Categories: کنز الایمان

سورہ ال عمران اور اس کی منتخب آیات مبارکہ کا تفسیری خلاصہ

 تحریر علامہ محمد غفران رضا قادری رضوی سورہ ال عمران اور اس کی منتخب آیات مبارکہ کا تفسیری خلاصہ

  سورہ ال عمران اور اس کی منتخب آیات مبارکہ کا تفسیری خلاصہ

 (سورۂ اٰلِ عمران کا تعارف) (مقامِ نزول)

سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔ (خازن، ال عمران، ۱ / ۲۲۸)۔

(اس سورہ مبارکہ میں رکوع، آیات، کلمات اور حروف کی تعداد)

اس میں ٢٠ رکوع، ٢٠٠ آیتیں، ٣٤٨٠ کلمات اور ١٤٥٢٠ حروف ہیں۔ ( تفسیرخازن، ال عمران، ١/ص ٢٢٨، خزائن العرفان فی تفسیر القرآن ، ال عمران،تفسیر صراط الجنان ، ال عمران،١/ ص ٤٣١)۔

اٰلِ عمران نام رکھے جانے کی وجہ

آل کا ایک معنی ’’اولاد‘‘ ہے اور اس سورت کے چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر 33 تا 54 میں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے والد حضرت عمران کی آل کی سیرت اور ان کے فضائل کا ذکر ہے ،اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ آلِ عمران‘‘ رکھا گیا ہے۔

 سورۂ اٰلِ عمران کے فضائل

اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے چند فضائل درجِ ذیل ہیں۔

۔(1) …حضرت نواس بن سمعان کلابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن قرآنِ مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا، ان کے آگے سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران ہوں گی۔

حضرت نواس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں آج تک نہیں بھولا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’یہ دونوں سورتیں ایسی ہیں جیسے دو بادل ہوں یا دو ایسے سائبان ہوں جن کے درمیان روشنی ہو یا صف باندھے ہوئے دو پرندوں کی قطاریں ہوں ، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کریں گی۔(مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ، ص۴۰۳، الحدیث: ۲۵۳(۸۰۵)۔

۔(2) …حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جو شخص ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔(دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل اٰل عمران، ۲ / ۵۴۴، الحدیث: ۳۳۹۶)۔

۔(3) … حضرت مکحول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جو شخص جمعہ کے دن سورۂ آلِ عمران کی تلاوت کرتا ہے تو رات تک فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ (دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل اٰل عمران، ۲ / ۵۴۴، الحدیث: ۳۳۹۷)

۔(4)۔۔۔ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کہ قرآن مجید کاعلم حاصل کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن شفاعت کرنے والا ہوگا۔ سورہ بقرہ سورہ ال عمران پڑھا کرو،دوروشن سورتوں کو پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جس طرح دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی وکالت کریں گی۔ (مسند احمد بن حنبل،٥/ ص ٢٠١، حدیث نمبر ٢٢٢١١، المعجم الکبیر، ٨/ص ٢٩١، حدیث نمبر ٨١١٨۔

۔(5)۔۔۔ ” حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم جس کے ذریعے اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے۔ ان تین سورتوں میں ہے۔ سورہ بقرہ، سورہ ال عمران اور سورہ طہ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب اسم اللہ الاعظم، ٢/ص ١٢٦٧، حدیث نمبر ٣٨٥٦، المعجم الاوسط، ٨/ص ١٩٢، حدیث نمبر ٨٣٧١۔ اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور امام ابن ماجہ نے اس طرح کی حدیث حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق سے بھی سے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔‌

سورۂ اٰلِ عمران کے مضامین کا خلاصہ

اس سورت مبارکہ کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی ولادت، ان کی پرورش، جس جگہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملتا وہاں کھڑے ہو کر حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اولاد کے لئے دعا کرنا، حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کی بشارت ملنا، اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات و واقعات کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ اس سور ت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں 

۔(1) … اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت اور قرآن کی صداقت پر دلائل دئیے گئے ہیں۔

۔(2) …اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول دین صرف اسلام ہے۔

۔(3) …حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان کے بارے جھگڑنے والے، حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کو جھٹلانے والے اور قرآن مجید کا انکار کرنے والے نجران کے عیسائیوں سے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ہونے والی گفتگو بیان کی گئی ہے۔

