شعیب الاولیا ایک باکمال بزرگ تھے

شعیب الاولیا ایک باکمال بزرگ تھے

از قلم: مصنف راہ شریعت مفتی خبیب القادری تحسینی ارشدی فیضی مدناپوری شعیب الاولیا ایک باکمال بزرگ تھے

شعیب الاولیا ایک باکمال بزرگ تھے

عاشق خیر الوری تھے حضرت یار علی
نائب غوث الورٰی تھے حضرت یار علی

شعیب الاولیاء اس مرد قلندر کا نام تھا جو اپنے وقت کے محقق؛ محدث؛ مصنف ؛ مدقق ؛ عالم؛ ربانی؛ اور روحانی پیشوا تھے
آج بھی جن کو تاریخ اسلام میں شعیب الاولیاء کےنام سے جانا جاتا ہے

وہ شعیب الاولیاء جن کے اوپر اولیائے کرام کی خاص نظریں رہی ہیں
وہ شعیب الاولیاء جو روحانیت کا مرکز تھے
وہ شعیب الاولیاء جو محبت رسول میں سرشار تھے
وہ شعیب الاولیاء جن کو تقرب الی اللہ حاصل تھا
وہ شعیب الاولیاء جنہو نےاپنی زندگی کو اسویٔ حسنہ میں ڈھال دیا تھا
وہ شعیب الاولیاء جنہو نے اپنی خلوتوں میں ؛جلوتوں میں ؛ بیانات میں ؛ فرمودات میں ؛ سنت رسول کو نگاھو میں رکھاتھا
تاریخ میں ان کی شخصیت کو دوام حاصل ہے
اب آئیے آپ کی شخصیت پر مختصر سی روشنی ڈال لیتے ہیں ؛؛ حضور شعیب الاولیاء کا اسم گرامی اور جاۓ پیدائش ؛؛

آپ کا اسم بابرکت 
آپ کا مشہور و خاندانی نام محمد یار علی ہے
آپ کے القاب
آپ کے القاب کئی ہیں مثلاً شیخ المشائخ ؛ شعیب الاولیاء ؛ پیر کامل وغیرہ۔
آپ کا نسب 
آپ علوی النسل سید ہیں
یعنی محمد بن حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابوطالب کی اولاد و امجاد میں سے ہیں ۔
آپ کی ولادت
براؤن شریف ضلع بستی( سدھارتھ نگر ) میں ١٣٠٧ ہجری میں آپ کی ولادت ہوئی
آپ کا محبوب وطن
آپ کا وطن مالوف براؤں شریف تھا
آپ کا وصال پرملال
آپ نے نہایت ضعف و نقاہت اور شدید مرض کی حالت میں بھی زندگی کی آخری نماز عشاء باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا فرما کر ٢٣ محرم الحرام ١٣٨٧ ہجری مطابق ٤ مئی ١٩٦٧ شب جمعرات میں ایک بجکر ٢٥ منٹ پر اس دارفانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ فرمائی

شعیب الاولیاء کی کرامت آپ صاحب کرامت بزرگ تھے

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضور شعیب الاولیاء ضلع بستی کے ببھنان اسٹیشن پر بغرض سفر سوار ہوۓ ٹرین چار بجے رات میں روانہ ہوتی تھی ۔ آپ اور آپ کے رفقا سفر نے ببھنان ہی میں وضو کرلیا تھا آپ نے اور آپ کے رفقاء نے سنتیں ڈبہ کے اندر ہی ادا کرلیں جب ٹرین اگلے اسٹیشن گور پر رکی تو آپ مصلہ لے کر پلیٹ فارم پر اتر پڑے آپ کو دیکھ کر آپ کے تمام رفقا بھی اترگۓ ۔ ڈھلمؤ شریف (امبیڈکر نگر) کے حضرت محبوب علی شاہ صاحب بھی تھے سامان ڈبہ کے اندر ہی تھا

اور یہ تمام حضرات نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے ۔ ابھی اذان و صلاۃ و تکبیر کے بعد پہلے رکعت ہی شروع ہوئی تھی کہ ٹرین چھوٹنے کا وقت ہوگیا اور وہ سیٹی دے کر چلنے لگی لیکن تھوڑی ہی دور گمٹی تک جا کر واپس آ گئی اور جہاں کا ڈبہ تھا وہی آکر رک گئی گارڈ نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو قریب کر کے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا آپ لوگ اطمینان سے نماز پڑھیں تب تک گاڑی رکی رہے گی ۔

