زکوٰۃ تزکیۂ مال کے لیے رازہاے سربستہ

زکوٰۃ تزکیۂ مال کے لیے رازہاے سربستہ

ازقلم۔ محمداشفاق‌عالم نوری فیضی زکوٰۃ تزکیۂ مال کے لیے رازہاے سربستہ

زکوٰۃ تزکیۂ مال کے لیے رازہاے سربستہ


عزیزان ملت گرامی! اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے” اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ اور اللہ تعالی عزوجل کواچھا قرض دو۔اور جو تم اپنے لیے نیکی سے آگے بھیجو گے تو اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے پاس بہتر اور عظیم شکل میں پاؤں گے بے شک اللہ تعالی بہت زیادہ بخشنے والا ہے بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔

قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں نماز کے ساتھ ساتھ جس بات کا ذکر کیا گیا وہ زکوٰۃ ہے چو ں کہ اس کی وجہ سے سرمایہ داروں اور غریبوں کے درمیان توازن پیدا ہوتا ہے اور اتکاز زر میں کمی کا باعث بنتا ہے دولت گردش میں رہتی۔

مسلمانوں کے درمیان ہم دردی ، باہمی امداد اور یگانگت پیدا ہوتی ہے اور اس کا اہم ترین فائدہ نظام جماعت کے قیام کے لیے سرمایہ بہم پہنچایا جاتا ہے۔

غریبوں اور مسکینوں پرمال خرچ کرنے سے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے دل سے حب دنیا اور حرص کی مرض دور کرنے کا علاج ہوتا ہے اور زکوۃ ادا کرنامال کی پاکیزگی اور طہارت کا باعث بنتا ہے ۔

جیسے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے “آپ ان کے مالوں سے صدقہ وصول کرکے ان کو پاک کریں اور اس کے ساتھ ان کا تزکیہ کریں۔

ز کوٰۃ کسے کہتے ہیں؟۔
زکوٰۃ در اصل اس صفت ہمدردی اور رحم کانام ہے جو ایک مال دار مسلمان کے دل میں دوسرے حاجت مند مسلمان کے ساتھ فطرتاً موجود ہے یا یوں کہہ لو کو آپس میں مسلمانوں کے درمیان ہم دردی اور باہم ایک دوسرے  کی مخصوص مالی امداد اور اعانت کا نام زکوٰۃ ہے

لیکن اصطلاح شریعت میں زکوٰۃ مال کے ایک حصہ کا جو شریعت نے مقرر کیا ہے،مخصوص مسلمان فقیر کو مالک کردینا ہے۔زکوٰۃ کیسے اور کیوں فرض ہوئی؟۔

اسلام میں شروع ہی سے مسلمانوں کو خصوصیت سے توجہ دلائی جاتی تھی کہ وہ حتی الامکان ایک دوسرے کے کام آئیں اور ضرورت سے زیادہ جوبھی پائیں وہ مسکینوں،یتیموں،بیواوں اور حاجت مندوں پر صرف کریں اور اپنی ہم دردی وغم گساری کو دوسرے مسلمانوں کا رفیق بنائیں

آسان اسلام کی اس پاکیزہ تعلیم کی بدولت مسلمان غرباء ومساکین کی امداد و اعانت میں جو کچھ بن پڑتا اس میں کمی نہ کرتے،تاہم ایسا کوئی قائدہ مقرر نہ تھا جس پر بطور آئین وضابطہ کے عمل کیا جاتا ہو۔

مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں آکر جب مسلمانوں کو کسی قدر اطمینان وسکون نصیب ہوا،انہیں فتوحات نصیب ہوئیں ،زمیندار اور جاگیریں ہاتھ آئیں ،انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا اور تجارت کی آمدنی بڑھی تو رفتہ رفتہ مناسب حالات کے تحت زکوٰۃ کا پورا نظام فتح مکہ کے بعد مکمل ہوا اور اس کے احکام وقوانین مرتب ہوئے اور نظام زکوٰۃ نے آئین وضابطہ کی شکل اختیار کی۔