۔(4) …میثاق کے دن انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے عہد لینے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔

۔(5) …مکہ مکرمہ اور خانۂ کعبہ کی فضیلت اور اس ا مت کے باقی تمام امتوں سے افضل ہونے کا بیان ہے۔

۔(6) …یہودیوں پر ذلت و خواری مُسَلَّط کئے جانے کا ذکر ہے۔

۔(7) …جہاد کی فرضیت اورسود کی حرمت سے متعلق شرعی احکام اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔

۔(8) …غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد کا تذکرہ اوراس سے حاصل ہونے والی عبرت و نصیحت کا بیان ہے۔

۔(9) …امت کی خیر خواہی میں مال خرچ کرنے،لوگوں پر احسان کرنے اور بخل نہ کرنے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔

۔(10) … حضرات شہداء کرام کے زندہ ہونے،انہیں رزق ملنے اور ان کا اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل ہونے پر خوش ہو نے کا بیان ہے۔

۔(11) …اوراس سورت پاک کے آخر میں زمین و آسمان اور ان میں موجود عجائبات اور اَسرار میں غورو فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ،نیزجہاد پر صبر کرنے اور اسلامی سرحدوں کی نگہبانی کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔

سورۂ بقرہ کے ساتھ مناسبت

سورۂ آلِ عمران کی اپنے سے ماقبل سورت ’’ بقرہ ‘‘ کے ساتھ کئی طرح سے مناسبت ہے، جیسے دونوں سورتوں کے شروع میں قرآنِ پاک کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ سورۂ بقرہ میں قرآنِ پاک نازل ہونے کا اِجمالی طور پر ذکر ہے اور سورۂ آلِ عمران میں قرآن مجیدکی آیات کی تقسیم بیان کی گئی ہے۔

سورۂ بقرہ میں جہاد کا اجمالی طور پر ذکر ہے اور سورۂ آلِ عمران میں غزوہ ٔ احد کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ بقرہ میں جن شرعی احکام کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا ہے انہیں سورۂ آلِ عمران میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔سورۂ بقرہ میں یہودیوں کا ذکر ہے اور سورۂ آلِ عمران میں عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ (تناسق الدرر، سورۃ آل عمران، ص۷۰-۷۳)۔

اس سورہ پاک کی آیت نمبر ٢کاتفسیری جائزہ

الٓمَّٓۙ (۱) اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ (۲)۔ الم۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) خود زندہ، دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔ الٓمَّٓ :ان حروف کو’’حروفِ مُقَطَّعات ‘‘ کہتے ہیں ،ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالٰی کی وحدانیت

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مفسرین کرام نے فرمایا کہ’’یہ آیت نجران نامی علاقے کے وفد کے متعلق نازل ہوئی جو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا، اس میں چودہ سردار تھے اور تین قوم کے بڑے مقتدا و پیشوا آدمی تھے۔ ان ایک عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا یہ شخص امیر قوم (یعنی

 chief of the Comenity)

تھا اور نصاریٰ بغیر اس راۓ کے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ دوسرا سید جس کا نام ایہم تھا یہ شخص اپنی قوم کا معتمد اعظم اور مالیات کا افسر اعلیٰ تھا (یعنی وزیر خزانہ) کے عہدے پر فائز تھا کھانے پینے اور رسیدوں کے تمام انتظامات اسی کے حکم سے جاری ہوتے تھے۔ تیسرا ’’ابو حارثہ بن علقمہ‘‘ تھا جو عیسائیوں کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم ، یعنی  تھا۔

عیسائی حکمران بھی اس کی عزت کرتے تھے۔ یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتی لباس پہن کر بڑی شان وشوکت سے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے مناظرہ کرنے کے ارادے سے آئے۔ جب یہ مسجد نبوی شریف عَلٰی صَاحِبَہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں داخل ہوئے توحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے۔

ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد نبوی شریف عَلٰی صَاحِبَہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی میں مشرق یعنی بیتُ المقدس کی طرف منہ کرکے اپنی نماز شروع کردی۔ نماز کے بعد حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے گفتگو شروع کی ۔

سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’تم اسلام لے آؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ’’ ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے ہیں۔ سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’ تمہارا اسلام کا دعویٰ غلط ہے اور تمہارے اسلام کے غلط ہونے کا سبب یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اولاد ہے، نیز تمہارا صلیب کی پوجا کرنا بھی اسلام سے مانع ہے اور تمہارا خنزیر کھانا بھی اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

 اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’’اگر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے؟ پھر وہ سب بولنے لگے۔ حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ یعنی ملتا جلتا ہوتا ہے؟ انہوں نے اقرار کیا۔

پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ ’’ حَیٌّ لَایَمُوْتُ ‘‘ہے، اس کے لیے موت ناممکن ہے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر موت آنے والی ہے؟ انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا ۔ پھر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب عَزَّوَجَلَّ بندوں کا کار ساز، ان کی حقیقی حفاظت کرنے والا اور روزی دینے والا ہے؟۔

انہوں نے کہا :جی ہاں۔ اس پرنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ’’ کیا حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ایسے ہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا ’’نہیں۔ اس پر نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ؟ ۔

انہوں نے اقرار کیا۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’کیا حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بتائے بغیر اس میں سے کچھ جانتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحمل میں رہے اور پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے اور بچوں کی طرح انہیں غذا دی گئی اور وہ کھاتے پیتے تھے اور ان میں بھی بشری تقاضے تھے؟ عیسائیوں نے اس کا اقرار کیا۔

اس گفتگو پر حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ ان تمام چیزوں کے باوجود پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیسے خدا ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے ؟ اس پر وہ سب خاموش رہ گئے اور ان سے کوئی جواب نہ بن سکا۔ اس پر سورہ ٔآلِ عمران کی شروع سے لے کر تقریباً اسّی 80 آیتیں نازل ہوئیں۔  نوٹ اس وفد میں نجران کے نصرانی بھی شامل تھے۔(تفسیرخازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۲۲۸، صراط الجنان سورۃ آل عمران تحت الآیۃ:١/ص ٤٣٤ خزائن العرفان، آل عمران، تحت الآیۃ)۔ الافادت النعیمیہ

     اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ صحیح عقائد کو ثابت کرنے اور ان کے دفاع کیلئے مناظرہ کرنا سنت ہے۔

حَیٌّ  اور قَیُّوْم کا معنی

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ’’حَیٌّ ‘‘ اور’’قَیُّوْم ‘‘ کا بیان ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ’’حَیٌّ ‘‘ ’’دائم و باقی‘‘ کے معنیٰ میں ہے ،یعنی اس کا معنیٰ ہے کہ’’ ایسا ہمیشہ رہنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو ۔ جبکہ’’قَیُّوْم ‘‘ وہ ہے جو قائم بِالذّات یعنی بغیر کسی دوسرے کی محتاجی اور تَصَرُّف کے خود قائم ہو اور مخلوق کی دنیااور آخرت کی زندگی کی حاجتوں کی تدبیر فرمائے۔(خزائن العرفان، آل عمران، تحت الآیۃ، صراط الجنان، سورہ ال عمران، ١/ص ٤٣٤)۔

اس سورۃ پاک کی آیت نمبر/ ٣١٣٢ خلاصہ۔ حب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی حب خدا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ  رَّحِیْمٌ  ۳۱  )۔ترجمہ کنزالعرفان اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ : اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ۔  اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے والاہو اور حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت اختیار کرے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ قریش کے پاس تشریف لائے جنہوں نے خانۂ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے۔

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا، اے گروہِ قریش !خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ،تم اپنے آباء و اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے ہٹ گئے ہو۔ قریش نے کہا: ہم ان بتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے قریب کریں۔اس پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی۔( تفسیرخازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱ / ۲۴۳)۔

اور بتایا گیا کہ محبت ِالہٰی کا دعویٰ حضورسید ِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہتا ہے وہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غلامی اختیار کرے اور چونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بت پرستی سے منع فرمایا ہے تو بت پرستی کرنے والا سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نافرمان اور محبتِ الٰہی کے دعوے میں جھوٹا ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ مدینہ کے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہم کوحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اتبا ع کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ تب یہ آیت اتری۔(تفسیرخازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱ / ۲۴۳)۔

رائس المفسرین شاگرد خاص حضرت مولانا نعیم الدین حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب تفسیر نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہی قول قوی ہے کیونکہ سورۂ آلِ عمران مدنی ہے۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی ضروری ہے:( الافادت النعیمیہ) ۔

      اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور پیروی کرنا ضروری ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(اعراف:۱۵۸)۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرماؤ: اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں ، ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔

حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک مرتبہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم یہودیوں کی کچھ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں بھلی لگتی ہیں کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اجازت دیتے ہیں کہ کچھ لکھ بھی لیا کریں ؟۔

نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح حیران ہو! میں تمہارے پاس روشن اور صاف شریعت لایا اور اگر آج حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا ۔ (شعب الایمان، الرابع من شعب الایمان، ذکر حدیث جمع القرآن، ۱ / ۱۹۹، الحدیث: ۱۷۶)۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین محبت کے چند واقعات

    حضرات صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی کے جذبے کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے

۔(1)… حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر فرمایا ’’خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے،نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے میں ہر گز بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف، کتاب الحج، باب استحباب تقبیل الحجر الاسود فی الطواف، ص۶۶۲، الحدیث: ۲۵۱(۱۲۷۰)۔

             اور سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ (نسائی، کتاب مناسک الحج، تقبیل الحجر، ص۴۷۸، الحدیث: ۲۹۳۴)۔

۔(2)…حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک بار پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر آپ مسکرانے لگے اور ساتھیوں سے فرمایا ’’ کیاتم مجھ سے اس چیز کے بارے میں پوچھو گے نہیں جس نے مجھے مسکرایا؟ انہوں نے عرض کی: اے امیرُ المؤمنین! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ کس چیز کی وجہ سے مسکرائے تھے؟ ۔

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’ایک بارحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ا س جگہ کے قریب ہی وضو فرمایا تھا اور فراغت کے بعد مسکرائے تھے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے فرمایا تھا ’’کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ کس چیز نے مجھے مسکرایا؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیـا۔

یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس چیز نے آپ کو مسکرایا؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ جب وضو کا پانی منگوائے پھر اپنا چہرہ دھوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے گناہ مٹا دیتا ہے،پھر اپنی کہنیاں دھوئے تو کہنیوں کے ،سر کا مسح کرے تو سر کے اور اپنے قدموں کو دھوئے تو قدموں کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (تو میں نے انہی کی ادا کو اداء کیا ہے۔) (مسند امام احمد، مسند عثمان بن عفان، ۱ / ۱۳۰، الحدیث: ۴۱۵)۔

۔(3)… حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ایک جگہ اپنی اونٹنی کو چکر لگوا رہے تھے ۔لوگوں نے ان سے اس کا سبب پوچھا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’ میں (اس کی حکمت) نہیں جانتا، مگر اس جگہ میں نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو ایسا کرتے دیکھا تھا اس لئے میں بھی ایساکر رہا ہوں۔(شفا شریف، الباب الاول: فرض الایمان بہ، فصل واما ماورد عن السلف فی اتباعہ، ص۱۵، الجزء الثانی)۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ – فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ (۳۲)۔ تم فرمادو کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو پھراگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ : اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت ’’ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ‘‘ نازل ہوئی تو عبد اللہ بن اُبی منافق نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’ محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح قرار دے رہے ہیں اور یہ حکم کر رہے ہیں کہ ہم ان سے اسی طرح محبت کریں جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(البحر المحیط، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲ / ۴۴۹)۔

اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  آپ ان سے فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری اطاعت اس لئے واجب کی کہ میں اس کی طرف سے رسول ہوں اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ اس کے رسول ہی ہیں اس لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اطاعت سے منہ پھیریں تو انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہ ہو گی اور اللہ تعالیٰ انہیں سزادے گا۔(تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۱۹۸، تفسیرجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۴۹، ملتقطاً)۔

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی اہمیت

            تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت ہی محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی دلیل ہے اور اسی پر نجات کا دارو مدار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کاحصول، اپنی خوشنودی اور قرب کو حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی غیر مشروط اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ اب کسی کو رضا و قربِ الٰہی ملے گا تو محبوبِ رب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی غلامی کے صدقے ملے گا ورنہ دنیا جہاں کے سارے اعمال جمع کرکے لے آئے، اگر اس میں حقیقی اطاعتِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ موجود نہ ہوگی وہ بارگاہ ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں یقینا قطعا ًمردود ہوگا۔

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی مگر جس نے انکار کیا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: یارسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَانکار کون کرے گا؟ ارشاد فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔(بخاری شریف، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۴۹۹، الحدیث: ۷۲۸۰)۔

            حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک میری مثال اور اس کی جس کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا گیا ہے اس شخص جیسی ہے جس نے اپنی قوم کے پاس آکر کہا: اے قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے ایک فوج دیکھی ہے، میں تمہیں واضح طور پر اس سے ڈرانے والا ہوں لہٰذا اپنے آپ کو بچا لو۔

چنانچہ اس کی قوم کے ایک گروہ نے ا س کی بات مانی اور راتوں رات نکل کر پناہ گاہ میں جا چھپے اور ہلاکت سے بچ گئے جبکہ ایک گروہ نے اسے جھٹلایا اور صبح تک اپنے مقامات پر ہی رہے،صبح سویرے لشکر نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں ہلاک کر کے غارت گری کا بازار گرم کیا۔پس یہ مثال ہے اس کی جس نے میری اطاعت کی اور جو میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس شخص کی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلایا۔(بخاری شریف، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۵۰۰، الحدیث: ۷۲۸۳)۔

            حضرت مقدام بن معدی کرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’سن لو !عنقریب ایک آدمی کے پاس میری حدیث پہنچے گی اور وہ اپنی مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوا کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب(کافی ہے) ہم جو چیزا س میں حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور اسے حرام سمجھیں گے جسے قرآن میں حرام پائیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اسی طرح حرام کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔(ترمذی شریف، کتاب العلم، باب ما نہی عنہ انّہ یقال عند حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۳۰۲، الحدیث: ۲۶۷۳)۔

ڈاکٹر اقبال کیا خوب کہا

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

 

مذکورہ بالا آیات وچند اور آیات مبارکہ واحادیث صحیحہ کی روشنی میں( حُبِّ رسول ﷺ کا معیار اوراس کے تقاضے ) ملاحظہ فرمائیں۔۔

رسول اللہ  کی محبت جوہرِایمان اور حقیقت ِایمان ہے ۔ آپﷺ کا ارشاد ہے :”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ‘ والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں (اور دوسری حدیث میں ) آپ ﷺ نے خاندان اور مال کا بھی ذکر فرمایا‘ (صحیح مسلم : 69-70)۔

ان احادیثِ مبارکہ میں مومن ہونے کے لیے رسول اللہ ﷺ کو کائنات میں سب سے زیادہ محبوب ہونے کولازمی قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی شرح میں علما نے فرما یا : جس شخص کے دل میں نفسِ محبتِ رسول نہیںوہ نفسِ ایمان سے محروم ہے اور جس کے دل میں کمالِ محبتِ رسول نہیں ہے وہ کمالِ ایمان کی سعادت سے محروم ہے ‘بلکہ کمالِ ایمان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے رسولِ مکرمﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب جانے اور مانے ۔

عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حضور نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے اور آپ حضرتعمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے تھے ‘حضرت عمر نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! آپ مجھے اپنی جان کے سواہرچیز سے زیادہ محبوب ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (عمر!) ابھی (کامل) ایمان کا تقاضا پورا نہیں ہوا‘ اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ‘ (ایمان تب مکمل ہوگا) جب میں تمہاری جان سے بھی زیادہ تمہیں محبوب ہوجائوں‘ حضرت عمر ؓنے عرض کیا: (یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم!) اب یہی کیفیت ہے ‘واللہ!آپ ضرور مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عمر! اب تم نے ایمان کے مرتبۂ کمال کو پا لیا‘ (صحیح البخاری: 6632)‘‘۔

محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ تو ہر ایک بڑھ چڑھ کر کرتاہے ‘ لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی کسوٹی بھی بیان فرمائی ہے‘ جیسے : دنیا میں چیزوں کے لیے کوالٹی کنٹرول اور معیارات ہوتے ہیں‘ اسی طرح ایمان کو جانچنے کے معیارات بھی قرآن و حدیث میں بیان فرمائے گئے ہیں۔۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ”(اے رسول ﷺ !)آپ فرما دیں: اگر تمہارے آبا (و اجداد) ‘ تمہارے بیٹے (بیٹیاں) ‘ تمہارے بھائی (بہنیں) ‘ تمہاری بیویاں (یا شوہر)تمہارا خاندان‘ تمہارا کمایا ہوا مال ‘ (تمہاری ) تجارت جس کے خسارے میں جانے کا تمہیں کھٹکالگا رہتا ہے اور تمہارے پسندیدہ مکانات (اگر یہ سب چیزیں جداجدا اور مل کر بھی ) تمہیں اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہوجائیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے (عذاب کا ) فیصلہ صادر فرماد ے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت (سے فیض یاب) نہیں فرماتا ‘ (التوبہ : 24)‘‘۔

