شور ہے اوج فلک پر آمد رمضان المبارک کا

شور ہے اوج فلک پر آمد رمضان المبارک کا

تحریر: محمد صدر عالم قادری مصباحی شور ہے اوج فلک پر آمد رمضان المبارک کا

شور ہے اوج فلک پر آمد رمضان المبارک کا

رمضان المبارک کابرکتوں والا مہینہ ہم پرسایہ فگن ہواچاہتاہے یہ روزے کی عبادت اورنزول قرآن کریم کامہینہ ہے ۔قرآن مقدس میں روزے کی عبادت کا تفصیلی ذکرسورۂ بقرہ میںپارہ نمبر۲کے چھٹے رکوع میں آیا ہے۔

اس رکوع میں روزے کی فرضیت ،حکمت،قرآن کریم کے ساتھ تعلق اوراعتکاف جیسے موضوعات کوجمع کردیاگیاہے۔ایک ہی مقام پرکم وبیش تمام مسائل کاذکرروزہ کامنفردمعاملہ ہے۔

رمضان المبارک کاشایان شان استقبال کرنے کے لئے شعبان المعظم سے ہی ذہن کوتیارکریں اورشعبان المعظم کے مہینے سے ہی کثرت سے روزے رکھیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ حضورنبی اکرم ،نورمجسم،سیدعالمﷺسب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے روزے رکھاکرتے تھے۔

پورے اہتمام واشتیاق کے ساتھ رمضان المبارک کاچاند دیکھنے کی کوشش کریں اورچاند دیکھ کریہ دعاء پڑھیں’’اللھم اھلّہ علینابالیُمن والایمان والسلامۃ والاسلام ربی وربک اللّٰہ یاھلال‘‘ اے اللہ ! اس چاند کو ہمارے لیے ظاہر کر برکت  وایمان کے ساتھ اور سلامتی وایمان کے ساتھ ائے چاند ہمارا اَورتیرارب اللہ ہے (اوران کاموں کی توفیق کے ساتھ جو تجھے محبوب اورپسندہیں)‘‘۔(ترمذی شریف)

رمضان المبارک کی قدرہم کس طرح کریں؟: ہمارا شیڈول اورنظام الاوقات کیا ہو؟ہم کس طرح رمضان المبارک کی رحمتوں اوربرکتوں کے مہینہ میں نیکیاں ڈبل کمائیں۔

اس کے لیے ہم نے کیاتیاری کی ہے اورکس طرح اس کی تیاری کرنی چاہئے ۔سب سے پہلے ہمیں یہ کام کرناہے کہ ہم صدق دل سے توبہ کریںکہ اس سے پہلے جوبھی کوتاہیاں سرزدہوئی ہوں ان سے اپنے پروردگارکے حضور صدق  دل سے توبہ واستغفارکریں اورآئندہ اس سے بچنے کا پختہ عہد کریں۔

توبہ کرنا

ایک مسلمان کے لیے زیادہ لائق ہے کہ وہ اپنے ان جملہ گناہوں سے جلدازجلدتوبہ کرلیں جوصرف اس کے اوراس کے رب العٰلمین کے درمیان صیغۂ رازمیں خفا ہیںاوران گناہوں سے بھی جن کاتعلق حقوق العبادسے ہے،تاکہ جب اس ماہ مبارک کی ابتدا ہوتو وہ صحیح اورشرح صدرکے ساتھ ۔

خدائے رب ذوالجلال کی اطاعت وفرماں برداری میں مشغول ہوجائے اوراس کے قلب کواطمینان وسکون میسرہو۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے کہ: ’’ یاایھاالذین اٰمنواتوبواالی اللّٰہ توبۃ نّصوحا الخ ‘‘ائے ایمان والوں اللہ کی طرف ایسی توبہ کروجوآگے کونصیحت ہوجائے۔‘‘ (ترجمہ:کنزالایما۔،سورۃ التحریم،پارہ۲۸،آیت نمبر۸)۔

