شور و غل نہ کریں محاذ پر ڈٹے رہیں

شور و غل نہ کریں محاذ پر ڈٹے رہیں

تحریر: طارق انور مصباحی شور و غل نہ کریں محاذ پر ڈٹے رہیں

شور و غل نہ کریں محاذ پر ڈٹے رہیں

فاضل گرامی حضرت علامہ مفتی سلمان ازہری زید مجدہ نے دعوت مباہلہ دیا تو اس سے متعلق مختلف قسم کی تحریریں سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگیں۔

بھائیو! آپ میدان میں ڈٹے رہیں۔میدان نہ چھوڑیں۔دشمن میدان میں ہرگزنہیں آ سکتا۔اس کے اسباب وعلل بھی رقم کرتا ہوں,نیز یہ کہ اگر مباہلہ عملی طور پر سرانجام پایا تو بھی ان شاء اللہ تعالی دشمن ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔

ہر زمانے میں اولیاے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کا وجود مسعود ہوتا ہے۔ عہد نبوت کے بعد امت کے اولیا اور علما یعنی علماے باطن وعلمائے ظاہر کو دین کی سربلندی اور خدمت کی ذمہ داری عطا ہوئی ہے:العلماء ورثۃ الانبیاء کا یہی مفہوم ہے۔

عہد حاصر میں جو علمائے ظاہر دینی خدمات انجام دے رہے ہیں,وہ اس کے مصداق تسلیم کئے جائیں گے,کیوں کہ یہی لوگ دین کی تعلیم اہل عالم کو دے رہے ہیں, گرچہ وہ اسلاف کرام کے مماثل نہیں,نہ ہی ہمارا یہ دعوی ہے۔

حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ساری کائنات کے لیے قیامت تک کے لئے رسول و نبی ہیں۔وہی دین و مذہب کے آج بھی ذمہ دار ہیں۔وہ مذہب اسلام کی حقانیت کا اظہار اور اس کی صیانت و حفاظت کسی کے ذریعہ بھی فرما سکتے ہیں۔وہ خلیفہ الہی,مختار کائنات اور اللہ تعالی کے نائب مطلق ہیں۔

جب مفتی ممدوح نے صدق دل اور خلوص وللہیت کے ساتھ دعوت مباہلہ دی ہے تو ان کی قلبی کیفیت ان سے معلوم کر لیں۔وہ ایک انچ بھی اپنے دعوی سے ہٹنے کو ہرگز گوارا نہیں کریں گے۔

درحقیقت من جانب اللہ ایسوں کی دستگیری کی جاتی ہے۔میں اپنی معلومات کی روشنی میں یہ رقم کر رہا ہوں۔دلوں کا حال خدا کو معلوم,لیکن خود ممدوح گرامی سے ہماری تحریر کی تصدیق طلب کی جا سکتی ہے۔

کچھ ایسے واردات ہوتے ہیں کہ اس کا صحیح ادراک آس پاس والوں کو نہیں ہوتا,بلکہ ارد گرد والے کچھ اور ہی سوچتے ہیں اور ایسوں کے دلوں پر فیضان الہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ہم بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ:

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

بھارت سمیت دنیا بھر میں اسلام و مسلمین پر حملے ہو رہے ہیں۔اسلامی اصول وقوانین پر تنقیدیں ہو رہی ہیں۔اب تو دشمنان دین آخری سرحد پار کر چکے ہیں۔حبیب داور شفیع محشر تاجدار کائنات سید السادات علی الاطلاق افضل الخلائق بالاتفاق سیدنا وسندنا ومولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر انگشت نمائی کر رہے ہیں۔

ایسی صورت میں اللہ تعالی کسی ان پڑھ جاہل مسلمان کو بھی اسلام کی سربلندی کے لئے منتخب فرما لے تو یہ حکمت الہیہ کے عین موافق ہے کہ مخالفین کے بڑوں کو ایک عام مومن کے ہاتھوں ذلیل ورسوا فرمائے,بلکہ ہر مومن غیر مومن سے افضل ہے:ولعبد مؤمن خیر من مشرک(قرآن مقدس)

ماضی میں بھی بہت سے گستاخان دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا عام مومنین کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوئے ہیں,حتی کہ بہت سے گستاخوں کو حیوانات نے دبوچا اور کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔

