عظمت جمعۃ الوداع قرآن وحدیث کی روشنی میں

عظمت جمعۃ الوداع قرآن وحدیث کی روشنی میں

  تحریر علامہ محمد غفران رضا قادری رضوی عظمت جمعۃ الوداع قرآن وحدیث کی روشنی میں

عظمت جمعۃ الوداع قرآن وحدیث کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ماہ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر نعمتوں برکتوں رحمتوں مغفرتوں بخششوں نجاتوں اور فضیلتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہمارے درمیان جلو افگن ہے اور اپنے اختتام کو پہنچ رہاہے، امت مسلمہ کو روزانہ الوداع کہہ رہا ہے۔ دنیابھر کے مسلمان اس ماہ مقدس کے آخری عشرے میں اپنے رب العالمین ذوالجلال والاکرام کے حضور زیادہ سے زیادہ عبادات بجا لانے میں مصروف ہیں۔ آخری عشرے کی طاق راتیں شب قدر کہلاتی ہیں یعنی ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم جو امام الانبیاء والمرسلین تاجدارِ کائنات ﷺ کے سینۂ مبارکہ پر نازل ہوئی، یعنی اللہ رب العزت نے قابل قدر کتاب قابل قدر امت کیلئے صاحب قدر نبی کریم ﷺ پر نازل فرمائی، اس کی تفصیل ہم اپنی کتاب (شب قدر کی قدر و منزلت سورۃ القدر کی روشنی میں) ذکر کر چکے ہیں جو الحمدللہ افکار رضا کے پیلٹ فارم سے شائع ہو چکی ہے۔

 بحرحال یہ قرآن کی نزول کی مقدس راتیں شمار ہوتی ہیں، ان راتوں میں پوری دنیا میں مسلمان رات بھر اللہ تعالیٰ کی عبادات میں مصروف عمل رہتے ہیں، کوئی قیام میں کوئی رکوع میں کوئی سجود میں کوئی ذکر واذکار میں کوئی آوراد ؤ وظائف میں کوئی تلاوت قرآن پاک میں کوئی دورد وسلام میں کوئی توبہ واستغفار میں کوئی رجوع الی اللہ وغیرہ میں بہرکیف اپنے اپنے انداز سے اپنے مولیٰ کو معبود حقیقی کو پالنہار رب العالمین رحمان رحیم کو منانے اور مانگنے میں مصروف رہتے ہیں۔

حضوراکرم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جمعۃالمبارک کا دن سید الایام ہے اور تمام دنوں سے افضل و بر تر ہے۔اس لیے کہ مسلمانوں کے لیے یہ دن سلامتی و رحمت کا حامل ہے، جسکی بڑی اہمیت و فضلیت ہے۔ رمضان کریم کے جمعہ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ جمعۃ المبارک میں رمضان الکریم کی فضیلتیں بھی شامل ہو جاتیں ہیں۔ ویسے تو جمعۃ الوداع بھی اور جمعوں کی طرح ہے۔بس جمعۃ الوداع اس لحاظ سے بڑا اہم ہے اور اس کی اہمیت و عظمت میں اسلیئے اضافہ ہوجاتا ہے کہ یہ جمعہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں آتا ہے،جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا ہے۔

ویسے تو تمام دن اور تمام راتیں ہی اللہ رب العزت کے قانونِ قدرت میں ہیں تاہم اللہ تعالی ٰ نے بعض ایام کو دوسرے ایام پر اور بعض راتوں کو دوسری راتوں پر فوقیت دے رکھی ہے۔ہفتے کے سات ایام میں جمعہ کے دن کو اللہ نے خصوصی فضیلت عطا کی ہے۔

اِس دن کو بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے نواز رکھا ہے۔جمعہ کی اہمیت کااندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خود اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں سورۃ الجمعہ کے نام سے ایک سورت مبارکہ نازل کر کے اِس دن کی اہمیت کو اہل اسلام کے لئے واضح کر دیاہے۔جمعۃ المبارک کو دین اسلام میں خاص دن کی حیثیت حاصل ہے، اِس دن کو دنوں کا سردار بھی کہا جاتا ہے۔

اس لہذ سے جو فضیلتیں رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کو حاصل ہے وہ کسی اور دن کو حاصل نہیں۔ جمعۃ الوداع نور علٰی نور اور قرآن العیدین ہے، جو مسلماں کی عظمت و شوکت، ہیبت و جلالت کا عظیم مظہر ہے۔

