سرکار دو عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات قسط اول

سرکار دو عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات قسط اول

تحریر: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی سرکار دو عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات قسط اول

سرکار دو عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات قسط اول

معراج کا لغوی معنی

معراج ’’عروج ‘‘ سے بنا ہے ، جس کا معنٰی ’’چڑھنا، اوپر جانا‘‘ ہےاور معراج اُس شے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کا ذریعہ ہو ،یعنی جس کے واسطے سے اوپر چڑھا جائے ، جیسے : سیڑھی ، زینا وغیرہ۔[عامۂ لغات]

معراج کا اصطلاحی معنٰی

حضور رحمتِ عالَم ﷺ کا عالمِ بیداری میں، رات کے ایک انتہائی مختصر لمحے میں، اپنے جسم ِ اقدس کے ساتھ ، مسجدِ اقصی پہنچ کر جملہ انبیاے کرام صلوات اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی امامت فرمانا، اس کے بعد آسمانوں پر تشریف لے جانا،عالَمِ بالا کی سیر کرنااور سدرۃ المنتہیٰ اور عرشِ اعظم سے ہوتے ہوئے وصالِ اِلٰہی تک پہنچنا ’’معراج‘‘کہلاتا ہے۔

سفرِ معراج حق اور احادیثِ مشہورہ سے ثابت ہے۔ [شرحِ عقائدِ نسفی، ص۱۰۵:]رات کے ایک مختصر حصے میں مسجدِ حرام سےمسجد اقصی تک کا سفر، خود قرآنِ مقدس سے ثابت ہے، انکار کرنے والا کافر ہو جائے گا۔

کیوں کہ یہ قطعی ہے۔وہاں سے آسمان تک کی سیراحادیثِ مشہورہ سے ثابت ہے، انکار کرنے والا گمراہ و مبتدع ہے اور آسمان سے جنت تک یا عرش تک یا اس سے بھی آگے تک کا سفر اخبارِ آحاد سے ثابت ہے۔

جسم و روح کے ساتھ سیرِ معراج کے لیے تشریف لے جانا آقاے دو جہاں ﷺ کا خصوصی شرف و کمال ہے جو نہ کبھی کسی نبی و رسول کو حاصل ہوااور نہ قیامت تک کسی کو حاصل ہوسکےگا۔

اپنے محبوب داناے غیوب محمد مصطفیٰﷺ کی عظمت و حرمت ، جاہ و مرتبہ اور شان و شوکت کے اظہار کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں سیرِ معراج اور اُس میں اپنے حسنِ ازلی کے دیدار سے مشرف فرمایا۔

اِسی لیے علما فرماتے ہیں کہ ’’معراج‘‘ قرآنِ مقدس کے بعد ہمارے آقا جنابِ محمد رسول اللہﷺ کا سب سے عظیم معجزہ ہے، جس نے سب سے پہلے انسانوں کے لیے تسخیرِ کائنات کے مقفَّل دروازوں کو کھولنے اور فضاؤں پر کمندیں ڈالنے کی راہیں ہموار کیں ۔

معراج کا واقعہ کس سن میں پیش آیا ،اِ س سلسلے میں روایتیں مختلف ہیں۔ اکثر علما و محدثین کا مذہبِ مختار یہی ہے کہ واقعۂ معراج ہجرت سے ایک سال قبل، ماہِ رجب المرجب کی ستائیسویں تاریخ کو پیش آیا۔[شرح الشفا علی ھامش نسیم الریاض ج۲:،ص۲۲۴:۔للعلامہ علی بن سلطان محمد القاری حنفی علیہ الرحمہ ]۔

اللہ رب العزت اپنے کلامِ ازلی میں ارشاد فرماتا ہے 

سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلٰی الْمَسْجِدِ الْأقْصٰى الَّذِيْ بَارَكْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ آيَاتِنَا. اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ. [سورۂ بنی اسرائیل، آیت نمبر۱:]

ترجمہ:وہ ہر عیب سے پاک ہے جو اپنے خاص بندے کو رات کے مختصر حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے ارد گرد ہم نے بے شمار برکتیں رکھی ہیں؛تاکہ ہم اپنے اس عبدِ خاص کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہی سننے والا، وہی دیکھنے والا ہے۔

اِس آیت کریمہ میں رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کے سفرِ ِ معراج کو نہایت اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، ایک سفر نامے میں جتنی چیزوں کا بیان اہم و ضروری ہوتا ہے وہ سبھی باتیں یہاں مذکور ہیں۔سفر نامے میں علی العموم سات چیزوں کا بیان اہم ہوتا ہے

