علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ اپنی تصنیفی خدمات کے آئینے میں

خطیب ایشیا و یورپ حضرت علامہ ابوالحقانی صاحب علیہ الرحمہ اپنی تصنیفی خدمات کے آئینے میں

علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ اپنی تصنیفی خدمات کے آئینے میں

عربی زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے قدر المصنف بقدر المصنف یعنی جس قدر مصنف,بکسر النون, کا تبحر علمی  عند العوام والخواص مسلم ہوگا اسی قدر اس کی تصنیفات بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاۓ گی 

پس اس مسلمہ مقولہ کے تحت جب ہم خطیب ایشیا و یورپ ناشر مسلک اعلی حضرت قاطع شرک و بدعت مقرر شیریں بیان ماہر درسیات جامع معقولات ومنقولات خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ  ابوالحقانی علیہ الرحمہ کی ذات ستودہ صفات کے لیل ونہار پر جس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں سر تا پاکمال و ہنر مندی کا مرقع ہی پاتے ہیں۔

ان کی تقاریر ہی کو لے لیجیے کہ جہاں آج کل کے مقررین دھڑلے سے حدیث پاک بیان تو کر دیتے ہیں لیکن اگر کوئی معترض ان سے حوالہ طلب کرتا ہے تو باہیں کھجلاتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن  جب ہم حضور ابوالحقانی علیہ الرحمہ کی تقاریر کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی تقاریر کو دلائل و براہین سے مدلل و مبرہن  پاتے ہیں

اور  آپ حدیث پاک کی تلاوت  کے شروع ہی میں اس قدر حوالہ جات عنایت فرما دیتے تھے کہ معترض کے ذہن سے اس کا اعتراض  تونسیا منسیا ہوتا ہی ہے  وہ  خود ورطہ حیرت میں ڈوب کر بہت الذی کفر کی عملی تصویر بنتا ہوا دِکھائی دیتا ہے  

  یہ تو ان کی تقریری میدان کی جھلکیاں تھی لیکن حضور صرف تقریری میدان تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ آپ نے ہر پلیٹ فارم سے سنیت کی خدمت فرمائی ہے اور آپ نے اپنی زندگی کو دین متین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا ہر میدان میں آپ نے نبردآزمائی فرمائی تو گویا آپ کواں نہ تھے کہ لوگ محنت و مشقت کا مظاہرہ کر کے چند قطرات آب زلال حاصل کریں

بلکہ آپ تو سحاب نور تھے کہ خود ہی گھر گھر قریہ قریہ  بستی بستی تشریف لے جا کر کے عوام اہل سنت کی تشنگی کو بجھا یا اور جہاں آپ تشریف نہیں لے جا سکے ان کے لیے اور خصوصا نسل نو کے لیے تصنیفی میدان کو بھی اپنی جولان گاہ بنایا اور  بے شمار مصروفیات کے باوجود  بھی متعدد کتب کو  معرض تحریر میں لائے۔

اب آئیے  ان کی  تصنیفی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور ہر ایک کا تفصیلی تعارف پیش  کرتے ہیں  ملاحظہ فرمائیں

۔۱ اربعین حقانی عن روایات البخاری

 یہ حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ کی جدید ترین تصنیف ہے حضرت مولانا غلام سرور مصباحی ناظم تعلیمات جامعہ فاطمہ  الزھراء دونار  چوک دربھنگہ رقم طراز ہیں کہ لوک ڈاؤن کے زمانے میں میں نے حضرت سے عرض کیا کہ حضور ان فرصت کے لمحات میں اگر آپ کی جانب سے کوئی علمی تحفہ آ جاتا تو یہ عوام اہل سنت کے لیے بے حد مفید اور کارگر ثابت ہوتا۔

حضرت نے حامی بھر لی اور بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا آپ جو بولو گے میں وہی کر دیتا ہوں میں نے برجستہ عرض کیا  کہ حضور آپ زندگی بھر لوگوں کو حدیث کے جواہر پارے تقسیم فرماتے رہے اور بخاری شریف کا درس دیتے رہے تو کیوں نہ ہو کہ بخاری شریف ہی سے چند احادیث کو لے کر اس کی مختصر سی تشریح  فرما دیتے تو بہت بہتر رہتا

حضرت نے فرمایا ٹھیک ہے اور پھر آپ نے کام شروع کر دیا کام  الحمدللہ  مکمل بھی ہو گیا اور کتاب پریس کے حوالے بھی کردی گئی اور احمد گرافکس پٹنہ کے مالک مولانا احمد رضا صابری صاحب سے گفتگو بھی فرمائی  اور بات فائنل ہوگئی کہ چند دنوں کے اندر یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہوگی

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اسی روز عین  عشا کے وقت آپ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اس کتاب میں انہوں نے صحیح بخاری کی چالیس احادیث کو موضوع سخن بنایا اور پھر ان احادیث کی تشریح  میں دیگر احادیث کی ۲۰ کتابوں سے تقریبا ۲۰۰ احادیث ذکر کی۔

ظاہر ہے  جب ان کی تصنیف ہے تو حوالہ جات سے مزین  ہونی ہی تھی سو ہے کتاب کا انداز نہایت سہل ہے اس لیے علما و  عوام سب کے لیے یکساں مفید ہے ان چالیس احادیث میں بہت سی احادیث آپ نے ایسی بھی تحریر فرمائی ہیں  کہ جن کے ذریعے  بہت سے موجودہ اختلافی مسائل کا کافی و شافی حل مل جاتا ہے

جیسے جھاڑ پھونک کا مسئلہ  تو  اس کتاب میں آپ نے مکمل طور پہ احادیث کی روشنی میں اس مسئلہ کو ثابت فرمایا ہے کہ کس جھاڑ پھونک سے حدیث پاک میں منع فرمایا گیا ہے  اور کس سے نہیں اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے  عمل سے آپ نے اس کو ثابت کیا ہے ۔

یوں ہی آپ کی داد رسی پہ بھی سیر حاصل گفتگو فرمائی اور دلائل و براہین کی روشنی میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ آپ مخلوق خدا کے داد رس اور فریا درس ہیں اسی طرح آپ کے لعاب دہن کی برکتیں  بھی خوب تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ایصال ثواب کے عنوان پہ بھی آپ نے سیر حاصل گفتگو کی ہے اور دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ کوئی ممنوع و مکروہ فعل نہیں بلکہ مسعود و منصوص عمل ہے

اور  اس کی اصل شریعت مطہرہ  میں موجود ہے  اور  کئی احادیث بھی آپ نے ایصال ثواب کے متعلق پیش فرمائی اور ایصال ثواب  پر اعتراض کرنے والے دن  کی تعیین پہ بھی کافی  شور و غوغا مچاتے ہیں  آپ نے اس کا  بھی کافی وافی  وشافی جواب دیا ہے اور احادیث کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ دن کی تعیین  کوئی مذموم نہیں بلکہ یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت صحابہ کرام  رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ہے اور   پھر  بات کو ذہن سے  قریب کرنے کے لیے دنیاوی مثالیں بھی دی ہیں

۔۲ ضیاے حدیث

اس کتاب میں آپ نے مختلف موضوعات پر چالیس احادیث قدسیہ کو جمع فرماکر ان  کی تشریح  فرمائی اور ان احادیث سے اخذ ہونے والے یاقوت و جواہر کو سلک  تحریر میں پرویا ہے مقدمہ میں آپ نے  یہ  واقعہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ حدیثوں کی تلاش کے سلسلے میں آپ پریشان تھے کہ آپ کی آنکھ لگ گئی خواب میں عصا  لیے ایک سفید پوش بزرگ تشریف لائے اور فرمایا   گھبرانا نہیں  سب مشکلیں آسان ہوجائیں گی

آپ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حدیث کی تلاش میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی کتاب کے شروع میں  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی حیات طیبہ سے لے کر کے ممات  تک  کے حالات و واقعات آپ نے ہجری اور عیسوی کے اعتبار سے شمار  کروائے ہیں اور یہ بھی  تحریر فرمایا ہے کہ آپ نے کس کس سن میں کون کون سا کارنامہ انجام دیا 

۔۳  جنتی کون

اس  کتاب میں آپ نے  عقائد وہابیہ و دیابنہ کے بطلان کو دلائل کی روشنی میں ثابت فرمایا ہے اس کتاب کا پیش لفظ مولانا غلام مصطفی انجم القادری نے تحریر فرمایا ہے جس میں آپ نے   کتاب کے تصنیف کرنے کا سبب واضح فرمایا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کن حالات میں یہ کتاب تصنیف کی گئی ہے اور کیوں اس تصنیف کی ضرورت محسوس ہوئی

اور حضرت علامہ ضیاء جا لوی علیہ  الرحمہ  نے اپنی تحریر میں یہ واضح فرمایا ہے کہ دراصل یہ کتاب مناظرہ کی روداد ہے یعنی موڈ بیدری کوٹے باگل میں جو آپ کا مناظرہ ہوا جس میں اپنے باطل قوتوں کو شکست فاش سے دوچار فرمایا تو جن جن موضوعات پر مناظرہ ہوا عوام کے فائدہ کے لیے ان تمام موضوعات کو معرض تحریر میں لایا گیا ہے