اس دن کی اصل روح کے مطابق اپنے عقائد اور شعائر کی درستگی کر لی جائے تو پوری انسانیت فیض یاب ہو سکتی ہے۔جمعتہ المبارک کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ فضیلت و اہمیت بیان ہوئی ہے، سورہ جمعہ کے اندر آخری رکوع میں مسلمانوں کو جمعہ کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام کاروبار چھوڑ کر جمعہ کی ادائیگی کے لئے چلے آؤ اور جمعہ ادا کرنے کے بعدجاکر اپناکاروبار کرو۔

رمضان المبارک میں جہاں نوافل کا ثواب فرضوں کے برابر ہوجاتا ہے اور فرائض کا ثواب ستر گنا کردیا جاتا ہے، وہاں اس ماہ مقدس کے جمعہ کا ثواب بھی بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، جمعتہ الوداع کو دیگر ایام سے اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں کو عیدالفطر کی شکل میں ایک بہت بڑا انعام ملنا ہوتا ہے۔ امت محمدیہ کو اللہ تعالی نے بہت سی خصوصیات اور بہترین فضائل سے نوازا ہے  ان میں سے ایک جمعہ کا مبارک دن بھی ہے ، جس سے یہود ونصاری محروم کر دئیے گئے ہیں۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے رسولِ اکرم ﷺ ارشاد فرماتے رہیں کہ ہم میں سے پہلے جو امتیں تھیں انہیں جمعہ کے مبارک دن سے محروم کر دیا گیا ، یہود کے لئے ہفتہ اور نصاری کے اتوار کا دن تھا ، پھر اللہ تعالی ہمیں لایا اور جمعہ کا دن عنایت فرمایا ، پھر ترتیب میں جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کردیا ، اور اس طرح وہ قیامت کے دن ہمارے پیچھے ہونگے ، حالانکہ ہم دنیا میں تمام امتوں میں سے سب سے آخر میں آئے ،لیکن قیامت کے روز تمام مخلوق میں سے سب سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا 

جمعہ نام رکھنے کی وجہ تسمیہ

”حضرت حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’جمعہ کا نام اس لئے جمعہ رکھا گیا ہے کیونکہ یہ جمع سے مشتق ہے ، یہ اس لئے کہ اس میں مسلمان ہفتہ میں ایک مرتبہ بڑی مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں اور اللہ تعالی نے مومنوں کو عبادت کی غرض سے جمع ہونے کا حکم دیا ہے۔‘‘

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو۔’’دوڑ پڑو‘‘سے مراد یہ ہے کہ نماز کا ارادہ اور اس کا اہتمام کرو ، اس سے مراد یہ نہیں کہ زور لگا کر دوڑو جبکہ نماز کے لئے بھی تیز چلنا منع ہے ۔

حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں! اللہ کی قسم ! دوڑ پڑو سے مراد قدموں کی دوڑ نہیں ہے ، بلکہ نماز کے لئے سکون اور اطمینان ، خالص نیت اور خشوع و خضوع کے ساتھ جانا مراد ہے۔علامہ ابن القیم نے لکھا ہے:جمعہ کادن عبادت کا دن ہے ، دنوں میں اسکی اہمیت ایسے ہی ہے جیسے اور مہینوں میں رمضان کی ، اس دن دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ایسی ہی ہے جیسا کہ ماہ رمضان میں شب قدر۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے ، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے ، اور اسی دن وہ جنت میں داخلے کئے گئے ، اور جنت سے اسی دن نکالے گئے ، اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی ۔اس دن جمعہ کی نماز ہے جو کہ اسلام کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے اور اس دن مسلمانوں کا بڑا اجتماع ہوتا ہے ،جو اس نماز کو سستی سے چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالٰی اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے ۔

جمعہ میں ایک گھڑی دعا کی قبولیت کی ہے جیساکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیشک جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کوئی مسلمان بندہ نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکو ضرور عنایت کرتا ہے اور آپ ﷺنے اپنے ہاتھوں سے اس وقت کے تھوڑے ہونے کا اشارہ کیا ۔جمعہ کے دن کاصدقہ عام دنوں کے صدقے سے بہتر ہے ۔جیساکہ شاگرد علامہ ابن تیمیہ علامہ ابن القیم نے لکھا ہے