اس آیتِ مبارکہ میں تقابل کے طور پر جن چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ‘ وہ سب انسان کے محبوب رشتے اور پسندیدہ چیزیں ہیں ۔ اگر ان تمام متعلقات سے محبت کی مطلقاً نفی کو ایمان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو تا تو خلافِ فطرت ہوتا اور اسلام دینِ فطرت ہے

پس درجہ بدرجہ ان چیزوں کی محبت کو ایمان کی ضد قرار نہیں دیا گیا‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول مکرمؐ اور اس کی راہ میں جہاد کے مقابلے میں ان چیزوں کے محبوب ترین ہونے کو ایمان کے منافی فرمایا گیا ہے ۔ گویا یہ بتلادیا کہ تمہارا محبوب کوئی بھی ہو سکتا ہے ‘ لیکن محبوب ترین صرف یہی تین چیزیں ہونی چاہیں ۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ کیسے جانا جائے کہ فلاں شخص کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اس کی راہ میں جہاد سب سے زیادہ محبوب ہیں یا کوئی اور چیز ؟

پس جب نفس کی خواہشات ‘ مرغوبات اور پسندیدہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے متصادم ہو جائیں تو پھر پتاچلے گا کہ انسان رب کے حکم کو ترجیح دیتا ہے یا اپنے اور اپنے پیاروں کے نفسانی مطالبات کو‘ مثلاً ایک شخص کے بیوی بچوں کی فرمائشیں اس کی آمدنی کے حلال ذرائع سے پوری نہیں ہوتیں ‘ تو وہ ان کو پورا کرنے کے لیے رشوت یا حرام ذرائع کا سہارا لیتا ہے ‘ پس عملاً اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا اوراس پر اپنے پیاروں کی فرمائشوں کی تکمیل کو ترجیح دی ‘ تو پھر عمل کی دنیا میں یہی چیزیں محبوب ترین قرار پائیں ۔

درحقیقت ایمان کی حقیقی آزمائش یہی ہے اور اس مرحلۂ امتحان سے ہمیں دن میں کئی بار دو چار ہونا پڑتا ہے ؛چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا:” کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ‘ جس نے اپنی خواہشِ نفس کو معبود بنا رکھا ہے ‘ (الفرقان:43)۔

گویا باری تعالیٰ کے حکم کے مقابل اپنے نفس کی خواہشات کو ترجیح دینا عملاًاسے خدا ہی تو بنا نا ہے ‘ یہ بھی کوئی بندگی ہے کہ سجدہ تو اللہ تعالیٰ کے حضور کرے اور حکم نفس کا یا غیر اللہ کا مانے ‘ یہ معبود بنانا نہیں تو اورکیا ہے‘ حالانکہ ہم ہر روز دعائے قنوت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ اقرار کرتے ہیں :”اور جو تیرا نافرمان ہے ‘ہم اُس سے قطعِ تعلق کرتے ہیں اور اس کو چھوڑتے ہیں ‘‘۔

پھر سیاقِ کلام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی کمال محبوبیت کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر فرما کر یہ واضح فرمادیا کہ محبت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور محبت الٰہی کی منزل اتنی آسان نہیں کہ نعت خوانوں اور قوالوں پر نوٹ نچھاور کر کے لوگ بزعم خویش عاشق رسو ل بن جائیں ‘ عشقِ مصطفی ﷺ کی معراج عزیمت و استقامت کے جادۂ مستقیم پر گامزن رہنے والوں کو نصیب ہوتی ہے

 علامہ اقبال نے کہا ہے

یہ شہادت گہِ اُلفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

چو می گویم مسلمانم بلرزم

کہ دانم مشکلات لاالٰہ را

یعنی جب میں زبان سے اقرار کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں ‘ کیونکہ کلمۂ لاالٰہ الا اللہ کی راہ میں استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے کی صورت میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ‘ میں ان سے بخوبی آگاہ ہوں ۔ اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا :”کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم (کسی آزمائش کے بغیر ) یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے ‘ حالانکہ اللہ نے ابھی تک تم میں سے ان لوگوں کوممتاز نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیااورانہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا محرمِ راز نہیں بنایااور اللہ تمہارے سب کاموں سے خوب باخبر ہے ‘ ( سورہ توبہ : 16)‘‘۔