زکوٰۃ کی فرضیت

زکوٰۃ کا ادا کرنا اسلام کے پانچ بنیادی فرائض میں سے ایک فرض ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

۔(1) اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اورحضرت محمّد ﷺاللہ تعالی کے رسول ہیں

۔ (2) نماز قائم کرنا

۔(3) زکوٰۃ ادا کرنا

۔(4) حج کرنا

۔(5) رمضان المبارک کے روزے رکھنا (بخاری شریف)۔

فوائد زکوٰۃ کے تعلق سے قرآن پاک کی چند آیت مبارکہ

۔:1۔ وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں وہی سچے مومن ہیں۔(سورہ انفال)

۔2۔ زکوٰۃ اداکرنے والے لوگ قیامت کے دن ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ ہوں گے۔(سورہ بقرہ)

۔3۔۔ اے نبیﷺ ! آپ ان کے اموال سے زکوٰۃ لو تاکہ ان کو ( گناہوں) سے پاک کریں اور انکے درجات بلند کریں۔(سورہ توبہ)

۔4۔ اور جو زکوۃ تم اللہ تعالی عزوجل کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دیتے ہیں اس سے دینے والے ہی اپنے مال میں اضافہ کرتے ہیں۔(سورہ روم)

۔5۔اللہ تعالی ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔(سورہ بقرہ)۔

زکوٰۃ ادا کرنے والا مستحق جنت ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ مقدسہ میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ” مجھے ایسا عمل بتائیے جس کو کرنے سے میں جنت میں داخل ہوجاؤںآپﷺ نے فرمایا اللہ تعالی عزوجل کی عبادت کر۔

اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر۔فرض نماز قائم کر۔فرض زکوٰۃ ادا کر۔جب وہ آدمی واپس ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ “جسے جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو وہ اسے دیکھ لے۔(بخاری شریف)۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا”وضو اچھی طرح کرنا نصف ایمان ہے اور الحمدللہ کہنا میزان کو( نیکیوں سے) بھردیتا ہے۔سبحان اللہ اور اللہ اکبر ( کہنا) آسمان وزمین کو (نیکیوں) سے بھردیتا ہے۔

نماز قیامت کے دن روشنی ہوگی،اور زکوٰۃ ( صاحب ایمان ہونے کی)دلیل ہے۔صبرکرنا ( پریشانیوں اور مصائب میں راہ دکھانے کے لیے) روشنی ہے اور قرآن (قیامت کے روز گواہی دے کر) تیرے حق میں حجت بنےگا یا تیرے خلاف حجت بنےگا۔اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔زکوٰۃ نہ دینے والوں کا روپیہ پیسہ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر ان کو ڈسے اور کاٹےگا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا”کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیااور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی،تو قیامت کے دن اس کامال گنجے سانپ کی شکل بن کر، جسکی آنکھوں پر دو نقطے ( داغ) ہوں گے اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔

پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑکر کہے گا۔میں تیرا مال ہوں،میں تیرا خزانہ ہوں۔

پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال دیا ہے اور وہ بخیلی کرتے ہیں تو اپنے لئے یہ بخل بہتر نہ سمجھیں بلکہ انکے حق میں برا ہے عنقریب قیامت کے دن بخیلی ان کے گلے کا طوق ہونے والی ہے( بخاری شریف)۔

قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرنا کیسا

حضرت امام شہاب الدین سہروردی قدس سرہ العزیز”عوارف شریف ” میں حضرت خواص رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں”ہمیں خبر پہنچی کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ فرض ادا کیا جائے۔

اللہ تعالی عزوجل ایسے لوگوں سے فرماتا ہے کہاوت تمہاری اس بد بندہ کی مانند ہے جو قرض اداکرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے۔” ۔