عام دنوں کے صدقے سے جمعہ کے دن کا صدقہ بہتر ہے جس طرح کہ عام مہینوں کے صدقہ سے رمضان کے صدقے کی فضیلت ہے۔جمعہ کے دن کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ مومن بندوں کے لئے جنت میں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جلوہ فرماتا ہے۔ اور یہ ایسی عید ہے جو ہر ہفتہ آتی ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ، رسول اللہ ﷺنے فرمایااللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے اس کو عید کا دن بنایا ہے ، جو شخص جمعہ پائے اسے چاہے کہ وہ غسل کرے ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص بھی جمعہ کے دن غسل کرتا ہے ممکن حد تک پاکی حاصل کرتا ہے تیل لگاتا ہے ، یا اپنے پاس جو خوشبو میسر ہو اسکو لگاتا ہے ، پھر نماز کے لئے جاتا ہے ، دو شخصوں کے درمیان جدائی نہیں کرتا ،(یعنی اپنے لئے راستہ بنا کر آگے جانے کی غرض سے دو آدمیوں کو نہیں ہٹاتا ، بلکہ جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جاتا ہے ) پھر توفیق کے مطابق نماز پڑھتا ہے ، پھر خاموشی سے خطبہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک اس کے ہونے والے گناہ معاف کرئے جاتے ہیں۔

جمعہ کے دن کی ایک فضلیت یہ بھی ہے کہ جمعہ کی رات یا دن میں موت کا آنا حسنِ خاتمہ کی علامت ہے ۔جیساکہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو کوئی مسلمان جمعہ کی رات یا دن میں وفات پاتا ہے اللہ تعالٰی اس کو عذاب قبر سے بچاتا ہے ۔ان تمام احادیث کی روشنی میں ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس دن کا اہتمام اس دن کی فضیلتوں کو غنیمت جانے اوراللہ تعالیٰ کا تقرب مختلف عبادات سے حاصل کرے ۔

جمعہ کے مختلف آداب و احکام ہیں جن کا سیکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے علامہ ابن القیم نے لکھا ہے’ یہ نبی کریم ﷺکی سنت ہے کہ اس دن کی تعظیم و تکریم ان عبادات کے ذریعہ کی جائے جسکی وجہ یہ عام دنوں سے ممتاز ہے۔ضروری ہے کہ جمعہ کے لئے بروقت تیاری کی جائے اس لئے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایاجمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں ،

مسجد میں جو سب سے پہلے جاتے ہیں ان کے نام لکھتے رہتے ہیں ، جو اول وقت مسجد میں جاتا ہے اس کا اجر ایک اونٹ صدقہ کرنے کے برابر ہے ، پھر آنے والے کا اجر گائے صدقہ کرنے کے برابر ہے ، پھر آنے والے کا اجر دنبہ صدقہ کر کرنے کے برابر ہے ، پھر آنے والے کا اجر مرغی صدقہ کرنے کے برابر ہے ، پھر آنے والے کا اجر انڈا صدقہ کرنے کے برابر ہے ، اور جب امام ممبر پربیٹھ جاتا ہے تو فرشتے دفتر لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں ۔آپ ﷺ کایہ بھی ارشادگرامی ہے کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ لوگ (ہدایت سے ) غافل ہو جائیں گئے ”

( جمعہ کے متعلق مزید تفصیلات جا ننے کیلئے حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ شاگرد وخلیفہ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی شہر آفاق کتاب فقہ انسائیکلوپیڈیا بہار شریعت حصہ٤ کا مطالعہ کریں)  نوٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جمعہ کے متعلق ہمارے علمائے کرام ومفتیاں عظام نے احکام صادر فرمائیں ہیں جو درحقیقت شریعت مطہرہ کے احکام ہیں اس پر عمل کریں۔ ہرگز ہرگز جمعۃ الوداع سمجھ کر مسجدوں کا رخ نہ کریں جتنے لوگوں کو اجازت ہے بس وہی لوگ جمعۃ الوداع ادا کریں اور باقی لوگوں جیسے پہلے اس کا بدل نمازِ ظہر ادا کررہے تھے ویسے ہی ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ زات بابرکات سے امید ہے کہ وہ اس عظیم الشان دن کا ثواب عظیم عطا فرمائے گا ۔ آمین یارب العالمین عزوجل بجاہ سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم

از قلم۔۔۔۔ خادم مشن قطبِ اعظم ماریشس حضرت علامہ ابراھیم خوشتر

خلیفہ مجاز حضور تاج الشریعہ

محمد غفران رضا قادری رضوی

ماریشس افریقہ بانی دارالعلوم رضا ۓ خوشتر و جامعہ رضاۓ فاطمہ

قصبہ سوار ضلع رامپور انڈیا

مقیم حال نانکاررانی۔۔۔

Amazon    Flipkart   Havelles