زیادہ وقت گزارتا ہے یعنی تراویح پڑھتا ہے۔

تراویح میں قرآن پاک سنتا ہے تووہ بارگاہ جو سارے حاکموںپر حکومت کرتی ہے ،وہ بارگاہ جو سارے مالکوں پر ملکیت رکھتی ہے۔

جس کے خزانہ قدرت میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے،کمی ہے تو ہمارے مانگنے میں ۔اس کی بارگاہ میں باریابی کا حسین موقع نصیب ہوتا ہے اور ایسی باریابی کہ اس بارگاہ میںاس کا مقدس کلام پڑھا جا رہا ہو ۔

اس کے محبوب کی تعریف کی جا رہی ہو،توسوچیں ایسے وقت میں اللہ عزوجل کی رحمت کس قدر جوش میں ہوگی اور بندوں کو ان کے مانگنے سے سوا دینے کے لیے تیار ہوگی ۔لیکن کوئی آئے تو۔

ہم اپنا جائزہ لیںکہ ہم اللہ کی یاد سے کس قدر غافل ہوتے جا رہے ہیں۔ہم رب کے انعامات حاصل کر نے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ۔

وہ دینے والا رب دینے کے لیے تیار ہے ،ہم کتنے حرماں نصیب ہیں کہ ہمیں لینے کی فرصت نہیں ہے ۔اگر ہم اس کی بارگاہ میں جا بھی رہے ہیں تو مرے دل سے ۔ہماری حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ امام صاحب نے اگر مقتدیوں کے اندازے کے مطابق ذرا بھی قراء ت لمبی کر دی تو سلام پھیرنے کے بعد ہنگامہ اور شور شرابا ہونے لگتا ہے۔

کسی دن تراویح میں پانچ منٹ زیادہ وقت لگ گیا تو اس پر چرچہ ہونے لگتی ہے ۔بحثیں چلتی ہیں ۔کیا کبھی ہم نے اللہ عزوجل کے اس احسان کے بارے میں سوچا کہ وہ اپنی بارگا ہ میں نیک و بدسب کو بلاتا بھی ہے اور مانگے ،بن مانگے دامن بھر کرواپس کرتاہے۔

یہ سخاوت اسی کی شان کے لائق ہے کہ بن مانگے دیا اور اتنا دیا کہ دامن میں ہمارے سمایا نہیں ۔ اس کی رحمتیں ہمہ وقت بندوں کو اپنے دامن میں سمونے کے لیے تیار ہیں۔بس ہمیں اپنے احساس کو بیدارکرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر احساس ہی نہ ہو تو کامیابیاںا ور خوشیاں بہت دور چلی جاتی ہیں۔

پیاسوں پراحسان

گزشتہ چند سالوں کا مشاہدہ ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ آتے ہی گرمی کی تپش اللہ کی رحمت سے شرماجاتی ہے۔موسم بندوں کے لیے سازگار ہو جاتا ہے اور بندہ بڑے دن کا روزہ بہ آسانی رکھ لیتا ہے۔جبکہ رمضان کا لطف تو بڑے دن میں پیاس کی شدت میں ہی ہے۔

جیسا کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں؛زندگی تین چیزوں کے لیے مجھے عزیز ہے۔

۔(1) سجدہ دراز سنتوں میں ۔
۔(2) پیاس بڑے (دنوں کے ) روزوں میں۔
۔(3) صحبت ان کی جن کی سب باتیں پسندیدہ اور اچھی ہیں۔(الکلام الاوضح، ص۱۴ بحوالہ سچوں کی سچی باتیں ،ص۳۶)

روزے کے ذریعہ بندے پر ایک احسان یہ ہے کہ گیارہ مہینے مسلسل کھانے کی وجہ سے معدہ نظام ہضم میں مسلسل مصروف رہتا ہے اوراسے آرام کا موقع نہیں ملتا ۔ لیکن روزے کی وجہ سے آرام کا ایک لمبا وقفہ میسرآجاتا ہے اور اکثر افراد نظام ہضم کی گڑبڑی سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ جو بہت سی بیماریوں کی جڑہے۔

تراویح کے ذریعہ احسان یہ ہے کہ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد رات میں تراویح بندے کی عبادت کا ایک بڑا امتحان ہوتا ہے ۔

کیوں کہ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد جب افطار کرتاہے اور معدے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا ہے، بغیر سوچے سمجھے کھاتا پیتا ہے، نتیجے میں یا تو تھک کر سو جاتا ہے یا شیطان کے بہکاوے میں آکردنیوی لہو لعب میں مست ہو جاتا ہے اور تراویح چھوڑ دیتاہے۔

اگر تراویح جیسی عبادت میں غور کیاجائے تو اس میں فائدے ہی فائدے ہیں۔ایک عظیم ثواب تو قرآن سننا ہے جس کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ کل قیامت میں قرآن بندے کے لیے سفارشی ہوگا۔اللہ کی بارگاہ میں بندے کی بخشش کرائے گا،دوسرا فائدہ جسمانی ورزش۔

