Categories: حدیث شریف

عالم کون اور عالم کا درجہ کیا ہے

تحریر: طارق انور مصباحی عالم کون اور عالم کا درجہ کیا ہے؟۔

عالم کون اور عالم کا درجہ کیا ہے

مبسملا و حامدا::مصلیا ومسلما

قرآن مقدس اور احادیث طیبہ میں علمائے دین کے فضائل ومراتب کا بیان بہت سے مقام پر آیا ہے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ مدارس اسلامیہ سے عالمیت وفضیلت کی سند حاصل کرنے والا ہر ایک فرد نظر شریعت میں عالم نہیں، نہ ہی قر آن وحدیث میں بیان کردہ فضائل و مناقب ان پر منطبق ہوتے ہیں۔

ہاں,وہ ان عظیم خوش خبریوں کے ضرور مستحق ہیں جو طلبائے علوم اسلامیہ کے فضائل ودرجات کے بیان میں وارد ہوئی ہیں,بشرطے کہ وہ شب وروز کا کچھ معتد بہ حصہ خالص دینی علم کی تحصیل و مطالعہ میں صرف کرتے ہوں۔

شریعت اسلامیہ کی نظر میں عالم کون ہے؟ اس کا تعین کچھ مشکل ہے۔شیخ طریقت کی چارشرطوں میں سے ایک شرط عالم ہونا ہے۔وہاں عالم کی تشریح میں صدر الشریعہ قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:

۔”اتنا علم رکھتا ہوکہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے“۔ (بہارشریعت:حصہ اول ص ۸۷۲-مکتبۃ المدینہ)۔

 عالم کون ہے؟عالم کے اوصاف کیسے ہونے چاہئے؟عالم کا درجہ کیا ہے؟عالم وجاہل میں فرق کیا ہے؟عالم کامل کون؟علم دین سے کیا مراد ہے؟ہر عہد میں علما کا وجو د ہوگا اور ہر مدر س عالم نہیں ہے۔ان امور کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ اس مضمون سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور بہت سی خوش فہمیاں نیست ونابود ہوں گی۔

عالم کی صفت

(عن ابن عمر:لا اعلمہ الاعن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من قال انا عالم فہوجاہل) (المعجم الکبیر للطبرانی ج11ص 264)۔

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان فرمایاکہ میں حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نسبت سے جانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو کہے کہ میں عالم ہوں،وہ جاہل ہے۔

عالم کا رتبہ اور درجہ

امام محمدغزالی شافعی(۰۵۴؁ھ-۵۰۵؁ھ)اورشارح بخاری علامہ شمس الدین سفیری شافعی (۷۷۸؁ھ – ۶۵۹؁ھ)نے تحریرفرمایا:۔

قال ابن عباس:للعلماء درجات فوق المومنین بسبع مأۃ درجۃ-مابین الدرجتین مسیرۃ خمس مأۃ عام (احیاء علوم الد ین ج 1ص10-شرح البخاری للسفیری ج30ص2)۔

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ علما کا درجہ عام مومنین سے سات سودرجہ بلند ہے،اور ہردودرجے کے مابین پانچ سوسال کی مسافت ہے۔

عالم وجاہل میں فرق

۔(۱)(عن الشافعی قال:العالم یسأل عما یعلم وعما لا یعلم-فیثبت ما یعلم ویتعلم ما لا یعلم-والجاہل یانف من التعلیم ویانف من التعلم)  (تاریخ الاسلام للذہبی ج14ص174)۔

ترجمہ:حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عالم سے ان چیزوں کا سوال ہوتا ہے جو وہ جا نتا ہے اور جو کچھ وہ نہیں جانتا (یعنی ہر طرح کے سوالات ہوتے ہیں)

پس (جواب دینے اور تکرار علم کی وجہ سے)وہ چیز مضبوط ہو جاتی ہے جسے وہ جانتا ہے اور اس چیز کو سیکھ لیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا ہے،اور جاہل سیکھنے اور سکھانے سے شرم کرتا ہے (پس معلوم چیزوں کا علم بھی کھو بیٹھتا ہے)۔

۔(۲) روی عن مالک بن انس عن سعید بن المسیب بلغہ عنہ-انہ کان یقول:لیس من عالم ولاشریف ولا ذی فضل الاوفیہ عیب-ولکن من کان فضلہ اکثرمن نقصہ،ذہب نقصہ لفضلہ-کما انہ من غلب علیہ نقصانہ،ذہب فضلہ-وقال غیرہ:لایسلم العالم من الخطأ فمن اخطأ قلیلًا واصاب کثیرًا فہوعالم-ومن اصاب قلیلًا واخطأ کثیرًا فہوجاہل (جا مع بیا ن العلم وفضلہ لابن عبد البر الما لکی جلددوم ص105-مؤسسۃ الریان) ۔