حضور شیخ المشائخ ؛ شعیب الاولیاء اور آپ کے رفقاء نماز جماعت کے بعد دعا ؛ سلام ؛ مصافحہ کرکے اطمینان سے گاڑی پر سوار ہوئے تو گاڑی پھر روانہ ہوئی
(تذکرہ شعیب الاولیاء صفحہ نمبر 51)

اس طرح کی اور بھی بہت سی کرامات کا صدور حضور شعیب الاولیاء سے ہوا اللہ تعالی نے علوم ظاہری و علوم باطنی سے آپ کو منور فرمایا تھا۔

آپ نے اپنی پوری زندگی خدمت خلق خدا؛ خدمت مذہب اسلام ؛ اشاعت دین متین میں گزار دی ؛ آپ سچے عاشق رسول ؛ عاشق صحابہ ؛عاشق اہل بیت؛ اور علماء اہلسنت سے محبت کرنے والے تھے  اس لیے کہ عالم دین سے محبت کرنا یقیناً حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کے مترادف ہے

آپ کی پوری زندگی اللہ والوں سے محبت کرنے اور رسول اللہ کے دشمنوں سے گریز کرنے میں گزر گئی ۔
آپ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے

آپ اولیا ےکرام سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ ان کے عرسوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔
ان کے فرمودات لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے
اور لوگوں کو اولیاء اللہ سے محبت کرنے کے طور طریقے بتایا کرتے تھے ۔

١٩٢٨ عیسوی میں خانوادہ چشتیہ کے بزرگانِ دین ؛ اولیاء کاملین کے آستانوں پر حاضری کا قصد کیا آپ نے یہ سفر عالم رویا (خواب) میں بشارت ملنے کے بعد شروع کیا بکرم جوت (ضلع بستی) کے رمضان علی تھے

ساتھ میں لباس تن زیب کا؛ احرام ؛دو تہبند ؛ چادر اور رومال لیا ؛ پہلے اپنے وطن براؤں شریف گئے وہاں سے سکندر پر تشریف لاکر ڈھلمؤ شریف (فیض آباد) ستھن شریف (امیتھی ) اور جھونسی شریف ( الہ آباد) حاضر ہوئے؛

ان مقامات پر بالترتیب خاندان قادریہ کے بزرگ و درویش حضرت محبوب الہی اور سلسلۂ چشتیہ کے بزرگ حضرت سید عبداللطیف اور سلسلۂ سہروردیہ کے درویش حضرت سید عبد الشکور صاحبان ہیں

آپ کو ان تینوں بزرگوں سے خلافت و اجازت حاصل تھی ؛ یہاں سے آپ دلی ؛ اجمیرمقدس ؛ کلیر شریف؛ تونسہ شریف؛ گلبرگہ شریف ؛ ملتان ؛بنگال ؛ بہار حیدرآباد (دکن)؛ احمد آباد (گجرات) ؛ بریلی شریف (اترپردیش) ؛ بمبئی وغیرہ بہت سے مقامات مقدسہ کا سفر طے کیا ۔

بعض مقامات پر چند گھنٹے ؛ بعض مقامات پہ دو دن ؛ اور بعض مزارات پر ہفتہ دو ہفتہ اور صوبہ ڈیسہ کے ضلع کٹک میں سوا مہینہ قیام کر کے بے شمار فیوض و برکات و انعامات و الکرامات سے مالامال ہوئے شاہ صاحب نے بارہ سال کا یہ سفر محض بارہ مہینوں میں مکمل کرلیا ۔اور اس سفر پرکم و بیش آٹھ ہزار روپے خرچ ہوئے اس سفر کو آپ نے سال کے دو حصوں میں طے کیا اس طرح کی مزید تفصیل تذکرہ شعیب الاولیاء میں ملاحظہ کریں

خلاصہ۔ حضور ؛ شعیب الاولیاء ؛ایک کامل درویش؛ باکمال بزرگ ؛ صاحب کرامت؛ صاحب استقامت ہستی تھے

“”آپ کا مقصد حیات “”  ؛ قال اللہ وقال رسول اللہ پر عمل کرنا اور دوسروں کو عمل کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

اللہ تعالیٰ ان بزرگان دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یارب العالمین

استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

از قلم: مصنف راہ شریعت مفتی خبیب القادری تحسینی ارشدی فیضی مدناپوری

بانی: غریب نواز اکیڈمی مدناپور شیش گڑھ بہیڑی

بریلی شریف یوپی بھارت

7247863786

  حضور شعیب الاولیا علیہ الرحمۃ والرضوان کا اجمالی تعارف

حضور مظہر شعیب الاولیا علیہ الرحمۃ والرضوان ایک ہمہ جہت شخصیت

شعیب الاولیا شیداے اعلی حضرت

ہندی میں مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top