اس عبادت میں ثواب کے ساتھ ساتھ پٹھوں کی مضبوطی کی صور ت میں جسمانی ورزش اور دلی سکون بھی ہے۔ افطار میں طرح طرح کی غذائیں کھانے کے بعد جسم بوجھل ہو جاتا ہے یہ بوجھل پن تراویح پڑھ کر ختم ہو جاتا ہے ۔طبیعت ہلکی ہو جاتی ہے ۔اسی طرح تراویح میں اخروی ثواب کے ساتھ دنیوی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

غریبوں پر احسان

رمضان المبارک میں اللہ عزوجل نے غریبو ں کابھی خیا ل رکھا ہے، کچھ لوگ رمضان میں ہی زکوٰۃ نکالتے ہیں کیوں کہ رمضان میں نیکوں کا ثواب زیادہ ہے ۔

اس سے بھی لوگوں کا بھلا ہو جاتاہے (اگر زکوٰۃ پہلے واجب ہو جائے تو اسی وقت نکال دینا چاہیے رمضان کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ گناہ ہے،تاخیرکرکے رمضان میں نکالنے سے مزید ثواب کے بجاے گناہ ہو جاتاہے ، اس سے بچنا چاہیے) اور اہل ثروت حضرات پر صدقہ فطر بھی اسی لیے واجب کیا ہے تاکہ غریب بھی کشادگی پا کر عید کی خوشیوں میں سب کے ساتھ شریک ہو سکیں۔

ابو داود و نسائی کی روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آخر رمضان میں فرمایا ؛ روزے کا صدقہ ادا کرواس صدقہ کو رسول اکرم ﷺ نے مقرر فرمایا ،ایک صاع خرما یا جَو، نصف صاع گیہوں۔(سنن ابو داود ، کتاب الزکوٰۃ،حدیث ۱۶۲۲ بحوالہ بہار شریعت ،ج۱،ص ۹۳۴)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے زکاۃ فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اورمساکین کی خورش (یعنی خوراک ) ہوجائے۔ (سنن ابو داود،باب زکوٰۃالفطر،حدیث۱۶۰۹،بحوالہ بہارشریعت ،ج۱،ص۹۳۵)

اسلا م کے معاشرتی اور اقتصادی نظام میں غور کیاجائے تو یہ معلوم ہوگا کہ اسلام نے مال داروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کا بھی بہت خیال رکھا ہے۔اسلام کی یہی خصوصیات اسے دوسرے مذاہب سے ممتازکرتی ہے۔

شب قدر اور آخری رات کی فضیلت

یوں تو رمضان المبارک کی ہر ساعت ہر رات خصوصی رحمت و برکت والی ہے لیکن آخری عشرے کی طاق راتوں کی بڑی فضیلت آئی ہے۔جن میں شب قدر کو تلا ش کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ رمضان اور شب قدر کے بارے میں نبی کریم ﷺکی ایک روایت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہتے ہیں

۔ ’’رمضان آیا توحضور ﷺنے فرمایا ؛’’ یہ مہینہ آیا ، اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، جو اس سے محروم رہا وہ ہر خیرسے محروم رہا اور اس کی خیر سے وہی محروم ہوگا جو پورا محروم ہو گا۔‘‘( مشکوٰۃ ،ص ۱۷۳،سنن ابن ماجہ حدیث۱۶۴۴،بحوالہ بہار شریعت ،ج۱،ص۹۵۹)

اس حدیث پاک سے رمضان اور شب قدر کی فضیلت کا پتا چلتاہے۔رمضان کی آخری شب کی بھی بڑی فضیلت آئی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی معظم ﷺ فرماتے ہیں؛’’رمضان کی آخر شب میںاس امت کی مغفرت ہوتی ہے۔ عرض کی گئی ،کیا وہ شب قدر ہے ؟ فرمایا ؛ نہیں لیکن کام کرنے والے کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے ، جب کام پورا کر لے ‘‘۔

یعنی رمضان کی آخری شب میں عبادت کا خوب اہتمام کرنا چاہیے تاکہ مزدوری پوری مل سکے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نے رمضان بھر تو خوب عبادتیں کیں جب مزدوری لینے کی شب آئی تو اس کو عید کی تیاری اور لہو لعب میں گزار دیا۔ اس لیے ہمیں ان راتوں کو بلکہ پورے رمضان کو رب کی فرما برداری میں گزارنا چاہیے۔

رب تعالیٰ کا بندوں پر سب سے بڑا احسان تو یہ ہے کہ وہ اپنے بے شمار گنہ گار بندوں کو اس مہینے اور اس کی مخصوص راتوں کے صدقے بخش دیتا ہے۔ بندوں پر اپنا خصوصی کرم فرماتا ہے۔یوں تو پورا رمضان اور اس کی ہر ہرساعت خیر و برکت والی ہے۔

لہٰذا ہمیں اس کے لمحات کی قدر کرنی چاہیے اوراس میںاپنی بخشش کے لیے دعاکرنی چاہیے،اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔

از: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی
ایڈیٹر :پیام برکات،علی گڑھ
7860561136

ان مضامین کو بھی پڑھیں

رمضان المبارک اور ذکر و اذکار 

شور ہے اوج فلک پر آمد رمضان المبارک کا 

رمضان میں کیا کریں 

ماہَ رمضان المبارک کیسے گزاریں 

استقبال ماہِ رمضان المبارک

برکتوں و فضیلتوں کا مہینہ رمضان المبارک 

 اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

 ہمارے لیے آئیڈیل کون 

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top