ظلم ہو رہا ہے حد سے سوا ہے کیا اس کی کوئی دوا

ظلم ہو رہا ہے حد سے سوا ہے کیا اس کی کوئی دوا

ہندوستان کے موجودہ حلات بہت ہی نا گفتہ بہ ہے مسلمانوں کا خون سب سے زیادہ سستا ہوگیا ہے ان ہی حالات کو بیاں کرتا آج کا مضمون  ظلم ہو رہا ہے حد سے سوا ہے کیا اس کی کوئی دوا ؟ جس کو ترتیب دیا ہے الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی جمشید پور

ظلم ہو رہا ہے حد سے سوا کیا اس کی کوئی دوا

          دنیا کے دو بڑے ملکوں کے سر براہ آپس میں مل رہے ہیں،امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر ہندوستان آئے،پرائم منسٹر مودی سے ملاقات کی نمستے ٹرمپ پروگرام ودوسرے پرو گراموں میں حصہ لیا۔

ان کے آنے کی خوشی میں ہوم منسٹر سے لیکر سرکارکی ساری مشنری لگی رہی اور پلاننگ کے تحت بی جے پی وآر.ایس.ایس کے غنڈے اور پولیس نے دہلی کو جلانے کا کام شروع کردیا،مسلمانوں پر بزن بول دیا،قتل عام شروع کردیا اور 2002 کے گجرات کے دنگوں کو بھی فیل کر کے ہولی سے پہلے ہی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی دنیا خوب دیکھ رہی ہے۔

دہلی جلتی رہی مودی”نمستے ٹرمپ“ میں مست رہے

دہلی جل رہی ہے اور ہمارے وزیر اعظم وہوم منسٹر نمستے ٹرمپ میں مگن ہیں جن پر وہ حکومت کر رہے ہیں ان کی کوئی فکر نہیں روم جلتا رہا نیرو بانسری بجارہا تھا والی مثال ہمارے وزیر اعظم مودی پر سو فیصد سچ بیٹھتی ہے۔

نیرو سلطنت روم کا بادشاہ تھا، نیرو کلاسیکی رومن موسیقی کا دلدادہ تھا وہ بانسری بجانے کے ہنر کا ماہر تھا،وہ بانسری پر اپنی دھنیں خودہی بناتاتھا اور گاتا بھی تھا، نیرو کا ملازم دوڑتے ہوئے آیا اور کہا کہ شہنشاہ اعظم روم جل رہا ہے نیرو بانسری بجانے میں مست تھا ۔

اس نے کہا ہمیں تو کہیں آگ کے شعلے نظر نہیں آرہے ہیں اور بانسری بجانے میں مشغول ہوگیا اور روم جل کر خاک ہوگیا،خیر یہ کہانی پھر سہی۔

 ہمارے وزیر اعظم و ہوم منسٹر اسقدر ظالم وبے رحم ہیں کہ اللہ کی پناہ ساتھ ہی انتہائی ڈھیٹ،ضدی ہیں کہ انھیں مظلوموں کی آوازاورآہیں بھی نہیں سنائی دیتی ہیں۔ ان کے لائے ہوئے کالے قانون، کی وجہ سے کتنے معصوموں کی جانیں چلی گئیں اور آگے جائیں گی اللہ کو معلوم ہے،(نوٹ بندی میں کتنی جانیں چلی گئیں دنیا دیکھ چکی ہے

 شاہین باغ میں 4 ماہ کا بچہ محمد جہان سردی کی وجہ سے شہید ہوااس کی ماں نازیہ بچے کو کفن دفن کر کے اسی دن شاہین باغ کے پروٹیسٹ میں شامل ہوگئی اس ماں کے جذبے کو ہزاروں ہزار سلام۔

کولکاتا کے پارک سرکس دھر نے میں بیٹھی ہوئی 57سالہ محترمہ صہمیدہ خاتون بھی شہید ہوگٗئیں طبیعت خراب ہونے پر بھی وہ اس کالے قانون کے خلاف چل رہے دھر نے پر برابر تشریف لاتیں اور دھرنے پر ہی ز یادہ طبیعت خراب ہوئی اور اللہ کو پیاری ہو گئیں اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فر مائے آمین۔

دینی جلسوں کی یہ روش بدلنے کی ضرورت ہے 

 اور اب لکھنؤ گھنٹہ گھر کے (شاہین باغ) میں 42 دنوں سے چل رہے سی اے اے،این پی آر،این.آر. سی کے خلاف چل رہے احتجاجی دھر نا میں شامل کرامت گرلز کالج کی طالبہ محترمہ “طیبہ” کا انتقال پر ملال ہو گیا،یقیناً ظالم حکمراں کے خلاف انصاف کی لڑائی میں اپنی قیمتی جان قربان کرنے والی طیبہ صاحبہ شہید ہوئی ہیں اللہ انکی قربانی کو قبول فر مائے آمین،2۔