پھر جس طرح دنیاوی معاملات میں چیک لسٹ ہوتی ہے ‘یعنی کسی چیز کی حقیقت اور فعالیت کو جانچنے کا انتظام ہوتاہے ‘ اسی طرح قرآن نے ایمان ‘ محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کو جانچنے کے لیے بھی معیار مقرر کر رکھے ہیں 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :اے رسولﷺ !  آپ اُن لوگوں کو جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں‘ ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت رکھتے ہیں ‘ خواہ وہ ان کے باپ (دادا) یا بیٹے (بیٹیاں) یا بھائی ( بہنیں ) یا قریبی رشتے دار ہی (کیوں نہ )ہوں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی پسندیدہ رو ح سے ان کی مدد فرمائی اور اللہ انہیں جنت کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے دریا جاری ہیں ‘ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ‘ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ‘ یہ اللہ کی جماعت ہے ‘ سنو! اللہ کی جماعت ہی فلاح یافتہ ہے ‘ ( سورۃالمجادلہ : 22)‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت کا مرکز و محور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے اور قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کامدار اتباعِ رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا ہے ‘ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :”(اے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم!) کہہ دیجیے ! (اے اللہ کے بندو!) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری فرمانبرداری کرو (اس کے نتیجے میں ) اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ‘ (آل عمران : 31)‘‘۔

پس رسول اللہ ﷺ کی محبت کے معیار پر پورا اترنے کے لیے آپ ﷺ کی تعظیم‘ اطاعت اور اتباع لازم ہے ۔ کسی شخص کے دل میں محبتِ رسول ہے یا نہیں ‘ اسے اطاعت و اتباعِ رسول کی میزان اور کسوٹی پر پرکھا جائے گا ۔

صرف محبتِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دعویٰ کا فی نہیں ہے ‘ ہر دعویٰ دلیل چاہتا ہے اور حُبِ الٰہی وحُبِ رسولﷺ کی دلیل اطاعت واتباعِ رسول ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ اعراف میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”سو جو لوگ اُن پرایمان لائے اور آپ کی تعظیم کی اور آپ کی نصرت کی اور اس نور (قرآنِ مجید ) کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اُتارا گیا ‘ بس یہ لوگ فلاح پانے والے ہیں ‘ (سورۃالاعراف : 157)‘‘۔

یعنی رسول اللہ ﷺ کی حیثیت محض ایک حاکمِ مُجاز کی نہیں ہے کہ قانوناً اس کا حکم مان لیا ‘ خواہ دل میں اس کے بارے میں ملال ہی کیوں نہ ہو‘بلکہ آپ کی تعظیم و توقیر بھی لازم ہے اور آپ کے فرامین کو نہ صرف ظاہری طور پر ماننا ضروری ہے بلکہ لازم ہے کہ آپ کے کسی بھی حکم کے بارے میں دل میں کوئی ملال پیدا نہ ہو اور آئینۂ دل میں بال نہ آئے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”(اے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ! )آپ کے رب کی قسم! (ایمان کے دعویدار ہونے کے باوجود ) یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے‘ جب تک کہ یہ آپس کے تنازعات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں‘ پھر آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں (بلکہ اسے دل وجا ن سے قبول کریں ) اور سراپا تسلیم ور ضا نہ بن جائیں ‘ (النسآء: 65)‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اے اہلِ ایمان ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ‘ (النسآء: 59)‘‘۔

یعنی ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرمﷺ کی اطاعت لازم ہے اور پھر یہ قولِ فیصل جاری فرما دیا کہ حقیقت کے اعتبار سے اطاعتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی ہے ؛چنانچہ فرمایا:”اور جس نے رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اطاعت کی ‘ سو اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘ (النسآء : 80)‘‘ اور فرمایا : ”اور جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اطاعت کی تو اس نے بڑی کامیابی کوپا لیا ‘ (الاحزاب: 71)‘‘۔

آیت نمبر ٨١-٨٢ کی مختصر تفسیر۔ شان مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اظہار

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْن (۸۱) فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۸۲)