۔ [۱]سفر کس نے کیا

۔[۲]سفر کس نے کرایا

۔[۳]سفر کی شروعات کہاں سے ہوئی

۔[۴]سفر کہاں منتہی ہوا

۔[۵]سفر دن میں ہوا یا رات میں

۔[۶]سفر کس مقصد سے ہوا

۔[۷]سفر کتنی مدت میں ہوا۔

قرآنِ مقدس کی یہ شانِ اعجاز ہےکہ اس نے ایک مختصر آیتِ کریمہ میں یہ ساتوں باتیں بیان فرما دی ہیں۔ سفر کس نے کرایا؟۔

فرمایا : سفر اس نے کرایا جو’’ سبحان‘‘ یعنی ہر عیب سے پاک ہے۔سفر کس نے کیا؟ فرمایا ’’بعبدہ‘‘ یعنی سفر اس نے کیا جو اس کا عبدِ خاص یعنی مخصوص بندہ ہے۔

سفر کا آغاز کہاں سے ہوا؟ ارشاد ہوا ’’من المسجد الحرام‘‘ یعنی مسجد حرام سے۔ سفر کہاں تک ہوا؟۔

بتایا’’الیٰ المسجد الاقصی‘‘ یعنی مسجد اقصی تک۔ سفر رات میں ہوا یا دن میں؟ فرمایا ’’اسری‘‘ یعنی اس نے رات میں سیر کرائی۔ سفر کتنی مدت میں مکمل ہوا؟ فرمایا ’’لیلا ً‘‘یعنی رات کے ایک نہایت قلیل لمحے میں۔ اس سفر کی غرض و غایت کیا تھی؟ فرمایا’’لنریہ‘‘ یعنی یہ سیر اس لیے کرائی ؛تاکہ ہم اپنے عبدِ خاص کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں ۔

اس آیتِ کریمہ کے تفسیری نکات بیان کرتے ہوئے ماضی قریب کے مایۂ ناز محقق و محدث حضرت علامہ غلامہ رسول صاحب سعیدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

لفظ سبحان کے اسرار 

رات کے ایک قلیل لمحے میں اتنی عظیم الشان سیر کراکے واپس لے آنا عادۃً محال تھا، اللہ تعالی نے ’’سبحان‘‘ فرما کر یہ ظاہر کر دیا کہ مخلوق کے لیے تو یہ محال ہے، اگر خالق کے لیے بھی محال ہو تو یہ اس کے لیے نقص و عیب ہوگا اور وہ ہر عیب سے پاک ہے۔

اسی لیے بعض علما نے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے اس آیتِ کریمہ کے شروع میں ’’سبحان‘‘ذکر کرکے واقعۂ معراج کو ثابت کیا ہے۔بعض علما نے فرمایا کہ جب اللہ نے آیتِ کریمہ کے آغاز میں ’’سبحان‘‘ لاکر اس کے بعد’’الذی ‘‘ ذکرکیا تو معلوم ہو گیا کہ جس نے حضور ﷺ کو معراج کرائی وہ ’’سبحان ‘‘ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ تو ہمیشہ سے سبحان ہے اور رہے گا ؛مگر اس کے سبحان ہونے کا کامل ظہور اس وقت ہوا جب اس نے اپنے حبیب ﷺ کو رات کے بالکل قلیل لمحے میں فرش سے عرش؛ بلکہ اس سے بھی ماورا کی سیر کرائی اور اسی لمحے انھیں عرش سے فرش پر لے آیا۔

اس لیے آیت کریمہ کے شروع میں ’’ سبحان‘‘ نہ ہوتا تو معراج تو ثابت ہو جاتی؛ مگر اللہ تعالی کے سبحان ہونے کا ظہورِ کامل نہ ہوتا۔اس آیت کے شروع میں ’’سبحان‘‘ہے اور آخر میں ’’سمیع و بصیر‘‘ ہے۔

اور یہ دونوں اللہ کی صفات اور اس کا ذکر ہیں، معلوم ہوا کہ سیرِمعراج کی ابتدا بھی اللہ کے ذکر سے ہوئی اور انتہا بھی ذکرِ الہی پر ہوئی اور سیر معراج سے حضور ﷺ جو تحفۂ نماز لائے وہ بھی اللہ کا ذکر ہے۔

حضور ﷺ کو عبد کہنے کے اسرار : ’’عبد‘‘ وہ ہوتاہے جو بندوں کی طرف سے رب تبارک و تعالیٰ کے پاس جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا موقع تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر ’’رسول‘‘کہنے کے بجاے’’عبد‘‘ فرمایا۔