۔20 سالہ طالبہ،طیبہ کی موت کی وجہ بارش میں بھیگنا بتایا جارہا ہے۔قبل ازیں لکھنؤ میں شدید بارش اور سرد ہوائیں (ہفتوں)چلنے کی وجہ سے طیبہ اور کئی خواتین بیمار ہیں جو زیر علاج ہیں طیبہ کو بلرام پورہاسپیٹل میں بھرتی کرایا گیا 24فروری سوموار کو طیبہ کا انتقال ہو گیا بیماری کے باوجود ہر دن دھرنے پر ڈٹی رہیں انکے جذبے کو لاکھوں سلام۔

ظالم یوگی حکومت نے شامیانہ بھی نہیں لگانے دیا کھلے آسمان کے تلے سردی میں سبھی خواتین ڈٹی ہوئی ہیں یوگی کی انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے اور حکومت پر امن احتجاج کو روکنے کے لیے غیر انسانی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

طیبہ کے انتقال کے بعد عوام میں سخت غم وغصہ کی لہر پائی جارہی ہے،طیبہ کے والد جناب فخرا لدین صاحب جواں سال بیٹی کی موت پر غم سے نڈھال ہیں۔ یوگی،مودی حکو مت عورتوں کے جذبات دیکھ کر سمجھ گئی ہے کہ یہ پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں تو اب باقا عدہ سر کاری مشنریوں کا استعمال غیر انسانی وغیر جمہوری طریقوں سے مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑ نے پر جٹ گئی ہے۔

دہلی کا فساد اس کی تازہ مثال ہے خبریں بہت سی ہیں کیا کیا لکھوں اخبا رات وسوشل میڈیا اور ٹی وی سے آپ باخبر ہورہے ہیں اللہ تمام ظالموں کی پکڑ فر مائے ومظلوموں پر رحم فرمائے آمین۔حکومت دہلی مظلوموں کی داد رسی اور بسانے میں مدد کرے یہ رونا بند کرے کہ پولس ہمارے پاس نہیں ہے۔مسلمانوں نے یکطر فہ ووٹ دیکر ان کو کامیاب بنایا ہے وہ یہ قرض اتاریں ہیومن رائیٹس کی تنظیمیں صرف بیانات دے کر اپنا پلہ نہ جھاڑلیں، بلکہ فسادی لوگوں کو کورٹ میں گھسیٹیں وکلا حضرات بھی مدد کریں ہر شخص اپنی طاقت وبساط سے زیادہ مظلوموں کی مدد کریں۔

مظلوموں کی مدد کر نا بہت بڑی عبادت ہے: رب تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فر مایا اور انسانوں کو اپنا خلیفہ بنایا،اسی نے مرد عورت بنائے،نسل انسانی کی بقا وخدمت کے طریقے بتائے ایک دوسرے کی مدد اور خیر خواہی وتعاون کے طریقے بتائے، شرو فساد وزیادتی کے کاموں میں ہرگز کسی کا تعاون نہ کیا جائے،تاکہ کوئی بھی کسی پر ظلم کا بازار گرم نہ کرسکے۔(قر آنی مفہوم، سورہ مائدہ،آیت 2)۔

اصعمی اس کی مثال دیتے ہیں، فر ماتے ہیں کسی نے بھیڑیئے کو بکریوں کی نگرانی پر مقرر کیا تو یہ ظلمِ عظیم ہے۔(المعانی)۔

 کسی کی حق تلفی کوئی کرے خواہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں یہ گناہ ہے اور گناہ کو قرآن مجید نے ظلم سے تعبیر کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول کریم  ﷺ نے فر مایا:”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ایک ہے۔(رواہ مسلم،2578)۔

نبی رحمت ﷺ نے فر مایا: جس نے ظالم کی مدد کی، تاکہ اس کے باطل کو حق ثابت کرے، تو اس سے اللہ اور اس کے رسول کاذمہ ختم ہوگیا۔“ رسول کریم نے خبر دار فر مایا کوئی بھی مظلوم کے خلاف ظالم کی مدد نہ کرے، اور اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے اس ظالم کا شریک سمجھا جائے گا۔

کتاب ہدایت قر آن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کی جانب جھکاؤ رکھنے پر متنبہ فر مایا ہے۔ تر جمہ : ”ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے،اور تمھیں کوئی ولی(مدد گار) وسر پرست نہ ملے گا جو خداکی (پکڑ) سے تمھیں بچاسکے، اور تم کو کہیں سے مدد نہ پہنچے گی۔(القرآن: سورہ ہود-11، آیت: 113)۔

