شان رسالت ﷺ میں توہین ناقابل برداشت

شان رسالت ﷺ میں توہین ناقابل برداشت

محمد ہاشم اعظمی مصباحی شان رسالت ﷺ میں توہین ناقابل برداشت

شان رسالتﷺ میں توہین ناقابلِ برداشتت

مکرمی : تاریخ بتاتی ہے کہ زمانہ ماضی میں حتیٰ کہ خود خیرالقرون میں بھی کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کی ہیں مگر آج کے زمانے کی طرح بیجا الزامات نہیں لگاے تھے۔

اور جو لگاتا وہ برے انجام کو پہنچتا اور لوگوں میں خائب و خاسر اور رسوا ہوتا آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک دامنی ان کی پارسائی اور امانت داری پہ کبھی انگلی تک نہیں اٹھائی ۔

ہاں !آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف چالیں چلی آپ کو تکلیف دہ کلمات ضرور کہے لیکن آپ کے پاک دامنی پر کسی نے سوال نہ اٹھائے کیوں کہ آپ کے حقیقت سے سبھی واقف تھے کہ اگر ہم ان کی پاک دامنی پر سوال اٹھائیں تو ہماری بات پہ کوئی یقین نہیں کرے گا ۔

آپ دیکھیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ازلی دشمن ولید بن مغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذاللہ مجنون کہا۔ رب العزت نے فوراً قرآن میں اس الزام تراشی کی مذمت فرمائی ترجمہ: قلم کی قسم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو(سورۂ قلم) ۔

اتنا ہی نہیں بلکہ گستاخ رسول کی مبنی بر حقیقت دس برائیاں بھی بتایا کہ اے رسول! تمہارا گستاخ بڑا جھوٹا اور جھوٹی قسمیں کھانے والا ہے ، بہت ذلیل ہے، بہت طعنے دینے والا ہے ، چغل خور ہے ، بھلائی سے روکنے والا ہے، درشت خو اور تند مزاج ہے ، کرخت آواز والا ہے ، حد سے بڑھنے والا  ہے۔

اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کی اصل میں خطا ہے( یعنی وہ حرامی ہے) وہ شخص ان آیتوں کو سن کر بڑا ہی مضطرب ہوا کہ میں اپنے اندر پہلی نو برائیاں تو پاتا ہوں مگر آخری ایک میں میں نہیں جانتا کیوں کہ یہ تو میری ماں ہی جانتی ہے

اسی سے یہ مسئلہ جڑا ہوا ہے پھر ولید بن مغیرہ تلوار لے کر اپنی ماں کے پاس گیا اور کہا کہ تو سچ سچ نہیں بتائی تو میں تمہیں بھی اسی تلوار سے قتل کر دوں گا اور میں خود بھی قتل ہو جاؤں گا کیوں کہ مسلمانوں کے رسول نے میری دس عیوب بیان کیے

مگر آخری ایک برائی تجھ سے جڑی ہے کیا میری اصل میں خطا ہے یا میں اپنے اصل پر قائم ہوں تو اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ اس کے بعد اس کا مال غیر لے جائیں گے تب میں نے فلاں چرواہے  کو بلا کر منہ کالا کیا جس کا نتیجہ تو ہے(روح البیان، خزائن العرفان ص977)

میرے عزیزوں آج بھی جو لوگ پیارے نبی کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں یقیناً ان کی بھی اصل میں خطا ہے ورنہ ایسی بیہودہ بہتان تراشی ہرگز نہ کرتے، انہیں نالائق اور ناہنجار لوگوں میں سے ایک نرسنگھانند سرسوتی بھی ہے جس نے ابھی چند روز قبل شان اقدسﷺ میں انتہائی بیہودہ بہتان لگایا

حالاں کہ اگر اس کو اور اس جیسے دوسرے خبیثوں کی چھان بِین کی جائے تو ایسے افراد خود بے اصل اور کسی گوفے اور غار میں ڈھونگی باباؤں کے ناجائز کرتوتوں اور عیاشیوں کا نتیجہ ہوا کرتے ہیں۔

بڑے ہوکر خود بھی وہی کرتوت کرتے ہیں جو ان کے ناجائز باباؤں نے کیے در حقیقت ہمارے پیارے آقا ﷺ آئینہ ہیں جسے خوب صورت اور نیک طینت اور پارسا اور پاک دامن نظر آئیں وہ خود خوب صورت اور مذکورہ صفات کا حامل ہے اور جسے اس کے برعکس نظر آئیں وہ خود اس کے برعکس ہے۔