ترجمہ:حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیاکہ انہیں خبر پہنچی کہ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے:ہرعالم، شریف اوراہل فضل میں کچھ نہ کچھ عیب ہے

لیکن جس کی فضیلت اس کے عیب سے بڑھ کر ہے تواس کا عیب اس کی فضیلت کی وجہ سے ختم ہوگیا،جیساکہ جس پر اس کا عیب غالب ہو  تو اس کی فضیلت ختم ہوگئی،اورحضرت سعیدبن مسیب کے علاوہ نے فرمایاکہ عالم خطا سے محفوظ نہیں رہتا ہے،پس جس کی خطا قلیل ہو، اور درستگی کثیر ہو تووہ عالم ہے،اور جس کی درستگی قلیل ہو،اور خطا کثیرہو تووہ جاہل ہے۔

عالم کامل کون؟

امام عبدالوہاب شعرانی شافعی(۸۹۸؁ھ-۳۷۹؁ھ) نے تحریر فرمایا:۔

سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ ایضًا یقول:لا یکمل مقام العالم عندنا فی العلم حتّٰی یرد سائر اقوال المجتہدین ومقلدیہم فی سائر الادوار الی الکتاب والسنۃ ولا یصیرعندہ جہل بمنزع قول واحد منہا، لوعُرِضَ علیہ-قال:وہناک یخرج عن مقام العوام ویستحق التلقیب بالعالم-وہو اول مرتبۃ تکون للعلماء باللّٰہ تعالٰی۔

 ثم یترقی احدہم عن ذلک درجۃ بعد درجۃ حتّٰی یصیر یستخرج جمیع احکام القراٰن واٰدابہ من سورۃ الفا تحۃ-فاذا قرأ بہا فی صلاتہ ربما یکون ثوابہ کثواب من قرأ القراٰن کلہ من حیث احاطتہ بمعانیہ۔

 ثم یترقی من ذلک حتّٰی یصیر یخرج احکام القراٰن کلہ واحکام الشریعۃ وجمیع اقوال المجتہدین ومقلدیہم الٰی یوم القیامۃ من ای حرف شاء من حروف الہجاء-ثم یترقی الٰی ما ہو ابلغ من ذلک-قال:وہذا ہو العالم الکامل عندنا-انتہٰی (میزان الشریعۃ الکبریٰ ج1ص38)۔

ترجمہ:میں نے حضرت علی خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ بھی فرماتے سنا کہ ہمارے نزدیک علم میں عالم کامقام اسی وقت مکمل ہوگا،جب وہ مجتہدین کے تمام اقوال اورہرزمانے میں ان کے مقلدین کے تمام اقوال کوکتاب وسنت کی طرف پھیر سکے،اوراگر اسے کوئی قول پیش کیا جائے توان اقوال میں سے کسی قول کے ماخذکی لاعلمی ان کے پاس نہ ہو۔

 حضرت علی خواص قدس سرہ القوی نے فرمایا کہ اس وقت وہ عوام کے درجے سے نکل جائے گا اور عالم کا لقب پانے کا مستحق ہوگا،اور یہ پہلا درجہ ہے جو عارفین باللہ کو حاصل ہوتا ہے، پھر ان میں سے کوئی ایک اس مقام سے درجہ بدرجہ ترقی کرتا جاتا ہے،یہاں تک کہ وہ قرآن کے تمام احکام اوراس کے آداب کو سورہ فاتحہ سے استخراج کرنے لگتا ہے،پس جب وہ سورہ فاتحہ کو اپنی نمازمیں پڑھتا ہے تو اس کے معانی قرآ ن کے احاطہ کرلینے کی وجہ سے کبھی اس کا ثواب اس کے ثواب کی طرح ہوتا ہے جس نے تمام قرآن کی تلاوت کیا۔

پھروہ اس سے ترقی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ قرآن کے تمام احکام اور شریعت کے احکام اور مجتہدین کے تمام اقوال اور قیامت تک ان کے مقلدین کے تمام اقوال کو قرآن کے حروف ہجائیہ میں سے جس حرف سے چاہتا ہے،استخراج کرنے لگتا ہے، پھروہ اس مقام کی طرف ترقی کرجاتاہے جواس سے زیادہ بلند ہے۔ حضرت علی خواص رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ ہمارے نزدیک عالم کامل ہے۔