اورحدیث پاک میں آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ  : اللہ تعالیٰ گناہ پرندامت کرنے والے کوبھی مغفرت سے نوازتاہے اس سے پہلے کہ وہ توبہ کرلے کیونکہ الندامۃ توبۃ اوکماقال صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم (رواہ الحاکم)۔

ایک اورمقام پرآپ نے ارشادفرمایا کہ :ا ے لوگوں اللہ کی طرف توبہ کرو، میں تودن میں سوبارتوبہ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف،۴۷۰۴)

دُعا کا اہتمام  کرنا

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کامہینہ آجاتاتوحضوراکرم ﷺ خدائے رب ذوالجلال سے عرض ودعااس طرح کرتے ’’ اللہم بارک لنافی رجب وشعبان وبلغنارمضان ‘‘ یعنی ائے اللہ !ہمارے لیے رجب اورشعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اورہمیں رمضان کا مقدس مہینہ عطافرما ۔ (درمنثور،ج۱،ص۳۳۴-مجمع الزوائد،ج۳،ص۲۵۵)۔

بعض اسلاف کرام کے متعلق آتاہے کہ وہ چھ ماہ تک یہ دعاکرتے ائے اللہ!ہمیں رمضان کامبارک مہینہ عطافرما،اورپھروہ رمضان کے بعدپانچ ماہ تک یہ دعاکرتے رہتے اے اللہ! ہمارے رمضان المبارک کے روزے کوقبول فرما۔

چناں چہ ہرمسلمان بھائی کوچاہئے کہ وہ اپنے پروردگارسے دعا کرتارہے کہ اللہ ! ہمیں رمضان شریف کے آنے تک جسمانی اوردینی طورپرصحیح رکھ،اوریہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت کے کاموں میں اس کی معاونت فرمائے اوراس کے عمل کوقبول ومنظورفرمالے۔

اس عظیم ماہ مبارک کے قریب آنے کی خوشی اورفرحت ہو، کیوں کہ رمضان شریف کے مہینہ تک صحیح سلامت پہنچ جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام مسلمانوںپربہت عظیم نعمت ہے،اس لیے کہ رمضان المبارک خیروبرکت کا موسم  ہے جس میں جنتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اورجہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اوریہ قرآن کریم کے نزول ا ورغزوات ومعرکوں کا مہینہ ہے جس نے ہمارے اورکفرکے درمیان فرق پیدا کیا۔

رمضان شریف کے احکام ومسائل کاعلم حاصل کرنا

ہمارے لیے ضروری ہے کہ روزوں کے احکام ومسائل کاعلم سیکھیں،تاکہ رمضان شریف کی فضیلت واہمیت کاکامل طورپرہمیں پتہ چل سکے۔ایسے اعمال جورمضان شریف میں ہم مسلمانوں کوعبادت کرنے میں رکاوٹ یا مشغول ہونے  کا باعث بننے والے ہوں انہیں رمضان شریف سے قبل ہی نپٹانے میںجلدی کرنی چاہئے۔

گھر میں اہل وعیال اوربچوں کے ساتھ  بیٹھ کراُنہیں روزوں کی فضیلت وحکمت اوراس کے احکام بتائیں نیزچھوٹے بچوں کوروزے رکھنے کی ترغیب وتشویق بھی دلائیں۔ کچھ دینی کتابیں لائی جائیں اوراسے گھر میں پڑھنے اورپڑھانے کا مکمل اہتمام کیا جائے یا پھرامام مسجد کو ہدیہ کی جائیں تاکہ وہ رمضان شریف میں بعد نماز لوگوں کو پڑھ کرسنائیں۔

رمضان المبارک کے عبادات 

رمضان المبارک میں عبادات سے خصوصی شغف پیداکریں فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کابھی خصوصی اہتمام کریںاورزیادہ سے زیادہ نیکی کمانے کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔کیونکہ یہ عظمت وبرکت والامہینہ خدائے وحدہ لاشریک کی خصوصی عنایت اوررحمت کامہینہ ہے۔