اجمیر معلیٰ میں اعلیٰ حضرت پورا  مضمون ضرور پڑھیں  اور  شئیر کرنا نہ بھولیں

صدی کا سب سے بڑا جھوٹ

 ظالم حکمراں ہمیشہ نت نئے طریقوں سے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، یہ بد ترین صورت حال ہے، ہندوستان کو دنیا کا سب سے بڑا سیکولر اور جمہوری ملک کہا جاتاہے،یہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ یہاں قانون کا بول بالا ہے،یہاں گنگا جمنی تہذیب ہے، یہاں بھائی چارہ ہے! مودی و شاہ”نمستے ٹرمپ“ میں مست ہیں کروڑوں روپئے پھونک رہے ہیں، سنگھی مڈر کر رہے ہیں،آتنک مچائے ہوئے ہیں بے گناہوں کی جانیں لے رہے ہیں۔

 دہلی پولیس بھڑوا گیری اورآتنکیوں کی مدد کرہی ہے  اور سپریم کورٹ تاریخ پہ تاریخ،تاریخ پہ تاریخ دیئے جارہی ہے کسی کو بھی انسانیت اور مظلوموں کی فکر نہیں ہے، مظلوموں کی چیخیں اور آہیں سسکیاں انھیں نہ دکھائی دیتی ہیں نہ سنائی دیتی ہیں، یا اپنی ظالمانہ عادت کی وجہ کر مظلوموں کی آہوں پر کان نہیں دھرتے۔

online shoppig آن لائن شاپنگ

 پورے ملک میں شاہین باغوں کی ایک لمبی فہرست ہے پر دیکھئے آواز سننے کے بجائے ان پر نئے نئے الزامات لگاکر انھیں بد نام کیا جا رہا ہے اور گودی دلال میڈیا تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

سی اے اے ،جیسے کالے قانونوں کی حمایت کر نا شرمناک ہی نہیں بلکہ ملک ہندوستان سے غداری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی بے چینی وپریشانی پر توجہ دے،آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی سب پر نہ تھوپے کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کیا اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ ان کے ساتھ حکمرانوں کارویہ انتہائی متعصبانہ وظالمانہ ہے،ان کے بیانات ملک میں زہر گھول رہے ہیں۔

 کپل مشرا ہوں، گر ی ر اج ہوں،انوراگ ٹھاکر ہوں، پرویش ورما،  یوگی ہوں،امت شاہ ہوں،مودی ہوں ملک کے ماحول کوزہر یلا بنارہے ہیں اسی کا نتیجہ دہلی کا پلاننگ شدہ قتل عام فساد ہے کیپیٹل میں فساد 4 دن سے چل رہا ہے اور فوج کے حوالے شہر کا نہ کرنا  یہ سب سمجھ سے باہر ہے، اب تک اس فساد میں32 لوگوں کی جانیں چلی گئیں 12لوگ انتہائی سیریس ہیں اور 250سے زائد لوگ زخمی ہیں۔

 ڈاکٹر کفیل پر این ایس اے  اس بات پر لگا دیا جاتا ہے کہ علی گڑھ میں انھوں نے مظلوم طلبہ کی دادرسی کی،لیکن دہلی میں کپل مشرا نے ڈی سی پی کے کندھے سے کندھا ملاکر فساد پھیلانے اور سبق سکھانے کی بات کی اور فساد برپا کرا دیا اور اب گھر میں برتھڈے پارٹی منارہے ہیں اور ان کو ارسٹ بھی نہیں کیا جاتا۔

حد تو یہ ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے جس جج نے ان کو گرفتار کرنے کے لیے کہا اور دوسرے دن پھر سنوائی رکھی رات گیارہ بجے ہریانہ، پنجاب میں انکا تبادلہ کردیا یہ انتہائی شرم کی بات ہے (سیّاں بھئے کوتوال تو ڈر کا ہے کا) یہ دوغلا میعار دہلی پولیس کے لیے بدنا می کا باعث ہے۔۔

 جامعہ پر بزن بولنا لائبریری جیسی جگہ پر طالب علموں پر حملہ کر نا جے این یو پر مظلوموں کی مدد نہ کرنا سب شرم کا باعث ہے۔ اللہ ظالموں کی پکڑ کی قوت رکھتا ہے۔ آج نہیں تو کل ضرور پکڑے جائیں گے۔

حدیث پاک میں ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے: ”مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں ظالم سے دنیا  وآخرت میں ضرور انتقام لوں گا اور اس سے بھی ضرور انتقام لوں گا جس نے مظلوم کو دیکھا اور اس کی مدد پر قدرت کے باوجود مدد نہ کی۔“(المعجم الکبیر،حدیث(10652)۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ظالموں کی پکڑ فرمائے اور مظلوموں کی مدد فرمائے (آمین)۔

                   اگر مظلوم کچھ بولے تو دنیا دہشتگرد کہتی ہے۔ ہزاروں ظلم ہوں مظلوم چپ رہتے ہیں

 

          الحاج حافظمحمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی                                   

          خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ                                    

          اسلام نگر، کپالی،پوسٹ:پارڈیہہ،مانگو                                   

          جمشیدپور(جھارکھنڈ)۔                      

     رابطہ:  09431332338            

hhmhashim786@gmail.com