توضیح :عصرحاضر میں مدارس اسلامیہ کے فارغین کوبھی عالم کہا جاتا ہے۔یہ ایک جدید اصطلاح ہے۔قرآن وحدیث میں علماکے جو فضائل ومناقب بیان کیے گئے ہیں،وہ ان علما کے لیے ہیں جو عندالشرع عالم ہوں۔

درس نظامیہ کے ہر فارغ التحصیل کو وہ درجات ومناقب حاصل نہیں،اورفارغین مدارس میں سے جوخوش نصیب افاضل اس رتبہ کو پالیں، ان کے لیے ان فضائل ومناقب کی نفی بھی نہیں، لیکن نظر شرع میں عالم ہونے کے واسطے محض مدارس کی سند کافی نہیں۔سند یافتگان خوداس دائرہ سے خارج تصورکریں اور اس دائرہ میں داخل ہونے کے واسطے شب وروز دینیات کا مطالعہ جاری رکھیں۔

ہرمدرس عالم نہیں

اما م احمدرضا قادری نے تحریرفرمایا:”آج کل درسی کتابیں پڑھنے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں بھی داخل نہیں ہوتا،نہ کہ واعظ جسے سوائے طلاقت لسان کوئی لیاقت جہاں درکار نہیں“۔(فتاویٰ رضویہ ج4ص565-رضا اکیڈمی ممبئ)۔

علم دین سے کیا مراد ؟

اما م اہل سنت نے رقم فرمایا:”علم دین فقہ وحدیث ہے۔منطق وفلسفہ کے جاننے والے علما نہیں۔یہ امور متعلق بہ فقہ ہیں توجوفقہ میں زیادہ ہو،وہی بڑاعالم دین ہے، اگرچہ دوسرا حدیث وتفسیرسے زیادہ اشتغال رکھتا ہو،پھربھی عالم دین نہ ہوگا،مگر سنی المذہب کہ فاسدالعقیدہ جہل مرکب میں گرفتار۔جوجہل بسیط سے ہزار درجہ بدترخصوصاً غیرمقلدین کہ فقہ وفتویٰ میں ان پراعتمادتوایساہے جیسے چورکوپاسبان بنانا“۔ (فتاویٰ رضو یہ ج4ص572-رضا اکیڈمی ممبئ)  ۔

ہرعہد میں علما کا وجود مسعود

اما م احمدرضاقادری نے رقم فرمایا:”اے عزیز!اس زمانہ فتن میں لوگوں کواحکام شرع پر سخت جرأت ہے،خصوصاً ان مسائل میں جنہیں حوادث جدیدہ سے تعلق ونسبت ہے،جیسے تار برقی وغیرہ۔سمجھتے ہیں کہ کتب ائمہ دین میں ان کاحکم نہ نکلے گا جومخالفت شرع کاہم پر الزام چلے گا،مگرنہ جاناکہ علمائے دین شکراللہ تعالیٰ مساعیہم الجمیلہ نے کوئی حرف ان عزیزوں کے اجتہاد کواٹھا نہیں رکھاہے۔

تصریحاً تلویحاً تفریعاً تاصیلاً سب کچھ فرما دیا ہے۔ زیادہ علم اسے ہے،جسے زیادہ فہم ہے،اوران شاء اللہ العزیززمانہ ان بندگان خدا سے خالی نہ ہوگا جومشکل کی تسہیل،معضل کی تحصیل،صعب کی تذییل،مجمل کی تفصیل کے ماہر ہوں۔بحرسے در،صدف سے گہر،بذر سے درخت،درخت سے ثمرنکالنے پرباذن اللہ تعالیٰ قادرہوں“۔(فتاویٰ رضویہ ج4ص526_رضا اکیڈمی ممبئ

تحریر: طارق انور مصباحی

مدیر: ماہنامہ پیغام شریعت دہلی

اعزازی مدیر: افکار رضا

www.afkareraza.com

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Recent Posts

مسلم لڑکیوں کا غیروں کے ساتھ رشتہ محبت کی روک تھام کیسے ہو

تحریر: ابصار عالم شیرانی مسلم لڑکیوں کا غیروں کے ساتھ رشتہ محبت کی روک تھام… Read More

اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہےقسط دہم

تحریر: علامہ طارق انور مصباحی کیرلا  اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہےقسط دہم  گزشتہ  تمام… Read More

اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہے قسط نہم

تحریر: طارق انور مصباحی ٓ(کیرلا)۔ اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہے قسط نہم اختلاف وانتشار… Read More