شعبان المعظم کی آخری تاریخ کو حضوراکرم ، نورمجسم ،سیدعالم ﷺ نے رمضان المبارک کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایاکہ :لوگوں تم پرایک بہت ہی عظمت وبرکت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے ، یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک  رات ہزارمہینوں سے  بہتر ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مبارک مہینے کے روزے کوفرض قراردیاہے اورقیام اللیل (مسنون تراویح)کو نفل قراردیاہے۔جو شخص اس مہینے میں دل کی خوشی سے بطورخود کوئی نیک کام کرے گاوہ دوسرے مہینوں کے فرض کے برابراَجرعظیم پائے گااورجوشخص اس مہینے میں ایک فرض اداکرے گا ،اللہ تبارک و تعالیٰ اس کودوسرے مہینوں کے سترفرضوں کے برابرثواب عنایت فرمائے گا۔

حصولِ تقویٰ

روزہ کااصل مقصدتقویٰ کاحصول ہے۔روزہ کی حالت میں بندۂ مومن اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم پراپنے آپ کوکھانے ،پینے اورجائزطریقے پراپنی جنسی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھتا ہے، جس کی بدولت اس کے دل میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے اورنگرانی  کرنے کا احساس پروان چڑھتا ہے

اس طرح وہ اپنے آپ کوزندگی بھران کاموں سے بچائے رکھنے کے قابل بنتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اگرروزہ کی حالت میں ہم اپنے آپ کو برائیوں اورگناہوں سے نہ بچا پائیں تورمضان کے بعد سال بھرکیسے روک پائیں گے ؟ محض بھوکا اورپیاسا رہنے سے روزہ کا مقصد ہرگزحاصل نہ ہوگا۔

فضائل روزہ احادیث کی روشنی میں

پورے مہینے کے روزے نہایت ذوق وشوق اوراہتمام کے ساتھ رکھیں اوراگرکبھی مرض کی شدت یاشرعی عذرکی بنا پرروزے نہ رکھ سکیں تب بھی احترام رمضان میں اعلانیہ طورپرکھانے سے سختی کے ساتھ  پرہیز کریں اور اس  طرح رہیں کہ گویا آپ روزے سے ہیں ۔

۔(۱)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتاہے آدمی کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگرروزہ خاص میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ  دوں گا۔

اورروزہ گناہوں کی ڈھال ہے اورجب تم میں کوئی روزہ رکھے توفحش باتیں نہ کرے،نہ شورمچائے اگرکوئی اس کوگالی دے یااس سے لڑے تووہ یہ کہ دے کہ میں روزے سے ہوں،قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ  کی جان  ہے روزہ دار کے منہ کی بواللہ تبارک و تعالیٰ کوکستوری کی خوشبوسے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔

روزہ دارکے لیے دوخوشیاں ہیں

۔(۱) روزہ کھولتے وقت خوش ہوتاہے

۔(۲) جب وہ اپنے رب سے ملے گاتوروزے کاثواب دیکھ کرخوش ہوگا (صحیح البخاری،کتاب الصوم)

۔(۲) دوسری روایت حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو رَیَّان کہتے ہیں روزہ دارجنت میں اس دروازہ سے جائیں گے روزہ داروں کے سوا اورکوئی اس میں نہیں جائے گا۔

اعلان کیا جائے گا کہ روزہ دارکہاں ہیں وہ اُٹھ  کھڑے ہوں گے ان کے سوااس میں کوئی نہیں جائے گاجب یہ لوگ اندرچلے جائیں گے تودروازہ بندہوجائے گا کوئی اوراس میں نہیں جا سکے گا(صحیح البخاری،کتاب الصوم)

تلاوت قرآن کریم کاخاص اہتمام کرنا

رمضان شریف میںتلاوت قرآ ن کاخصوصی اہتمام کریںکیونکہ اس مبارک مہینے کوقرآن کریم سے خصوصی مناسبت وتعلق ہے۔قرآن کریم اسی ماہ مقدس میں لوح محفوظ سے آسمان دنیاپرنازل کیاگیااوردوسری آسمانی کتابیں بھی اسی مبارک مہینے میں نازل کی گئیں