دینے والا ہے سچا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تصنیف  میں آپ نے حضور  کون مکان صلی اللہ علیہ وسلم کی جود وسخا  کو آپ نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا ہے اور قرآن وحدیث کا یہ پیغام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا اور ان کے جود و کرم کا منکر ہے  جہنم اس کا مقدر ہے

اور وہ سراسر قرآن و حدیث کا منکر اور مخالف ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی  جود و سخا کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اور ان کے بعد کے مسلمانوں کا کیا عقیدہ تھا اس کو بڑی  ہی شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے آپ کے جو د و سخا  کی مختلف جہتوں کو آپ نے سامنے رکھتے ہوئے بڑے ہی سہل انداز میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کس انداز سے اپنے غلاموں کو عطا فرماتے ہیں اور ان کی بگڑی کو بناتے ہیں 

 ۔ ۵ زیارات

اس کتاب میں عراق کے بزرگان دین میں سے چند کا قدرے تفصیلی تذکرہ ہے کہ زائرین جن کی زیارت کے لیے کئی ممالک سے آتے ہیں تو  ٹور والے لاعلمی اور بزرگوں کے حالات سے ناواقفیت کی بنیاد پہ فقط یہ بتا پاتے  ہیں کہ فلاں بزرگ کا مزار ہے جو کہ پہلے سے ہی لکھا ہوتا ہے  اس کتاب کے مطالعے سے زائرین  صاحب مزار کے حسب ونسب ان کی دینی خدمات اور تبلیغ دین و سنیت کے لیے ان کی جانفشانی اور دین پر سختی سے قائم رہنے کو جان پاتے ہیں 

۔۶  صدقات  

اس کتاب کے ٹائٹل پیج پر ہی آپ نے حدیث پاک نقل کی ہے کہ ان الصدقہ تطفی غضب الرب و يدفع میہہ السوء ,رواہ الترمزی , یعنی صدقہ اللہ تعالی  کے غضب کو  بجھاتا ہے اور بری موت کو ٹالتا ہے اندرون کتاب  بہت سی حدیثیں آپ نے نقل فرمائی ہیں اور یہ ثابت فرمایا ہے کہ صدقہ سے کس کس قسم کی بلائیں و وبائیں ٹلتی ہیں اور صدقہ کن کن مصیبتوں  سے نجات دلاتا ہے  

۔۷ خطبات ابوالحقانی 

آپ نے اپنی خطابت  کے ابتدائی مراحل میں ہی  اس کتاب کو تصنیف فرمادیا تھا اس میں آپ مختلف موضوعات کو زیر بحث لاتے ہوئے ان پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے  اور اتنے نادر وہ شاذ عنوانات پر خامہ فرسائی فرمائی ہے کہ شاید ہی  کسی تقریری کتاب میں اس طرح کے عنوانات دیکھنے  کو نصیب ہو مثلا دہن مبارک انگشت مبارک دست مبارک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس آنکھیں پھر بعد میں وارث علوم  علامہ ابوالحقانی  علامہ تحسین رضا مصباحی اور حضرت کے تلمیذ ارشد حضرت غلام سرور مصباحی نے اس میں چند عنوانات کا مزید اضافہ فرمایا اور یہ کتاب پہلے سے زیادہ مفید اور دیدہ زیب شکل کے ساتھ مارکیٹ میں دستیاب ہے

۔  ۸ حق کی تلوار

یہ آٹھویں  کتاب اسم بامسمیٰ ہے اور اس کتاب میں آپ نے فرقہاے باطلہ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور نہایت  ہی اچھو تے انداز میں احقاق حق و ابطال باطل فرمایا ہے

اس کو بھی پڑھیں: محمد حسین صدیقی کیسے بنے ابو الحقانی

دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو  حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل حضرت کی تصنیفات سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی توفیق رفیق عطا فرماے

تحریر: خلیل احمد

جودھ پو ،راجستھان

افکار رضا کا تعزیت نامہ بھی پڑھیں

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

Recent Posts

ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

از قلم: محمد مجیب احمد فیضی ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ ماہ ربیع… Read More

بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں

از: محمد عبدالمبین نعمانی قادری بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں بارہ… Read More

نعت مصطفےٰ ﷺ

نعت مصطفےٰ ﷺ آئیں کچھ آخرت کے کار کریںنذر ہم نعت کے اشعار کریں وہ… Read More