ترجمہ کنزالعرفان

اور یاد کرو جب اللہ نے نبیوں سے وعدہ لیا کہ میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں گا پھر تمہارے پاس وہ عظمت والارسول تشریف لائے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو گاتو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ (اللہ نے) فرمایا :(اے انبیاء!) کیا تم نے (اس حکم کا) اقرار کرلیا اور اس (اقرار) پر میرا بھاری ذمہ لے لیا؟ سب نے عرض کی،’’ ہم نے اقرار کرلیا‘‘ (اللہ نے) فرمایا، ’’ تو(اب) ایک دوسرے پر (بھی) گواہ بن جاؤ اور میں خود (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔ پھرجو کوئی اس اقرار کے بعدروگردانی کرے گاتو وہی لوگ نافرمان ہوں گے۔

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ : اور یاد کرو جب اللہ نے نبیوں سے وعدہ لیا۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بعد جس کسی کو نبوت عطا فرمائی

ان سے سیدُ الانبیاء، محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے متعلق عہد لیا اور ان انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوموں سے عہد لیا کہ اگر ان کی حیات میں سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مبعوث ہوں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی مددو نصرت کریں۔(تفسیرخازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۸۱، ۱ / ۲۶۷-۲۶۸)۔

عظمتِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا بیان

            اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے آقا و مولا، حبیب ِ خدا، محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سب سے افضل ہیں۔اس آیت مبارکہ میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے عظیم فضائل بیان ہوئے ہیں۔ علماء کرام نے اس آیت کی تفسیر میں پوری پوری کتابیں تصنیف کی ہیں اور اس سے عظمت ِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بے شمار نکات حاصل کئے ہیں۔ چند ایک نکات یہ ہیں

۔(1)…حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ محفل قائم فرمائی۔

۔(2)…خود عظمت ِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بیان کیا۔

۔(3)…عظمت ِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سامعین کیلئے کائنات کے مقدس ترین افراد انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو منتخب فرمایا۔

۔(4)…کائنات وجود میں آنے سے پہلے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا ذکر جاری ہوا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت کا بیان ہوا۔

۔(5)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تمام نبیوں کا نبی بنایا کہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بطورِ خاص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا حکم دیا۔

۔(6)…انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرمانے کے بعد باقاعدہ اس کا اقرار لیا حالانکہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی حکمِ الہٰی سے انکار نہیں کرتے۔

۔(7)…انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس اقرار کا باقاعدہ اعلان کیا۔

۔(8)…اقرار کے بعد انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایک دوسرے پر گواہ بنایا۔

۔(9)…اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تمہارے اس اقرار پر میں خود بھی گواہ ہوں۔

۔(10)… انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اقرار کرنے کے بعد پھر جانا مُتَصَوَّر نہیں لیکن پھر بھی فرمایا کہ اس اقرار کے بعد جو پھرے وہ نافرمانوں میں شمار ہوگا۔ اس آیتِ مبارکہ پر انتہائی نفیس کلام پڑھنے کیلئے فتاویٰ رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ کی تصنیف ’’  تَجَلِّیُ الْیَقِین بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِین ‘‘ (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام رسولوں کے سردار ہیں )کا مطالعہ فرمائیں۔ 

میرے آقا امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں 

سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے

باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تنہائی سے ہیں بریں

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کردیا

خالق کا بندہ خلق آقاکہوں تجھے

اللہ پاک اپنے حبیب سرور کائنات فخر موجودات عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے وطفیل میں قرآن پاک کی تلاوت کا شوق اور اس کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ سید  المرسلین ﷺ

پیش کش۔۔۔۔۔ خادم مشن قطبِ اعظم ماریشس حضرت علامہ ابراھیم خوشتر خلیفہ مجاز حضور تاج الشریعہ

عللامہ  محمد غفران رضا قادری رضوی

بانی دارالعلوم رضا ۓ خوشتر و جامعہ رضاۓ

فاطمہ قصبہ سوار ضلع رامپور انڈیا

مقیم حال نانکاررانی

amazon   flipkart Havelles   Bigbasket   

 

Recent Posts

ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

از قلم: محمد مجیب احمد فیضی ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ ماہ ربیع… Read More

بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں

از: محمد عبدالمبین نعمانی قادری بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں بارہ… Read More

نعت مصطفےٰ ﷺ

نعت مصطفےٰ ﷺ آئیں کچھ آخرت کے کار کریںنذر ہم نعت کے اشعار کریں وہ… Read More