۔(۱)حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کواسی مہینے کی پہلی یاتیسری تاریخ کوصحیفے عطاکئے گئے

۔(۲)حضرت داؤد علیہ السلام کواسی مہینے کی ۱۲؍یا۱۸ ؍تاریخ کوزبورعطاکی گئی

۔(۳)حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کواسی مبارک مہینے کی ۶؍تاریخ کوتوریت شریف عطاکی گئی

۔(۴)اورحضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کوبھی اسی مبارک مہینے کی ۱۲؍یا۱۳؍تاریخ کوانجیل عطاکی گئی۔

حضرت ا بوہریرہر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناکہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جوشخص اللہ تعالیٰ کی ملاقا ت کی امید رکھتاہے اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے’’ اہل‘‘کی عزت کرے صحابۂ کرام نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ کیا اللہ عزوجل کابھی کوئی اہل ہے؟۔

توآپ ﷺ نے فرمایاہاں!پوچھاگیاوہ کون ہے توآپ ﷺ نے فرمایا دنیامیں اللہ تعالیٰ کے وہ اہل ہیںجوقرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ ‘‘(درۃ الناصحین،ضیاء الواعظین،ص۳۸،حصہ دوم)۔

اسی لیے اس مبارک مہینے میں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن مجید کریں۔قرآن کریم کوٹھہرٹھہرکراورسمجھ کرپڑھنے کی حتی المقدورکوشش کریں،کثرتِ تلاوت کے ساتھ ساتھ سمجھنے اوراس کے جملہ احکامات ومسائل پرمکمل عمل کرنے کابھی خاص خیال رکھیں۔

تراویح کی نماز پورے ذوق وشوق سے اداکرنا

اس ماہ مقدس میں تراویح کی نماز سے بھی خصوصی شغف رکھیںاورکاہلی وسستی سے ہرگزکام نہ لیںبلکہ اوقات تراویح سے قبل ہی اپنے تمام حوائج وضروریات سے فراغت حاصل کرلیںاورنماز تراویح کی ادائیگی کے لیے مکمل منتظررہیں

۔’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من قام رمضان ایماناواحتساباغُفرلہ ماتقدم من ذنبہ ٖ‘‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ارشادفرمایاکہ جوشخص صدق دل اوراعتقادصحیح کے ساتھ رمضان المبارک میں قیام کرے یعنی تراویح پڑھے تواس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘(مسلم شریف)۔

اس حدیث پاک سے تراویح کے نماز کی فضیلت واضح طورپرثابت ہوتی ہے اس لئے ہمیںتراویح کی نمازکومکمل خشوع وخضوع اورذوق وشوق کے ساتھ پڑھنے کی کامل کوشش کرنی چاہئے اورجیسے تیسے بیس رکعت کی گنتی صرف پوری ہرگزنہ کریںبلکہ نماز کوپورے اطمینان وسکون اوروقارکے ساتھ اداکریںتاکہ آپ کی زندگی پراس کابہترین اثرمرتب ہو اورخدائے وحدہ لاشریک سے قرب وتعلق مضبوط ہوجائے اورآپ کے لئے ذریعۂ نجات بن سکے۔خداتوفیق دے تونمازِتہجد کابھی ضرور اہتمام کریں۔

صدقہ اورصلہ رحمی پرخصوصی توجہ دینا: اس بابرکت مہینے میںصدقہ اورصلہ رحمی پربھی خاص توجہ دیںجومسلمان بھائی حاجت مندہوں ان کی ضرورتوں کوپوری کریںاورکمزوروں ،مسکینوں،فقیروں،یتیموں اوربیواؤں کے ساتھ صلہ رحمی بھی کریں(۱)’’ عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ لان یتصدق المرء فی حیٰوتہٖ بدرھم خیرلہ من ان یتصدق بمأۃ عندموتہ‘‘ ۔

حضرت ابوسعیدخدری کہتے ہیںکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ انسان کااپنی زندگی کے ایام میں ایک درہم صدقہ کرنا مرنے کے وقت سودرہم صدقہ کرنے سے بہترہے۔‘‘(ابوداؤد شریف)