مباہلہ نہ ہونے کے اسباب درج ذیل ہیں:

1-بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔قانونی اعتبار سے ملک میں ہرایک اہل مذہب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔کوئی کسی مذہب کے خلاف بکواس اور فضول گوئی نہیں کر سکتا۔ایسا کرنے والا مجرم شمار ہو گا۔حکومت کی ذمہ داری ہو گی کہ ایسے مجرم پر مقدمہ چلائے۔

دستور ہند کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئےاپنی کہی ہوئی غلط باتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اسے مباہلہ یا اس قسم کے کسی اقدام کی اجازت حکومتی سطح پر نہیں دی جا سکتی۔

2-کسی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے آگ میں کودنا سائنٹفک طریقہ نہیں۔اس لئے ملک کا سپریم کورٹ بھی اس کی اجازت نہیں دے گا,ورنہ جگ ہنسائی ہو گی اور ملک کے عدلیہ پر دنیا بھر میں تنقید ہو گی۔

3-قانونی طور پر حکومت کسی کو خودکشی کی اجازت نہیں دے سکتی۔انسانی جانوں کا تحفظ اور اس کی اہم ضرورتوں کی تکمیل حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔

ملک کے ماہر وکلا سے معلومات طلب کریں۔دستور ہند اور قوانین کی بہت سی شقیں ایسی ہیں کہ مباہلہ کی حکومتی اجازت قریبا ناممکن ہے۔اگر بلا پرمیشن کوئی ایسا کرے تو پولیس اسے گرفتار کرے گی اور اس پر متعدد قانونی شق کے اعتبار سے مقدمہ بھی دائر ہو گا۔

4-اگر کوئی جاہل مباہلہ کی دعوت قبول کرتا تو یہ امید تھی کہ وہ جذبات سے بے قابو ہوکر میدان میں اترجاتا,لیکن کوئی جانکار جو اپنی حقیقت سے بخوبی واقف ہو,وہ یرگز میدان میں نہیں آ سکتا۔

5-اہل باطل کا تھنک ٹینک اسے میدان میں آنے ہی نہیں دے گا۔

عالم و جاہل ہر قسم کے مسلمانوں کو مذہب اسلام کی حقانیت کا یقین کامل ہے,لیکن دیگر مذاہب کے جانکاروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ممکن ہے کہ ان مذاہب کے جاہل لوگ جہل مرکب میں مبتلا ہوں,لیکن ان کے مذہبی لوگ حقائق ودقائق سے بخوبی آشنا ہیں۔وہ جہل مرکب میں ہرگز مبتلا نہیں۔

اگر آپ حقائق سے واقف ہیں تو ہماری مغلق تحریر سب کچھ بیاں کر رہی ہے۔اگر کچھ معلوم نہیں تو خموشی بہتر ہے۔

کوئی میدان میں آئے گا۔اس کی امید نہیں۔بس مفتی موصوف کو تحفظ فراہم کیا جائے۔وہ اپنے طور پر بھی حفاظتی اقدامات کریں۔

مسلمانان ممبئی سے مخلصانہ و مؤدبانہ عرض ہے کہ موصوف کی حفاظت وپاسبانی اور نگرانی و نگہبانی کرتے رہیں۔پبلک مقامات سے انہیں دور رکھیں۔کسی کی جانب سے دھمکی یا کوئی غلط حرکت ہو تو پولیس کو اطلاع کریں اور ممبئی پولیس کے اعلی افسران سے رابطہ رکھیں۔ان کے تحفظ میں ہرگز کوتاہی نہ کریں۔

تحریر: طارق انور مصباحی

مدیر: ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی

اعزازی مدیر: افکار رضا 

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

محمد ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا

شان رسالت ﷺ  میں توہین ناقابل برداشت

پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی

قرآن مجید کے عددی معجزے

قرآن مجید ایک ناقبل تحریف کتاب

قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں 

تعظٰم نبی ﷺ اور امام احمد رضا 

امام احمد رضا قادری : مجدد اعظم

اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت

عروج چاہیے تو سماج میں قرآن کا عکس بن کے نکلے مسلمان

ہندی مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में पढ़ने के लिए क्लिक करें 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top