پھر یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ نے حضورﷺ کو صرف ’’عبد‘‘نہیں فرمایا بلکہ ’’عبدہ‘‘ یعنی اپنا بندہ فرمایا۔ عبد تو دنیا میں ہزاروں کروڑوں ہیں۔

لیکن کامل عبد اور بندہ تو وہ ہے جس کو خود مالک کہے کہ یہ میرا بندہ ہے۔اللہ رب العزت نے ’’عبدہ‘‘ کہہ کر اپنے حبیبﷺ کی عظمت و شان اور آپ کے بلند مقام و مرتبہ کو بیان فرمایا ہے۔

سفرِ معراج کے موقع پر نبی ﷺ کو وصفِ عبدیت کے ساتھ ذکر کرنے سے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ میرے محبوبﷺ کو یہ فضیلت اور یہ بلند مقام’’ عبدیت‘‘ کی وجہ سے حاصل ہوا

کیوں کہ جو شخص اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تواضع کرتا ہے، اللہ عز و جل اس کے رتبے کو بلند فرما دیتا ہے۔نیز یہ بتاتا بھی مقصود تھا کہ یہ معراج جسمانی تھی نہ کہ محض روحانی، کیوں کہ ’’عبد‘‘ کا اطلاق لغتِ عرب میں فقط روح پر نہیں؛ بلکہ روح و جسم دونوں پر ہوتا ہے۔

لفظ اسری کے اسرار

اللہ رب العزت نے ’’اسری‘‘ کہہ کر یہ بتلا دیا کہ یہ سیر عالَمِ بیداری میں ہوئی، نہ کہ عالَمِ خواب میں؛ کیوں کہ اسراء کا معنی ہے ’’کسی شخص کو عالمِ بیداری میں رات کے وقت لے جانا‘‘ خواب میں لے جانے کو اسراء نہیں کہا جاتا۔[ملخصاً از شرح مسلم للسعیدی، ج۱:]

حضرت علامہ غلام رسول صاحب سعیدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شرح مسلم جلد اول میں واقعاتِ معراج کے بڑے شاندار نکات و اسرار بیان فرمائے ہیں ۔ عوامِ اہلِ سنت کے افادہ کے لیے، ذیل میں نہایت آسان لب و لہجے اُن کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے ۔

رات کے وقت معراج کرانے کے اسرار

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کو رات کے وقت سیرِ معراج کرائی ، کیوں کہ رات دن سے افضل و اشرف ہے۔ افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ محبوبوں سے راز ونیاز کا وقت ہوتا ہے

اللہ رب العزت نے بہت سے انبیاے کرام، مثلاً’’ حضرتِ سیدنا ابراہیم ، حضرت سیدنا لوط ، حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کو رات کے وقت مختلف عظمتوں سے نوازا۔قرآنِ مقدس کے کئی مقام پر اُن کا تذکرۂ جمیل ہے ۔

ہمارے سرکار حضور احمدِ مجتبیٰ محمدِمصطفی ﷺ کو بھی اُس نے کئی انعامات رات کے وقت عطا فرمائے۔

انگلی کے اشارے سے چاند کا شق ہونا ،جنوںکا آپ پر ایمان لانا ، مدینۂ منورہ کی جانب ہجرت کرنا ، غارِ ثور میں داخل ہونا وغیرہ متعدد واقعات رات میں پیش آئے۔

اللہ رب العزت نے متعدد آیتوں میں رات کو دن پر مقدم فرمایا ہے ۔ مہینے کی ابتدا رات سے ہوتی ہے ۔

رات کی سیاہی میں آنکھ کی روشنی تیز ہو جاتی ہے ۔ہر رات کے لیے دن ضروری ہے مگر ہر دن کے لیے رات لازم نہیں ، کیوں کہ روزِ محشر کے لیے کوئی رات نہیں ہے ۔

رات کے وقت دعائیں مقبول ہوتی ہیں اور رب تعالیٰ کی جانب سے بخشش کا پروانہ ملتا ہے ۔لیلۃ القدر ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔

رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر رات میں سفر کیا کرتے تھے اور حضور ﷺ نے رات میں سفر کرنے کی ترغیب بھی دی ہے ۔

رات زیادہ عبادت کرنے کا وقت ہے ، آقا ے دو عالَم ﷺ راتوں میں اِس قدر عبادت کیا کرتے تھے کہ مبارک قدموں میں ورم آجایا کرتا تھا ، یہاں تک کہ رب تعالیٰ نے آپ کو آرام کرنے کا حکم دیا ۔