۔(۲)’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھمانے کہا کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے صدقۂ فطراس لئے مقررفرمایاتاکہ لغواوربے ہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اوردوسری طرف مساکین کے لئے خوراک ہوجائے۔‘‘(ابوداؤد شریف)

۔(۳)’’عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی ﷺ قال ان الرحم شجنۃ من الرحمٰن فقال اللّٰہ مَن وصلک وصلتہ ومن قطعک قطعتہ۔‘‘(مسلم شریف)۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا’’ رَحَمْ رحمٰن ہی کاایک شعبہ ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتاہے جس نے تجھے (یعنیرَحَمْ کو)ملایامیں نے بھی اُسے ملایااورجس نے تجھے کاٹامیں نے بھی اُسے کاٹا

۔‘‘ ان احادیث طیبہ سے صدقہ وصلہ رحمی کی فضیلت روزروشن کی طرح ظاہرہوئی اس لئے اس ماہ مبارک میں صدقہ وخیرات کثرت کے ساتھ کریں،غریبوں،مسکینوں،یتیموں،بیواؤں کی خبرگیری کریںاورناداروں کی سحری وافطاری کااہتمام بھی کریں۔

آقاے دوجہاں ﷺ ارشادفرماتے ہیںکہ:یہ غریبوںاورحاجت مندوں کے ساتھ اظہارہمدردی کا مہینہ ہے،ہمدردی سے مرادمالی ہمدردی بھی ہے اورزبانی ہمدردی بھی،ان کے ساتھ رفتار،گفتار اورسلوک میں نرمی برتیں،ملازمین کو سہولتیں  دیں اورحتی المقدورمالی اعانت بھی کریں۔

۔(۴) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں کہ: حضوراکرم ،نورمجسم ،سیدعالم ﷺسخی اورفیاض توتھے ہی مگررمضان المبارک میں توآپ ﷺ کی سخاوت بہت ہی زیادہ بڑھ جاتی تھی

جب حضرت جبریل امین علیہ السلام ہررات کوآپ ﷺکے پاس آتے اورقرآن کریم کی تلاوت کرتے اورسنتے تھے تواِن دِنوں میں آپ ﷺتیز چلنے والی ہواسے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے۔اس لئے ہمیں بھی حضورﷺ کی سنت پرعمل کرتے ہوئے اس ماہ مقدس میںکمزورطبقہ پر فیاضی سے کام لیناچاہئے ۔

شب قدرکااحترام اوراس کی عبادتیں

شب قدرگناہوں پرندامت ،طلبِ مغفرت اوردعاؤ ں کی قبولیت کے پُرنورلمحات ہیں اس لئے اس مقدس شب میں زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفارکریں،نوافل کااہتمام کریں

قرآن کریم کی تلاوت، تسبیحات وتہلیلات کا وِرداَوراَورادووَظائف وَدرودپاک کی کثرت کریں، اس مقدس رات کی اہمیت یہ ہے کہ اس مقدس رات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام مقدس کو نازل فرمایااوریہ مقدس شب ہزارمہینوں سے بہترہے۔

چناں چہ خدائے وحدہٗ لاشریک قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے کہ:’’اناانزلناہ فی لیلۃ القدروماادرٰک مالیلۃ القدرلیلۃ القدرخیرمن الف شھرتنزل الملٰئکۃ والروح فیھاباذن ربھم من کل امرسلٰم ھی حتیٰ مطلع الفجر‘‘بے شک ہم نے اسے (یعنی قرآن کریم کو) شب قدرمیں اتارااورتم نے کیا جانا کیا شب قدرشب قدرہزارمہینوں سے بہتراس میں فرشتے اورجبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہرکام کے لیے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔ (ترجمہ:کنزالایمان، سورۃ القدر،عمّ۳۰)

روزہ کی فرضیت

روزہ کی فرضیت کے بارے میں فرمایاکہ:’’یٰا یھاالذین اٰمنواکتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون‘‘ ائے ایمان والو!تم پرروزے فرٖ ض کئے گئے جیسے اگلوں پرفرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔‘‘(ترجمہ : کنزالایمان ،سورۃ البقرہ،آیت نمبر۱۸۳)۔‘‘۔