اگر ان عقل کے اندھوں کو حضور ﷺ کی زندگی سے کچھ بھی معلومات ہوتی تو ایسے نازیبا کلمات نہ بکتے، ظاہر ہے کہ جو لوگ اس قسم کے الزام تراشی کرتے ہیں گندی گالیاں بکتے ہیں اور کھلم کُھلا دہشتگردی پھیلاتے ہیں صرف اور صرف اسلام دشمنی کی وجہ سے ہے، ہندوستانی باشندوں کے امن و امان خطرے میں لانے کے لیے ہے

اور یہ ایسی خطرناک دہشت گردی ہے کہ بم دھماکے اور خطرناک وائرس سے کہیں زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے، آپ دیکھیں کہ اگر کوئی شخص کسی کے مذہبی رہنماؤں کی برائی اور اسکے متعلق نازیبا کلمات کہتا ہے تو ایک خاص طبقہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے اور دہشتگردانہ الفاظ بولنے والے پر قانونی کاروائی نہ ہونا قانون پر سے بتدریج یقین ختم ہو جاتا ہے

اور لوگ قانون کو ہاتھ میں لے کر خود فیصلہ کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں اور نتیجہ دنگا فساد کے سوا کچھ بھی نہیں۔نرسنگھانند سرسوتی جیسے بےاصل لوگوں کے الفاظ تو نہیں دہراؤں گا مگر جس قسم کے وہ گالیاں دیتا ہے

یقیناً وہ عالمی دہشت گرد اور ظالم و جابر شخص ہے یہ ایسی شرمناک حرکت کرکے ہندوستانی جمہوریت کو داغ دار تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی مسلم سماج کے دلوں کو بھی مجروح کرتے ہیں۔اس لیے میں قانون کے ٹھیکیداروں اور حکومت کے عہدے داروں سے ناامیدی کے باوجود درخواست گزار ہوں کہ اگر آپ میں ذرا سا بھی شرم باقی ہے تو ان فسادی دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی اور سخت اقدامات کریں کیونکہ یہ جمہوری ملک ہے

جب تاناشاہی ملک میں اس قسم کی دہشت گردی ناقابل قبول ہے تو جمہوری ملک میں ایسی حرکت جمہوریت پر بدنما داغ ہے، اسلام کسی کے بھی مذہبی رہنماؤں کو برا بھلا نہیں کہتا مگر جس مذہب میں ظلم و ستم پروان چڑھتے ہوں جس قوم میں دہشتگردی عروج پاتی ہو اسے اسلام اور اسکے ماننے والے برداشت بھی نہیں کرتے، ملک میں امن و امان اور ترقی اسی وقت ممکن ہوگا

جب خانہ جنگی سے دور پورا ملک متحدہوگا اگر ملک کے کسی بھی اقلیتی طبقہ پر کسی قسم کی مالی، بدنی یا جذباتی ظلم یا دہشتگردی ہوگا تو ملک کا امن و امان برباد ہونے کے ساتھ ملک بجائے ترقی کہ تنزلی اور بدحالی کا شکار ہوگا۔محبت رسولﷺ کا دم بھرنے والو! آؤ دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں

جب میدان قیامت میں جمع ہوں گے نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ ماں باپ دوست یار کوئی کام نہیں آئے گا۔ اس وقت ایک ہی تو ذات پاکﷺ ہوگی جو عاصیوں کی امید گاہ ہوگی۔

اسی سرکارﷺ کی خدمت اقدس میں سب کو حاضری دینی ہوگی۔ اگر پیارے سرکارﷺ نے استفسار فرما لیا کہ تمہارے سامنے کبھی ڈراموں کے ذریعے اور کبھی فلمیں بنا کر میری شان اقدس میں گستاخیاں کی گئی تم نے کیا کیا؟ کیا توہین آمیز خاکے اور تعصب خیز لٹریچر شائع کیے گیے تم نے کیا کیا؟۔

کیا ہمارے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں؟ یاد رکھو! اگر خدانخواستہ شافع محشرﷺ روٹھ گئے تو کیا کریں گے؟ سوچو! غور کرو! پھر کس کے دروازے پر شفاعت کی بھیک لینے جاؤ گے؟ کون اللہ عزوجل کے قہر و غضب سے بچانے والا ہوگا ؟

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی

نوادہ مبارک پور اعظم گڈھ یو پی

Hashimazmi78692@gmail.com

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

قرآن مجید کے عددی معجزے

قرآن مجید ایک ناقبل تحریف کتاب

قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں 

تعظٰم نبی ﷺ اور امام احمد رضا 

امام احمد رضا قادری : مجدد اعظم

اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت

عروج چاہیے تو سماج میں قرآن کا عکس بن کے نکلے مسلمان

ہندی مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top