اور اس کی مزید وضاحت “فتوح الغیب شریف “میں حضور سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے جگرشگاف مثالیں ایسے شخص کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ جو فرض چھوڑ کر نفل ادا کرے۔

اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلاے یہ وہاں حاضر نہ ہوااور اسکے غلام کی خدمت گاری میں موجود رہے۔

پھر حضرت امیرالمومنین مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ سے اسکی مثال نقل فرمائی کہ” ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل جب بچہ ہونے کے دن قریب آے اسقاط ہوگیا،اب وہ نہ حاملہ ہے نہ بچہ والی ۔

یعنی جب پورے دنوں پر آکر اسقاط ہواتو محنت تو پوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ھوتاتو ثمرہ خود موجود تھا۔ حمل باقی رہتا تو امید لگی تھی ،اب نہ حمل نہ بچہ ،نہ امید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچہ والی کو ہوئی ہوتی ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس سے روپیہ تو اٹھا مگر جب کہ فرض چھوڑا،یہ نفل بھی قبول نہ ہوا،تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہیں

۔”اور اسی کتاب میں حضور مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ” یعنی جو فرض چھوڑ کر سنت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہیں ہوں گے اور خوار کیا جائے گا۔مال کی محبت کا عبرتناک انجام :اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے”تمہارے مال اور تمہاری اولاد ( تمہارے لیے) آزمائش ہیں(سورہ تغابن)۔

اور حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا” ہرامت کے لیے ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے(ترمذیشریف)۔

اور اس کے تناظر میں سورہ نون کا ایک عبرت انگیز واقعہ اپنی بصیرت سے ملاحظہ کریں۔” ایک شخص بڑا نیک اور سخی تھا اس کے پاس ایک باغ تھا وہ باغ کی پیداوار سے اپنے گھر اور کھیتی باڑی کے اخراجات نکال کر باقی پیداوار اللہ تعالی عزوجل کی راہ میں خرچ کردیا کرتا تھا۔

اللہ عزوجل نے اس کے مال میں بڑی برکت ڈال رکھی تھی۔وہ آدمی فوت ہواتو اسکی اولاد نے باہم مشورہ کیا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا اتنی زیادہ رقم غریبوں اور مسکینوں میں مفت تقسیم کردیا کرتا تھا۔

آئندہ اگر ہم یہ سارا مال ودولت اپنے پاس ہی رکھیں تو بہت جلد دولت مند ہوجائیں گے۔چنانچہ جب پھل وغیرہ پک گیا اور فصل کاٹنے کا موقع آیا تو انہوں نے رات کے وقت آپس میں قسمیں کھائیں کہ ہم صبح اندھیرے اندھیرے باغ میں پہنچ جائیں گے کسی دوسرے کو خبر نہیں ہونے دیں گے تاکہ کوئی سائل اور محتاج آنے نہ پائے۔

حسب پروگرام وہ سب پچھلی رات گھر سے چپکے چپکے نکلے۔جب وہاں پہنچے تو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے کہ لہلہاتا ہواسرسبز شاداب پھلا پھولا باغ جل کر خاکستر ہوچکا ہے۔

پہلے تو یہ سمجھے کہ شاید ہم راستہ بھول چکے ہیں، لیکن جب ہوش وحواس بحال ہوے تو یقین آگیا کہ یہ باغ ہمارا ہی تھا۔تب اپنے جرم کا احساس ہوا اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور اعتراف گناہ کیا۔

اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو زکوٰۃ کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرماے اور جو لوگ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ان کے قلوب میں خصوصیت للہیت عطاء فرمائے۔آمین

ازقلم۔ محمداشفاق‌عالم نوری فیضی

رکن۔ مجلس علماے اسلام مغربی بنگال

شمالی کولکاتا نارائن پورزونل کمیٹی کولکاتا 

رابطہ  نمبر  ۔9007124164

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

زکوٰۃ کی فضیلت

 عصر حاضر میں خدمت خلق کی اضرورت و اہمیت

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top