روزے کی فرضیت کے ذکرکے ساتھ ہی ترغیب وتشویق کے لیے فرمایاکہ روزہ صرف تمہیں پرفرض نہیں کیاگیابلکہ سابقہ اُمتوں پربھی فرض تھا۔روزہ کااصل اورحاصل تقویٰ وپرہیزگاری اختیارکرناہے۔تقویٰ آخرت کی کامیابی کی شرط ہے یہ حقیقی کامیابی کی ناگزیرضرورت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآ ن اہل جنت کے تذکرہ میں باربارتقویٰ کاتذکرہ کرتاہے۔تقویٰ کی پونجی حاصل کرنے کے لئے دیگرعبادات کے ساتھ ساتھ روزے کی عبادت فرض کی گئی ہے۔

اگلی آیت کریمہ میں ارشادفرمایاکہ:’’ایامامَّعدودٰت فمن کان منکم مریضااوعلیٰ سفرفعدۃُ من ایام اُخروعلی الذین یُطیقونہ فدیۃ طعامُ مسکین فمن تطوع خیرافھوخیرلہ واَن تصومواخیرلکم ان کنتم تعلون‘‘۔

۔( روزے) گنتی کے دن ہیں توتم میں جوکوئی بیماریاسفرمیں ہوتواتنے روزے اوردنوں میں اورجنھیں اس کی طاقت نہ ہووہ بدلہ دیںا یک مسکین کا کھانا پھرجواپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تووہ اس کے لیے بہترہے اورروزہ رکھناتمہارے لیے زیادہ بھلا ہے اگرتم جانو۔‘‘(ترجمہ:کنزالایمان،سورۃ البقرہ،آیت نمبر:۱۸۴)

اس رکوع کی متذکرہ دوآیات کے بارے میںایک رائے جواسلاف کرام کے بہت سے لوگوں کی ہے کہ ان کاتعلق رمضان کے روزے سے نہیں بلکہ ایام بیض کے روزے سے ہے۔جورمضان کے روزوں سے پہلے فرض ہوئے تھے ۔یعنی ہرقمری مہینے کی ۱۳؍۱۴؍۱۵؍تاریخ کے روزے ۔ان روزوںکی غرض وغایت یہ تھی کہ لوگوں کوروزے کی عبادت سے مانوس کیاجائے کیوں کہ اہل عرب روزے سے مانوس نہیں تھے۔

چناں چہ ان تین دِنوں کے حوالے سے یہ بات بڑی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ تم پرروزے فرض کیے گئے ہیں’’جوگنتی کے چنددن ہیں۔‘‘حضورنبی اکرم،نورمجسم،سیدعالم ﷺنے ان تین دِنوں کے روزوں کی تاکید فرمائی ہے،اوربعدمیں جب رمضان المبارک کے روزے فرض کردئے گئے توان کی فرضیت ختم ہوگئی،مگراب بھی یہ سنت مؤکدہ کے درجے میں ہے۔

حضوراکرم،نورمجسم،سیدعالمﷺ نے دوران سفربعض اوقات روزہ کوترک بھی فرمایا ہے اوررکھابھی ہے۔اوردوسری رعایت یہ ہے کہ اگرکوئی روزہ نہیں رکھ سکتاتوایک مسکین کاکھانا کھلادے،یہ گویا ایک روزہ کا فدیہ ہے۔

جوکوئی اپنی آزادمرضی سے زیادہ نیکی کاکام کرے یعنی ایک مسکین کے بجائے دویاچارمساکین کوکھاناکھلادے تواس کے لئے اورربہترہے۔مگریہ بات یادرکھیں کہ اگرتم پریہ بات منکشف ہوجائے کہ روزہ رکھنے میں کتنی خیروبرکت اورثواب ہے توتم اُسے کبھی نہ چھوڑوگے۔