اِن تمام وجوہات کی بنا پر اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کے سفرِ معراج کے لیے رات کا انتخاب فرمایا ۔

حضرتِ اُمِّ ہانی کے گھر کی چھت پھاڑ کر فرشتوں کے آنے کے اسرار

متعدد روایتوں سے ثابت ہے کہ شبِ معراج فرشتے ،حضرت ام ہانی فاختہ بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت پھاڑ کر حضور ﷺ کے پاس تشریف لائے ۔ ایسا اِس لیے کیا گیا تاکہ معراج کا اچانک رو نما ہونا اور زیادہ واضح ہوجائے ۔

نیز فرشتوں نے خلافِ عادت ایک غیر معمولی راستے کا انتخاب کیا ؛تاکہ سب پر واضح ہو جائے کہ یہ سفرِ معراج بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل اور خلافِ عادت ہے۔

چھٹ شق کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ حضور ﷺ کو تنبیہ ہو جائے کہ اِس سفر میں اُن کا سینۂ مبارک بھی چاک کیا جائے گا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہ سفر اوپر کی جانب ہوگا ۔

حضور ﷺ کے مکانِ اقدس سے سیرِ معراج شروع نہ ہونے کے اسرار

سفرِ معراج کا آغاز حضور ﷺ کے مکان سے نہ ہوکر آپ ﷺ کی چچیری بہن حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہاکے مکان سے ہوا ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے مکان کو تو پہلے ہی سے فضیلت حاصل تھی ۔

جب حضرتِ ام ّہانی کے گھر سے معراج کرائی گئی تو اُن کے مکان کو بھی فضیلت حاصل ہو گئی؛کیوں کہ اب جب بھی معراج کا ذکر ہوگا

حضرتِ ام ہانی کے مکان کا بھی تذکرۂ جمیل ہوگا ، گویا کہ حضرت ام ہانی کو ’’حضور ﷺ سے سچی محبت اور اُن کی بے لوث خدمت‘‘ کا یہ صلہ دیا گیا کہ اُن کے ذکر کو حضور ﷺ کے سفرِ معراج کے ذکر سے وابستہ کر دیا گیا ، اب قیامت تک حضرت ام ہانی کا ذکر ِخیر ہوتا رہے گا ۔

ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے درِ دولت میں بغیر اجازت داخل ہونا اور اُنھیں حجرے کے پیچھے سے پکارنا بنصِّ قرآنی حرام و ناجائز ہے ۔ اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے 

یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ أنْ یُّؤذَنَ لَکُمْ [سورۂ احزاب، آیت نمبر ۵۳:] ترجمہ: اے ایمان والو! نبی [ ﷺ ] کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل مت ہو ۔

اِس آیتِ کریمہ میں بلا اجازت داخل ہونے کی ممانعت ہے ۔ دوسری آیت میں فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ۔ [سورۂ حجرات ، آیت نمبر ۴؍۵]

ترجمہ:اے محبوب! بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں اُن میں اکثر نادان و بے وقوف ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک آپ خود اُن کی جانب باہر تشریف لے آتے تو ضرور اُن کے لیے بہتر ہوتا ۔

اِس آیتِ کریمہ میں حضور ﷺ کو حجروں کے باہر سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے ۔چوں کہ حضور ﷺ شبِ معراج محوِ خواب تھے 

اگر آپ علیک الصلاۃ والسلام اپنے مکانِ اقدس میں ہوتے تو فرشتوں کو دشواریاں پیش آتیں ، نہ وہ مکان میں داخل ہو پاتے ، نہ باہر سے پکار پاتے اور نہ ہی حضور ﷺ کو مسجدِ حرام میں لے جانا اُن کے لیے آسان ہوتا ۔

اِس لیے رب تعالیٰ کی مرضی یہ ہوئی کہ اُس رات اُس کے محبوب ﷺ اپنی بہن ام ہانی کے مکان پر سوئیں؛ تاکہ فرشتے بلا روک ٹوک اچانک اُن کی بارگاہ میں جاکراُنھیں مسجدِ حرام میں لے جائیں اور وہاں سے سفرِ معراج کا آغاز ہو ۔

[جاری]

از: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی عفی عنہ

صدر المدرسین دارالعلوم محبوبِ سبحانی کرلا ویسٹ ممبئی

قسط وار مضامین پڑھیں : خلفاے ثلثہ اہل تشیع کی نظر میں

معراج کی رات براق کی سواری

ان مضامین کو بھی پڑھیں

 علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب

غیر مقلد وہابیہ اور کفر کلامی

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

 تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت

بدعتی اور بد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top