اب آگے ماہ رمضان المبارک اوراس کے روزوں کی فرضیت کے بارے میںاللہ تبارک وتعالیٰ کلام مقدس میں ارشادفرماتاہے کہ:’’شھررمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبیّنٰت من الھدیٰ والفرقان فمن شھدمنکم الشھرفلیصمہ ومن کان مریضااوعلیٰ سفرفعدۃ من ایام اخریرید اللّٰہ بکم الیسرولایریدبکم العسرولتکملوالعدۃ ولتکبروااللّٰہ علیٰ ما ھدٰکم ولعلکم تشکرون‘‘۔

رمضام کامہینہ جس میںقرآن اترالوگوں کے لئے ہدایت اوررہنمائی اورفیصلہ کی روشن باتیں توتم میں جوکوئی یہ مہینہ پائے ضروراس کے روزے رکھے اورجو بیماریا سفرمیں ہوتواتنے روزے اوردنوں میں اللہ تم پرآسانی چاہتا ہے اورتم پردشواری نہیں چاہتا اوراس لیے کہ تم گنتی پوری کرواوراللہ کی بڑائی بولواس پرکہ اس نے تمہیں ہدایت کی اورکہیں تم حق گزارہو۔‘‘(ترجمہ:کنزالایمان،سورۃ البقرہ،آیت نمبر185)

قرآن کریم لوگوں کی رہ نمائی کے لیے نازل ہوا اَوراِس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اوروہ حق وباطل کے مابین امتیازپیدا کرنے والی کتاب مقدس ہے۔ یہ پوری نوع انسانی کے لیے رہ نمائی ہے۔ ہدایت ہرشخص کی شدید ضرورت ہے

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں ایک بڑے امتحان میں ڈالا ہے یہ دنیا دارالامتحان اوردارالعمل ہے، دارالجزاء نہیں  ،کیوں کہ دارالجزاء آخرت ہے، یہاں جس کوزیادہ دیاگیااس کی بھی آزمائش کی جارہی ہے اورجس کو کم عطا کیا گیا اس کو بھی آزمایا جارہا ہے۔

کسی شخص کوخدائے وحدہ لاشریک اونچا مقام  ومرتبہ عطاکرتا ہے تاکہ یہ دیکھے کہ وہ فرعون جیسی مذموم صفت اختیارکرتا ہے یا پھرذوالقرنین جیسی صفات صالحہ یعنی تواضع ، انکساری اوردرویشی اختیارکرتا ہے۔

تواب اس سے صاف طورپرظاہرہوگیا  کہ اس فانی دنیا میں ہرشخص حالت ِامتحان میں ہے اوراس امتحان میں کامیابی کااصل راستہ یہی قرآن مقدس ہے۔

یہ لوگوں کی فطری،علمی،عملی،انفرادی اوراجتماعی سطح کی رہنمائی کاسامان ہے پھریہ ہدایت مشکل اورپیچ درپیچ نہیںہے کہ جس سے آدمی چکرا جائے،بلکہ بہت واضح اورروشن ہے۔

مولیٰ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گوہوں کہ ماہ رمضان المبارک کی برکتوں سے پوری دنیا کے مسلمانوں کومالامال فرما او ر مذکورہ تمام باتوں پر اُمت مسلمہ کوپوری ذمہ داری کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطافرما۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

قدسیوں میں ہے مسرت کی لہردوڑی ہوئی
شورہے اوجِ فلک پرآمدِرمضان کا
قیدہوتے ہیں شیاطین اس مبارک ماہ میں
گیت گاتے ہیں فرشتے عظمتِ سبحان کا

تحریر: محمد صدر عالم قادری مصباحی
بنول،عیدگاہ محلہ،وایارائے پور،ضلع سیتامڑھی(بہار)
Email: misbahisadrealam@gmail.com
Mobile: 09108254080

ان مضامین کو بھی پڑھیں

رمضان میں کیا کریں 

استقبال ماہِ رمضان المبارک

برکتوں و فضیلتوں کا مہینہ رمضان المبارک 

 اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

 ہمارے لیے آئیڈیل کون 

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top